تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ | ممکنہ جنگی آگ کا انجام؟

پورے  مشرقِ وسطیٰ میں 2سب سے اہم ترین مقامات آبنائے ہرمز اور باب المندب ہیں۔ جمعرات کو انہی 2 میں سے ایک مقام پر 2 آئل ٹینکروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اگر یہ ایک منظم حملہ ہوا ہے تو اس کی چنگاریاں تمام مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیل دینے کی سکت رکھتی ہیں۔انگریزی زبان کے ممتاز شاعر جان ملٹن نے 1667ء میں اپنی نظم ’’پیراڈائز لاسٹ‘‘ میں لکھا تھا:’’شیطان ہیروں اور جواہرات سے مزین ایک شاہی تخت پر بیٹھا ہے اور اس کا قبضہ ہندوستان سے لے کر ہرمز کے خزانوں پر ہے۔‘‘قیمتی موتیوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز کو اس وقت بھی دنیا کے پوشیدہ خزانوں کا مقام قرار دیا جاتا ہے۔ جان ملٹن فارس کے ساحل کے سامنے واقع پہاڑی جزیرے کو اس وجہ سے بھی جانتے تھے کہ پرتگالیوں نے اسی کو بیس بناتے ہوئے کئی عشروں تک عیسائی سلطنت کا دفاع کیا تھا۔ یورپ اور ہندوستان کے ط

ترکی کا دفاعی سودا | روس کے خلاف امریکی ناراضگی

ترکی، امریکہ سے جنگی جہاز اور روس سے طیارہ شکن میزائل سسٹم خرید رہاہے ۔ ان دونوں سوپرپاور ممالک پہلے ہی ایک دوسرے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھی امریکہ اور روس کے درمیان بحری راستوں میں آمنا سامنا ہوا ہے اور دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے ہوئے اسے ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایسے میں ترکی کی جانب سے روس سے طیارہ شکن میزائل سسٹم خریدنا ،امریکہ کے لئے ناگوار ہے۔ قائم مقام امریکی وزیر دفاع پیٹرک شانہان نے گزشتہ دنوں ترکی کے وزیر دفاع ہلوسی اکار کو اپنے ایک خط کے ذریعہ کہا کہ یا تو وہ امریکی جنگی جہاز خریدے یا پھر روس سے طیارہ شکن میزائل سسٹم خریدے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اس خط میں امریکی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ ترکی ایک ہی وقت میں امریکہ سے جدید ایف ۔35لڑاکا طیارے اور روس سے ایس۔400طیارہ شکن میزائل سسٹم نہیں خرید سکتا۔ امریکہ اور ترکی دونوں نیٹو اتحادی ممالک ہیں اور ایس ۔400طیارہ

پروفیسر سہدیو کمار کی کتاب

پروفیسر   سہدیوکمار کی کتاب پر کچھ گفتگو کرنے سے پہلے میں آپ کی خدمت میں بھگت کبیر کی ایک نظم کا ترجمہ پیش کرتا ہوں جو علی سردار جعفری کی کتا ب ’’کبیر بانی‘‘ میں شامل ہے:’’میں نے شونیہ کے (خلاؤں میں معلق) آسن پر بیٹھ کر سادھنا کے ناقابلِ بیان رس کا پیالہ پیا  اب میں اسرار کا محرم ہوں اور وحد ت کے راز سمجھنے والا  راہ کے بغیر چل کر میں اس شہر میں پہنچ گیا ہوں جہاں کوئی غم نہیں ہے جگدیو کا رحم اور کرم آسانی سے نصیب ہو گیا ہے  میں نے دھیا ن دھر کے دیکھا تو وہ بغیر آنکھوں کے نظر آگیا جو لامحدود ہے  جسے نارسائی کی منزل کہتے ہیں، یہ مقام غموں سے آزاد ہے۔ یہاں پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے  جس نے غم پایا وہی بے غم ہو گیا  یہاں عجب آرام ہے  دانش مند وہ ہے جس نے یہ مقام دی

یادوں کے جھروکے سے

ضروری  نہیں جن یادوں تک میں قارئین کو رسائی دے رہا ہوں وہ میری ہی ذات، تجربات اور مشاہدات کے محور پر گھومتی ہوں بلکہ میری یادوں میں دوسرے لوگوں کی وہ یادیں بھی محفوظ ہوسکتی ہیں جو ان دوسرے لوگوں کے تجربات اور مشاہدات سے جڑی ہوں اور جنہیں میں دلچسپ جان کر مضامین کے اس سلسلے میں بیان کرتا رہوں گا۔ جن دنوں میرا فیس بک اکاونٹ ہوا کرتا تھا، ان دنوں میرے ایک فیس بک فرینڈ نے ایک خوبصورت کہانی اپنی ٹائم لائن پر پوسٹ کی تھی۔ یہ کہانی مجھے بڑی دلچسپ بھی لگی اور سبق آموز بھی، اس لئے مذکورہ فیس بک فرینڈ سے شکریہ کے ساتھ اس کہانی کو یہاں بیان کررہا ہوں۔ ’’روسی مصنف حمزہ رسول نے اپنی کتاب ’’ میرا داغستان‘‘ میں ایک بہت خوبصورت واقعہ لکھا ہے:ایک بار وہ ایک گاؤں سے گذر رہے تھے تو دیکھا کہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والی دو قباںُیلی عورتیں آپس میں جھگڑا اور تکر

مجرموں کے دید کی ہے کو توالی منتظر

بچپن سے ہم سنتے آئے تھے لیکن کبھی دیکھا نہیں تھا، پراب تو سبھوں کو پتہ چل ہی گیا کہ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں۔اتنے لمبے کہ پٹھان کوٹ سے دراز ہوکر رسانہ کٹھوعہ میں مجرموں کی گردن دبوچ لیں۔ جبھی تو عدالت نے فیصلہ ہی نہیں سنا یا بلکہ انصاف بھی کیا۔ اور وہ جو قانون کی راہ میں رکاوٹ بنے کھڑے ہوگئے تھے یہاں تک کہ ترنگا بھی لہرا کر اس کا بھی دُر اپیوگ کیا تھا اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور ہمیں تو بچوں کا وہ گیت آیا کہ اب تو جیل میں جانا پڑے گا ، جیل کی روٹی کھانی پڑے گی جب ملزمین کو تا عمر قید اور کئی ایک کو پانچ پانچ سال جیل کی سزا سنائی گئی   ؎ یہ عداوت کا فسانہ بھی بدل جائے گا  وقت کے ساتھ زمانہ بھی بدل جائے گا کہیں آٹھ سالہ آصفہ کہیں اڑھائی سال کی ٹونکل شرما درندگی کا شکار بنی تو ہم سوچتے تھے کہ کیا ابھی بھی دنیا قائم رہنے کی کوئی وجہ بنتی ہے یا یہ کہ ہوس پ