تازہ ترین

پانی نعمتِ لافانی

زندگی  کیلئے ضروری چیزیں آلودہ اورکم یاب ہوتی جارہی ہیں۔ پانی ان میں سے ایک ہے، جسے قدرت نے تو بھرپور مقدار میں مہیا کرایا ہے لیکن انسانی دخل اندازیوں کی وجہ سے پینے لائق پانی ہماری پہنچ سے دور ہوتاجارہا ہے۔ پانی کے بٹوارے کو لے کر صوبائی سرکاریں لڑرہی ہیں۔ دوسری طرف پانی میں رہنے والی زندگیوں پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں زیر زمین پانی کی سطح میں 65 فیصد گراوٹ آئی ہے۔ پانی حاصل کرنے کیلئے اور گہرے بور کرنے پڑرہے ہیں۔ بھارت زمین سے پانی کھینچ کر استعمال کرنے کے معاملے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہاں پینے کے پانی کی 80 فیصد ضرورت اسی سے پوری کی جاتی ہے، یعنی زمینی پانی سے۔ 2001 سے 2010 کے درمیان یوپی، تلنگانہ، بہار، اتراکھنڈ اور مہاراشٹر میں بالترتیب75,78,88,89اور74 فیصد کنوں کے پانی کی سطح نیچے  پہنچ گئی ہے جسے خطرے کی گھنٹی مانا جانا چاہئے، ک

ناکامی کے اسباب اورکا میابی کے راز

اگر  ہم چاہتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہم اپنی کوئی منفرداور مفیدحیثیت منوائیں تو اپنے کم سے کم تیس سال تک اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل تک ہی اکتفا کریں اور اپنی بقیہ کمائی کو قومی اور سماجی منصوبوں میں خرچ کریں۔ ہم نے اپنے اوپریہ ظلم روا رکھا ہے کہ قومی اور عوامی منصوبوں کو کورپشن ، رشوت ، فراڈ اور دوسرے ممکنہ غلط ذرائع سے ذاتی ملکیت میں تبدیل کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے اس وقت دنیا میں ذاتی یا نجی ادارے قومی اور عوامی اداروں سے زیادہ دولت مند ہیں اور قومی خزانوں میں غریب عوام کی اہم اور بنیادی ضروریات کا خرچہ بھی میسر نہیں ہے ۔ یہ ہے ہماری حالت زار کی ایک جھلک۔ ہر کسی فرد کی ذاتی ملکیت اس کی ذات اور ا س کے وارثین تک ہی محدود ہوتی ہے جب کہ قومی اور عوامی منصوبوں سے سب لوگ انتفاع کرتے ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے عوامی اداروں کی دولت لوٹ کے اپنے ذاتی کھاتوں میں جمع کر تے ہیں ۔ حد یہ ہے کہ ان

یوم شہدا ٔ پر ہڑتالی خراج کیوں؟

تیرہ جولائی ریاست کی تاریخ کا وہ دن ہے جس نے تاریخ اور تقدیر دونوں کو بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا ۔88سال بیت چکے ہیں ۔ کئی نسلیں دنیا میں آئیں اور چلی بھی گئیں ۔وقت نے کئی کروٹیں بدلیں ۔کئی طوفان آئے اور گزرگئے ۔ کئی انقلاب آئے اوراپنے نقوش چھوڑ گئے لیکن تیرہ جولائی کوسرینگر کے سنٹرل جیل کے باہر پیش آنے والے اس واقعے کو نہ وقت اپنی گردشوں میں گم کرسکا اورنہ ہی نسلیں اپنے ذہنوں سے محو کرسکیںجب نہتے کشمیریوں نے ڈوگرہ فوجوں کی گولیوں کے آگے سینہ سپر کیا ۔ اس سے پہلے کشمیر کو ستر لاکھ نانک شاہی سکوں میں خریدنے والے حکمرانوں کے خلاف احتجاج اور ان کی طرف سے قتل عام کاکوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا ۔ بے بس اور لاچار کشمیری ہر ظلم ، ہر جبر اور ہر استبداد خاموشی کے ساتھ سہتے آرہے تھے ۔ ڈوگرہ فوجی لوگوں کو گھروں سے گھسیٹ گھسیٹ کر نکالتے تھے اور بیگار پر لے جاتے تھے ۔ کوئی کوئی ہی وا

کھادی بورڈ میں ریکروٹمنٹ فراڈ

کھادی اینڈولیج انڈسٹریز بورڈ میں 2016میں ہوئی بھرتیوں کو گونر انتظامیہ نے منسوخ کر دیا ہے۔ ان بھرتیوں کے حوالے سے 2016میں ہی لے دے شروع ہوگئی تھی۔ کئی امیدواروں نے الزام لگایا تھا کہ بھرتیاں شفافیت سے نہیں کی گئیں اور بر سر اقتدار پارٹیوں نے مستحق امیدواروں کو نظر انداز کرکے اپنے اقرباء اور چہیتوں کو نوکریوں کے تحفے عطا کئے۔ اُس وقت کی بر سر اقتدار پارٹی کے اُس وقت کے نائب صدر کے بیٹے کی تقرری پر بھی اُنگلیاں اُٹھائی گئی تھیں۔سننے میں آیا ہے کہ اُس وقت کے لاء سکریٹری نے بھی اپنے ایک مکتوب میں بھرتی میں ہوئی دھاندلیوں کی جانب اشارہ کیا تھا۔ امیدواروں کے احتجاج کے بعد سرکار نے بھرتیوں کے حوالے سے ایک تحقیقاتی کمیٹی قایم کی تھی جس کی جانب سے دی گئی رپورٹ سے یہ بات صاف ہوچکی ہے کہ بھرتیاں کرتے وقت طے شدہ ضابطوں اور قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی تھی۔اسی رپورٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے گورنر انت

افسانہ نگاری

عموماً ََ کہا جاتا ہے کہ افسانہ ایک ایسی صنف ہے جس میں بہت کم لفظوں میں بہت کچھ کہا جاتا ہے یا کم لفظوں میں کا استعمال وسیع معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔اور یہ صحیح بھی ہے کہ افسانہ کی ابتدا کی وجہ یہ بنی کہ رسالے یا اخبار میں پورے ناول کو شایع کرنے میں بہت مہینے لگتے تھے اور تب تک قاری کی توجہ ناول کے پلاٹ سے ہٹ جاتی تھی یا وہ بہت سی اہم چیزیں کبھی کبھی بھول بھی جاتا تھا۔بہرحال جو بھی ہو افسانے سے متعلق جو چیز سب سے پہلے ذہن میں آتی ہے وہ یہ کہ یہ ایک مختصر کہانی ہے جس کی طوالت 1000 سے7000 الفاط کے درمیان ہو۔ کبھی یہ طوالت20000 الفاط تک بھی جاتی تھی لیکن اب ایسا کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ افسانے میں کردار ، ترتیب یا زماں و مکاں، پلاٹ، کشمکش اور موضوع بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اور بھی کچھ چیزیں ہوسکتی ہیں لیکن مذکورہ پانچ چیزوں کے بغیر شائد ہی کوئی اچھا اور کامی