تازہ ترین

مایوس نہ ہو اللہ بہت بڑا ہے | تدابیر کے ساتھ توکل اعلیٰ صفت ہے

’’اللہ‘‘ اس ذات کا نام ہے جو سب سے بڑا ، سب سے بلند ،سب سے جدا ،سب سے الگ ہے۔وہ سب کا خالق ہے ، اس کے مقابلہ میں ہر ایک چیز اس کی مخلوق اور اسی کی تخلیق کا شاہکار ہے۔وہ اپنی قدرت ،طاقت،بادشاہت اور علم وحکمت ،بزرگی اور بڑائی میں یکتا ہے۔وہ اکیلا ،بے عیب ،بے نیاز اور بے مثال ہے۔اس نے محض اپنی قدرت وطاقت اور قوت وارادہ سے کائنات اور اشیائے کائنات کو وجود عطا کیاہے ،وہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے ویسا ہی کرتا ہے،کوئی اسے روک ٹوک کرنے والا نہیں۔اس کا کوئی مشیر ہے نہ وزیر،آسمان وزمین کا قیام اور چاند وسورج کا قرار اسی کے دم سے ہے۔بجلی کی کڑک ،سورج کی چمک اور چاند کی دمک اسی کے حکم سے ہے۔ سمندر کی گہرائی ،زمین کی چوڑائی ،آسمان کی اونچائی اور پہاڑوں کی طاقت کو وہ خوب جانتا ہے۔جنگل،دریا،پہاڑ،درخت اور باغات کے دلفریب نظارے اسی کے ’’کن‘&lsq

جنگ کو امن میں بدل ڈالنا بہتر

ایمان کی بنیاد صبر و تحمل پر رکھی گئی ۔ اسلام کی اعلانیہ دعوت کے بعدمکہ والوں کاآپ ﷺ کے اصحاب ؓ کے ساتھ برتائو کسی سے ڈھکا چھپانہیں ۔ ہم آج جس اسلام کے نام لیوا ہیں یہ ان اصحاب ؓ کے صبر و تحمل اور شدید ترین برداشت کی بدولت ہم تک پہنچا اور یہ سبق ہے کہ مسلمان آزمائش کی گھڑی میں اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہوئے بھرپور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس آزمائش کی گھڑی سے سرخ رو ہوکر نکلتا ہے۔ اسلام کا سورج بھی ہمارے پیارے نبی ﷺ اور انکے اصحاب ؓ کے صبر و تحمل و برداشت کی بدولت رہتی دنیا تک کیلئے چمکتا دمکتا رہنے والا ہے ۔ نماز صبر و تحمل کا ایک عملی مظاہرہ ہے، جب آپ اپنے اہم ترین کاموں کو چھوڑ کر اپنے رب کے حکم کے آگے سربسجود ہونے کیلئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔طلوعِ اسلام نے بہت کڑا وقت دیکھا، دنیا کی طاقتوں سے ٹکرایا اور اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور کو زیر کیا ،ان سب حالات کا مقابلہ مسلمانوں نے

صدقہ ، خیرات و زکوٰۃ | بیماریوں اور بلاؤں کو ٹالتا ہے

آج ساری دنیا کی حکومتیں اور عوام کورونا وائرس سے تذبذب کا شکار ہیں ۔ دنیا کے کئی مقامات پر مساجد میں نمازیں ادا نہیں کی جارہی ہیں ۔ موت سارے عالم میں کورونا کی شکل میں رقص کر رہی ہے ۔ ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ یہ اللہ کا عذاب ہے ۔ آج سارے عالم میں گناہ انتہا پر ہیں ۔خوف کے عالم میںجہاں عام آدمی چکن کا استعمال چھوڑ چکا ہے ۔وہاں آسودہ حال لوگوں نے بھی مرغن غذائوں کا استعمال کم کردیا ہے  لیکن آخرت کے خوف سے گناہ چھوڑنے تیار نہیںہورہے ہیں،یہ جانتے ہوئے بھی کہ جس نےیہ بیماری نازل کردی ہے وہی اس بیماری سے نجات بھی دے گا،بشرطیکہ کثرت سے عبادت اور نمازوں کی پابندی کرکے اپنے گناہوں سے تو بہ کیا جائے بلکہ صدقہ و خیرات کی طاقت کی طرف بھی خاص توجہ دی جائے ۔ اللہ نے زمین پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی، پھر اللہ نے پہاڑ پیدا کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ زمین تھامے رکھے ، چنانچہ وہ ٹھہرگئی ۔

