تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

کورونا وائرس سے فوتیدہ مسلمان غسل، کفن، جنازہ اور تدفین کے مسائل اور انکا شرعی حل سوال: کورونا وائرس کی اس خطرناک وبائی بیماری کے نتیجے میں جو طرح طرح مسائل ہمارے سامنے ہیں ان میں ایک اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ اس مرض کا شکار کوئی شخص اگر فوت ہوجائے تو اس کے غسل سے لیکر کر دفن کے مسائل کے متعلق شرعی احکام کیا ہونگے یاد رہے کشمیر میں اس طرح کا حادثہ پیش آچکا ہے کہ ایک دین دار مسلمان اس مرض کا شکار تھا اور وہ اللہ کو پیارا ہوگیا۔ اب اس سلسلے میں سوالات یہ ہیں: ۱۔ اگر اس مرض کا شکار فرد فوت ہو جائے تو اس کا غسل کیسے دیا جائے اگر ڈاکٹروں کی رائے میں غسل دینے کی کوئی شکل نہ ہو تو کیا تیمم کرا سکتے ہیں یا نہیں؟ ۲۔ یہ کہ اس کو کس طرح کا کفن پہنایا جائے اگر طبی طور پر اس کو کسی پلاسٹک کے مضبوط کور میں لپیٹ دیا گیا ہو اور اس کور کے کھولنے کی اجازت بالکل نہ ہو تو کیا اس پلاسٹک کور

فلسفۂ معراج

حضورنبی کریم ﷺ کے معراج شریف کا واقعہ نہایت مشہور و معروف ہے ۔اسے علمائے دین اور مورخین نے نہایت تفصیلاً تحریر فرمایا ہے اور اکثر واقعہ تفسیر ِ قرآن کریم اور صحیح احادیث نبویہ ؐ میں موجود ہے۔اس سارے واقعہ سے دورِ حاضر کے مسلمانوں کو کیا سبق ملتا ہے ؟اس تاریخ سازواقعہ کو مدنظر رکھ کر آئندہ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو نظر اندازنہیں کئے جا سکتے ہیں ۔ واقعہ ٔ معراج کب پیش آیا ،اس میں علمائے سیر کا اختلاف ہے ۔اس بارے میں علماء کے 10 اقوال ہیں ، حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک واقعہ معراج سفر طائف کے بعد پیش آیا (زاد المعاد)۔    محقق عالم دین ،محدث ومفسر قرآن حضرت مولانا محمد ادریس کاندہلوی ؒ فرماتے ہیں :    ’’ راجح قول یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد اور بیعت ِ عقبہ سے پہلے معراج ہوئی ۔۔۔یہ امر روایات سے ث

