غزلیات

طاقوں سے رفتگاں کے دئیے کون لے گیا ہر ایک پوچھتا تھا ارے کون لے گیا   ڈرتا ہوں پستیوں کی طرف دیکھنے سے بھی اتنی بلندیوں پہ مجھے کون لے گیا   تمثیلیں، استعارے، تراکیب اور طرز سامان شعر سے یہ مرے کون لے گیا   لایا تھا بحرِ خواب کی تہہ سے میں ایک لعل آنکھوں سے مری رات رہے کون لے گیا   دل کھوگیا تھا اس کا مجھے دیکھ کر کہا کیوں بولتا نہیں تو ابے کون لے گیا   نخلِِ سکوتِ فکر کے پتے رفیق ؔراز تازہ تھے اور تھے وہ ہرے کون لے گیا   رفیق رازؔ سرینگر، موبائل نمبر؛9622661666   غزلیات عشق سے گر گزر چکے ہوتے کب کے ظالم تو ڈر چکے ہوتے   فیصلہ ہوگا قتل کر کے ہی تم جو کہتے تو کر چکے ہوتے   چھین کر چین چہروں سے اب تک زخم یہ کب کے بھر چکے ہوتے

غزلیات

میری پلکوں پہ نئے دیپ جلانے آئے  میرے آنسو ہی مرا ساتھ نبھانے آئے ہم تو جسموں کی کبھی کرتے نہیں ہیں پوجا  دل کے قدموں پہ  فقط پھول چڑھانے آ ئے  کچھ نئے خواب نگاہوں کے نگر میں ٹوٹے  حوصلے پھر مرے تعبیر بتانے آئے  تیری پلکوں پہ کبھی اشک نہ دیتے دستک   تیری آنکھوں سے فقط سرمہ چرانے آئے  استعاروں کے شوالے میں عقیدت سے اب  چند بیتابِ سخن دیپ جلانے آئے  اس کی آنکھوں میں مرے اشک سماتے کیسے  میرے آنسو تو یہاں عید منانے آئے  ہم نے آواز تو پھولوں کو فقط دی عادل ؔ خار ہی ہم سے مگر ہاتھ ملانے آئے    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل نمبر؛9906540315     طبعیت کو تمہاری کیا ہوا ہے مجھے بتلاؤ آخر ک

غزلیات

 کبھی اپنے کبھی اغیار نظر آتے ہیں سائے بھی کتنے پُراسرار نظر آتے ہیں   اب نئے شہر کا نقشہ نہ بنایا ہو کہیں پھر اُجڑتے ہوئے گھر بار نظر آتے ہیں   جان لیتے رہے دیتے بھی رہے جن کے لئے آج وہ مسئلے بے کار نظر آتے ہیں   معجزہ یہ بھی سیاست کا کوئی کم تو نہیں دو نہیں ہوتے مگر چار نظر آتے ہیں   جس نے جو چاہا وہی چھین لیا ہے ہم سے اب تو کوئی لُٹا بازار نظر آتے ہیں   وقت نے چہرے پہ وہ کاریگری کی بلراجؔ آج ہم بھی کوئی شہکار نظر آتے ہیں   بلراج بخشی ۱۳/۳، عید گاہ روڈ ، آدرش کالونی،  اُدہم پور- ۱۸۲۱۰۱(جموں کشمیر)  موبائل نمبر؛09419339303       سر پھرا میں سر فدا کرتا رہا زندگی کے شوق میں مرتا رہا زخم کھا کر درد اک سہتا رہا

غزلیات

کھولی کلی نے بند ابھی تک  قبا نہیں  طائر کا انتظار بھی لیکن تھکا نہیں    بنیاد جس کی سنگِ عداوت پہ ہو کھڑی  نقشے پہ دل کے ایسا کوئی گھر بنا نہیں    پرواز جس کی اَمن کی سرحد پہ تھم گئی  پھر ہاتھ وہ سفید کبوتر لگا نہیں    چادر فلک کی بانٹ دی اسلاف نے مگر  تقسیم کرگئے ہیں یہ دھرتی، ہوا نہیں    احساس الفتوں کا وہی ہے ابھی تلک  دونوں نے بیچ دی ہے محبت، اَنا نہیں    آواز جارہی ہے سُلگنے کی دور تک  آتش لگی ہے شہر میں لیکن جلا نہیں    سیلاب آگیا ہے عداوت کا ہر طرف  طوفان تیرے دل میں ابھی تک اُٹھا نہیں    اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل  سرینگر کشمیر ،موبائل نمبر؛9906540315  

