تازہ ترین

حیات بخش کتابیں

  اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے تفصیلی احکام بہت ہوگئے ہیں ، جو مجھ جیسے (عامی آدمی) کے قابو میں نہیں آتے، کوئی ایسی مختصر بات بتا دیجئے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں۔رسول اکرم و مربی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی کی بات توجہ سے سنی اور فرمایا : خدا کے ذکر سے تمہاری زبان ہمیشہ تَر رہے۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الادب ) بجائے اس کے کہ پیغمبر اسلام  ﷺ اس اعرابی کو ملامت کرتے اور اس کے اس مطالبہ کو پست ہمتی اور علم دین کی مکمل معلومات حاصل کرنے سے پہلو تہی پر محمول فرماتے (جیسا کہ آج کل لوگ کتب ِ فضائل سے فیض یاب لوگوں پر اس طرح کے بلکہ اس سے بھی زیادہ شدید اور قابل اعتراض فقرے کستے ہیں) آپ ﷺنے پوری توجہ سے اس کے اس سوال کا جواب دیا کہ ذکر کے عمل کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔        &nbs

سماجی خدمات رفاہی امور

 خواتین کی تیمار داری :         تیماء داری ایک عظیم خدمت ہے جس کو ہم نے پوری طرح سے بھلا دیا ۔ یہ دعوت کا ایک اہم حصہ بھی ہے اور ذریعہ بھی ۔ تیماء داری سے ایک فرد پر دیریپا اثرات پڑتے ہیں او ر اس سے نہ صرف ایک لاچار ، بیمار اور بے سہارا انسان کی  طبعیت خوش ہو جاتی ہے بلکہ ایک مالدار اور خوشحال انسان بھی اس سے بے حد متاثر ہوجاتا ہے ۔ حضرت رفیدہ ؒوہ خوش بخت خاتون تھیں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے روبرو اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کر لی تھی ۔طب اور علاج و معالجہ سے ان کو خصوصی دلچسپی تھیں جس کی بنا پر انھوں اپنے لئے تیمار داری اور علاج و معالجہ کے کام کو انتخاب کیا ۔ انھوں نے اپنے آپ کو زخمی مجاہدین کی خدمت اور ان کی تیمار داری کے لئے واقف کردیا ۔ان کا اپنا ایک خیمہ تھا جس میں وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں ۔ مورخ محمود طعمہ حلبی ان کے متعلق لکھتے

عیب جوئی

 دین   اسلام نے خلق کو اللہ کا عیال کہہ کراس بات کی طرف اشارہ کیا کہ بنی نوع انسان کے آپسی تعلقات کس قدر خوشگوار ہونے چاہئے۔حدیثِ قدسی ہے کہ ’’مخلوق اللہ کا عیال ہیں۔‘ ‘ حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ اس عیال کو اللہ اپنی ذات کے ساتھ منسوب کر رہا ہے، جو اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کنبے کا ہر فرد دوسرے فرد کو ایک ہی خالق کے عیال کا حصہ سمجھ کر ہمیشہ اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ روا رکھے۔ یہ ذہن میں رہے کہ خالق اپنے عیال کے ظاہر سے بھی واقف ہے اور دلوں کے اندر مخفی بھیدوں سے بھی واقف۔ایک ہی کنبہ اور ایک ہی خاندان کے افراد ہونے کی حیثیت سے ہر فرد پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کو کوئی نقصان یا ایذاء نہ پہنچائے، اسی طرح وہ اپنے اہل خانہ سے کبھی حسد کرے نہ ہی اس کے لئے دل میں بغض رکھے۔جب تک ایک دوسرے کے تئیں خیرخواہی پر مبنی جذبات نہ ہوں تو منفی ج