تازہ ترین

چناب خطہ میں بیک ٹو ولیج کا چھٹا دن

جموں//چناب ویلی میں بیک ٹو ولیج پروگرام کی بدولت علاقے کے لوگوں کو اُمید پیدا ہوئی ہے کہ پنچائتی راج اداروں کو اختیارات کی منتقلی سے دیہی علاقوں میں ترقیاتی عمل میں تیزی لائی جائے گی ۔ چھٹے دن خطے کی مختلف پنچائتوں میں کئی سرگرمیاں عمل میں لائی گئیں جن میں گرام سبھاؤں کا انعقاد حکومت و عوامی استفساری کے پروگرام ، کئی ترقیاتی کاموں کا افتتاح ، مزید کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کو ہاتھ میں لینے کیلئے سنگِ بنیاد ، التوا میں پڑے پروجیکٹوں و جاری پروجیکٹوں کا انسپکشن ، بیداری کیمپوں کا انعقاد ، شجر کاری مہم ، عوامی شکائت کے ازالے کے کیمپوں کا انعقاد شامل تھے ۔  ڈوڈہ میں حکومت کی طرف سے چلائے جا رہے بیک ٹو ولیج پروگرام کے چھٹے دن ضلع کی 59 پنچائتوں میں کئی قسموں کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملی ۔ کمشنر سیکرٹری مال شاہد عنایت اللہ نے بھدرواہ کے چنوٹ پنچائت کے دورے کے دوران کئی پی آر آئیز کے سات

ڈی جی یوتھ سروسز سپورٹس کی کشتواڑ عملے کیساتھ میٹنگ

کشتواڑ// ضلع کشتواڑ میں یوتھ سروسز و سپورٹس کے عملے کا اجلاس ڈائریکٹر جنرل یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس جموں و کشمیر کی زیر صدارت منی سیکرٹریٹ کے کانفرنس ہال کشتواڑ میں منعقد ہوا ۔ڈائریکٹر جنرل یوتھ سروس اینڈ سپورٹس ڈاکٹر سلیم الرحمن و ضلع یوتھ سروس سپورٹس کشتواڑ کے افسر جعفر حسین شیخ نے ملازمین کے ساتھ بات چیت کی اوران کے مطالبات سنے۔ گیمز فنڈ کے انچارج جاوید اقبال نے ڈی جی یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس نے تفصیلی رپورٹ ڈی جی کو دی۔ ضلع کشتواڑ کے تمام 7 زونوں کے گورنمنٹ و پرائیوٹ اسکولوں کے سالانہ کھیلوں فنڈ لگ بھگ 7لاکھ کے قریب آنے چاہئیں لیکن 2.5 لاکھ رقم ہی جمع کی جاتی ہے جس کے سبب ہم کوچنگ کورسوں اور ٹورنامنٹ کے دوران کھلاڑیوں کو سہولیات فراہم نہیں کرپاتے ہیں۔انہوں نے ڈی جی سے درخواست کی کہ وہ ذاتی طور پر مداخلت کریں۔ چیئرمین نے تمام مطالبات کو پورا کرنے کا انہیں یقین دلایا۔ ڈی جی نے کہ ہمارا

شرنارتھی انٹللیکچول فورم ورکنگ کمیٹی کااجلاس منعقد

کدھ//آل جموں وکشمیر پی او کے کے1947 شرنارتھی انٹللیکچول فورم کی ورکنگ کمیٹی کاایک اجلاس بمقام کدھ فورم کے صدر سردار امریک سنگھ ایڈوکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں شرنارتھی عوام اور جموں وکشمیر کے سکھ عوام کو درپیش مسائل پر غور وخوض کیاگیا۔ میٹنگ میںجموں وکشمیر کے سکھوں کو مینارٹی سٹیٹس دیئے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔مقررین نے 1947ء کے شرنارتھیوں کے حق میں25 لاکھ ایکس گریشا گرانٹ کی بقایہ رقم ایک ہی قسط میں واگذار کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ آنند میرج ایکٹ کو تمام ہندوستان میں لاگو کیاگیاہے جس کو ریاست جموں وکشمیر میں بھی فوری طورپر لاگو کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی24اسمبلی سیٹیوںمیں18اسمبلی سیٹیں 1947 کے شرنارتھویں کے لئے مخصوص کی جائیں اور اسمبلی سیٹیوں کی حد بندی کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ اسمبلی حلقہ جات سکھوں کیلئے ریزرو رکھی جائیں جن میں سے 3صوبہ جموں اور ایک ص

