تازہ ترین

غزلیات

غمِ فْرقت میں سوزِ زندگانی کم نہ ہو جائے غموں کا اسقدر بڑھنا علاجِ غم نہ ہو جائے   بڑی مْشکل سے میں نے آب دی ہے تیغِ قاتل کو سنبھل کر دیکھنا یہ آنکھ پھر سے نم نہ ہو جائے   زمانے کی تھکن لے کر یہاں تک آ تو پہنچا ہے ترے در پر یہ دیوانہ کہیں بے دم نہ ہو جائے   ذہن میں گونجتی ہیں اب بھی چیخیں حْسن بانو کی کہیں پھر سے کوئی بہرام زیرِ چھم نہ ہو جائے   اگر سجدہ ہی لازم ہے تو کعبہ اور کلیسا کیوں جبیں چوکھٹ پہ تیری پھر بھلا کیوں خم نہ ہو جائے   جدائی کا یہ موسم اور میری  تشنگی  جاویدؔ مری آنکھوں کا یہ دریا مْجھی میں ضم نہ ہو جائے   سردارجاویدخان  پتہ؛ مہنڈر، پونچھ،رابطہ؛ 9419175198     غزل سانسوں پہ اپنی جیسے مسلط ہے دوڑ دھوپ چھاؤں اُتارتا ہ

رحمتِ عالمؐ

پیغام دے گئے ہیں ہمیں رحمتِ عالمؐ چُھوٹے نہ ہاتھوں سے کبھی توحید کا پرچم   ناکام و نامُراد سب ابلیس کی چالیں  پیوستہ دل میں ہو اگر ایماں تمہیں محکم   اُس رب کی مُعرفت کا جسے جام ہو حاصل   ہر سو نوازا جائے گا انوار سے پیہم   ہو دل میں جس کے جاگزیں اک نعمتِ تقویٰ دربارِ الٰہی میں وہ انساں ہے مُعظّم   باتوں میں اُجالا ہوجسکے، دل میں اندھیرا   وہ روح شب و روز رہے درہم و برہم    طُفیل شفیع گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر موبائل نمبر؛9596416377                

الیکشن 2019

لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے ۔۔۔ کھیل تماشا دکھانے والے   نمک زخموں پر چھڑکنے والے  نئی اسکیموں سے بہکانے والے   معصوموں کو بھڑکانے والے  لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے ۔۔۔ اب کی بار کس کی سرکار ؟   لوگوں میں ہے یہ ہاہاکار ! کوئی بھی جیتے میرے یار   ہمارے واسطے بس ہے مار  امن و امان کو پھونکنے والے   انسانیت پر تھوکنے والے  جذباتوں کو کوٹنے والے   لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے  لو آگئے پھر یہ لوٹنے والے ۔۔۔ وعدوں کا نیا خزانہ ہوگا   بات چیت کا بھی بہانہ ہوگا  خود مختاری، سیلف رول، آٹونومی !   کیا ایسا بھی کوئی زمانہ ہوگا ؟ سب وعدوں کو بھولنے والے   مظلوموں پر کوسنے والے  35-Aکو توڑنے والے &nb