تازہ ترین

وادی کشمیر کے طالب علم | ہوم ورک میں مشغول رہنا بہتر

جب یہ کائنات وجود میں آئی تو انسان کی بھی تخلیق ہوئی۔خالق کائینات نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔جب ہمارے جدامجد حضرت آدم علیہ سلام کو خالق ارض وسماء  نے بنایا تو پھر آدم علیہ سلام کو چیزوں کے نام سکھائیے۔ان چیزوں کے نام سکھانے کو ہم علم کہتے ہیں,جو ?ربالعزت نے حضرت آدم علیہ سلام کو عطا فرمایا۔اس طرح یہ دنیا کا کارواں تب سے جب تک رواں دواں ہے۔اللہ تعالیٰ کی  منشاسےاس دنیا میں بہت سے انبیاء کرام بھی تشریف لائے۔آخر پر ?رب العزت نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی۔جب وحی کا نزول ہوا تو سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی ،وہ سورہ العلق کی ابتدائی آیات ہیں۔پہلی ہی وحی میں نبی اکرم صلی?علیہ وسلم سے فرمایا گیا’’اقراء‘‘یعنی پڑھو۔اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ سلام سے لے کر آخری نبی حضرت محمد عربی صلی?علیہ وسلم تک ت

چراغ دل کا جلاؤٔ بہت اندھیرا ہے

 خالق کائنات نے اس کائنات کو ایک منظم صورت میں پیدا فرمایا ہے ۔ موسموں کا تغیر وتبدل،گردش روز وشب،پیدائش وموت ،مظاہر فطرت میں ایک خاص طرح کا توازن غرضیکہ پورے نظام عالم پہ نظر دوڑایئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی شے بے کار وبے فائدہ پیدا نہیں فرمائی ہے ۔ہر انسان پر بالغ ہونے کے بعدیہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے متعلق ان تین بنیادی اوراہم سوالوں کے جوابات کی تلاش و تجسّس میں لگ جائے ۔ پہلا سوال یہ کہ میں اس دُنیا میں کہاں سے آیاہوں؟ یا یہ کہ میرا اصلی خالق ومالک کون ہے ؟دوسرا سوال یہ کہ مجھے اس دُنیا میں رہ کر کیا کرنا ہے ؟ تیسر ا سوال یہ کہ مجھے مرنے کے بعد کہاں جانا ہے؟ان تینوں سوالات کے جوابات کی تفہیم کے لیے اللہ رب العالمین نے ابتدائے آفرینش سے یعنی حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار  پیغمبروں کو مبعوث  فرمایا ۔

اَندھیر ے کو کوسنے سے کچھ نہیں ہوگا

اس وقت ملک سنگین حالات سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں بھی مودی جی نے من کی بات کر ہی لی۔ 21 دن کے لوک ڈاؤن سے ہو رہی پریشانی کے لئے معافی مانگی مگر اسے ضروری بتایا۔ تیاری اور سوچے سمجھے بغیر اٹھائے گئے لاک ڈاؤن کے قدم نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی یاد تازہ کر دی۔ نوٹ بندی کو بھی انہوں نے ضروری بتایا تھا۔  ملک تب بھی لائنوں میں کھڑے ہو کر تکلیف کو جھیل گیا۔ لائن میں لگنے سے 125 سے زیادہ لوگوں نے جان گنوائی اور جی ایس ٹی نے کاروبار کو برباد کر دیا۔ لوگ اب بھی گھروں میں بند ہو کر دقت برداشت کر رہے ہیں۔ اس بار وجہ جائز بھی ہے کیونکہ سوال زندگی کا ہے۔ مگر مسئلہ اس بے گھر غریب آدمی کا ہے جو سرکار کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے گاؤں اور شہر کے بیچ پھنس کر رہ گیا ہے۔ وہ پیدل ہی اپنے گھر کی طرف نکل پڑا ہے۔ سماجی فاصلہ بنا کر رکھنے کے قاعدہ کے باوجود وہ بس اڈوں کا حصہ بن رہا ہے۔ اسے ڈر ہے کہ کہیں وہ