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:کرونا وائرس کی وجہ سے سبھی لوگوں کو Senitizerاستعمال کرنے کی بہت تاکید کی جاتی ہے ۔ حالانکہ اس میں الکحل کی بہت مقدار ہوتی ہے جبکہ الکحل کے بارے میں سنا گیا ہے کہ وہ ناپاک ہوتا ہے تو اب سوال یہ ہے کہ Senitizer استعمال کرنے کے بعد ہاتھ پاک رہتے ہیں یا ناپاک اور کیا پانی استعمال کئے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں، یا پانی کا استعمال ضروری ہے۔ اگر کپڑوں میں لگ جائے تو اس کا کیا حکم ہے۔ عبدالعزیز زرگر،رعناواری، سرینگر   کرونا وائرس سینی ٹائزر کے استعمال میں کوئی شرعی ممانعت نہیں   جواب:صفائی اور جراثیم کو ختم کرنے کیلئے Senitizer ایک ایسا مائع Liquidہے جس میں الکحل بھی ہوتا ہے۔ الکحل مختلف چیزوں سے تیار ہوتا ہے۔ ان چیزوں میں انگور اور کھجور بھی ہے۔ان دو سے جو الکحل تیار ہوتا ہے وہ حرام بھی ہے اور نجس بھی۔ یہ الکحل مہنگی شرابوں اور بہت قیمتی دوائوں میں استعمال ہے جبکہ پ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 مندرجہ ذیل چند سوالات عرض ہیں، بمہربانی مختصر وضاحت فرمائیں؟؟ (۱) ایک مسلمان کے لئے لباس کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟ (۲) مردے کےہاتھ باندھ کے رکھنے اور غسل کے بعد کفن باندھنے اور پھر چہارم کی رسم کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟ (۳) قرض کے لین دین ، جسکا سود ایک اہم حصہ ہوتا ہے ، کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ (۴) لڑکے اور لڑکی کے درمیان رشتہ طے کرنے سے پہلے یہ شرط رکھی جائے کہ دونوں پہلے ایک دوسرے سے مل لیں، پھر فیصلہ کرینگے، کیا ایسا کرنا جائزہے؟ عبدالرحمان ملک فاروق احمد ملک  لباس کے بارے میں شرعی ہدایت جواب:۔ لباس کے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ ہر وہ لباس جو انسان کے ستر کو پوری طرح نہ چھپائے وہ غیر شرعی لباس ہے لہٰذا جو لباس بدن پر اس طرح تنگ اور چست ہو کہ جسم کے اعضائے مستورہ کا حجم اور نشیب وفراز نمایاں ہو جائےوہ لباس غیر شرعی ہوگا ۔لہٰذاچست

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:اگر کوئی آدمی کہیں پر پڑی ہوئی کوئی رقم یا کوئی چیز اٹھائے،اس کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟راقم نے پڑھا ہے کہ اگر اس کا مالک نہ ملے تو اس کو اصلی مالک کے نام پر صدقہ دے۔مالک معلوم نہ ہو تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا مالک غیر مسلم بھی ہو سکتا ہے ۔کیا ایسے مالک کو صدقہ کا کچھ فایدہ ہوگا ،اگر نہیں تو ایسے رقم یا چیز کا مصرف کیا ہے؟ ابو عقیل ۔دارہ پورہ ،زینہ گیر سرینگر کوئی رقم یا چیز اٹھائی جائے تو کیا کیا جائے؟   جواب:جب کوئی شخص کسی جگہ سے کوئی گری پڑی چیز اٹھائے یا کوئی رقم اٹھائے تو شریعت میں اس چیز کو لقطہ کہتے ہیں۔اس لُقطہ کا حکم یہ ہے کہ اٹھاتے وقت مالک تک پہنچانے کی نیت سے اٹھائے ،اگر اُس نے خوش ہوکر اپنے استعمال کی نیت سے اُسے اٹھالیا تو اس نیت کی وجہ سے وہ گنہ گار ہوگا اور پھر وہ شخص اس چیز کا ضامن بن جائے گا پھر ضمان کے احکام اس پر جاری ہوں گے جو الگ سے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:-برائے کرم کشمیرعظمیٰ کے ان صفحات میں حج کا مکمل طریقہ بہت اختصار کے ساتھ درج فرمائیں تاکہ سفر حج میں جانے والے ایک مختصر اور مستند گائڈ پیپر ساتھ رکھیں۔ ارشاد احمد - ---- ،سرینگر حج کا مختصر طریقہ منیٰ: 8ذی الحج کو حج کا احرام باندھ کر سارے حاجیوں کومنیٰ روانگی نیت حج کریں ۔یہاں سے کثرت سے تلبیہ پڑھنا شروع ہوگا۔ منیٰ کا فاصلہ مکہ معظمہ سے تین چارکلومیٹر ہے اور پیدل جانا افصل ہے ، اگلی صبح تک منیٰ میں ٹھہرنا ہی عبادت ہے 8سے  9ذی الحج صبح تک نمازیں پڑھنا اورعبادتیں کرنا ہے ۔ عرفات:9ذی الحج کی صبح کو تمام حاجیوں کی منیٰ سے عرفات روانگی ،عرفات میں زوال کے بعد سے غروب آفتا ب تک کا وقت نہایت اہم اور قیمتی ہے ۔ روئیں ، گڑگڑائیں ،اُٹھتے بیٹھتے اور کھڑے ہوکر شام تک دعائیں ہی مانگتے رہیں۔شام میں ضرور جبل رحمت پر جاکر دعائیں مانگیں کیونکہ اسی پہاڑ پر رسول اکرم صل