سنگلدان میں نوجوانوں کی ماہانہ میٹنگ

سنگلدان// ضلع رام بن کی سنگلدان نیابت میں ہر ماہ کی طرح آج بھی نوجوانوں کی جانب سے ایک میٹنگ کا انعقاد ہوا جہاں پر اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ نوجوانوں کا ہر سطح پر استحصال ہورہا ہے جس وجہ سے آج کل کا نوجوان نشہ خوری اور بری عادات میں پھنستا چلا جا رہا ہے ۔ میٹنگ کی صدارت نوجوان سماجی لیڈر اور سرپنچ فمروٹ محمد امین بٹ کر رہے تھے ۔ اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کونشہ سے دور رکھیں اورنوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اُن جگہوں اور اُن دوستوں کے ساتھ رابطہ نہ رکھیں جن سے وہ اس بری عادت میں پھنس رہے ہوں اور نشہ کی لعنت سے باہر نکلنے کی کوشش کریں۔انہوں نے اس موقعہ پر کہا کہ آج تک گول ارناس کے نوجوانوں کے ساتھ صرف وعدے کئے گئے اور اُن کے حقوق پر شب و خون مارا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند سال سے یہاں کے نوجوانوں نے ہر ماہ25تاریخ کو ایک میٹنگ رکھی او

رام بن میں تقریری مقابلے کا انعقاد

 رام بن//مہوبل رام بن میں فوج نے طلباء کیلئے ایک تقریری مقابلہ کا انعقاد کیا گیاجس میں 15طلباء نے شرکت کی ۔مقابلہ کا مقصد بچوںکے علم میں اضافہ کرنااور نئی نسل کی سوچ کوترقی، امن اور فلاح کی طرف گامزن کرنا تھا۔ فوج کی طرف سے شرکاء کو مقابلہ میں پیش کئے گئے ہنر پر انعامات سے نوازا گیا۔مقامی لوگوں اور اساتذہ نے اس پرفوج کی تعریف کی ۔ 

مزید خبرں

بگلہ کے تعلیمی ادارے نظام بد نظمی کا شکار  پانچ اسکول بنا ٹھوس وجوہات کے بند ڈوڈہ//وادی چناب کے دیہی علاقوں میں تعلیمی نظام اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں بے انتہا بدنظمی کا شکار ہے، خاص طور پر ضلع ڈوڈہ کے دور دراز علاقوں سی آئے روز شکایتیں موصول ہوتی رہتی ہیں، جن میں زیادہ تر شکایات اساتذہ کی ڈیوٹی کے تئیں بے مروتی، اسکولوں میں عملے کی کمی اور عمارتوں کی عدم دستیابی کے متعلق ہوتی ہیں۔ تحصیل بگلہ سے موصول ہونے والی شکایات کے مطابق وہاں کا تعلیمی نظام بالکل درہم برہم ہو چکا ہے اور تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔اطلاعات کے مطابق تحصیل میں سرکار کی عدم توجہی ،زمین مالکا ن کو معاوضہ نہ فراہم کرنے اور غیر ذمہ دارنہ رویہ کی وجہ سے ابھی تک ایک درجن کے قریب اسکول بند ہو چکے ہیں اور ان میں بچوں کی بجائے جانور حاضر ہوتے ہیں۔ بند ہونے والے اسکولوں میں لاوے پورہ بھرت ، گجر بستی، اور چ