غزلیات

اُجلی صورت ہو کہ مَیلی صورت کِس میں پِنہاں نہیں تیری صورت اے سمندر تو ہے پانی صورت پھِر بھی ہے کیوں تِری پیاسی صورت ایک مسکان چھپا لیتی ہے میری ہر بار ہی رونی صورت لوگ پہچانیں مجھے چہرے سے اور میری کوئی دوجی صورت روح ہوتی ہے اگر لافانی جِسم ہے ایک گھڑے کی صورت اُس کو محسوس ہی کر سکتے ہیں ہے خُدا بھی تو ہَوا کی صورت مرض اپنا بھی نرالا ہے میاں زہر لگتا ہے دوا کی صورت آنکھ والے تو یہی کہتے ہیں غم سے ملتی ہے خوشی کی صورت وقت ذہنوں سے مٹا دیتا ہے میٹھی یادیں ہوں کہ اچھی صورت جسم ہے زرد ہوا سونے سا اور سر ہو گیا چاندی صورت دور ہونے کے بہت رستے ہیں ایک ملنے کی بھی ہوتی صورت   دیپک آرسیؔ 203/A، جانی پور ،جموں، 9858667006     نمایاں کیا، پس منظر، اِدھر بھی میں، اُدھر بھی

اے شریف انسانو

خون اپنا ہو یا پرایا ہو  نسلِ آدم کا خون ہے آخر  جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں  امن عالم کا خون ہے آخر  بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر  روح ِتعمیر زخم کھاتی ہے  کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے  زیست فاقوں سے تلملاتی ہے  ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں  کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے  فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ  زندگی میتوں پہ روتی ہے  جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے  جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی  آگ اور خون آج بخشے گی  بھوک اور احتیاج کل دے گی  اس لئے اے شریف انسانو ! جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے  آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں  شمع جلتی رہے تو بہتر ہے  برتری کے ثبوت کی خاطر  خوں بہانا ہی کیا ضروری ہے  گھر کی تاریکیاں م

غزلیات

دستِ عیار پہ بیعت نہیں کی جاسکتی  حسنِ فطرت سے بغاوت نہیں کی جاسکتی  ہم کو ہر گام پہ پتھر کے خریدار ملے  شیشۂ دل کی  تجارت نہیں کی جاسکتی  یہ تو تہذیب کا ہے دور صدی امن کی ہے  اب حریفوں سے بغاوت نہیں کی جاسکتی  ورنہ محشر کی صدا عہد مرا دیتا ہے  حشر سے پہلے قیامت نہیں کی جاسکتی  بغض اور کینہ یہی کام شریفوں  کا ہے  اب شریفوں سے شرافت نہیں کی جاسکتی  جن کے جلوؤں میں محبت کی تمنا بھی نہ ہو  ان پہ برباد بصارت نہیں کی جاسکتی  کوئی چھپ کر پسِ دیوار ہے بیٹھا عادل ؔ سامنے والے سے حجت نہیں کی جاسکتی    اشرف عادل  کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ؛ 9906540315     دستِ عیار پہ بیعت نہیں کی جاسکتی  حس

قطعات

خداکے لئے مُسکرایا بھی کر! محبت کے جوہر دکھایا بھی کر   غموں کی کڑکتی ہوئی دھوپ میں کسی غم زدہ کو سنایا بھی کر!     عاجزی معجزے دکھاتی ہے خاک کو کیمیا بناتی ہے   سرکشوں کو یہ کوں سمجھائے؟ سرکشی سر کے بل گراتی ہے     لے اثر تُو بھی کسی بات کا  مسئلہ ہے تیری اپنی ذات کا   روشنی کا تُو بھی کچھ سامان کر قبر کی تنہا اندھیری رات کا   ماسٹرعبدالجبار گنائی موبائل نمبر؛8082669144  