کوویڈ۔19: کشمیر میں نفسیاتی مریضوں کی حالت غیر

 کرونا کے باعث موجودہ نازک اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظرجہاںدنیا بھر میںہر خاص و عام خوف و خطرہ میںمبتلا ہوچکا ہے وہیں علاج و معالجےکی صورت حال بھی متاثر ہورہی ہے۔ایک طرف جہاں ہر سطح پر کو وڈ سے متاثرہ لوگوں پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے تو دوسری طرف دیگر امراض میں مبتلالوگوں کی طرف توجہ کافی حد کم ہوگئی ہے۔طبی شعبوں سے منسلک تمام لوگ ،ماہرین اور عملےیہاں تک کہ درجہ چہارم کے ملازمین بھی اس غیر یقینی صورت حال میںاپنے اپنے کام میںمصروف تونظرآرہے ہیںلیکن ہسپتالوں،شفا خانوںاور دیگر صحت مراکز پر دیگر امراض میں مبتلا عام لوگوں کو وہ طبی سہولیات میسر نہیں ہوپارہی ہیں جن کے وہ مستحق ہیں۔کشمیر میں تمام چھوٹےبڑے صحت مراکز کی صورت حال عام مریضوں کے تئیں بالکل نفی کے برابر ہوگئی ہے۔جس کے نتیجہ میں لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کشمیری عوام بھی اسی صورت حال کا شکار ہیںجس میں اس وقت پورا ع

وَبا کے دنوں میں زندگی

وبا کے موسم میں سب کچھ کس سرعت کے ساتھ بدل جاتا ہے، جان کر حیرت ہوتی ہے۔ انسان جو مسافت صدیوں میں طے کرتا ہے، وبا کے دنوں میں یہ لمحوں میں سمٹ آ?تی ہے۔ اہلِ قلم نے اس کی کہانیاں لکھی ہیں۔ جناب آ?صف فرخی نے ایک عمدہ مضمون میں اس ادب کا احاطہ کیا ہے ۔ ہم بھی ایک وبا کی گرفت میں ہیں۔ قدرت اس عمل کو ایک مدت بعد دھرا رہی ہے جو ہمارے لیے تاریخ تھی، اب واقعہ ہے۔ یہ کہانی وہ نہیں جو ''ایک دفعہ کا ذکر ہے...‘‘ کے اسلوب میں شروع ہوتی ہے۔ یہ صرف میری ہی نہیں اُس پانچ سالہ بچے کی بھی آ?پ بیتی ہے جو محسوس کر رہا ہے کہ اس کے گردوپیش میں کوئی انہونی ہو گئی ہے۔ باپ ،جو کبھی ہفتے میں ایک بار یا کئی دنوں بعد دکھائی دیتا تھا، اب ہر وقت گھر میں رہتا ہے۔ جو چھٹی کے لیے مچلتا تھا، اب بغیر مطالبے کے چھٹیوں کے مزے لے رہا ہے۔ اس کا ننھا سا ذہن سوچتا تو ہو گا یہ سب کیسے ہو گیا؟ ہم

