تازہ ترین

مسلمان اور عصر حاضر کے سماجی علوم

یہ تاریخ ادیان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے، یہ تاریخ کفر و ایمان میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کفر اتنا زیادہ قابل قبول بنا ہو، کفر اتنا زیادہ مدلل بنا ہو، کفر کو اتنا زیادہ کلینکل تیقن حاصل ہو گیا ہو، یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ پرسوں ایک جگہ بات ہو رہی تھی تو میں نے ایک تجویز عرض کی، جس پر مجھے فی الحال یقین ہے کہ یہ صحیح تجویز ہے، تاوقت یہ کہ اس کی تردید نہ ہو جائے، اصلاح نہ ہو جائے کہ مغرب کو ہر اعتبار سے، زندگی کی ہر سطح پر ذہن کے ہر پہلو سے خود پر غیرموثر کیے بغیر ہم اپنے ایمان کو شعور کا منبع اور مرجع نہیں بنا سکتے۔مطلب مغرب سے لڑنا ہو یا مغرب کے جال میں پھنسنا ہو، تو براہ راست ذہنی تصادم کے بغیر بالکل بے نیازی کی حالت میں چیزوں کو نئے سرے سے define کرو، جس میں definer تمہارا ایمانی شعور ہو۔علم کی ایک اور تعریف ہے‘چیزوں کی تعریف کے ’’ملکہ حاصل کر لینا‘‘۔علم کسے کہتے

قومی وحدت

 ہندوستان  میں صدیوں سے ہندو مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگ معاشرے میں آپسی بھائی چارا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھ کے دنیا کو مذہبی بھائی چارے کی مثال پیش کرتے آ رہے ہیں۔ یہ اسی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا نتیجہ تھا کہ 1947 میں بھارت تمام لوگوں کی محنت اور قربانیوں سے انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا اور ایک آزاد اور جمہوری ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر اپنی جگہ بنا سکالیکن انگریزوں نے جاتے جاتے بھی ہندوستانیوں کو مذہب کے نام پر بانٹ ڈالا اور ان کے دل میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کر دی اس کے پیش نظر 1947 میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں لاکھوں کی تعداد لوگو مارے گئے اور جو بچے یا تو وہ پاکستان کوچ کر گئے یا ہندوستان آئے ۔ یہ سلسلہ ہندستان اور پاکستان دو ملکوںکے وجود میں آنے کے بعد تھم گیا اور حالات پہلے کی طرح معمول پر آ گئے۔  بہر صورت ہندو مذہب میں گائے کو

تھارے جیسا نہ کوئی!

یہ  لگ بھگ چالیس برس اُدھر کی بات ہے ۔میرے خالہ زاد بھائی کی شادی کے موقع پر اس کی ایک سابقہ رفیق کار پروفیسر آر تی رینہ دُلہن دیکھنے اُن کے گھر آئی ،جو اُنہی دنوں انگلستان سے چھٹیوں پر آئی ہوئی تھیں۔باتوں باتوں میں ہم نے اُن سے برطانیہ میں زندگی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کئی دلچسپ باتیں بتائیں ۔ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ ایک دن اُن کے ہاں ڈبل روٹی کے اندر سے کاغذ یا لکڑی کی ایک بہت چھوٹی سی کرچی نکلی ۔اُس بات کو خلاف توقع سمجھ کر انہوں نے ریپر پر لکھے ایڈریس پر اس کی اطلاع روٹی بنانے والے ادارے کو کردی۔تھوڑی ہی دیر بعد ادارے کے تین معزز اشخاص اُن کے گھر پر آئے ،اپنے ہیٹ عجز وانکساری کے ساتھ اُٹھا اٹھاکر معافیاں مانگنے لگے ۔اُنہوں نے کہا اگر یہ معاملہ سرکار کی نوٹس میں آتا ہے تو کمپنی یا بیکری کا بند ہونا تو حتمی ہے جس کا انہیں کوئی دُکھ نہیں ہوگا کیونکہ وہ کوئی دوسر

رمضان اور کام چوری!

ماہِ صیام کے فیوض و برکات سے ماشاء اللہ سبھی واقف ہیں۔کُتِبَ علیکم الصیام کی آیت تو اب اس مہینے کا اجتماعی بیانیہ ہے۔ہر نیک عمل پر ستر گنا جزا کی بات بھی بچے بچے کا وِردِ زبان ہے۔ فرائض اور سنن کی ادائیگی میں روایتی جوش و خروش اس ماہِ مبارک کا خاصا ہوتا ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ ، زکواۃ اور مواخات کے جذبات کا مظاہرہ بھی بھر پور ہوتا ہے۔ قیام اللیل تو ہمارے یہاں ’’آٹھ بیس کی جنگ‘‘ لے کر آتا ہے، لیکن بہر حال ایسے ایمان والے بھی ہیں جو ان بابرکت راتوں میں روحانی تزکیہ کا موقعہ نہیں چھوڑتے۔ اُن ہی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قیامت کے رو ز ان کے ماتھے اللہ کے نور سے چمک رہے ہونگے لیکن میرا ایک ذاتی مشاہدہ بھی ہے اور مجھے اعتماد ہے کہ بیشتر قارئین اتفاق کریں گے۔ ماہ رمضان کے دوران ہمارے یہاں کام چوری کا گراف بھی بڑھ جاتا ہے۔ گیراج کا میکنک ہویا ویلڈنگ والا ، نجار و گلکا

چوہدری غلام عباس

ریاست  جموں وکشمیر کے ایک تاریخی قائد چودھری غلام عباس مرحوم کی مشہور ومعروف سوانح حیات’’کشمکش ‘‘ہے جس کے آج تک درجنوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔مرحوم چودھری غلام عباس4؍ فروری 1904ء کوجموں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام چوہدری نواب خان تھا۔ابتدائی تعلیم صوبہ جموں میں ہی حاصل کی۔ 1931ء میں لا کالج لاہور سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ابتدا میں ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن میں شرکت کی اور بعد ازاں اسی تنظیم کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ اس جماعت نے کشمیری مسلمانوں کو سیاسی طور بیدار کرنے میں بہت بڑا حصہ لیا۔ چوہدری غلام عباس نے کشمیری مسلمانوں کے حقوق کی بحالی کے لیے جیل و زندان میں بھی اوقات گزارے ۔ پہلی مرتبہ 31-1930ء  میں گرفتار ہوئے، جب وہ ایل ایل بی کا امتحان دے رہے تھے۔ اس وقت انہوں نے کشمیر میں قرآن حکیم کی توہین کے سلسلے میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ مل کر صدائے

تازہ ترین