تازہ ترین

عرب بہاریہ کی نئی دستک ؟

یہ  17 دسمبر 2010ء کی بات ہے جب تیونس کا ایک 28 سالہ خوانچہ فروش محمد ابوعزیز سڑک کے کنارے ٹھیلہ لگائے پھل بیچ رہا تھا۔ ایک ہی دن پہلے پیٹرول، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کیا گیا تھا۔ ہفتہ وار تعطیل کی بنا پر جمعہ کو عام طور سے ابوعزیز کی بکری زیادہ ہوتی تھی، لیکن اُس روز بے چارے کا دھندا کچھ زیادہ ہی مندا تھا۔ گاہک آتے، بھائو معلوم کرکے مہنگائی کا رونا روتے اور کچھ خریدے بغیر آگے بڑھ جاتے۔ اسی دوران مقامی پولیس کی ایک 45 سالہ اہل کار فریدہ حامدی وہاں آئی اور ٹھیلہ لگانے کا بھتہ طلب کیا۔ عزیز نے قسم کھا کر کہا کہ صبح سے ایک دانہ نہیں بکا، تم کو پیسے کہاں سے دوں لیکن رشوت خوروں کے سینے میں دل کہاں ہوتا ہے۔ فریدہ نے ابوعزیز کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ رسید کرتے ہوئے راہ گیروں کا راستہ روکنے، ٹریفک میں خلل ڈالنے اور کارِ سرکار میں مداخلت کا الزام لگا کر پرچہ ک

اپنا بچاؤ کیجئے اپنوں کے ساتھ ساتھ

جب  سے ہمارا یہ پیارا ملک بھارت انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا ، اُس وقت سے لے کرآج تک ملک میں فتنوں اور فرقہ وارانہ فسادات کا ایک سلسلہ بلا روک ٹوک چلا آرہا ہے جن میں ہمیشہ ہمیش اقلیتوں اوربالخصوص مسلمانوں ہی کا بے انتہاجانی و مالی نقصان ہوا۔ جب سے بھاجپا حکومت مر کز میںدوسری مرتبہ برسرِ اقتدار آ ئی ہے ، اُس وقت سے ملک میں فرقہ پرست عناصر کی جانب سے ماب لنچنگ اور ہجومی تشدد کے جو الم انگیز واقعات متواتر رونما ہورہے ہیں، وہ اتنے سنگین اور جاں گسل ہیں کہ ان کے سامنے ایسے پچھلے تمام واقعات اور فتنے ہیچ نظر آتے ہیں۔ یہ وہ درد ناک واقعات ہیں جن کی وجہ سے وطن عزیز بھارت کی اس وقت دنیا بھر میں خجالت ہورہی ہے ۔ یوروپین اقوام اور مغربی ممالک کے سنجیدہ افراد ان غیر انسانی وحشیانہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سڑکوں پر اُتر کر احتجاج بھی کر رہے ہیں ۔ دراصل وطن عزیز بھارت میں ایک فسطائی ٹولہ

یادوں کے جھروکے سے

یادوں کی جڑیں پھوٹ ہی پڑتی ہیں کہیں سے دل اگر ٹوٹ بھی جائے تو بنجر نہیں ہوتا زندگی کی بہت صبحیں ہوئیں ،زندگی کی بہت شامیں ہوئیں اور یوں ہماری عمر تمام ہوتی رہی۔ اب میں ہوں، تنہائیاں ہیں اور یادیں ہیں مگر اپنے خالق ومالک سے اُمید ہے کہ جب وہ اپنے پاس بلالے گا تو انشااللہ اپنی رضا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور ایمان کے ساتھ بلالے گا۔ خیر یادوں کے سفر پر آگے بڑھتے ہیں ۔غالباً 1978ء کے فروری کا مہینہ تھا۔ میرے ایک دوست محمد اسلم شاہ صاحب نے مجھے بہت اصرار کیا کہ ہم بیرون ریاست سیر پر جائیں گے۔ ہمارے یہ دوست مسکین باغ خانیارشہر خاص میں رہتے تھے اور میرے دفتری ساتھی تھے۔ ہم دونوں کو ملازمت میں ابھی کچھ ہی سال گزرے تھے۔ چونکہ ان دنوں میری مزاح کی حس بڑی تیز تھی اس لئے میں دوستوں کو ہنسایا کرتا تھا۔اس وجہ سے میں اپنے دوستوں میں مقبول بھی تھا اور محبوب بھی۔ اب وہ بات کہاں! وق