انسان پر کڑا وقت آن پڑا ہے

دنیا انتہائی مشکل وقت سے گزررہی ہے انسانی آبادی پر یہ وقت کڑا ہے، ہرلمحہ نازک،ہرساعت خوفزدہ کردینے والا ہے ۔اژدھام اور ہجوم کے بیچ نہایت سرعت کے ساتھ زندگی بسرکرنے اور اپنی ہی دھن میں سرگرداں اس عالم کو ایک ناگہانی وبا نے کچھ اس طرح سے اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے کہ انسان کا جینا محال ہے،ملنا مشکل اورزندگی دوبھر ہے۔ کوروناوائرس دوہزار انیس(کووڈ19) کے ہلاکت خیز،زود اثر متعدی اثرات سے کرۂ ارض پہ محشر بپا ہے، قیامت خیز منظر انسان اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، ہرشخص اپنے سامنے موجود فرد کو مشکوک نظر آرہا ہے، تپاک سے گلے لگانا اور طمطراق سے مصافحہ کرتے ہوئے ہاتھوں کو دبادینے کے عادی افراد ایک فاصلے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ پھر بھی دل کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ وائرس اپنی چپیٹ میں نہ لے لے۔ دنیا میں ہو کا عالم رات کو بھی دن کی طرح برتنے والا،وقت کو اپنی قابو میں کرنے والا اور ایک لمحہ می

کووڈ 19اور4جی انٹرنیٹ

جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال اگست کے مہینے سے انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی لوگ قدیم زمانے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔تاجر طبقہ اور خاص کر طلاب کے لئے انٹرنیٹ کی عدم دستیابی شدید مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے۔حق تو یہی ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال کے ماہ اگست سے ہی لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں اور اب  کرونا وائرس کی قہر کے باعث لاک ڈائون کی پریشایاںسہنے پر مجبور ہیں۔ اب جب کہ سالِ رواں کے دوران سرکار نےجموں و کشمیر کے عوام کے تئیں چند معاملات میںکسی حد تک اپنے رویہ میںتبدیلی لائی ہے، جسکے نتیجہ میں لاک ڈائون سے قبل ہی انٹر نیٹ کی محدودبحالی بھی ہوئی ہے۔ جس سے موبائل صارفین کو وہ سہولیات میسر نہیں ہوپارہی ہیں جن کی اس وقت انتہائی اہمیت اور ضرورت ہے۔ سرکار نےاپنی غیر منصفانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے صرف2جی انٹرنیٹ خدمات بحال کی ہیں جو ک

کورونا وائرس اور سرینگر میں پانی کی قلت

وزیراعظم نریندر مودی آ?ج کل اور باتوں کے علاوہ دن میں بار بار بیس سے تیس سیکنڈ تک پانی اور صابن سے ہاتھ دھونے پر زور دیتے ہیں۔ پوری دْنیا اور ملک کے دوسرے خطوں کی طرح کشمیر بھی کورونا وائرس کی زد میں ہے۔ بچنے کی بنیادی صورت پانی سے ہاتھ صاف کرنا ہے لیکن اگر کسی خطے میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہو، وہاں ہاتھ صاف کرنے کی مہم چلانا اندھوں کی بستی میں آئینے بیچنے جیسا ہے۔  غرض یہ کہ سرینگر میں پینے کے صاف پانی کی قلت کورونا وائرس کے خطرے کو دوگنا کر دیتی ہے۔ میں ارباب اختیار اور اہل نظر کی توجہ اس اہم مسلے کی طرف اس لئے مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ اگر پانی کورونا وائرس کے خلاف بنیادی ہتھیار ہے تو اندازہ کریں جب لوگوں کو پانی ذخیرہ کرنا پڑے اور لاک ڈاون کے دوران کئی روز تک محکمہ پی ایچ ای کے ٹینکر کا انتظار کرنا پڑے تو لوگ کھانا پکانے اور دوسرے ضروری کاموں کو ترجیح دینگےیا بار بار ہ

لاک ڈاؤن کا فیصلہ کہیں اُلٹا نہ پڑجائے!