ٹِــک ٹـــاک | اسلامی تعلیمات کے تناظر میں

ٹک ٹاک یہ ایک وڈیو ایپ ہے، جس کے ذریعہ چھوٹے چھوٹے وڈیو بنائے جاتے ہیں اور انٹر نیٹ پر اپلوڈ کرکے اسے پھیلایاجاتا ہے۔ جو لوگ ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیںان تک اس طرح کی وڈیوز کی عام رسائی ہوتی ہے۔اس ایپ کو۲۰۱۶ء میں چین نے لانچ کیا تھا محض دو سال کی مدت میں اس نے شہرت کی بلندیوں کو حاصل کرلیا اور یوٹوب اور فیس بک ،واٹس ایپ جیسے مشہورایپ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ صرف دوسال میں اسے ۵۰۰ ملین لوگوں نے لوڈکیا ہے اور دنیا کے ۱۵۰ ملکوں میں اس کا استعمال ہورہا ہے۔۲۰۱۹ء میں اسے جدید طور پر لانچ کیا گیا جس کے بعد ہندوستان بشمول بیشتر ملکوں میں اس کو خوب پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ ٹک ٹاک ، سوشل میڈیا کا ایک بڑھتا ہوا فتنہ ہے، جس کا بنیادی مقصد بے حیائی کو فروغ دینا ہے ،اس کے مختلف مفاسد اس وقت سامنے آچکے ہیں۔یہی وجہ ہے بہت سے ممالک نے اس کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اور نوجوان نسل پر اس کے بر

اَفسردگی چھوڑ دو , ہر حال میں شاکررہو

 بلا شبہ منفی سوچ ناکامی کا سبب بنتی ہے جبکہ مثبت سوچ کامیابی کے لئے اولین شرط ہے۔اس کی وجہ سے انسان میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور پُر خطر حالات میں بھی اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے ۔حالات کتنے ہی پیچیدہ اور کشیدہ ہوں ،مثبت طرز عمل راہیں نکال ہی لیتا ہے ۔انسان کو اپنے کام پر شرح صدر ہو اور اپنے طریقۂ کار اطمینان ہو اور یکسوئی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو اپنی منزل سے دور نہیں رکھ سکتی ۔حالات کے نشیب و فراز اس کے کام میں خلل انداز نہیں ہوسکتے،راستے میں حائل رکاوٹیں اس کو اپنی منزل سے دور نہیں رکھ سکتیں۔اگر افراد میں مثبت سوچ کے بدلے منفی سوچ پروان چڑھنے لگے تو انسان کے دیکھنے کا زاویہ ہی بدل جاتا ہے ۔کامیابی کی جگہ ناکامی نظر آتی ہے ۔حوصلے کی جگہ پستی و نامرادی آجاتی ہے ۔دل میں طرح طرح کے شکوک پیدا ہوجاتے ہیں ،انسان اپنی منزل کے بجائے خطرات اور مشکلات ک

کو رونا کی وبا باہمی تلخیوں کو مٹانے کا ذریعہ | کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا گناہ ہے

کورونا وائرس ایک قدرتی آفات ہے اور اس سے اس وقت پوری دنیا جوجھ رہی ہے اور ہر ملک اپنے شہری کی حفاظت کیلئے اپنے طور پر ہر قسم کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس وبا نے انسانی معاشرے کو خوف و ہراس میں جینے پر مجبور کر دیا ہے ۔اب تک لاکھوں افراد اس وبا کے شکار ہو گئے ہیں اور چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔دنیا بھر میں اس وبا سے مقابلہ کرنے کے لئے طبی معائنہ اور خود شاختۂ بندی کر ناہی ضروری اقدامات کے طور پر اپنا رہے ہیں کہ امریکہ اور اٹلی جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس کی کوئی دوا تلاش نہیں کر سکے ہیں ۔چین جہاں سے یہ وبا پھیلی ہے اس نے بھی ایک علاقے اوہان میں لاک ڈاؤن شروع کر کے ہی قابو پایا ہے ۔اس لئے اپنے ملک میں بھی یہی ترکیب اپنائی گئی ۔اگر چہ کچھ دیر سے یہ قدم اٹھایا گیا لیکن ملک کے عوام نے اس وبا سے لڑنے کیلئے جو حوصلہ دکھایا ہے وہ قابل ذکر ہی نہیں بلکہ قابل تحسین ہے ۔مگر افسوس ہے