خیال اب کیا خیال ہے؟

ریاست کے نامور صحافی، قلمکار و شاعر غلام نبی خیالؔ نے 4 مارچ 1939کو اس عالم ہست وبود میں اپنی آنکھ کھولی۔ اس طرح آج کے دن اُن کی عمر عزیز کے 80سال مکمل ہورہے ہیں۔ پبلک جھپکتے گزری ان آٹھ دہائیوں میں انہوں نے کیا کچھ محسوس کیا ہے، اُس کے اجتماعی علامتی احساس کا اظہار انہوں نے اپنے 81ویں جنم دن کے لئے کہے دو اشعار میں کیاہے، جو ادب نامہ کے قارئین و شائقین کی طرف سے مبارکباد کے ساتھ درج ذیل ہیں۔  (مدیر ادب نامہ)   سائے سمٹے، تارے ٹوٹے، سحر ہوئی پھر لال پل بھر میںایسے ہی بیتے عمر کے  اسّی سال صبح ہوئی تو خاک زدہ تھی، شام بھی گریاںتھی  کن ہاتھوں نے لکھی ہے میری تقدیرخیال؟   غلام نبی خیالؔ سرینگر، موبائل نمبر؛9419005909

غزلیات

 ہے المیہ انسان میں شیطان کی خصلت انسان کو درکار ہے انسان کی خصلت   اب چین سے جینے کا تصور بھی نہیں ہے  باقی نہیں انسان میں اِحسان کی خصلت  جس سے بھی ملو، آگ بگولہ کی طرح ہے  ملتا ہے کوئی شاذ ہی گُلدان کی خصلت  تاریکیوں نے ملک کو تاراج کیا ہے  ماؤف ہوئی ہے میرے اَعیان کی خصلت  اب ہند بھی اور پاک بھی لیں ہوش کے ناخن  اللہ!عطاکراِنہیں جاپان کی خصلت  آزادیٔ اَفکار کا اعلان ہے یہ عام  رکھےنہ کوئی شہر میںخاقان کی خصلت  کچھ جُبہ و دستار میں اسلام نہیں ہے  مومن ہے وہی جس کی ہو قرآن کی خصلت  ہو مدحِ نبیؐاب مرے اشعار کی زینت  اے مولیٰ مرے دے مجھے حِسّانؓ کی خصلت  میں بندہ رہوں بندگی معراج ہو میری  مجھ میں کبھی جاگے نہیں یزدان کی خصلت&n

غزلیات

 وصل کے خواب کو پلکوں پہ بٹھائے رکھا  ہجر کی آنکھ میں ساون کو بُلائے رکھا    چشمِ پرنم کو دریچے پہ سجائے رکھا  تیری آمد پہ تبسم کو بچائے رکھا   کتنے شعروں کو زبانوں پہ چڑھائے رکھا  ہم نے لوگوں کے ضمیروں کو جگائے رکھا    بارشوں کو بھی برسنے کا ہنر دیتا ہے  بادلوں کو بھی سمندر سے اٹھائے رکھا    تیرگی ہار نہ مانے تو تمہاری قسمت  تیز آندھی میں چراغوں کو جلائے رکھا    تاکہ اشعار میں تصویر اُتر آئے تری  بوجھ پلکوں کا نگاہوں سے اٹھائے رکھا    کم کبھی زور ہواؤں کا بھی ہوگا عادل ؔ بادبانوں کو سفینے پہ کُھلائے رکھا  ؤؤؤؤؤ اشرف عادلؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ؛ 9906540315  

غزلیات

ہزاروں آئینے ہیں اور زمانے کی نظر تنہا تم اکثر ساتھ رہتے ہو مگر رہتا ہے گھر تنہا   جسے تم نے اُڑایا ہے وہ مشتِ خاک میری تھی کٹے گا کس طرح اب زندگانی کا سفر تنہا   ہوائیں کس طرف سے آ رہی ہیں زہر آلودہ گلوں کے رنگ پھیکے اور یہ بوڑھا شجر تنہا   مرے دستِ طلب میں اور میری آرزو میں تم مجھے لگتا نہیں ہوگا دعاؤں میں اثر تنہا   ستارے توڑ کر لاؤں تمہاری مانگ تو بھر دوں رہے گا کس طرح پھر آسماں پر یہ قمر تنہا   اگر جاویدؔ ممکن ہو بسا لو پھر نئی دنیا مجھے تو خیر ہونا ہے جہاں میں دربدر تنہا   سردارجاویدخان پتہ، مہنڈر ، پونچھ  رابطہ؛ 9419175198            ہاتھ میں پتّھر نہیں، پکڑو ذرا تم بھی قلم  دشمنی تم بھول جاؤ، دو