اس وقت دنیا کی سب سے خطرناک بیماری ’کورونا‘ سے لڑنے کے لیے کجریوال نے جواعلان کیا ،اس نے حکومت ہند کو نیند سے جگادیاہے۔ ویسے توانھوں نے اب تک جوبھی اعلانات کیے ہیں،اُن پر عمل درآمد ہوتے ہوئے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔ وزیرداخلہ امت شاہ نے ایک بار مہاتماگاندھی جی پربیان دیتے ہوئے انھیں ’چالاک بنیا‘کاخطاب دیاتھا۔اب ان سے عرض ہے کہ وہ کجریوال کو کس خطاب سے نوازیںگے؟ وہ آج پورے ملک میں ایک بے مثال منتظم اور بھارت ماتاکاایساسپاہی اورسپوت بن کراُبھرا ہے، جس پرنہ صرف دہلی والے جان چھڑکتے ہیںبلکہ اب توان کی قوت ارادی کالوہاپوری دنیا بھی مان رہی ہے اور ان کا بے حد احترام بھی کرتی ہے۔انھوںنے پچھلے 5سالوں میں دہلی میں کرکے دکھایاہے اور اب بھی کررہے ہیں۔ سب کویقین ہے کہ ان میں ملک اور ملک کے باسیوںکی اچھی طرح حفاظت کرنے کی پوری ہمت وطاقت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی دیگرری

اسلام کا مطلوب طالب علم

اللہ تعالی نے علم کی اہمیت و افادیت کو کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے۔۔۔۔"اللہ تعالی تم میں سے ایمان والوں کا درجہ بلند کرتا ہے اور ان کے کئی درجات بلند کرتا ہے جن کو علم ملا ہے" ( المجادل?:۱۱) نبوت اور کلام اللہ کی ابتدا لفظ " اقرا" سے ہوئی۔۔۔اور یوں اسلام میں علم کی اہمیت اور افادیت کا خلاصہ اسلام کے آغاز میں ہی سمجھایا گیا۔پتا چلا کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت علم ہی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔۔۔۔ علم ہر کسی قوم کی ترقی کے لیے ایک بنیادی محور ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالی نے ایک انسان کو تخلیق کیا تو سب سے پہلے اس کو علم کی نور سے منور کیا گیا۔ علم کی وجہ سے ہی ایک انسان کو دنیا کے تمام مخلوقات پہ سبقت حاصل ہوئی۔ علم کو بنیاد بنا کر انسان نے کیسے کیسے حیران کن کارنامے انجام دیے اور اسی علم کی وجہ سے کیسے ہولناک فسادات رونما ہوئے۔ اسی علم کو مثبت طریقے س

جھوٹ وخوشامد۔اخلاقی پستی کی علامت

اللہ تعالیٰ کی ذات اعلیٰ وارفع اور بلند وبرتر ہے ۔ وہ اپنی ذات وصفات میں تنہا ویکتا ہے،اس کی قدرت و بادشاہت میں نہ کوئی اس کا شریک ہے نہ مشیر ہے،وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ تمام تراوصاف حمیدہ سے متصف اور تمام صفات قبیحہ سے مبرہ اور پاک ہے۔وہ پوری کائنات اور اس کی ہر ایک چیز کا مالک ہے ،جہانوں میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے ، اس کی بے شمار مخلوقات میں سے ایک مخلوق انسان بھی ہے۔انسان اس کی تخلیق کا ایک عظیم شاہکار ہے، انسان اس لحاظ سے خوش نصیب ہے کہ اس میں وہ بہت سی خوبیاں رکھی گئی ہیں جن سے دوسری مخلوقات محروم ہیں ،ظاہری وباطنی دونوں لحاظ سے وہ تمام مخلوقات پر فوقیت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے عقل وفہم ،شعور وادراک اور قوت گویائی اور قوت ارادی سے مالامال کیا ہے ، دیگر کے مقابلہ میں ان چیزوں میں اسے کمال حاصل ہے ۔وہ اپنے ارادہ کی قوت وطاقت سے بہت سے بڑے بڑے کام انجام دے سکتا ہے،وہ جا