مایوس نہ ہو اللہ بہت بڑا ہے | تدابیر کے ساتھ توکل اعلیٰ صفت ہے

’’اللہ‘‘ اس ذات کا نام ہے جو سب سے بڑا ، سب سے بلند ،سب سے جدا ،سب سے الگ ہے۔وہ سب کا خالق ہے ، اس کے مقابلہ میں ہر ایک چیز اس کی مخلوق اور اسی کی تخلیق کا شاہکار ہے۔وہ اپنی قدرت ،طاقت،بادشاہت اور علم وحکمت ،بزرگی اور بڑائی میں یکتا ہے۔وہ اکیلا ،بے عیب ،بے نیاز اور بے مثال ہے۔اس نے محض اپنی قدرت وطاقت اور قوت وارادہ سے کائنات اور اشیائے کائنات کو وجود عطا کیاہے ،وہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے ویسا ہی کرتا ہے،کوئی اسے روک ٹوک کرنے والا نہیں۔اس کا کوئی مشیر ہے نہ وزیر،آسمان وزمین کا قیام اور چاند وسورج کا قرار اسی کے دم سے ہے۔بجلی کی کڑک ،سورج کی چمک اور چاند کی دمک اسی کے حکم سے ہے۔ سمندر کی گہرائی ،زمین کی چوڑائی ،آسمان کی اونچائی اور پہاڑوں کی طاقت کو وہ خوب جانتا ہے۔جنگل،دریا،پہاڑ،درخت اور باغات کے دلفریب نظارے اسی کے ’’کن‘&lsq

جنگ کو امن میں بدل ڈالنا بہتر

ایمان کی بنیاد صبر و تحمل پر رکھی گئی ۔ اسلام کی اعلانیہ دعوت کے بعدمکہ والوں کاآپ ﷺ کے اصحاب ؓ کے ساتھ برتائو کسی سے ڈھکا چھپانہیں ۔ ہم آج جس اسلام کے نام لیوا ہیں یہ ان اصحاب ؓ کے صبر و تحمل اور شدید ترین برداشت کی بدولت ہم تک پہنچا اور یہ سبق ہے کہ مسلمان آزمائش کی گھڑی میں اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہوئے بھرپور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس آزمائش کی گھڑی سے سرخ رو ہوکر نکلتا ہے۔ اسلام کا سورج بھی ہمارے پیارے نبی ﷺ اور انکے اصحاب ؓ کے صبر و تحمل و برداشت کی بدولت رہتی دنیا تک کیلئے چمکتا دمکتا رہنے والا ہے ۔ نماز صبر و تحمل کا ایک عملی مظاہرہ ہے، جب آپ اپنے اہم ترین کاموں کو چھوڑ کر اپنے رب کے حکم کے آگے سربسجود ہونے کیلئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔طلوعِ اسلام نے بہت کڑا وقت دیکھا، دنیا کی طاقتوں سے ٹکرایا اور اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور کو زیر کیا ،ان سب حالات کا مقابلہ مسلمانوں نے