غزلیات

ایک تتلی نے گلابوں سے شرارت کی ہے  اس پہ خوشبو نے ہر اک پھول سے ہجرت کی ہے    کہتے ہیں خار نے کلیوں کی تجارت کی ہے  حق یہ ہے پھول نے گلشن سے عداوت کی ہے    ہم نے تہذیب کے اوراق پہ لکھا ہے فقط  ہم نے اردو کے رسالوں کی ادارت کی ہے    ہم تو سورج کی طرح ڈوب گئے مغرب میں ہم نے اخلاق کی قدروں سے بغاوت کی ہے    آنکھ کا سرخ ہوا رنگ شبِ غم کی قسم  آتشِ چشم نے ایسے بھی ریاضت کی ہے    آنکھ سے اشک کو بہنے نہ دیا کس نے، بتا ؟ چشمِ نم نے غمِ فرقت کی حفاظت کی ہے    کل سیاست پہ عنایت کی تھی ہم نے عادل ؔ آج کچھ ہم پہ سیاست نے عنایت کی ہے    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر  موبائل نمبر؛9906540315 &nbs

غزلیات

معزز کس قدر تھا گردشِ ایام سے پہلے  مرے سر پر یہی دستار تھی الزام سے پہلے    یقیناً آج کا دن جھیل میں پُر امن گزُرا ہے پرندے گھونسلوں میں لوٹ آئے شام سے پہلے    تجھے پانے کی خواہش میں ہے جھیلی آبلہ پائی  مگر اے زندگی تُو دور تھی ہر گام سے پہلے    چھڑا کر ہاتھ اب تم جارہے ہو یاد بھی رکھنا  ہمارا نام آئے گا، تمہارے نام سے پہلے    قفس میں پھنس گئی ہے دیو کے شاید مری قسمت تصور میں ملی تھی میں کسی گلفام سے پہلے    کبھی صحرا نوردی میں نہ ضائع زندگی کرتا  اگر واقف میں ہوتا عشق کے انجام سے پہلے    مزیّن ہو حسیں الفاظ اور معصوم لہجے سے  غزل بے کیف لگتی ہے کسی الہام سے پہلے    گُماں کیسا یقیں ہے شاعری کے حُسن و خوبی

غزلیات

  اب تو حصار ذات سے یہ آگہی نکال  مستی بھری حیات سے کچھ بیخودی نکال    رشتوں کا عکس سنگ ہوا کچھ تو غور کر  اب دل کے آئینے سے یہ بے چہرگی نکال    اب تیرگی میں ڈوب چکا ہے دلِ حزیں  اس عالمِ سیاہ سے کچھ روشنی نکال    رادھا نکل ہی آئے گی موہن کو ڈھونڈنے  کوئی سریلا گیت بھی گا، بانسری نکال    پتھر میں ڈھل نہ جائے کہیں میرا یہ  وجود  اس کی نگاہِ شوق سے اب ساحری نکال    بکھری ہوئی حیات ہے کلیات میر ؔکی  اوراقِ شاعری سے کبھی زندگی نکال    ہر زخم آفتاب کی مانند کر طلوع  عادلؔ زمینِ شعر سے ہی چاندنی نکال    اشرف عادل ؔ کشمیر یونیورسٹی ،حضرت بل سرینگر کشمیر  رابطہ؛ 9906540315

غزلیات

ابھی کچھ اور دن اسلاف کی چادر میں رہنے دے  مکاں کچّا سہی لیکن مجھے اس گھر میں رہنے دے    خلوصِ عشق جن کو ڈھونڈتا ہے ایک مدت سے  عقیدت ہے تو اُن سجدوں کو اپنے سر میں رہنے دے    نئی بستی،  نئے چہرے، نئے ہیں خواب بھی سارے  ہجومِ شہر میں خود کو تلاشِ زر میں رہنے دے    بھکاری ہی سہی اُس کو بھی ہے اپنی انا پیاری نہیں محلوں کی خواہش بس اُسے  چھپر میں رہنے دے    میں گزرا وقت ہوں تیرے لئے اے ہمنشیں لیکن سمجھ کر یاد کا موتی تُو چشمِ تر میں رہنے دے    طلب دولت کی لے آئی ہے تجھ کو اس جزیرے پر  وطن کی یاد کو اپنے دلِ مضطر میں رہنے دے    تراشے گا اُسے مانوسؔ وہ ہوجائے گا رُسوا محبت ہے اگر تجھ کو صنم پتھر میں رہنے دے   پروی

