کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

   روزوں کے متفرق مسائل   سوالات (۱) گردوں میں پتھری ہو تو کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۲) روزوں کے بدلے فدیہ کس فرد پر لاگو ہوتا ہے؟ (۳) معدے میں تیزابیت(Acidity)ہو جس کی وجہ سے دل میں جلن محسوس ہوتی ہے( Heart Burn) کیا اس صورتحال میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۴) جسم کے اندرونی حصہ میں السر (ulser)ہے، جس کی وجہ سے(Black Motion)ہوتی ہے ، کیا روزہ رکھ سکتے ہیں؟ (۵) جو ماں بچے کو دودھپلاتی ہو روزوں کے متعلق ان کو شریعت کیا حکم اور کیا گنجائش دیتی ہے؟ (۶) کیا ہم روزوں کے درمیان اندام نہانی میں وہ دوائی رکھ سکتے ہیں جس کا مقصد لیکویریا کا علاج ہوسکتا۔ (۷) استھما کی بیماری میں Inhaler کا استعمال کرنے سے روزہ متاثر ہوتا ہے؟ (۸) کیا روزوں میں دریا میں تیرنے کی اجازت ہے؟ (۹) حاملہ عورت روزہ رکھ سکتی ہے یا نہیں؟ (۱۰) تمباکو نوشی ختم کرنے ک

قرآن کریم کے انگریزی تراجم

قرآنی علوم ومعارف پر دنیا بھر میں اب تک جتنا کام ہوا ہے، اتنا شاید ہی کسی آسمانی یا غیرآسمانی کتاب پر ہوا ہوگا اور اس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔ ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی کی کتاب ’’ترجمات معاني القرآن الإنجلیزيۃ : دراسۃ نقدیۃ و تحلیلیۃ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے، جو پہلی بار 2009 ء میں سعودی عرب کے معروف ومشہوراشاعتی ادارہ مکتبہ توبہ سے چھپ کر منظر عام پر آیاتھا۔ علمی وادبی حلقوں میں ڈاکٹر اعظمی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، وہ عربی زبان وادب میں نمایاں خدمات کے عوض حکومت ہند کی جانب سے صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ اورفی الوقت جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ عربی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ تصنیف وتالیف، تحقیق وانکشاف، صحافت، ترجمہ نگاری، ادب اور شاعری سے انھیں زمانۂ طالب علمی سے ہی غیر معمولی دلچسپی رہی ہے، قرآن

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

س: -روزے کے متعلق جوعمومی مسائل کثیر الوقوع ہیں ، براہ کرم اپنے مفیدکالم میں خود ہی انتخاب کرکے ضرور شائع کریں ۔ مجھے بہت دُکھ ہوا کہ ایک نئے شادی شدہ جوڑے نے دن میں روزے کی حالت میں اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کی اور ان کویہ معلوم نہ تھاکہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہے اور گناہ بھی ہواہے ۔ اس لئے اہم مسائل ضرور لکھیں ۔  اعجاز احمد خان…بانڈی پورہ روزے کے اہم مسائل  ج: -روزہ ہرمسلمان مرد عورت پر فرض ہے، بشرطیکہ وہ بالغ ہو ۔ روزہ کو فرض تسلیم کرنااور اس کو خدا کا اس کے نبی کا لازم کردہ حکم اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے جو شخص رمضان کی یا روزے کی توہین کرے ، تو وہ شخص ایمان سے محروم ہوسکتاہے ۔ مثلاً کوئی یہ کہے ،ہم کو بھوکا پیاسا رکھنے سے اللہ کو کیا ملے گا ، یا روزہ اس وقت فرض تھا جب لوگوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ تھا،اس طرح کے جملے بول دینے سے مسلمان کا ایمان ختم