صدقہ ، خیرات و زکوٰۃ | بیماریوں اور بلاؤں کو ٹالتا ہے

آج ساری دنیا کی حکومتیں اور عوام کورونا وائرس سے تذبذب کا شکار ہیں ۔ دنیا کے کئی مقامات پر مساجد میں نمازیں ادا نہیں کی جارہی ہیں ۔ موت سارے عالم میں کورونا کی شکل میں رقص کر رہی ہے ۔ ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ یہ اللہ کا عذاب ہے ۔ آج سارے عالم میں گناہ انتہا پر ہیں ۔خوف کے عالم میںجہاں عام آدمی چکن کا استعمال چھوڑ چکا ہے ۔وہاں آسودہ حال لوگوں نے بھی مرغن غذائوں کا استعمال کم کردیا ہے  لیکن آخرت کے خوف سے گناہ چھوڑنے تیار نہیںہورہے ہیں،یہ جانتے ہوئے بھی کہ جس نےیہ بیماری نازل کردی ہے وہی اس بیماری سے نجات بھی دے گا،بشرطیکہ کثرت سے عبادت اور نمازوں کی پابندی کرکے اپنے گناہوں سے تو بہ کیا جائے بلکہ صدقہ و خیرات کی طاقت کی طرف بھی خاص توجہ دی جائے ۔ اللہ نے زمین پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی، پھر اللہ نے پہاڑ پیدا کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ زمین تھامے رکھے ، چنانچہ وہ ٹھہرگئی ۔

کوویڈ۔19: کشمیر میں نفسیاتی مریضوں کی حالت غیر

 کرونا کے باعث موجودہ نازک اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظرجہاںدنیا بھر میںہر خاص و عام خوف و خطرہ میںمبتلا ہوچکا ہے وہیں علاج و معالجےکی صورت حال بھی متاثر ہورہی ہے۔ایک طرف جہاں ہر سطح پر کو وڈ سے متاثرہ لوگوں پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے تو دوسری طرف دیگر امراض میں مبتلالوگوں کی طرف توجہ کافی حد کم ہوگئی ہے۔طبی شعبوں سے منسلک تمام لوگ ،ماہرین اور عملےیہاں تک کہ درجہ چہارم کے ملازمین بھی اس غیر یقینی صورت حال میںاپنے اپنے کام میںمصروف تونظرآرہے ہیںلیکن ہسپتالوں،شفا خانوںاور دیگر صحت مراکز پر دیگر امراض میں مبتلا عام لوگوں کو وہ طبی سہولیات میسر نہیں ہوپارہی ہیں جن کے وہ مستحق ہیں۔کشمیر میں تمام چھوٹےبڑے صحت مراکز کی صورت حال عام مریضوں کے تئیں بالکل نفی کے برابر ہوگئی ہے۔جس کے نتیجہ میں لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کشمیری عوام بھی اسی صورت حال کا شکار ہیںجس میں اس وقت پورا ع

وَبا کے دنوں میں زندگی

وبا کے موسم میں سب کچھ کس سرعت کے ساتھ بدل جاتا ہے، جان کر حیرت ہوتی ہے۔ انسان جو مسافت صدیوں میں طے کرتا ہے، وبا کے دنوں میں یہ لمحوں میں سمٹ آ?تی ہے۔ اہلِ قلم نے اس کی کہانیاں لکھی ہیں۔ جناب آ?صف فرخی نے ایک عمدہ مضمون میں اس ادب کا احاطہ کیا ہے ۔ ہم بھی ایک وبا کی گرفت میں ہیں۔ قدرت اس عمل کو ایک مدت بعد دھرا رہی ہے جو ہمارے لیے تاریخ تھی، اب واقعہ ہے۔ یہ کہانی وہ نہیں جو ''ایک دفعہ کا ذکر ہے...‘‘ کے اسلوب میں شروع ہوتی ہے۔ یہ صرف میری ہی نہیں اُس پانچ سالہ بچے کی بھی آ?پ بیتی ہے جو محسوس کر رہا ہے کہ اس کے گردوپیش میں کوئی انہونی ہو گئی ہے۔ باپ ،جو کبھی ہفتے میں ایک بار یا کئی دنوں بعد دکھائی دیتا تھا، اب ہر وقت گھر میں رہتا ہے۔ جو چھٹی کے لیے مچلتا تھا، اب بغیر مطالبے کے چھٹیوں کے مزے لے رہا ہے۔ اس کا ننھا سا ذہن سوچتا تو ہو گا یہ سب کیسے ہو گیا؟ ہم

