تازہ ترین

عرب بہاریہ کی نئی دستک ؟۔۔۔ قسط 2

تاہم   اس منافقانہ خیر سگالی کے ساتھ مغرب نے خلیجی ریاستوں کو عرب اسپرنگ کے استیصال کے لیے عملی اقدامات سجھانے شروع کردئے۔ تیونس کے حوالے سے زیادہ پریشانی نہ تھی کہ یہ شمالی افریقہ کا ایک چھوٹا سا ملک ہے جہاں کے آئین میں سیکولرازم کو ناقابلِ ترمیم تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ تاہم مصر، شام اور لیبیا کا معاملہ بے حد اہم تھا۔ مصر عرب دنیا کا سب سے بڑا اور تعلیم یافتہ ملک ہے جس کے عرب دنیا اور اس سے باہر بھی گہرے اثرات ہیں۔ مصر اسرائیل کا پڑوسی ہے اور نہر سوئز بحرروم سے بحراحمر کے ذریعے عرب دنیا اور ایشیا سے رابطے کا تیز ترین راستہ ہے۔ مصری’’ اخوان المسلمون‘‘ عرب دنیا کی مادرِ تحریک اسلامی ہےاور اس کی فکر و حکمت کی چھاپ ساری عرب دنیا پر نظر آتی ہے۔ مصر میں سب سے پہلے آئینی ہتھکنڈے استعمال ہوئے۔ سینیٹ کو افتتاحی اجلاس سے پہلے ہی کالعدم قرار دے دیا گیا۔ مم

ہوئی مدت کہ غالبؔ مرگیا پر یاد آتا ہے

گزشتہ  دنوں یہ عاجز دہلی کے سفر کے دوران کے سب سے بڑے شاعر غالب ؔکے مزار پر پہنچا ۔ نجم الدولہ دبیرالملک نظام جنگ نواب مرزا نوشہ اسداللہ خان غالبؔ جو اپنے شاعرانہ کمال،مخصوص اسلوبِ نگارش اور خوبصورت نثرنگاری کے سبب ہر طبقہ میں مقبول تھا آج بھی مقبولیت کے نصف النہار پر ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ حسنِ عقیدت ونیازمندی کے جذبات میں جب مزار غالبؔ کو دیکھ کر بڑی  تکلیف ہوئی کہ اردو کے اس عظیم شاعر کے مر قد کا حال بالکل اردو ہی کی طرح ہے کہ یہ ارباب ِاقتدار کی بے اعتنائی سے بڑھ کر خود اُردو کو مادری زبان کہنے والوں کی بے رُخی وبے وفائی کا شکار ہے ۔ مزار غالب کی عمارت کے بیرونی حصہ کو چادر فروشوں ، گُل فروشوں اور بریانی و نان والوں نے مکمل طور گھیر رکھا ہے ۔ عمارت کے سامنے پہنچ کر بھی ایک نووارد کو مزار کا پتہ لوگوں سے دریافت کرنا پڑتا ہے کہ مزارِ غالب کہاں ہے ؟ مزار کی اس ویرانی اور اپنو

جسٹس مار کنڈے کاٹجو سے

جسٹس  مارکنڈے کاٹجو صاحب کا ایک متنازعہ مضمون (’’انقلاب‘‘ 6 جولائی شمارہ) قارئین کرام کی نظروں سے گزرا ہوگا۔ اس مضمون میں انہوں نے مسلمانوں کی پسماندگی اور اس کے وجوہات کی نشان دہی کرنے کی کوشش کی اور اس سے جنات پانے کی تدابیر بھی پیش کیں۔ مضمون کا پس منظر 2019 کے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ بھاجپا کو ملی زبردست انتخابی کامیابی کے بعد سیکولر خیمے میں تذبذب وبے دلی کی کیفیات پائی جا رہی ہیں۔ خاص کر مسلم اقلیت کے حالات اور ان کے مستقبل کو لے کر بہت سارے مضامین شائع کئے جا رہے ہیں۔ جسٹس کاٹجو صاحب کا مذکورہ مضمون اسی سیاق سباق میں منظرعام پر آیا ہے۔آئیے سب سے پہلے مذکورہ مضمون کے چند اہم نکات کو پھر سے یاد کر لیں۔ انہوں نے '’’بنیاد پرست علماء اور 'موقع پر سیاست دانوں‘‘ کو مسلمانوں کی بد حالی اور پسماندگی کے لیے قصوروار ٹھہرایا۔ سا

