تازہ ترین

طالبان ۔امر یکہ مذاکرات کی کروٹیں

افغانستان   سے امریکی فوجوں کی واپسی اور خطے میں امن کا قیام فی الحال مشکوک نظر آرہا ہے۔ چند ماہ پہلے تک تو ایسا لگ رہا تھا جیسے امریکہ طالبان کی شرائط تسلیم کرکے وہاں سے اپنی فوج ہٹانے کا فیصلہ کرچکا ہے لیکن ادھر کچھ دنوں سے افغان نژاد امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد جو باتیں کررہے ہیں، اُن سے لگتا ہے کہ چچا سام واپسی میں سنجیدہ نہیں، اور طالبان کے حوالے سے پاکستان، ایران، روس و چین کے تحفظات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ افغانستان میں غیر معینہ مدت تک رہنے کے بہانے تراش رہے ہیں۔افغانستان کے بارے میں امریکہ کا مؤقف تھا کہ افغان تنازعہ حکومت اور طالبان کے درمیان ہے اور جس دن یہ دونوں امن و مصالحت پر رضامند ہوگئے ،امریکہ دو فوجی اڈوں پر ضروری عملے کے سوا ساری فوج افغانستان سے واپس بلالے گا۔ دوسری طرف طالبان کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2001ء میں امریکہ نے جب افغانستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب

عدم برداشت کا وائرس | کشمیر پر اور کیا کیا عافتیں نازل ہوں گی ؟

اس وقت عالم انسانی کا سب سے بڑا مسئلہ عدم برداشت ہے جوتقریباً ہر قوم ، ہر ملک ، ہر مذہب اور ہر سماج کو بری طرح سے اپنی پلیٹ میں لے چکا ہے ۔عدم برداشت کی اس عالمی بیماری نے ہی دنیا کو فسادات اور قتل وغارت کا جہنم بنا کر رکھ دیا ہے ۔اکیسویں صدی کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے عروج کے دور میں عدم برداشت کی یہ نفسیات کیوں پیدا ہوئی اورکیسے مقبول عام بھی ہوئی اس پر دنیا بھر کے دانشور حیران ہیں ۔ کیا اس کی جڑیں تاریخ کی ان خونریزیوں سے سیراب ہوکر تناور ہوئیں جو تہذیبی ٹکراو سے دوسری جنگ عظیم تک مسلسل جاری رہیں ؟۔کیا طاقتور قوموں نے مختلف ملکوں اور قوموں کو سازشوں اور جارحیت سے کمزور اور پامال کرکے ردعمل کی یہ نفسیات پیدا کی ۔یا کئی قوموں نے صدیوں کے عروج کے بعد زوال سے دوچار ہونے کے سانحوں سے بپھر کر دوبارہ عروج حاصل کرنے کی تمنا میں یہ راستہ اختیار کیا ۔ ان سوالوں جواب حاصل کرنے کی بہت کم کوششیں

تخلیق انسانی | تورازِ کُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجا

امام  نوویؒ کی مشہور تصنیف ’’اربعینِ نووی‘‘ میں انسانی تخلیق سے متعلق عبداللہ بن مسعودؓ سے مرفوعاً ایک حدیث روایت ہے جس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں:وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا کہ تم میں سے ہرایک کی تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے‘پھر اتنے ہی دن جمے ہوئے خون کی شکل میں ،پھر اتنے ہی دن گوشت کے لوتھڑے کی شکل میں رکھا جاتا ہے،پھر اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے۔اسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے : رزق،عمر،اور نیک بخت ہے یا بد بخت(ترجمہ۔عبدالہادی عبدالخالق مدنیؔ)۔اس حدیث نبوی ؐسے جہاں علماء بہت ساری چیزوں پر استدلال کرتے ہیں ، وہا ں یہ حدیث آج کے اس سائنسی دور میں لوگوں کے بہت سے شک و شبہات کو رفع کرتے ہوئے دین ِ اسلام کی حقانیت اور سچائی پر دالالت کرتا ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے انسانی تخ

آغا حشر کاشمیری

ڈرامہ  نگاری کے میدان میں ایک سے ایک بڑھ کر اشخاص نے اپنے ہنرنام پیدا کیے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی ڈرامہ نگاری امزور کے تقاضے کے تحت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کا رشتہ اس سے ٹوٹتا گیا،جس سے ان کے نام اور ڈرامے کتابوں کے اوراق میں اپنی قدیم خصوصیت کے ساتھ ضم ہوکر رہ گئے۔ ڈرامہ انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ انسان اس وقت بھی ڈرامے سے وقت گزاری کرتا تھا؛جب وہ تہذیب وتمدن سے عاری تھا۔ جنگلوں میں آگ جلاکر طرح طرح سے ناٹک اور کرشمے دکھاتا۔ اور یہ ان کے لیے وقت گزار نے کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈرامہ کی ابتدا’یونان‘ سے ہوا، مگر ڈرامے کو پیشہ وارانہ روپ اور فن کی حیثیت سے استعمال پہلے یورپ نے کیا۔ یونان کیوں کہ دیوی دیوتائوں کے پہلے پرستار تھے اور وہ ان ڈراموں کے ذریعے اپنی دیوی دیوتائوں کے قصے کو محفل میں لوگوں کوجمع کرکے پلے کرکے دکھاتے اور سناتے