انسان پر کڑا وقت آن پڑا ہے

دنیا انتہائی مشکل وقت سے گزررہی ہے انسانی آبادی پر یہ وقت کڑا ہے، ہرلمحہ نازک،ہرساعت خوفزدہ کردینے والا ہے ۔اژدھام اور ہجوم کے بیچ نہایت سرعت کے ساتھ زندگی بسرکرنے اور اپنی ہی دھن میں سرگرداں اس عالم کو ایک ناگہانی وبا نے کچھ اس طرح سے اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے کہ انسان کا جینا محال ہے،ملنا مشکل اورزندگی دوبھر ہے۔ کوروناوائرس دوہزار انیس(کووڈ19) کے ہلاکت خیز،زود اثر متعدی اثرات سے کرۂ ارض پہ محشر بپا ہے، قیامت خیز منظر انسان اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، ہرشخص اپنے سامنے موجود فرد کو مشکوک نظر آرہا ہے، تپاک سے گلے لگانا اور طمطراق سے مصافحہ کرتے ہوئے ہاتھوں کو دبادینے کے عادی افراد ایک فاصلے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ پھر بھی دل کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ وائرس اپنی چپیٹ میں نہ لے لے۔ دنیا میں ہو کا عالم رات کو بھی دن کی طرح برتنے والا،وقت کو اپنی قابو میں کرنے والا اور ایک لمحہ می

کووڈ 19اور4جی انٹرنیٹ

جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال اگست کے مہینے سے انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی لوگ قدیم زمانے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔تاجر طبقہ اور خاص کر طلاب کے لئے انٹرنیٹ کی عدم دستیابی شدید مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے۔حق تو یہی ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال کے ماہ اگست سے ہی لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں اور اب  کرونا وائرس کی قہر کے باعث لاک ڈائون کی پریشایاںسہنے پر مجبور ہیں۔ اب جب کہ سالِ رواں کے دوران سرکار نےجموں و کشمیر کے عوام کے تئیں چند معاملات میںکسی حد تک اپنے رویہ میںتبدیلی لائی ہے، جسکے نتیجہ میں لاک ڈائون سے قبل ہی انٹر نیٹ کی محدودبحالی بھی ہوئی ہے۔ جس سے موبائل صارفین کو وہ سہولیات میسر نہیں ہوپارہی ہیں جن کی اس وقت انتہائی اہمیت اور ضرورت ہے۔ سرکار نےاپنی غیر منصفانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے صرف2جی انٹرنیٹ خدمات بحال کی ہیں جو ک

کورونا وائرس اور سرینگر میں پانی کی قلت

وزیراعظم نریندر مودی آ?ج کل اور باتوں کے علاوہ دن میں بار بار بیس سے تیس سیکنڈ تک پانی اور صابن سے ہاتھ دھونے پر زور دیتے ہیں۔ پوری دْنیا اور ملک کے دوسرے خطوں کی طرح کشمیر بھی کورونا وائرس کی زد میں ہے۔ بچنے کی بنیادی صورت پانی سے ہاتھ صاف کرنا ہے لیکن اگر کسی خطے میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہو، وہاں ہاتھ صاف کرنے کی مہم چلانا اندھوں کی بستی میں آئینے بیچنے جیسا ہے۔  غرض یہ کہ سرینگر میں پینے کے صاف پانی کی قلت کورونا وائرس کے خطرے کو دوگنا کر دیتی ہے۔ میں ارباب اختیار اور اہل نظر کی توجہ اس اہم مسلے کی طرف اس لئے مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ اگر پانی کورونا وائرس کے خلاف بنیادی ہتھیار ہے تو اندازہ کریں جب لوگوں کو پانی ذخیرہ کرنا پڑے اور لاک ڈاون کے دوران کئی روز تک محکمہ پی ایچ ای کے ٹینکر کا انتظار کرنا پڑے تو لوگ کھانا پکانے اور دوسرے ضروری کاموں کو ترجیح دینگےیا بار بار ہ

لاک ڈاؤن کا فیصلہ کہیں اُلٹا نہ پڑجائے!