اورنگ زیب عالم گیر

ابوالمظفر محی الدین محمد اورنگزیب عالمگیرؒ مغلیہ خاندان کا چھٹا بادشاہ تھا۔3نومبر 1618 عیسوی کو مالوہ کی سرحد پر پیدا ہوا ۔ عالم گیر کا خطاب والد شاہجہان نے دیا ۔ اورنگزیب کی والدہ ارجمند بانو تھیں جو ممتازمحل کے نام سے مشہور تھیں۔اورنگزیب کو سیدمحمد،میر ہاشم اور ملا صالح جیسے علام کی شاگردی کا موقعہ ملا ۔ مغل بادشاہوں میں اورنگزیب پہلا بادشاہ تھا جس نے قرآن شریف حفظ کیا اور فارسی مضمون نویسی میں نام پیدا کیا۔اس کے علاوہ گھڑ سواری تیر اندازی اور فنون سپہ گری میں بھی کمال حاصل کیا ۔سترہ برس کی عمر میں 1636 کو دکن کا صوبے دار مقرر ہوا ۔ اس دوران اس نے کئی بغاوتوں کو فرو کیا اور چند نئے علاقے فتح کیے،بلغ کے ازبکوں کی سرکوبی جس جوانمردی سے کی اس کی مثال تاریخ عالم میں مشکل سے ملے گی۔اورنگزیب نے جس دور میں آنکھ کھولی وہ مادہ پرستی کا عظیم دور تھا ، اس کا باپ شاہجہان عشاق کی دنیا کا عظیم ت

عادل حکمران

اسلام  کی حقانیت کو سمجھنے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے ایک مسلمان کو کتاب وسنت کا گہرائی وگیرائی سے مطالعہ کرنا چاہئے، جب وہ قرآن وحدیث کا مطالعہ کرے گا تو امام وقت اور عادل امام کی ذمہ داریوں کا احساس ہوگا ۔ عادل امام کی ذمہ داریاں موجودہ وقت میں دو چند ہوجاتی ہیں ۔ آج کے اس مادہ پرستی اور پُرآشوب دور میں جب کہ ہر طرف انارکی اور فتنہ پروری کا بازار گرم ہے ،عادل امام اصلاح معاشرہ کا فریضہ بخوبی انجام دے سکتاہے ۔ اس باب میں یہ حدیث مبارک راہ کشا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نےارشاد فرمایا کہ:’’سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیںاللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کےسائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہو گا:عدل و انصاف کرنے والا حاکم، وہ نوجوان جس کی نشوونما اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ساتھ ہوئی ، وہ شخص جس ک

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ ہمارے معاشرے میں منشیات کی مختلف قسمیں بہت تیزی سے رائج ہو رہی ہیں ۔ نوجوان بہت تیزی کے ساتھ منشیات کاعادی ہوتے جا رہے ہیں ۔ شریف اور معزز خاندانوں کے بچے اس میں بُری طرح پھنس رہے ہیں ۔شراب اور دوسری منشیات کا پھیلائو بہت زیادہ ہے ۔شراب خانوں کے باہر  شراب لینے والوں کی لائینںلگی ہوتی ہیں۔ کہیں پر خفیہ اور کہیں پر کھلم کھلاشراب ، چرس اور دوسری منشیات کی فروختگی کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ یہاںجموں میں حال زیادہ ہی بُرا ہے ۔ برائے مہربانی تفصیل کے ساتھ منشیات کے متعلق قران اور حدیث کے مطابق روشنی ڈالیں۔میں میڈیکل شعبہ سے وابستہ ایک ڈاکٹر ہوں میرے سامنے بہت شرمناک اور افسوسناک واقعات ہیں۔ ڈاکٹر نجیب اشرف منشیات کی خوفناک وباء.......... نجات کےلئے انفرادی اوراجتماعی جد وجہد کی ضرورت جواب :۔ اللہ نے انسان کو جن مخصوص اور اہم نعمتوں سے نوازا ہے اُن میں ایک خاص اور

