ایغورمسلمان

علامہ  اقبالؒ نے عرب کے ساتھ اور ہندوستان سے قبل چین کا ذکر کیا ۔ یہ محض ایک رعایتِ شعری بھی ہوسکتا ہے لیکن حال میں چین کے اندر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس میں چینی مسلمانوں نے یہ ثابت کردیا کہ وہ عربی و ہندی مسلمانوں سے زیادہ جری و دلیر ہیں۔ ہوا یہ کہ چین کے خود مختار علاقے نینگشیا کی مقامی حکومت نے جامع مسجد 'ویزہووکے انہدام کا فیصلہ کیا۔ یہ معاملہ بابری مسجد کی شہادت سے قدرے مختلف تھا ۔ بابری مسجد کی شہادت کے وقت ایک پرتشدد ہجوم کو اکسایا جارہا تھا جسے ملائم سنگھ یادو ایک بار اس کے ناپاک منصوبے میں ناکام بنا چکے تھے ۔ صوبائی حکومت بظاہر اور مرکزی بباطن قانون شکن بلوائیوں کی حمایت کررہی تھی مگر عدالت عظمیٰ میں بابری مسجد کےتحفظ کا ڈھونگ بھی رچا رہی تھی۔ عدالت کاجھکاو بابری مسجد کے تحفظ میں تھا ۔ مسلمانوں نے آنکھ موند کر ان اداروں پر بھروسہ کیا اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے

سنکیانگ جبرو قہر کے نشانے پر!

  سنکیانگ میں مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کی خبریں گاہ بگاہ بہت سارے اخبارات و جرائد میں شایع ہوتی رہتی ہیں لیکن ابھی تک مسلم ممالک کی طرف سے کوئی بھی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔حال میں ہی سنکیانگ میں مسلمانوں پر روزے اور پردے پر پابندی عائد کرنے کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں ۔سنکیانگ میں اندر ہی اندر ایک بھیانک منظر چھپا ہوا ہے جس کی منظر کشی پر چین نے سخت قسم کی پابندی عائد کی ہے۔یہ بھیانک مناظر ایغور مسلمانوں کی مظلومیت سے عبارت ہے۔ائبوٹا سریک ایک مسلم قزاق نژاد چینی خاتون ہے جس کے والد کو پچھلے سال ماہ فروری 2018 میں پولیس نے زیر حراست لیا تھا لیکن تا ہنوز اس کا کوئی اَتہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں، زندہ بھی ہے؟ یا ماراجاچکا ہے ؟بی بی سی کو دئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں اس خاتون نے بتایا کہ’’مجھے نہیں معلوم، میرے والد کو پولیس نے کیوںمحبوس کر کے رکھا ہے، نہ تو انہ

شیخ پاری محلہ کپواڑہ

 ہر  دور کی مرکزی حکومت گائوں دیہات کی ترقی پر زوردیتی چلی آ رہی ہے کیوں کہ تعمیر و ترقی کا اُجالا گاؤں دیہات تک پھیلائے بغیر ملک کی  ہمہ گیر ترقی کا خواب ادھورا رہنا طے ہے۔ سچ یہ ہے کہ اسی قابل تعریف خواب کی تعبیر میںپسماندہ اور ترقی کی دوڑ میں پچھڑے گاؤں کو مختلف اسکیموں کئے دائر ے میں لانے کے adopt کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے کی ایک کڑی کے طور مرکز ی اسکیم سانسد آدرش گرام یوجنا کے تحت موجودہ وزیر اعظم نے اپنے پارلیمانی حلقہ ورانسی کے ککھراہیا گائوں کو گود لیا تھااور’’اکنامکس ٹائمس‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے جیا پو ر اور ناگ پور بھی گود لئے ہیں ۔ مذکورہ یوجنا کے تحت سیاسی لیڈران کئی ایک گائوںگود چکے ہیں لیکن ریاست جموں و کشمیر میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ضلع کپواڑہ کی تحصیل کرالہ گنڈ سے ایک کلو میٹر کی مسافت پر واقع شیخ پاری محلہ کے نام س

ثانوی سطح پر اُردو زبان کی تدریس

اس  حقیقت سے مفر نہیں کہ ابتدائی اور ثانوی تعلیمی اداروں میں ہی طلبہ و طالبات کی اعلیٰ تعلیم کا اصل ڈھانچہ تیار ہوتا ہے۔ان کی شخصیت ، سیرت اور مزاج کی تعمیرکا کام یہی سے شروع ہو تا ہے ۔ بچے کے اعضائے بدن اور حواس خمسہ پہلی مرتبہ شعوری طور پر اسی سطح پر حرکت میں آتے ہیں ۔اسی مرحلے میںان کا ذہن عملی طور پر متحرک ہو جاتا ہے اور ذہنی وسعت شروع ہونے لگتی ہے اور ان کے مستقبل کاتاروپود شروع ہوتا ہے ۔ثانوی سطح پر زبان اُردو اگراس غرض سے پڑھائی جائے تاکہ طالب علم کا ذہن پختہ کار ہو جائے، تواس کے لئے صرف نظم ونثرکی تفہیم کافی نہیں بلکہ زبان و بیان کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ عبارات واشعار کے محاسن کا بھی انہیں احساس دلانا ضروری ہوتا ہے ۔اگر اردو پڑھنے والے طالب علم میں زندگی گزارنے کے اصل مقصد کی معرفت پیدا کر نا مطلوب ہو تو وہ اسی مرحلے میں کیا جا سکتا ہے اورمذہبی معاملات ہوں یا سیاسیات،اقتصاد

تازہ ترین