اس وقت دنیا کی سب سے خطرناک بیماری ’کورونا‘ سے لڑنے کے لیے کجریوال نے جواعلان کیا ،اس نے حکومت ہند کو نیند سے جگادیاہے۔ ویسے توانھوں نے اب تک جوبھی اعلانات کیے ہیں،اُن پر عمل درآمد ہوتے ہوئے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔ وزیرداخلہ امت شاہ نے ایک بار مہاتماگاندھی جی پربیان دیتے ہوئے انھیں ’چالاک بنیا‘کاخطاب دیاتھا۔اب ان سے عرض ہے کہ وہ کجریوال کو کس خطاب سے نوازیںگے؟ وہ آج پورے ملک میں ایک بے مثال منتظم اور بھارت ماتاکاایساسپاہی اورسپوت بن کراُبھرا ہے، جس پرنہ صرف دہلی والے جان چھڑکتے ہیںبلکہ اب توان کی قوت ارادی کالوہاپوری دنیا بھی مان رہی ہے اور ان کا بے حد احترام بھی کرتی ہے۔انھوںنے پچھلے 5سالوں میں دہلی میں کرکے دکھایاہے اور اب بھی کررہے ہیں۔ سب کویقین ہے کہ ان میں ملک اور ملک کے باسیوںکی اچھی طرح حفاظت کرنے کی پوری ہمت وطاقت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی دیگرری

اسلام کا مطلوب طالب علم

اللہ تعالی نے علم کی اہمیت و افادیت کو کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے۔۔۔۔"اللہ تعالی تم میں سے ایمان والوں کا درجہ بلند کرتا ہے اور ان کے کئی درجات بلند کرتا ہے جن کو علم ملا ہے" ( المجادل?:۱۱) نبوت اور کلام اللہ کی ابتدا لفظ " اقرا" سے ہوئی۔۔۔اور یوں اسلام میں علم کی اہمیت اور افادیت کا خلاصہ اسلام کے آغاز میں ہی سمجھایا گیا۔پتا چلا کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت علم ہی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔۔۔۔ علم ہر کسی قوم کی ترقی کے لیے ایک بنیادی محور ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالی نے ایک انسان کو تخلیق کیا تو سب سے پہلے اس کو علم کی نور سے منور کیا گیا۔ علم کی وجہ سے ہی ایک انسان کو دنیا کے تمام مخلوقات پہ سبقت حاصل ہوئی۔ علم کو بنیاد بنا کر انسان نے کیسے کیسے حیران کن کارنامے انجام دیے اور اسی علم کی وجہ سے کیسے ہولناک فسادات رونما ہوئے۔ اسی علم کو مثبت طریقے س

جھوٹ وخوشامد۔اخلاقی پستی کی علامت

اللہ تعالیٰ کی ذات اعلیٰ وارفع اور بلند وبرتر ہے ۔ وہ اپنی ذات وصفات میں تنہا ویکتا ہے،اس کی قدرت و بادشاہت میں نہ کوئی اس کا شریک ہے نہ مشیر ہے،وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ تمام تراوصاف حمیدہ سے متصف اور تمام صفات قبیحہ سے مبرہ اور پاک ہے۔وہ پوری کائنات اور اس کی ہر ایک چیز کا مالک ہے ،جہانوں میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے ، اس کی بے شمار مخلوقات میں سے ایک مخلوق انسان بھی ہے۔انسان اس کی تخلیق کا ایک عظیم شاہکار ہے، انسان اس لحاظ سے خوش نصیب ہے کہ اس میں وہ بہت سی خوبیاں رکھی گئی ہیں جن سے دوسری مخلوقات محروم ہیں ،ظاہری وباطنی دونوں لحاظ سے وہ تمام مخلوقات پر فوقیت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے عقل وفہم ،شعور وادراک اور قوت گویائی اور قوت ارادی سے مالامال کیا ہے ، دیگر کے مقابلہ میں ان چیزوں میں اسے کمال حاصل ہے ۔وہ اپنے ارادہ کی قوت وطاقت سے بہت سے بڑے بڑے کام انجام دے سکتا ہے،وہ جا