روزہ تزکیۂ نفس کا نقش ِ راہ

جس  طرح پودے کی نشوونما کے لیے اس کو خاردار برگ وبار سے محفوظ رکھنااور وقت پانی، کھاد اور جنگلی جانوروں سے بچاؤ کی تدابیر ضروری ہیں، اسی طرح شخصیت کے ارتقاء کے لیے غلط افکار و خیالات نیز باطل نظریات سے بچنا بھی ناگزیر ہے۔ اگر ہمارے گردوپیش کا معاشرہ بیمار ہو اور ہم چاہیں کہ بیماری سے محفوظ صحت مند زندگی ہمارے حصے میں آئے تو ایسا ناممکن ہے۔ انسانی خاندان سماج کی بنیادی اکائی ہے، اس لیے فطری طور سے ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اسے ہر طرح کے آوارہ، باطل اور مہلک نظریات پر مبنی طرز حیات کی آغوش میں جانے سے روکیں۔ انسانی سیرت اور شخصیت کی تعمیر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرنے کا نام تزکیہ نفس ہے، یعنی اگر کسی فرد کی تربیت اسلامی ماحول میں ہورہی ہے تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اس کا تزکیہ بھی ہوگا۔ قرآن کریم میں حضرت ابراہیمؑ کے تعلق سے آیا ہے کہ جب وہ خانہ کعبہ کی تعمیر کر

صیام الکریم

بے زبانوں کو جب وہ زبان دیتا ہے پڑھنے کو پھر وہ قرآن دیتا ہے بخشش پہ آتا ہے جب اُمت کے گناہوں کو تحفے میں گناہ گاروں کو رمضان دیتا ہے چشم بار ہو کہ مہمان آ گیا دامن میں الہٰی تحفۂ ذیشان آ گیا بخشش بھی، مغفرت بھی،جہنم سے بھی نجات دست طلب بڑھاؤ کہ رمضان آ‌گی گناہوں کی عادت چھڑا دے یا الہٰی ہمیں نیک انسان بنا دے یا الہٰی جو تجھ کو جو تیرے محبوب کو پسند ہو ہمیں ایسا انسان بنا دے یا الہی اہلِ ایماں کے لئے ہے یہ مسرت کا پیام آگیا سرچشمہ ٔ  فضلِ خدا ماہِ صیام روح پرور ہے یہ تسبیح و تلاوت کا سماں کررہے ہیں سب بقدرِ ظرف اس کا اہتمام مسجدیں فضلِ خدا سے مطلعِ انوار ہیں پی رہے ہیں اہلِ ایماں بادۂ وحدت کا جام بارگاہِ رب العزت میں سبھی ہیں سجدہ ریز دید کے قابل ہے یہ قانونِ قدرت کا نظام طالبِ فضلِ خدا ہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 سوال:۔ قرآن کریم کے حقوق کیا کیا ہیں اور کیا ہم مسلمان اُن حقوق کو ادا کررہے ہیں یا نہیں ۔تفصیلی جواب ، اُمید ہے کہ ،بیداری اور بصیرت کا ذریعہ ہوگا اور اپنی کوتاہی کا احساس بیدار کرنے کا سبب بنے گا۔ محمد فاروق الفاروق کالونی سرینگر مسلمان پر قرآنِ کریم کے حقوق جواب:۔ قرآن کریم کے کچھ حقوق تو فکری و ایمانی ہیں اور کچھ حقوق عملی ہیں۔ ایمانی حقوق مختصراً یہ ہیں: اس پر ایمان لانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اوراس پر یقین رکھنا کہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اس کی عظمت دل میں رکھنا۔ اس پر یقین رکھنا کہ یہ حضرت محمد ﷺ  پر حضرت جبرائیل ؑکے ذریعہ نازل ہوئی ہے۔ یہ یقین رکھنا اب انسانیت کے لئے صرف یہی ایک صحیفۂ ہدایت ہے اور قرآن کریم کے عملی حقوق یہ ہیں ۔ اس کی تعلیم حاصل کرنا ،یعنی اس کو اس کے عربی میں پڑھنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔ یہ پڑھنے کی صلاحیت چاہئے صحیفۂ مبا

ماہِ مبارک خوش آمدید!