کرونا وائرس

اس وقت پوری دنیا سخت ترین حالات سے دوچارہے، پورے عالم پرماتمی سکوت چھایا ہوا ہے ہر طرف ہو کاعالم ہے، وبا کی شکل اختیار کرنے والے اس کورونا وائرس نے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک تک کو زیر کردیا ہے، اس جان لیوا وائرس کا مرجع اور مصدر چین ہے جہاں کی ٹیکنالوجی کا لوہا پوری دنیا مانتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیامیں سر فہرست ملکِ چین کو اس وائرس نے گھٹنوں کے بل جھکا دیا ہے۔وہاں کی انتظامیہ کو اس ناگہانی وباء نے مایوس اور عاجز کردیا۔ اٹلی جوایک یورپی ملک ہے جہاں کا محکمہ طب ترقی میں اتنا ایڈوانس ہے کہ اسے طب کے معاملے میں یورپ کے بیشتر ممالک پر فوقیت حاصل ہے، اس کے باوجود اس وائرس نے ان کی کمرتوڑدی ہےاور رات دن کی انتھک کوششوں کےباوجود ان کے تجربات کو ناکام کردیا ہے۔ امریکہ ،دنیا جسے سپر پاور مان رہی ہیںآ?ج وہاں بھی یہ مرض اپنے پر پھیلا چکا ہے اور وہ بھی اس وبائی مرض سےشکست خوردہ نظر آ رہا ہے۔ اس وحش

عصر حاضر کامسلمان ؟

اسلام ایک مضبوط ،ٹھوس ،معقول آسمانی ضابطہ ٔ عمل اور نظام حیات ہے جو بنی نوع انسان کو زندگی گزارنے کے لئے خالق کائنات کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نظام وقتاً فوقتاً اپنے مخصوص عالی مرتبہ (نفوس قدسیہ) کے ذریعہ پھیلایا جن کو اسلامی اصطلاح میں حضرات انبیا ء علیہم السلام کہا جاتا ہے۔ اس کے تین ثیق ہیں:عقائد ،احکام اور اخلاق وآداب۔ عقائد: اللہ تعالیٰ پر ایمان ۔ وہ اس س ساری کائنات کا واحد مالک اور خالق ہے ،جس کا بہت کم حصہ ہمارے مشاہدہ میں ہے اور بیشتر حصہ ہمارے مشاہدے سے ماوراء ہے(وسیع کرسیہُ السمٰوات و الارَض)وہ ہر حال میں ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔اس کے ساتھ انبیاء کرام،فرشتے ،تقدیر جزاء و سزا کے دن پر پورا پورا یقین رکھنا  وغیرہ۔ احکام : زندگی گزارنے کے قوانین کیا ہیں۔معاملات ،معاشرتی مسائل ،تعلق باللہ،تعلق با لعباد ،تعلق با النفس وغیرہ، سب اس میں بیان ہوئے ہ

موجودہ بحران ناانصافی، استحصال اور محرومی کا نتیجہ

عصر حاضر کو ترقی کا دور کہا جاتا ہے اور یہ کچھ غلط بھی نہیں ہے،سائنسی اکتشافات (SCIENTIFIC EXPLORATION)کا سلسلہ بلاتوقف جاری ہے۔ ایجادات کا نہ تھمنے والا ایک سیل رواں ہے۔ وسائل سفر سے لے کر ذرائع ابلاغ تک میں انقلاب آ چکا ہے، زمین اپنے خزانے اگل رہی ہے ،سبزیاں ،میوے اور پھلوں کی اس قدر بہتات ہے کہ بس! لیکن ہر چیز کی فراوانی کے پہلو بہ پہلو انسانی محرومی کی بھی کوئی حد نہیں۔آدمیت سسک رہی ہے ،غریب غربت کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔سرمایہ دار بے مقصدیت کے عذاب واذیت سے گزر رہے ہیں ،ایسا بھی نہیں کہ حالات میں تبدیلی کی سعی ہی نہیں ہوئی ،کوششیں ہوئی اور ہورہی ہے،لیکن ان سب کے باوجود حالات کچھ یوں ہی ہے: سو بار تیرا دامن ہاتھوں میں میرے آیا جب آنکھ کھلی دیکھا تو اپنا ہی گریباں تھا  اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مختلف معاشی نظام وجود پزیر ہوئے لیکن ہر نظام میں زور آوروں نے کمزوروں

