تازہ ترین

کشمیر کی موجودہ سیاسی صورت حال

کشمیر   میں ماضی قریب کی تاریخ کو پرکھا جائے تو پچھلی سات دَہائیوں سے جو بات مطالعے میں عیاں ہوتی ہے وہ جہاں ایک طرف  کشمیری مزاحمت کی طویل داستاں ہے تو دوسری طرف مرکز کا رد عمل ہے۔کشمیری مقاومت اور دہلی کا رد عمل ندی کے دو کنارے گئے ہیں جو متوازی لکیروں کی مانندساتھ ساتھ چلتے تو ہیں لیکن مل نہیں پاتے ۔ کشمیری مزاحمت مسلٔہ کشمیر کے حتّمی حل کی متمنی ہے، جب کہ دہلی کیلئے اول تو یہ اس مسئلے کی کوئی حقیقت ہی نہیں اور اگر ہے بھی وہ یہ کہ الحاق کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستانی زیرانتظام کشمیر کو دہلی کی تحویل میں دینے تک محدود ہے۔انتظامی ضمن میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دو حصے ہیں ایک تو وہ حصہ جسے عرف عام میں ’’آزاد کشمیر‘‘ کہا جاتا ہے او رثانیاََ گلگت بلتستان جس کی انتظامی نوعیت مختلف ہے۔چین سے جو شاہراہ قراقرم کی بلندیوں سے گذرتے ہوئے بلوچستان میں

ہم جنسیت!

 6ستمبر   2018 جمعرات کادن ملک ِ ہند کی تاریخ میںسیاہ داغ بنا جب ملکی عدلیہ نے ایک ایسے غیرفطری عمل( عمل قومِ لُوط یا لواطت) کو قانونی جوازفراہم کرتے ہوئےاس پر اپنی اجازت کی مہر لگادی۔ یہ عدالتی اجازت قانون ِقدرت سے بغاوت ، فطرت انسانی کی مخالفت ، معاشرتی و اخلاقی اصولوں پر کاری ضرب ہے ۔ قوم لُوط کا عمل تمام آسمانی مذاہب کے نقطہ ٔ نگاہ سے سراسر ناجائز اورگھناؤناکام ہے جب کہ سماجی اعتبار سےیہ دنیا کا سب سے بدترین فعل اور ملعونیت کا کام ہے ۔اس لئے اس فعل کو انسانی سماج میں حیوانیت کے ننگےناچ سے تعبیرکرنا غلط نہ ہوگا۔ اسی بناپر چھ ستمبر ۱۸  ۲۰  کا دن ہندوستانی تاریخ کے ماتھے پر کلنک کہلاتا رہے گا۔ جس ایوان ِ عدل نے اپنایہ فیصلہ سنایاوہ پانچ ججوں پرمشتمل کورم بتایا جاتا ہےجن میں ایک خاتون جج بھی شامل تھی۔ فیصلہ آتے ہی پڑوسی ملک کے ہم جنس پرست جوانوں میں بھی ایک

عمیرہ احمد

ناول  ادب کی ایک انتہائی اہم صنف ہے جو دورِ نو میںانسانی زندگی کی مختلف گھتیوں کو سلجھانے کا ایک اہم ’’ٹانک‘‘ ہے۔ ناول انگریزی ادب کے راستے اُردو میں دَر آیا ہے ۔اُردو میں ناول نگاری کا فن آج اپنے جوبن پر ہے۔ گذشتہ ایک صدی سے اُردو میں سینکڑوں ایسے ناول معرضِ وجود میں آچُکے ہیں کہ جن کو دنیا کے بہترین ناولوں میںشمار کیا جا سکتا ہے۔ اردو ناول نگاری کے فن کو جہاں مرد ناول نگاروں نے پروان چڑھایا وہیں خاتون ناول نگاروں نے بھی اس کی بھر پور آبیاری کی ہے۔ گوکہ مردوں کے مقابلے میں خواتین ناول نگار بعد میں منظر ِ عام پر آئیں ۔ لیکن اُردو ناول نگاری کے اِس فن کو بامِ عروج تک پہنچانے میں خواتین ناول نگار بھی مرد ناول نگاروں کے ہم پلہ ہیں۔ اُردو میں خاتون ناول نگاروں نے بیسویں صدی کے آغاز میںناول لکھنا شروع کیے اور تب سے یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اُردو ک

امریکی حربے ہتکنڈے

 ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں‘ جن کی مسلم دشمنی مسلمہ ہے بلکہ مسلم باپ کی اولاد بارک اوباما بھی مسلمانوں کے دوست نہیں رہے اور انہی کے دور میں اسرائیل کو سب سے زیادہ امریکی مالی امداد منظور کی گئی۔ بش باپ بیٹے ہوں یا کلنٹن ہوں ،ان سب نے اپنے اپنے دور میں عالم اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایااور اتنی ہی مدد عرب ممالک سے حاصل بھی کی۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے آپ کو اسلام اور مسلمانوں کے کھلے دشمن کے طور پر پیش کیا، اس لئے اگر وہ اس کے مظاہرے میں آخری حد تک گر جاتے ہیں تو تب بھی کوئی حیرت، تعجب اور افسوس کی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے اُن تمام مسلم ممالک کو نقصان پہنچانے کے لئے امریکی امداد یا تو روک دی یا اس میں تخفیف کردی جو ممالک حالات سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے پیروں پر آپ کھڑے ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو فوجی امداد ( اسلام آباد اسے واجب ا لوصول رقم کہتاہے) بن