تازہ ترین

اسمبلی نشستوں کی نئی حد بندی!

ریاست   جموں و کشمیر کو حالیہ ایام میں جس نئی صورت حال کا سامنا ہے اُس کا تعلق ریاستی اسمبلی میں سیٹوں کی حد بندی سے متعلق چونکا دینے والی خبریںہیں ، اسے عرف عام میں ڈی لیمی ٹیشن (Delimitation) عنوان دیا جاتا ہے ۔ بھارت میں پارلیمانی انتخابات کی مہم کے دوران حکمران پارٹی بھاجپا نے شد و مد سے تکراراََ دفعات 370اور 35A کی منسوخی کا ذکر چھیڑا بلکہ یہ بھی کہا جانے لگا کہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں جتنی جلدی ہو سکے، اس بارے میں اقدامات رو بعمل لائیں جائیں گے۔اِس ضمن میں کشمیر میں نگرانی کی کیفیت طاری ہونا ظاہر ہے ایک متوقع رد عمل تھاچونکہ اِن دونوں دفعات کا تعلق ریاست کی داخلی خود مختاری سے ہے۔ریاست جموں و کشمیر میں ایک جانب مزاحمتی تحریک جاری ہے جسے علحیدگی پسندی کی تحریک بھی مانا جاتا ہے جبکہ دوسر ی جانب سیاسی دھارا میں مین اسٹریم کا وجود بھی ہے جن کا الحاق کے ساتھ کوئی اخ

نیتن یاہو

اسرائیلی   وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے سب سے پہلے مودی جی کو کامیابی کی مبارک باد روانہ کی ۔ انہیں توقع رہی ہوگی کہ مودی این ڈی اے کے فاضل ارکان اسرائیل روانہ کردیں گے، اس طرح وہ بھی حکومت سازی میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن ابھی عالمی جمہوری نظام نے اس قدر ترقی نہیں کہ ارکان پارلیمان کے بھی دیگر مال و اسباب کی مانند درآمد و برآمد ممکن ہوسکے۔ اس میں شک نہیں کہ نوٹ کے بل پر ووٹ حاصل کرنے والے سیاسی رہنماوں کی حیثیت ’‘متاع ِکوچہ و بازار‘‘ سے زیادہ نہیں ہے۔ مقامی سیاسی منڈی میں جب ان کی سرِ عام نیلامی ہوتی ہے تو عالمی بازار کے اندر کیا قباحت ہے! خیر نیتن یاہو کی جماعت 'لیکوڈ نے ۹ ؍اپریل ۲۰۱۹ کو منعقد ہونے والےپارلیمانی انتخابات میں گزشتہ مرتبہ کی بہ نسبت ۲۰ فی صد زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔ اس کے باوجود ڈیڑھ ماہ کی اُٹھا پٹخ کے بعد وہ پانچویں

’’ ٹیڑھی لکیر‘‘

تقدیر کی ٹیڑھی لکیر کیا کبھی سیدھی ہو سکتی ہے؟عصمت چغتائی کے ناول ’’ٹیڑھی لکیر ‘‘میں ڈوب کر دیکھئے تو اندازہ ہوگا کہ تقدیر کی بنائی لکیر کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔یہ لکیر سیدھی ہو تو واہ!ٹیڑھی ہو تو آہ!ناول کی دنیا میں ’’ٹیڑھی لکیر ‘‘نامی ناول اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ناول نگار جب زندگی کے اونچ نیچ ،زیرو بم اور نشیب و فرازسے خود دوچار ہو جاتا ہے تو اُسے ایک تحریک ملتی ہے۔اس تحریک سے اس کے ذہن و قلب پرکچھ ایسا اثر ہو جاتا ہے کہ وہ بے ساختہ خامہ فرسائی پر اُتر آتا ہے۔ان مشاہدات اور تجربات کو وہ قلم کی نوک سے ایک ایسا موڑدے دیتاہے کہ ایک کتاب وجود میں آتی ہے جسے رسمی طور پر پھر شعر وکلام ، افسانہ یا ناول کہتے ہیں۔ عصمت چغتائی ۲۱ ؍اگست  ۱۹۱۵ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں ۔میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے امتحانات علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے اور

سیاست اور فلمی دنیا

چونکہ  دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں عام انتخابات حال ہی اپنے اختتام کو پہنچے ہیں، اس لیے بھارتی سیاست میں قدم رکھنے والے فلمی اداکاروں اور اداکاراؤں کے سیاسی کردار کے بارے میں کچھ پڑھنے کے لیے اس سے بہتر وقت نہیں ہوسکتا۔رشید قدوائی کی کتاب Neta Abhineta: Bollywood Star Power in Indian Politics ان فلمی ستاروں کے بارے میں ہے جو ناظرین میں اپنی پسندیدگی اور ووٹرز کے ان پر اعتماد کی بنیاد پر سیاسی میدان میں زور آزمائی کرچکے ہیں۔کتاب میں بتایا گیا کہ وہ کس طرح میدان میں اسکور بنانے میں کامیاب ہوئے، وہ پاس ہوئے یا فیل؟ کیا ان کی منتخب کردہ پارٹی میں شامل ان کے’ ’حریفوں‘‘ نے انہیں تسلیم کیا؟ اسٹار ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ ترجیحی سلوک روا رکھا گیا یا نہیں؟ کہنے کا مطلب یہ کہ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران سیاست اور ہندوستانی سنیما کے دوران