میں ہی نہیں بلکہ تقریباً ہر شخص یہ محسوس کررہا ہے کہ وقت بھاگ رہاہے اور بڑی تیزی کے ساتھ بھاگ رہا ہے ۔ لوگ صبح جاگتے ہیں اور ذہن میں دن کا پروگرام ترتیب دینے لگتے ہیں ایسا کرتے کرتے جب وہ گھڑی کی طرف دیکھتے ہیں تو دوپہرہوچکی ہوتی ہے ۔ پھر شام کے سائے کیسے گھیر لیتے ہیں پتہ بھی نہیں چلتا ۔ کئی دہائیوں سے وقت کی رفتار تیز ہورہی ہے ۔ پہلے وقت گزر جاتا تھا اب بھاگ رہا ہے ۔ بیل گاڑی ،تانگے اور سائیکل کا زمانہ بیت چکا ہے اب تیز رفتار موٹر کاریں انسان کے پاس ہیں۔ منٹوں میں وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے مہلت نہیں ملتی ۔ آرام کا ایک سانس بھی نہیں ملتا ۔ اس کے پاس آج زندگی کی ساری سہولتیں ہیں ۔ وہ اپنے گھر میں بیٹھ کر دنیا کے کسی بھی کونے سے رابطہ قائم کرسکتا ہے ۔ دنیا میں کہاں کیا ہورہا ہے اسے موبائیل فون پر اس کی تفصیل دستیاب ہے ۔سائنس اور ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو

دھڑکنوں کی زباں!

کچھ  دن پہلے میں اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ دودھ پتھری پکنک کے لئے گیا ہوا تھا۔ ہم رات بھر وہیں ٹھہرے، بہت مزہ آیا۔ رات گئے تک ادب، شاعری، سیاست اور سماجیات پہ باتیں ہوتی رہیں۔دوران گفتگو میرے ایک دوست نے ایک ایسی بات کہی جو اتنے دن گزرنے کے بعد بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بات کسی نے پہلے بھی کہی ہو، لیکن میں نے پہلی بار اپنے دوست کی زبانی ہی سنی ۔ دوست نے کہا، ’سچ میں ایک ذرا سی ترمیم کرکے اُسے آپ جھوٹ بنا سکتے ہیں لیکن جھوٹ میں جتنی بھی ترامیم ہوں، اسے آپ سچ میں نہیں بدل سکتے۔ سو دنیا کی سب سے بڑی سچائی جو ہے وہ جھوٹ ہے۔‘ بہت ہی دلچسپ بات۔ بہت سارے لوگ اس سے اختلاف کریں گے، بہت سارے اس بیان کی دھجیاں اُڑائیں گے لیکن ذاتی طور مجھے اس بیان میں ایک اچھی خاصی دلیل دکھائی دیتی ہے۔ سچ بولنے کے لئے ہمت چاہئے۔ کلیجہ چاہئے۔ کچھ سچ ایسے ہیں جو ہم ص

مکاتیب غالبؔ

’’ خوش   بوآں است کہ خود ببوید" کے مصداق مشہور شعرا ء کا کلام ہوتا ہے۔ادیب ہو یا شاعر یاکوئی عام قاری غالبؔ کی شاعری سنتے ہی یا پھر غالبؔ کا نام آتے ہی اِس کی شاعرانہ بُلندی کی پرچھاییاں نظر آنے لگتی ہیں۔ غالب ؔکی جو بھی شعری تخلیق ہوتی ہے خاص کر غزلیں۔ان کی غزلوں کی ایک علاحدہ پہچان ہوتی ہے۔ان کی غزلوں میں شگفتگی، فلسفیانہ موشگافی، احساس جمال، زخموں میں لپٹی ہوئی مُسکراہٹ اور درد میں ڈوبا ہُوا لب ولہجہ ہمارے دلوں پر ایک دیرپا نقش اور اثر چھوڑ جاتا ہے۔ عام لوگ تو الگ خواص بھی غالبؔ کے ساتھ ایک طرح کی نا انصافی کرتے ہیں جب وہ غالبؔ کی صرف شاعری ہی پر متوجہ ہو جاتے ہیں۔ اگر غالبؔ کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری میں ہی تلاش کیا جائے تو یہ سراسر  نا انصافی ہوگی۔ کیونکہ غالبؔ کی شاعری کے ساتھ ساتھ ان کی نثر بھی کچھ کم  دل چسپ اور جاذب توجہ نہیں۔ان