جوانی کی بہار، بڑھاپے کی خزاں

میرے ایک بزرگ دوست ہر وقت اپنی جوانی کی تصویریں لئے بیٹھے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی کمنٹری بھی جاری رہتی ہے۔ گزشتہ روز وہ ایک بار پھر یہ سب احوال بیان کر رہے تھے’’یہ تصویر دیکھو، جب میں نے لندن میں 32میل لمبی میراتھن ریس میں حصہ لیا تھا اس میں ہزاروں لوگ بھاگ رہے تھے لیکن پھر بھی میں سب کے آخر میں بہرحال نہیں تھا‘‘۔ واقعی کیا خوبصورت جوان تھے اور اتنی لمبی دوڑ کے باوجود ان کے چہرے پر تھکن کے کوئی آثار نہ تھے۔ ’’یہ دیکھو!میں جم میں ایکسرسائز کر رہا ہوں‘‘۔ ان کے ڈولے اور ان کی چھاتی دیکھ کر دل دہل سا گیا۔ ’’تم اس خوبصورت لڑکے کو پہچان سکتے ہو؟ یہ میں ہوں جو کانووکیشن میں مہمان خصوصی سے اپنی بی اے کی ڈگری وصول کر رہا ہے‘‘۔ اس روز مجھے یقین سا ہو گیا کہ وہ کم از کم بی اے پاس ضرور ہیں۔اُنہوں نے اپنی زنبیل میں سے ای

علاجِدنداں اخراجِ دنداں

اللہ رب العالمین کی عطا کردہ ہر جسمانی نعمت، نعمت بے بہا اور عطیۂ بے بدل ہے۔اس کی منجملہ نعمتوں میں سے ایک، انسان کے منہ میں دیے گئے دانت بھی ہیں۔رب العالمین نے جانوروں میں سے بعض کو ایک دانت تو بعض کو دو اور بعض کو متعدد دانت دیے ہیں۔بعض کو صرف اوپر اور بعض کو صرف نیچے اور بعض کو اوپر نیچے دونوں حصوں میں لیکن حضرت انسان کو رب العالمین نے اوپر نیچے تیس سے بتیس دانت عنایت کیے ہیں۔ بزرگوں نے کہا ہے کہ جن کے منہ میں بتیس دانت ہوتے ہیں وہ کچھ عظیم خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اردو کی مشہور کہاوت ہے۔ ’کس کے منہ میں بتیس دانت ہیں ‘جو ایسا ویسا کرنے کی جرات کرے۔یعنی مردوں میں بتیس دانت شجاعت وبہادری کی علامت مانے جاتے ہیں۔ عورتوں میں بتیس دانت سے منہ بڑا ہوجاتا ہے جس سے خوب صورتی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ دانت نہ ہوں توحضرت انسان رب العزت کی بے شمار نعمتوں کے ذائقے سے محروم ہوج

صریرِ خامہ۔۔۔۔ایک مطالعہ

مصنف:جناب سلیم سالکؔ صفحات؛:160 ،قیمت:300  ناشر:کریٹو اسٹار پبلی کیشن ،نئی دہلی کالم کئی قسم کے ہوتے ہیں۔کسی ہنگامی موضوع و مسئلے پر کالم ،کسی فن ،آرٹ یا ادب پر کالم یا محض ذات اور شخصیت پر کالم ۔سب کی اپنی اہمیت و معنویت ہے لیکن ادبی کالم زیادہ پرکشش لگتے ہیں۔ادبی زندگی کی تہ در تہ پرتیں کھولتے ادبی کالم کسی فلم کے پردے پر چلتے مختلف مناظر کی طرح الگ الگ کیفیتیں پیدا کرتے اور گرہیں کھولتے ہیں۔ جناب سلیم سالکؔ کی کتاب’’صریر خامہ‘‘ بھی مختلف ادبی کالموں کا مجموعہ ہے جو زورنامہ ’’کشمیر اعظمی ‘‘کی زینت بن چکے ہیں اور اب کتابی صورت میں منظر عام پر آگئے ۔ان کالموں میں انھوں نے دور جدید کے ادیبوں ،شاعروں،نثر نگاروں،نقادوں اور صحافیوں کی پیشہ وارانہ اور تخلیقی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی زندگی کے دلچسپ گوشوں کو بڑے سلیقے