حج سے پہلے چار کام

ماہِ  شوال سے ہی حج کے مبارک سفر کی تیاریاںکی جانے لگتی ہیں، اسی لیے اس کا شمار اشہرِحج میں کیا جاتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے (مفہوم)حج کے مہینے مقرر ہیں، اس لیے جو شخص ان میں حج لازم کرے وہ اپنے بیوی سے میل ملاپ نہ کرنے ، گناہ کے کرنے اور جھگڑے لڑائی کرنے سے بچتا رہے اور تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالی باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہترین توشہ اللہ کا ڈر ہے اور اے عقل مندو مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔(البقرۃ)علامہ ابن کثیرؒاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: امام بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓسے جزم کے ساتھ تعلیقاً روایت کی ہے کہ اشہرِمعلومات سے مراد شوال، ذی القعد ہ اور عشرۂ ذی الحجہ ہے ۔(تفسير ابن كثير) اسلام کے پانچ ارکان: اسلام کے جو پانچ ارکان ہیں، حج ان میں سے ایک ہے۔ حضرت نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے؛

نہر زبیدہ

سر زمین حجاز کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے یہاں کئی تاریخی مقامات کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ بچپن میں کہانی سن رکھی تھی کہ عباسی خلیفہ ہارون رشید کی اہلیہ ملکہ زبیدہ نے دریائے دجلہ سے نہر نکال کر مکہ مکرمہ تک لائیں۔بات یہ ہے کہ لوگ نہر زبیدہ (عین زبیدہ) اور درب زیبدہ کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ حاجیوں کے  لیے پانی کی فراہمی کے لیے مکہ مکرمہ کے قریب وادی نعمان سے نہر نکالی گئی تاہم ملکہ زبیدہ نے بغداد سے مکہ مکرمہ تک حاجیوں کے قافلوں کے لیے جو گزر گاہ بنائی اسے درب زبیدہ کہا جا تا ہے۔نہر زبیدہ 1200 برس تک مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہی۔ آج کے دور میں ماہر آرکیٹکٹ اور انجینئرحیران ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم الشان منصوبے کو کیسے تکمیل تک پہنچایاگیا۔ نہر زبیدہ کا منصوبہ اس وقت کے ماہرین نے 10سال کے عرصے میں مکمل کیا۔ اس کی کُل لمبائی 38کلومیٹر ہے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال: پچھلے شمارے میں آپ نے لکھا تھا کہ طواف کا طریقہ یہ ہے کہ مطاف کے اندر کالی پٹی پر کھڑے ہو کر طواف شروع کیا جائے حالانکہ مطاف کے اندر کوئی کالی پٹی نہیں ہے؟ سوال:۔ اگر کسی عورت کو حیض کاعذر پیش آجائے اورا س نے طواف زیارت نہ کیا ہو اور واپسی کو وقت قریب آجائے ،اس کےلئے کیا حکم ہے۔ وہ کیا کریگی؟ سوال:۔ حج کرنے والےحضرات حج کے دوران قربانی کرتے ہیں۔ وہ قربانی جو ہر سال گھر میں کی جاتی ہے کیا وہ قربانی بھی جائز ہے؟ محمد خالد  رعناواری سرینگر طوافِ کعبہ شروع کرنے کا مقام جواب:۔ سوالات کی ترتیب کے مطابق جوابات ملاحظہ ہوں (۱) مطاف میں جس مقام سے طواف شروع کیا جاتا ہے وہ حجر اسود ہے۔ اس حجر اسود کے مقابل ایک سیاہ پٹی بنائی گئی تھی او ر وہ علامت تھی کہ اس جگہ سے طواف شروع کیا جائے ۔چنانچہ چند سال پہلے تک یہ پٹی مطاف میں موجود تھی مگر شدید اژدھام ک