غزلیات

ابھی کچھ اور دن اسلاف کی چادر میں رہنے دے  مکاں کچّا سہی لیکن مجھے اس گھر میں رہنے دے    خلوصِ عشق جن کو ڈھونڈتا ہے ایک مدت سے  عقیدت ہے تو اُن سجدوں کو اپنے سر میں رہنے دے    نئی بستی،  نئے چہرے، نئے ہیں خواب بھی سارے  ہجومِ شہر میں خود کو تلاشِ زر میں رہنے دے    بھکاری ہی سہی اُس کو بھی ہے اپنی انا پیاری نہیں محلوں کی خواہش بس اُسے  چھپر میں رہنے دے    میں گزرا وقت ہوں تیرے لئے اے ہمنشیں لیکن سمجھ کر یاد کا موتی تُو چشمِ تر میں رہنے دے    طلب دولت کی لے آئی ہے تجھ کو اس جزیرے پر  وطن کی یاد کو اپنے دلِ مضطر میں رہنے دے    تراشے گا اُسے مانوسؔ وہ ہوجائے گا رُسوا محبت ہے اگر تجھ کو صنم پتھر میں رہنے دے   پروی

غزلیات

اسے بھی آزمانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  مجھے بھی دھوکہ کھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    ہواؤں کو منانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  چراغوں کو بجھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    سنو آنسو بہانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  شراروں کو بجھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    بدل جاتے ہیں یہ موسم بکھر جاتے ہیں یہ گلشن  صبا کو سر اُٹھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    مٹائے گا  مگر کیسے محبت  آدمی دل سے پرانے خط جلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    اشاروں پر نچاتی ہے سیاست آندھیوں کو بھی  ہواؤں کو سِکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    بڑی مشکل سے جُڑ جاتا ہے من کا آئینہ عادل ؔ کسی کا من دُکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    اشرف عاد

غزلیات

 دل سے دل کا ہے تعلق منقطع دکھ کہ دکھڑا ہے تعلق منقطع   جیب میں رکھے ہیں کچھ سادہ ورق جن پہ لکھا ہے تعلق منقطع   دیکھ بستی میں رقیبوں کی مرے خوب چرچا ہے، تعلق منقطع   جیسے کچھ تھا ہی نہ اور ہوگا نہ کچھ یوں معمّہ ہے تعلق منقطع   چل رہا صدیوں سے یونہی ہے مگر اک ذرا سا ہے تعلق منقطع   یہ تو ہوتا ہے محبت کی طرح کون کرتا ہے تعلق منقطع   رابطہ ہر اک سے اب بھی ہے مگر خود سے شیداّ ؔہے تعلق منقطع   علی شیداّ ؔ  نجدون نیپورہ اسلام آباد،    فون نمبر9419045087         وہی محوِ تماشا ہیں جو حد کے پار دِکھتے ہیں مجھے تجھ سے بچھڑنے کے بہت آثار دِکھتے ہیں   سفر سے لوٹ آئے ہیں زمانے کی تھکن لے

غزلیات

 اسے بھی آزمانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  مجھے بھی دھوکہ کھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    ہواؤں کو منانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  چراغوں کو بُجھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    سنو آنسو بہانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے  شراروں کو بجھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    بدل جاتے ہیں یہ موسم بکھر جاتے ہیں یہ گلشن  صبا کو سر اٹھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    مٹائے گا  مگر کیسے محبت  آدمی دل سے پرانے خط جلانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    اشاروں پر نچاتی ہے سیاست آندھیوں کو بھی  ہواؤں کو سِکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    بڑی مشکل سے جُڑ جاتا ہے من کا آئینہ عادل ؔ کسی کا من دُکھانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے    اشرف عاد

تازہ ترین