کرونا وائرس

اس وقت پوری دنیا سخت ترین حالات سے دوچارہے، پورے عالم پرماتمی سکوت چھایا ہوا ہے ہر طرف ہو کاعالم ہے، وبا کی شکل اختیار کرنے والے اس کورونا وائرس نے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک تک کو زیر کردیا ہے، اس جان لیوا وائرس کا مرجع اور مصدر چین ہے جہاں کی ٹیکنالوجی کا لوہا پوری دنیا مانتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیامیں سر فہرست ملکِ چین کو اس وائرس نے گھٹنوں کے بل جھکا دیا ہے۔وہاں کی انتظامیہ کو اس ناگہانی وباء نے مایوس اور عاجز کردیا۔ اٹلی جوایک یورپی ملک ہے جہاں کا محکمہ طب ترقی میں اتنا ایڈوانس ہے کہ اسے طب کے معاملے میں یورپ کے بیشتر ممالک پر فوقیت حاصل ہے، اس کے باوجود اس وائرس نے ان کی کمرتوڑدی ہےاور رات دن کی انتھک کوششوں کےباوجود ان کے تجربات کو ناکام کردیا ہے۔ امریکہ ،دنیا جسے سپر پاور مان رہی ہیںآ?ج وہاں بھی یہ مرض اپنے پر پھیلا چکا ہے اور وہ بھی اس وبائی مرض سےشکست خوردہ نظر آ رہا ہے۔ اس وحش

عصر حاضر کامسلمان ؟

اسلام ایک مضبوط ،ٹھوس ،معقول آسمانی ضابطہ ٔ عمل اور نظام حیات ہے جو بنی نوع انسان کو زندگی گزارنے کے لئے خالق کائنات کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نظام وقتاً فوقتاً اپنے مخصوص عالی مرتبہ (نفوس قدسیہ) کے ذریعہ پھیلایا جن کو اسلامی اصطلاح میں حضرات انبیا ء علیہم السلام کہا جاتا ہے۔ اس کے تین ثیق ہیں:عقائد ،احکام اور اخلاق وآداب۔ عقائد: اللہ تعالیٰ پر ایمان ۔ وہ اس س ساری کائنات کا واحد مالک اور خالق ہے ،جس کا بہت کم حصہ ہمارے مشاہدہ میں ہے اور بیشتر حصہ ہمارے مشاہدے سے ماوراء ہے(وسیع کرسیہُ السمٰوات و الارَض)وہ ہر حال میں ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔اس کے ساتھ انبیاء کرام،فرشتے ،تقدیر جزاء و سزا کے دن پر پورا پورا یقین رکھنا  وغیرہ۔ احکام : زندگی گزارنے کے قوانین کیا ہیں۔معاملات ،معاشرتی مسائل ،تعلق باللہ،تعلق با لعباد ،تعلق با النفس وغیرہ، سب اس میں بیان ہوئے ہ

موجودہ بحران ناانصافی، استحصال اور محرومی کا نتیجہ

عصر حاضر کو ترقی کا دور کہا جاتا ہے اور یہ کچھ غلط بھی نہیں ہے،سائنسی اکتشافات (SCIENTIFIC EXPLORATION)کا سلسلہ بلاتوقف جاری ہے۔ ایجادات کا نہ تھمنے والا ایک سیل رواں ہے۔ وسائل سفر سے لے کر ذرائع ابلاغ تک میں انقلاب آ چکا ہے، زمین اپنے خزانے اگل رہی ہے ،سبزیاں ،میوے اور پھلوں کی اس قدر بہتات ہے کہ بس! لیکن ہر چیز کی فراوانی کے پہلو بہ پہلو انسانی محرومی کی بھی کوئی حد نہیں۔آدمیت سسک رہی ہے ،غریب غربت کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔سرمایہ دار بے مقصدیت کے عذاب واذیت سے گزر رہے ہیں ،ایسا بھی نہیں کہ حالات میں تبدیلی کی سعی ہی نہیں ہوئی ،کوششیں ہوئی اور ہورہی ہے،لیکن ان سب کے باوجود حالات کچھ یوں ہی ہے: سو بار تیرا دامن ہاتھوں میں میرے آیا جب آنکھ کھلی دیکھا تو اپنا ہی گریباں تھا  اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مختلف معاشی نظام وجود پزیر ہوئے لیکن ہر نظام میں زور آوروں نے کمزوروں