ہجومی تشدد !!!

 تیزی  سے بڑھتے ہوئے ہجومی قتل کے واقعات کا یہ پہلو انتہائی تشویش ناک ہے کہ ظالم بلوائی زورزبردستی اپنے شکار سے مذہبی نعرے بھی لگواتے ہیں۔ تبریز انصاری کا واقعہ ہو یا ضلع اُناؤ(یوپی )کے مدرسے کے بچوں کا واقعہ ہو یا مظفر نگر کے امام جناب اخلاق الرحمٰن کا واقعہ ہو، اس طرح کے اَن گنت واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں۔ان واقعات کو دیکھتے ہوئے اسلامی تاریخ سے ہمیں کیا روشنی ملتی ہے؟۔ اسلام میں جہاں ظالم کو معاف کر نے پر اجروثواب کا مژدہ سناتا ہے، وہیں ظالم سے اس کے ظلم کے تناسب سے انصاف کے ساتھ بدلہ لینے کی بھی اجازت دیتا ہے۔ ماب لینچنگ Mob Lynching کے واقعات کے پیش نظر قرآن کریم کی سورہ شوریٰ کی آیت 39سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے، اس پر غور فر مائیں اور اس پر عمل فر مائیں !تر جمہ:’’اورجب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کر تے ہیں‘‘۔ قرآن کریم ظالموں س

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

حج کی بنیادی شرائط س:- حاجیوں کی سفرِمحمودکے روانگی کی تیاریاں جاری  ہے ۔ ان حالات میں ذہن میں آتاہے کہ کہیںہم پر بھی حج فرض تو نہیں ہے ۔  برائے مہربانی ہم کو بتایا جائے کہ کن کن شرائط کے پائے جانے پر حج فرض ہو جاتاہے اور اگر حج فرض ہوگیا ہو لیکن کوئی شخص نہ کرسکا تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ محمد شعبان بٹ  ج:- جس مسلمان کے پاس اتنی مالی وسعت ہوکہ وہ حج کے ایام میں مکہ مکرمہ حاضر ہو سکے۔ اور واپسی کے مصارف بھی ہوں اور ان ایام میں وہ اپنے گھر والوںکے ضروری خرچوںکا انتظام بھی کرسکے تو ایسے مسلمان پر حج فرض ہو جاتاہے ۔ اور جب یہ فرض ہوجاتاہے تو اس کی ادائیگی میںتاخیر کرنا بھی جرم ہے اور فرض ہو جانے کے بعد اگر کوئی شخص ادا نہ کرے تو ایسا شخص فاسق ہوگیا ۔ لیکن اس پر لازم ہے کہ وہ اس فریضہ کے ادا کرنے کی وصیت کرے ۔ اور اگر اس نے وصیت کردی تو وارثوں پر لازم ہے کہ