 روزہ   اسلام کا ایک اہم رُکن ہے،اسے عربی میں صوم یا صیام کہا جاتا ہے اورصوم کے معنیٰ رک جانے کے ہیں ۔جب کوئی مسلمان روزہ رکھتا ہے تو وہ دن بھر کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر کئی پوشیدہ حلال کاموں سے پر ہیز کرتا ہے لیکن روزہ محض کھانے پینے سے پر ہیز کرنا کا نام نہیں بلکہ روزہ دار کے جسم کے تمام اعضاء کا روزہ ہوتا ہے ۔رمضان المبارک کے روزہ وں کی بہت سی فضیلتیںا حادیث پاک میں آئی ہیں۔رمضان المبارک اسلامی کلنڈر میں ہجری کا نواں مہینہ ہے اس ماہ لیلتہ القدر میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پاک کا نزول ہوا ۔اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزوں کو فرض کیاہے ،اس ماہ میں مومن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے ،جب مسلمان روزہ رکھے تو اسے چاہئے کہ زبان ، آنکھ ،کان ، دل اورسی طرح دیگر اعضاء کا بھی روزہ ہوتا ہے یعنی مسلمان کو کوئی بھی عضو اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہیں ہوتا۔ اسی کو تقویٰ کہتے ہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ ہمارے اس معاشرے میں ہر ُسو فاحشات، منکرات اور دیگرجرائم کا سمان روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ دخترا ن قوم کے حساس طبقے کیلئے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ وقت اور زمانہ اُن سے آگے بڑھنے کیلئے مروجہ تعلیم اور دیگر علوم اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور استفادہ کرنے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ انکی کے اندرکی فطری صلاحیتوں اور قابلیت میں نکھار آسکے اور اپنے گرد ونواح اور سماج میں اپنا مطلوبہ مقام حاصل کرسکیںلیکن بدقسمتی سے انہیں اپنا ’’ اصلی مقام‘‘ اور عزت اور وقار برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں بہت ساری رکاوٹیں حائل رہتی ہیں۔جن کے  ساتھ اُن کا اٹھنا بیٹھنا ہوتا ہے وہ باطل نظریات اور مغربی تہذیب سے اس حد تک متاثر ہو چکی ہیں کہ حساس اور دین پسند خواتین کا اس ماحول میں عملاًPrecticallyاس جھنجھٹ سے بچ نکل کر آگے بڑھنا اگرچہ

ڈاکٹر اسراراحمد

   ڈاکٹر اسرار احمد ایک ایسی شخصیت ہے جو سوانح نگاروں کو بھی شہرت کے مقام پر لا کھڑا کرتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے   ؎   آدمیت تیری تلاش رہی    دیکھے ہیں پردہ ہائے نام بہت     ڈاکٹر اسرار صاحب نے ابتدائی تعلیم گورئمنٹ کالج لاہور میں حاصل کی اور اسی کالج سے ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے قافلے کا حصہ بنے مگر جماعت سے اختلاف کے باعث ا س سے الگ ہو گئے۔ جماعت اسلامی سے اپنا راستہ الگ کیا لیکن نفاذ اسلام کی جدوجہد سے دست برداری اختیار نہیں کی اور آخر وقت تک مصروف عمل رہے۔ مسلم نوجوانوں کو نفاذِ شریعت اسلامی کے لئے ان کی تڑپ تڑپ اور جہد مسلسل دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے۔بقول زاہد راشدی ڈاکٹر صاحب کا موقف تھا کہ شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوب

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال :-آج شعبان کا مہینہ چل رہاہے۔ شعبان میں شب برات ایک اہم دن ہے۔ اس شب کے بارے میں کیا فضیلت ہے۔ اس بارے میں حدیثوں میں کیا بتایا گیا ہے۔ یہ احادیث کس درجہ کی ہیں۔ اس شب میں کیا کیا عمل کرنا چاہئے ؟ امت مسلمہ کاطریقہ عمل اس بارے میں کیا ہے ؟ ماسٹر محمدیعقوب  شب برأت کی فضیلت اور اہمیت جواب:-شب برات کو احادث میں لیل من نصف شعبان یعنی ماہِ شعبان کی درمیانی شب کہاجاتاہے۔اس کی فضیلت کے متعلق بہت ساری احادیث ہیں۔جن میں سے چند یہ ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل ؓبیان کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جل شانہ شعبان کی پندرھویں رات میں اپنی مخلوق کی طرف خصوصی توجہ فرماتے ہیں۔ پھر اپنی تمام مخلوق (انسانوں)کی مغفرت فرماتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے شخص کے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ یہ حدیث کتاب السن ، صحیح ابن حیان ، مواردالظمٰان، شعب الایمان البیہقی،