خلقِ عظیم

انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا شاہکار ہے، اسے احسن تقویم پر پیدا کیا گیا، اس کے جسد خاکی میں اس کے خالق نے خود اپنی روح پھونکی، اس کے وجود پر اپنی لامحدود صفات کا ایک ہلکا سا پرتو ڈالا اور اسے مظہر صفاتِ الٰہی بنایا۔ اسے وہ علم عطا کیا جو فرشتوں کو بھی حاصل نہ تھا، اسے اشرف المخلوقات قرار دے کر فرشتوں سے سجدہ کرایا اور ان سے عظمت آدم تسلیم کرائی گئی، اسے جنت کی ناقابل تصور راحتوں اور نعمتوں سے نوازا گیا اور پھر زمین سے آسمان تک پھیلی ہوئی وسیع بزم کائنات سجاکر اور زمین کو بھی نہ ختم ہونے والے سامانِ زیست کے خزانوں سے بھر کر اسے خلیفۃ اللہ کے عظیم منصب پر فائز کرکے یہاں بھیجا گیا۔ یہ عظمت و رفعت بلا امتیازِ مذہب و ملت ہر انسان کو محض انسان ہونے کی بنا پر حاصل ہے۔  اس گروہِ انسانی میں بعض نفوس قدسیہ کو خلافت کے علاوہ ایک اضافی اور خصوصی منصب نبوت کا عطا ہوا جس نے انھیں دوسرے لو

کامل نظام حیات اور ضابطہ ٔ زندگی کہاں ہے؟

موجودہ ترقی یافتہ دنیا کی نگاہوںمیںتمام قدیم افکار و نظریات ایک قصہ بن کر رہ گئے ہیں اور اہلِ مغرب اقوام عالم کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ انسان کی ترقی اور فلاح اسی میں پنہاں ہے کہ وہ قدیم تہذیب و تمدن کو پس و پشت ڈالے اور زمانے کے بدلے ہوئے اصول میں اپنے روشن و تابناک مستقبل کو تلاش کرے۔زمانے کی ہر نرم و گرم چیز کو قبول کرتا جائے اور دنیاوی جاہ و متاع کے حصول کے لئے اسلام کے چھوڑے ہوئے ورثہ کو نہایت بے دردی کے ساتھ خیر باد کہے۔اس بے بنیاد اور غلط نظریہ کے تحت اہلِ مغرب اور ان کے رنگ میں رنگنے والے لوگ، اسلام کے علمبرداروں اور اس کے نام لیوائوں کو جو اسلامی تہذیب و تمدن و ثقافت کو اپنے سینہ سے لگائے ہوئے ہیں اور اسے حرزِجاں بنائے ہوئے ہیںکوانسانی سوسایئٹی کے لئے ہمہ وقت ایک خطرہ سمجھ رہے ہیں اور اسلامی تہذیب و تمدن کو ایک جاہلانہ تصور خیال کرتے ہیں ، لوگوں کے دِلوں میں اس کے

ایک لمحۂ فکریہ!

انہی دنوں میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے تناظر میں امام صاحب مسجد نبوی شریف نے ایک خطبہ ارشاد فرمایاہے۔ یہ خطبہ جہاں بہت فکر انگیز تھا وہاں کرب اور سوز و گداز سے بھی لبریز تھا۔اس کے دوران وہ خود بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور حاضرین کو بھی رلا دیا انہوں نے فرمایا: " اللہ نے مخلوقات اور آباد شہروں میں ایک چھوٹی سی مخلوق چھوڑی تو شہروں کے شہر خالی ہو گئے۔سخت سے سخت جسم بربادہو گئے۔مجمعوں کے مجمعے بکھر گئے۔ مال کا کثیر حصہ تباہ ہو گیا۔اس نے بڑے بڑے سرکشوں کو رسوا کر دیا۔ان کے جمے قدموں کو اکھیڑ دیا، اونچی عمارتوں کو چھوڑا نہ بڑے بڑے لشکروں کو، نہ نیکو کاروں اور عبادت گزاروں کو اور نہ نافرمانوں اور سرکشوں کو۔ جب یہ گنجان اور آباد شہروں اور سخت اتحاد و اتفاق والے علاقوں میں پہنچی تو سانسیں رک گئیں اور حرکت شل ہو گئی گویا کہ کل وہاں کچھ تھاہی نہیں۔۔۔دوستوں کو بھی دشمنوں