اسلام اور جمہوریت

  جمہوریت اور ریشنلزم : نظام اسلامی اورجمہوریت کے درمیان قدرے اشتراک اس امر میں ضرور ہے کہ ان دونوں نظام ہائے سلطنت نے شخصی اور وراثتی سلطنت کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے میں اہم کردار ادا کیے ہیں لیکن اس ادنیٰ سی مناسبت کی وجہ سے ان دونوں نظام ہائے سلطنت کے اصولی و فروعی آپسی تناقض سے چشم پوشی کرنا کسی اعتبار سے بھی معقول نہیں۔ چوں کہ نظریے کے کسی بھی باب میں اتفاق کا لفظ اسی وقت استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ کم از کم ان دونوں نظریات کے بنیادی اصول و اغراض میں اتفاق ممکن ہو، حالاں کہ جمہوریت اوراسلامی نظام کے بنیادی نظریے میں زمین و آسمان کا فرق ہے؛ کیوں کہ حکومت اسلامی مسلمانوں کے ایمان باللہ، ایمان بالآخرة اوراسلامی مقاصد کو بروئے کار لانے کی ضامن ہے، جبکہ جمہوریت کے پس پردہ کوئی ایسی طاقت نہیں پائی جاتی جو ایسے مقاصد کو درجہٴ فعلیت میں لانے کی ضمانت دے سکے اوراگر کوئی طاقت ہے تو

جمعہ کی فضیلتیں، رحمتیں ، برکتیں

اسلام  میں جمعہ کے دن کو بہت ہی عظمت اورفضیلت والا دن قرار دیا گیا ہے۔ اس دن تمام دنوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں، رحمتیں اور برکتیں بندوں پر نازل ہوتی ہیں۔ یہ ایک طرح سے ہفتے کی عید ہے۔ اسی لئے اس دن ادائے شکر کے لئے ایک خاص نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے جسے نماز جمعہ کہتے ہیں جس کی فرضیت قرآن مجید، احادیث متواترہ اور اجماع امت سب سے ثابت ہے۔ یہ اسلام کے شعائر اعظم میں سے ہے جس کے اہتمام کی نہ صرف تاکید کی گئی ہے بلکہ اس سے بہت سی فضیلتیں اور بشارتیں بھی وابستہ ہیں ۔ سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا (ترجمہ): ’’جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اورجس قدر ممکن ہوا پاکی حاصل کی، پھر تیل یا خوشبواستعمال کیا، پھر نماز جمعہ کے لئے روانہ ہوا اور (مسجد میں پہنچ کر) دو آدمیوں کے درمیان (گھس کر) تفریق نہ کی، پھر جتنی (نفل) نماز اس کی قسمت میں تھی

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ اس وقت ہماری زندگی میں جن مصنوعات کا روزمرہ استعمال ہو رہاہے، اُن میں عام طور پر مختلف اقسام کے پلاسٹک اور پالی تھین کی پیکنگ کی گئی ہوتی ہے۔ وہ کھانے پینے کی اشیاء ہوں، پہنے اُوڑھنے کی چیزیں ہوں یاعلاج معالجہ کےلئے ادویات ۔ غرض کوئی بھی شے ایسی نہیں جو پلاسٹک یا پالی تھین کی پیکنگ سے خالی ہو، حتیٰ کہ پینے کےلئے پانی، جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے ،بھی پلاسٹک کی بوتلوں میں فراہم کی جاتی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ استعمال کے بعد یہ اشیاء پھینک دی جاتی ہیں۔ نتیجتاً اس وقت دنیا بھر میں کروڑوںٹن پالی تھین اور پلاسٹک کوڑے کرکٹ کی صورت میں پڑا ہوا ہے ۔ جس سے نہ صرف اراضی کی بڑے پیمانے پر  تباہی واقع ہو رہی ہے بلکہ چھوٹے بڑے سمندروں، جھیلوں اور آب گاہوںمیں آلودگی کی حدود انتہا کو پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین اسے موسمیاتی تبدیلی کے لئے بنیادی وجہ گردانتے ہیں اور اس موسمیاتی تبدیلی کے نتیجہ م