’’بلاغتِ قرآنِ کریم‘‘

قرآن کریم اللہ کے آخری نبی ورسول محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کردہ آخری کتاب ہے۔ اللہ کایہ دستوررہا ہے کہ جس زمانہ میں کسی نبی یارسول کو مبعوث فرمایااور اس زمانے میں جو چیزیں رائج اولوقت اور زبان زدعام تھیں، بطور تحدی ومعجزہ انہی چیز وںکو اللہ کے فرستادوں دیا گیا،جیسے موسی علیہ السلام کے زمانے میں سحراور جادوگری عام تھی تو اس کو چیلنج کرنے کے لیے عصائے طوری عطا کی گئی حالانکہ یہ جادونہیں بلکہ معجزہ ربانیہ تھا ،عیسیٰ علیہ السلام کو شفائی کیمیاء عطا کیاگیاعلاوہ ازیں مختلف انبیاء ورسل ؑ کو علاقائی اعتبارات کا خیال کرتے ہوئے قوم کو حق قبولنے کے لیے معجزے عطا کیے گئے ، کچھ امتوں کے مطالبات پر بھی اس دور کے انبیائے کرام ؑ کو خدائی معجزہ عطا کیاگیا لیکن اس پر عدم تشکر کی پاداش میں انہیں ملیامیٹ کردیاگیا۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں شعروشاعری اور عربی ادب پر خوب چرچے تھے

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ قران کریم میںحکم ہے کہ استعمال کی چیزیں ایک دوسرے کو دیا کرو۔ آج کل انسان کے پاس قیمتی مشینیں اور آلات ہوتے ہیں۔ جن کے استعمال میں کلی یا جزوی سطح پر تکنیکی تربیت یا تجربہ درکار ہوتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں اگر ان چیزوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو تو کیا جانا چاہئے تاکہ حکم قران کی عدولی نہ ہو اور نقصان سے بھی چاجاسکے۔ قران وسنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں؟ احمد کشمیری جواب:۔ قران کریم میں ایک جگہ بڑی خرابی کی وعید ویلُ‘ کے لفظ سے بیان کی گئی ہے اور یہ خرابی نمازوں میں سستی کا ہلی غفلت اور اوقات کی پابندی نہ کرنے والوں کے لئے ہے اور ریاکاری کرنے والوں کے لئے ہے اور یہ خرابی اُن لوگوں کے لئے بھی ہے جو ماعون کو روکتے ہیں… سورہ الماعون ماعون کی دو تفسیریں ہیں,ایک زکوٰۃ اور دوسرے عمومی استعمال کی گھریلو اشیاء ۔اب معنی یہ ہونگے کہ خرابی ہے زکوٰۃ روک کر رکھن

امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیری ؒ ـ

 مفکرین و محققین نے امت کی زبوں حالی اور تنزل و انحطاط کی متعدد وجوہات بیان کی ہیں۔ من جملہ ان کے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امت اپنے درخشان و تابان ماضی اور اکابرین و اسلاف کو فراموش کرچکی ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم اغیار و باقی اقوام عالم اور ان کی خودساختہ تہذیب و کلچر سے متاثر و مسحور ہوچکے ہیں۔ یہ بات دنیا کے تمام حکماء کے نزدیک مسلّم ہے کہ جب انسان کسی دوسری قوم و تہذیب سے متاثر ہوتا ہے تو وہ خود اپنے تشخص وپہچان اور تمدن سے ہاتھ کھو بیٹھتا ہے۔ چونکہ امت مسلمہ کی حالت کافی حد تک ایسی ہی ہو چکی ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ آج امت بالخصوص نوجوانان ملت اسلامیہ کو اپنے اسلاف کی رفعتوں و بلندیوں اور ان کے علمی و فکری کمالات و عجائبات نیز ان کی پاکیزہ و روح پرور زندگیوں سے متعارف کیا جائے تاکہ امت نئی تہذیب کے دلدل و مادہ پرستانہ طرز زندگی سے اپنے آپ کو نکال کر، اپنے اسلاف

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

 مندرجہ ذیل چند سوالات عرض ہیں، بمہربانی مختصر وضاحت فرمائیں؟؟ (۱) ایک مسلمان کے لئے لباس کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے؟ (۲) مردے کےہاتھ باندھ کے رکھنے اور غسل کے بعد کفن باندھنے اور پھر چہارم کی رسم کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟ (۳) قرض کے لین دین ، جسکا سود ایک اہم حصہ ہوتا ہے ، کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ (۴) لڑکے اور لڑکی کے درمیان رشتہ طے کرنے سے پہلے یہ شرط رکھی جائے کہ دونوں پہلے ایک دوسرے سے مل لیں، پھر فیصلہ کرینگے، کیا ایسا کرنا جائزہے؟ عبدالرحمان ملک فاروق احمد ملک  لباس کے بارے میں شرعی ہدایت جواب:۔ لباس کے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ ہر وہ لباس جو انسان کے ستر کو پوری طرح نہ چھپائے وہ غیر شرعی لباس ہے لہٰذا جو لباس بدن پر اس طرح تنگ اور چست ہو کہ جسم کے اعضائے مستورہ کا حجم اور نشیب وفراز نمایاں ہو جائےوہ لباس غیر شرعی ہوگا ۔لہٰذاچست

فاسق کی خبر رسانی!