رجوع الی اللہ واحد راستہ

انسانی تہذیب و تمدن کی تاریخ شاہد ہے کہ بہت سی نافرمان قومیں اللہ تعلیٰ کے عذاب و عتاب کا شکار ہوکر صفحہ ہستی سے اس طرح نیست ونابود ہوچکی ہیں کہ گویا کبھی اُن کا وجود ہی نہ تھا۔ قومِ نوحؑ سے متعلق ارشاد ہوا ہے(مِمَّاخَطِیٓئٰتِھِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوانَارًافَلَمْ یَجِدُوْالَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنصَارًا)’’یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے ڈبو دئے گئے اور جہنم میں پہنچادئے گئے‘اور اللہ کے سوا اپناکوئی مددگار انہوں نے نہ پایا‘‘[سورہ نوح؍25]۔حضرت نوحؑ کی قوم جب گناہوں میں غرق ہوگئی اور نوحؑ کے سمجھانے پر بھی باز نہ آئے تو اللہ تعلی کے عذاب نے انہیں آپکڑلیا کہ آسمان سے پانی برسا اور زمین سے چشمے ابل پڑے اور چشمِ زدن میں پوری کی پوری قوم غرقِ آب ہوگئی ‘کوئی تدبیرکام نہ آسکی ‘کوئی مددگار اُن کی مدد نہ کرسکااُن کے سارے معبودانِ باطل بے بس او

ایک جان لیوا وباء

کورونا وائرس نامی مہلک بیماری 2019 کے آخر میں چین کے شہر ووہان میں نمودار ہوئی اور آج پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔ امریکہ ، چین، اٹلی وغیرہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بے بس اور لاچار دکھائی دے رہے ہیں۔ روزانہ کورونا کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے اور مہلوکین کی تعداد بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ پوری دنیا ایک ایسی وباء کا شکا ر ہے جس کا تاحال دنیا کا کوئی بھی ملک علاج یا کوئی موثر دوا دریافت کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ کورونا وائرس کا پہلا شکار چین جہاں اب صورتحال قابو میں ہے اور ہزاروں کی تعداد میں مریض صحتیاب ہورہے ہیں۔ چین میں ہر طرح کی آمد و رفت معطل اور شہروں کے تمام بازار بند ہیں۔ اسی طرح دنیا کے دوسرے ممالک نے لاک ڈاون کی راہ اختیار کرکے اس مہلک وائرس کو روکنے کی کوششیں شروع کیں۔  آج سوشل میڈیا پر مکمل خبریں آرہی ہیں اور اخبارات وغیرہ کے ذریعے سے ہم

جھوٹ کا عالمی دن !

 اسلام دشمن طاقتیں اسلامی تہذیب،ثقافت وتمدن کوبے حیائی وعریانیت میں تبدیل کرکے اُسے روشن خیالی اورآزادی کانام دینے کے لئے مکمل طورسے کوشاں ہیں،وہ فحاشی پرمبنی رسوم کواس طرح آراستہ کرکے پیش کررہے ہیں کہ مسلمان اپنی پاکیزہ تہذیب وعمدہ تمدن کوچھوڑ کراغیارکے تہواروں کادلدادہ ہوتاجارہاہے۔آزادی کے نام پرغیرمحرم کے ساتھ گھومنے پھرنے اورجنسی تعلقات قائم کرنے کوباعث فخرسمجھاجارہاہے،جس کے نتیجہ میںیہ حیاسوزحرکتیں صرف کلبوں اورہوٹلوں ہی میں نہیں کی جارہی ہیںبلکہ کالجوں اورسڑکوں پربھی طوفان بے حیائی وبدتمیزی بپاکیاجارہا ہے۔احساس کمتری میں مبتلالوگ مغرب کی ہرچھوٹے بڑے معاملہ میں تقلیدونقالی کواپنے لئے ترقی وکامیابی کارازسمجھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آج اگراُمتِ اسلامیہ کے حالات پرذراسی نظرڈالی جائے توبے شماربیماریاں ایسی نظرآئیں گی جن کااسلامی تہذیب ومعاشرت سے دورکابھی واسطہ نہیں،بلکہ شریعت اس