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: ۔ حضرت ! دنیا بھر کو اس وقت موسمیاتی و ماحولیاتی تغیر کا شدت کے ساتھ سامنا ہے۔ کرۂ ارض کے کم و بیش سبھی حصوں میں موسموں کے اوقات میں تیزی کے ساتھ تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔ اسکی وجہ سے کئی علاقوں میں بے وقت کی بارشوں سے تباہ کاری مچ رہی ہے جبکہ متعدد خطوں میں خشک سالی کی وجہ سے پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش ہے۔ ایسے حالات میں ماہرین پانی کو تحفظ فراہم کرنے اور اسکے استعمال میں کفایت برتنے پہ بہت زور دے رہے ہیں۔ ہم چونکہ عادتاً پانی کا بے تحاشہ استعمال کرتے آئے ہیں، لہٰذا ظاہر بات ہے کہ اس نئی صورتحال سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے ہیں۔گھروں کے صحن صاف کرنے ، گاڑیاں دھونے اور ہمچو قسم کے کاموں میں پانی کا بے تحاشہ ، یہاں تک کہ مصرفانہ استعمال ہمارے مزاج کا حصہ بن گیا ہے۔ اور تو اور نماز کےلئے وضوبناتے وقت نل کھلا رکھنا، جس سے کافی مقدار میں پانی ضائع ہو جاتا ہے، ایک روز مرہ کی صورتحال ہے۔سوش

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: ساس، بہو کے درمیان اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے شرعی حدود اور ہدایات کیا ہیں۔ دونوں کو کن کن باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے اور کن باتوں سے بچنا چاہئے؟ جنید احمد    بمنہ سرینگر ساس، بہو کے خوشگوار تعلقات کی بنیاد۔۔۔ جواب:ساس اور بہو کا رشتہ بہت اہم بھی ہے۔نازک بھی اور بہت سے بہتر یا بد تر احوال پیداہونے کا قوی سبب بھی ہے۔ کتنے ہی گھر سب کچھ ہونے کے باوجود تباہ حال ہیں اور وجہ صرف ساس بہوکے اختلافات اور نزاعات ہیں۔ اور کتنے ہی گھروں کے مرد ظلم کرنے کا جرم کرتے ہیں۔ اور وجہ ساس بہو کے سطحی اور چھوٹی باتوں کے جھگڑے۔ مرد کبھی بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا اور وجہ اسکی ماں ہوتی ہے۔ اور کبھی ماں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے اور اس کا سبب اُس کی بیوی ہوتی ہے۔ اس لئے ذیل میں ساس اور بہو دونوں کے لئے اہم ہدایت درج ہیں۔… پہلے ساس کیلئے ہدایات ملاحظہ ہوں۔ (۱)

کر کٹ اور موبائل

 کھیل  صحت مند زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔’’کھیل‘‘ یعنی کوئی بھی ایسا کام جو ہماری ذہنی اور جسمانی نشوونما میں اہم رول اداکرے۔ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ جسم کو چاق و چوبند اور صحت مند بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔کھیلنے سے دماغ تروتازہ ہوتا ہے،زمانہ قدیم سے زمانہ جدید تک کھیل انسانی زند گی کا حصہ رہاہے کھیل خواہ کسی بھی قسم کے ہوں  indoor  یا  out door  ،چیس، لوڈو، کیرم، سنوکر، ٹیبل ٹینس وغیرہ وغیرہ اس سے دماغی صلاحیتوں میں اضافہ ہو تاہے اور ذہنی قابلیت بھی ابھر تی ہے۔outdoor کھیل جیسے کر کٹ، فٹ بال،باسکٹ بال، طرح طرح کی دوڑrace; اور بیڈ منٹن وغیرہ وغیرہ ہیں جو ہمارے جسم کو چست، لچکدا راور پھر تیلا بناتی ہیں اور فزیکلPhysical فٹنیس کے لیے بچوں،نوجوانوںاور بوڑھوں کے لیے اپنی اپنی طاقت وصلاحیت و پسند کے اعتبار سے حصہ لینا چاہیے۔