 سورۂ حجرات میں اللہ تعالی نے ایمان والوں کے لئے مختلف النوع سماجی احکامات و ہدایات نازل فرمائی ہیں، مثلاً سرور عالم ﷺ کے ساتھ غایت درجہ ادب و تعظیم کا معاملہ، مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اتفاق کے اصول، اختلافات، نزاع اور جدال کے مواقع پر باہمی صلح سمجھوتہ کرنے اور کروانے کی ترغیب، نیز مسلمانوں کے معاشرتی لڑائی جھگڑوں کے ضمن میں مذاق اُڑانے، برے ناموں سے ایک دوسرے کو پکارنے، غیبت کرنے جیسی عیوب کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے پہلو بہ پہلو اسلام کی ایک آفاقی حقیقت تمام انسانوں کو باور کر ائی گئی ہے کہ معیار تفوق و فضیلت صرف تقوی ٰہے نہ کہ خاندانی وجاہت و عصبیت۔ آخر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صرف زبانی کلامی اسلام کا اقرار کافی نہیں بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کے حکموں کو دل و جان سے ماننا ضروری ہے۔اس سورہ پاک کی آیت نمبر چھ میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کوئی فاسق اور غیر معتب

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال: کشمیرمیں شگوفے پھوٹنے کے موسم میں ہی میوہ باغات کی خرید و فروخت زوروں پر شروع ہوجاتی ہے اور لوگ اسکی طرف توجہ بھی نہیں دیتے کہ یہ حلال ہے یا حرام کیونکہ بہت پہلے ے یہ رواج چلا آرہا ہے حتیٰ کہ اکثر لوگ ایسے بھی ہیں جن کو یہ بات کہ پھول کھلنے کے موسم میں باغات کا خریدنا اور فروخت کرنا جائزہ نہیں ہے بالکل نئی اور عجیب سی علوم پڑتی ہے بعض لوگ یہ دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر ہم میوہ ظاہر ہونے کے بعد باغ کا سودا کریں گے تو ہمیں بعض مرتبہ بجائے نفع کے نقصان اٹھانا پڑتا ہے کہ دوائیوں کے چھڑکائو پر زر کثیر خرچ ہوتا ہے اور باغ بیچنے کے بعد دوائیوں کے پیسے بھی وصول نہیں ہوتے لہٰذا مہربانی اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ علمائے کرام نے جدید اجتہاد کے دوران ایسا کوئی مسئلہ دریافت کیا ہے جس کی رو سے یہ خرید و فروخت جائز تصویر کی جاتی ہو اگر ایسا نہیں ہے تو ایسی آسان سی صورت کے فتوے سے نواز دیں جس

پیشہ ور بھکاریوں سے نجات لازم!

 پیٹ کی بھوک ختم کرنے کی خاطر تو انسان کچھ بھی کر گزرتاہے۔ اسی پیٹ کیلئے لوگ طرح طرح کے پیشے اپناتے ہیں۔ آج کل بھیک مانگنا بھی نفع بخش تجارت پیشے کی صورت اختیار کر چکاہے۔ شہر میں فقراء کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔ بس اسٹاپ پر کھڑے ہوں یا ٹریفک سگنل پر، شہر میں ہوں یا دیہات میں ، سفر میں ٹرینوں اوربسوں میں ہوں ، پیدل ہوں یا سواری پر۔اللہ کے نام پر کچھ دے دیں،دو دن سے بھوکا ہوں ،گھر میں کچھ کھانے کو نہیں، اللہ کے لئے میری مدد کریں۔اسی قسم کے الفاظ اکثرآپ کے کانوں کو ضرور سننے کو ملیں گے۔یہ الفاظ  پیشہ وربھکاریوں کے رَٹے رَٹائے ہوتے ہیں۔ بے غیرتوں اور تن آسان مشٹنڈوں کے لئے بھیک مانگنا ایک آسان ترین کمائی کا ذریعہ ہے۔ ملک بھر میں پیشہ ور (Professional) بھکاریوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ فٹ پاتھوں ، چوراہوں، گھروں ، مساجد کے باہر اور مارکیٹ میں ، مزاروں کے پاس طرح طرح حیلوں بہانوں سے ل

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال:۔ جسکی عورت کو خدانخواستہ طلاق ہو جائے یا کسی عورت کا شوہر وفات پاجائے اور وہ عورت بیوہ بن جائے تو ان دونوں عورتوں کو عدت گذارنی ہوتی ہے اس بارے میں بہت زیادہ ناواقفیت ہے۔ اس لئے ہمارا سوال ہے عدت کیا ہوتی ہےاور اس کی مدت کتنی ہوتی۔ عدت کے ان ایام میں عورت کے لئے کیا کیا حکم ہےکہ کون سے کام کرنا جائز ہے، کس کس کام کےلئے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت ہےنیز میکے اور دوسرے رشتہ داروں کے یہاں کس کس صورت میں جانے کی گنجائش ہے۔ ان تمام ضروری سوالات کے جوابات سے تمام قارئین کو مستفید فرمائیں ؟ شمس الدین،شوکت احمد، محمد عارف سرینگر عدت کی اقسام اور مسائل  جواب:۔ عدت کے معنیٰ شمار کرنا۔ تعداد مکمل کرنا۔ مقررہ مدت پوری کرنا۔ شریعت میں عدت کے معنیٰ یہ ہیں کہ وہ عورت جس کو طلاق ہو جائے یا اُس کا شوہر وفات پائے تو وہ دوسرا نکاح کرنے سے پہلے اس مدت تک انتظار کرے، جو شریعت اسلا

تحریک اسلامی

 22  فروری کی شب جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی مرکزی لیڈرشپ کے ساتھ ساتھ وادی ٔ کشمیر کے کئی اضلاع اور تحصیلات میں متعلقہ پولیس نے امرائے جماعت کو اپنے گھروں سے گرفتار کیا ۔ یہ ایک ڈرامائی کارروائی تھی اور وردی پوشوں کے ہاتھ میں گرفتار شدہ گان کے خلاف کوئی دستاویز تھی نہ کوئی چارچ شیٹ۔ محبوسین کے گھر والے سراسیمگی کے ماحول میں جب یہ گرفتاریاں ہوتی دیکھتے تو حیرت کے عالم میں پولیس سے گرفتاری کی وجوہات پوچھیں ، جواب اتنا ہی ملتا کہ’’ اوپر سے آرڈر ہے، باقی ہمارے ہاتھ کچھ نہیں ہے‘‘۔ گرفتار شدہ گان میں کئی زعمائواراکین عمر رسیدہ ہیں ، کئی ایک علیل ہیںاور کہیوں نے پولیس حکام سے بوجوہ گزارشیں بھی کیں کی کہ علی الصبح خود ہی تھانے میں رپورٹ کریں گے مگراُن کی ایک نہ سنی گئی۔ ایک ہفتہ تک یہ سلسلہ جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ تادم تحریر وادی ٔ کشمیر کے علاوہ صوبہ

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

سوال-کشمیر کی مساجد میں جو غسل خانے ہوتے ہیں۔یہ غسل خانے استجاء اور غسل کے لئے استعمال ہوتے ہیں لیکن کبھی انسان مجبور ہوتاہے اور ان غسل خانوں میں پیشاب بھی کرتاہے ۔ چونکہ مساجد کے باہر پیشاب کرنے کے لئے کوئی انتظام نہیں ہوتا اس لئے مجبور ہو کر ایسا کرناپڑتاہے اور بہت سارے لوگ مسجدوں کے باہر نالیوں میں سب کے سامنے پیشاب کرتے ہیں پھر مسجدوں کے غسل خانوں میں استنجاء کرتے ہیں مگر وہاں کچھ لوگوں کو دوبارہ پیشاب کے قطرے آجاتے ہیں ۔شریعت میں اس ساری صورتحال کا حل کیاہے ؟کیا مساجد میں پیشاب خانوںکاانتظام نہیں ہوناچاہئے ۔ فیاض احمد  تمام مساجد میں پیشاب خانوں کا انتظام انتہائی ضروری  جواب:-تمام مساجد کی انتظامیہ پرلازم ہے کہ جیسے وہ مسجدوں کے لئے حمام ،گرم پانی ،وضوخانے، غسل خانوں اور دوسری ضروریات کا انتظام کرتے ہیں اسی طرح وہ مساجد میں پیشاب خانوں کا بھی انتظام کریں ۔اس

تازہ ترین