کشمیر کی رُو بہ زوال پشمینہ صنعت

 تاریخ  کشمیر کے تابندہ ستارے ،مبلغ اسلام اور محسن کشمیر حضرت میر سید علی ہمدانی ؒ جب وادی کشمیر میں تشریف لائے تواُن کے ساتھ بہت سارے ہنر مندکاری گر اور ماہرفنون بہ نفس نفیس موجودتھے۔یہ ساداتِ کرام دین و تبلیغ کے ساتھ مختلف دست کاریوں میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے جن میں قالین بافی، پیپر ماشی، شال بافی وغیرہ شامل تھی۔ یہ سارے کاری گر خاکِ ایران سے تعلق رکھنے والے تھے اور کشمیر میں قدم رنجہ ہوکرپہلے ضلع کپوارہ میں رہایش پذیر ہوئے، یہاں پہاڑوں کی آغوش میںقیام کر تے ہوئے انہوں نے نومسلم کشمیریوں کو نہ صرف دین اسلام کی تعلیم دی بلکہ لوگوں کو ہنرمندیوں اور دست کاریوں کی تربیت دی ۔ انہی قدسی روح اور پاک نفوس پر مشتمل خانوادہ ’’ بافندہ‘‘ بھی شامل تھا ۔اس قبیلے کا سر پرست سید احد شاہ بافند ہ تھے ، یہ شال بافی میں قابل قدر مہارت رکھتے تھے ۔ سید احد شاہ بافندہ نے

کرتارپور راہداری

گزشتہ   ایام میں لاہور میں ایسےا بر آلودہ موسم میں جب لوگ پارکوں اور میدانوں کا رُخ کرتے ہیں ، پاک بھارت مذاکرات کی ایک بیٹھک ہوئی۔اس میں دونوں ممالک کے درمیان کرتارپور راہداری کے حوالے سے مذاکرات ہوئے ۔ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم اس کے لئے شاباشی کے مستحق ہیں ۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اپنے دورۂ امریکہ کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔کر تارپور پر ہوئے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے اشارے مل چکے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ طرفین میں اسی فی صد معاملات طے پا چکے ہیں جب کہ اسلام آبادکی طرف سے راہداری پر اسی فیصد کام بھی مکمل ہو چکا ہے ۔کرتار پور راہداری پر مذاکرات کا یہ دوسرا دور تھا، جس میں بھارت کے آٹھ رُکنی وفد نے شرکت کی جب کہ پاکستان کی جانب سے تیرہ رُکنی وفدنے مذاکرات میں حصہ لیا۔ مذاکرات کے اس تازہ دور میں سکھ یاتریوں کی رجسٹریشن اور داخلے کے

ایک یاد گار سفر

میں  امسال 7؍جون کی تاریخ کوعمرہ کی سعادت حاصل کر نے کے سلسلہ میں جموں سے دہلی ریل گاڑی میں روانہ ہوا۔  ٹرین کا یہ سفرتقریباً 25سال بعد ہوا۔ میں نے ریل کے ڈبے میں بیٹھ کر اس وقت اپنا رخت ِسفر باندھا کرتا جب ڈاکٹری(ایم بی بی ایس )ڈگری کے سلسلے میں پٹھانکوٹ سے پٹیالہ اورپٹیالہ سے پٹھانکوٹ آیاجایاکرتاتھا۔تب پٹھانکوٹ سے جموں ریل لائن نہیں بچھائی گئی تھی۔  ریل کا تازہ سفراس لئے مجبوراً کرناپڑا کیونکہ میرا جموں سے جہاز کی ٹائمنگ دہلی ۔جدہ طیارے کی روانگی کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتاتھا،اس لیے ا ب کی بارٹرین کاہی سفرکرناپڑا۔ مدتوں بعد ریل کا سفر انجوائے کر نے کی خواہش دل میں انگڑائی لے رہی تھی مگر موجودہ ملکی حالات کے مدنظر دل میں بڑی گھبراہٹ اور گھٹن سی محسوس ہورہی تھی، ڈریہ تھا کہ کہیں کوئی بجر نگی، زعفرانی ، بلوائی میری داڑھی شلوارقمیض اورسرپرٹوپی دیکھ کرکوئی بہانہ ڈھونڈھ

کانگر یس اپنی شکست کی آپ ذمہ دار؟

۔ 2019ءکے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو شرمناک شکست ہوئی۔ یہ توقع کی جارہی تھی کہ 2014ء اور 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں اپنی عبرت ناک شکست سے کانگریس کچھ سبق لے گی اور خود کو مضبوط کرنے کیلئے موثر اقدامات کرے گی۔ ابھی ان باتوں پر غور کیا ہی جارہا تھا کہ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے استعفیٰ دے دیا اب وہ اپنے استعفیٰ کو واپس لینے کے لئے بھی تیار نہیں ہے۔ راہول گاندھی کے مستعفی ہونے کی وجوہات اب سامنے آرہی ہیں اِن میں سے اہم یہ ہے کہ کانگریس کے لیڈروں نے کسی بھی ریاست میں کھل کر راہول گاندھی کا ساتھ نہیں دیا اسی لئے راہول گاندھی نے کہا کہ بیشتر سینئر قائدین کو پارٹی کو کامیاب بنانے سے زیادہ دلچسپی اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کو کامیاب کروانے سے تھی گوکہ راہول گاندھی نے کسی کا نام نہیں لیا لیکن بیٹوں اور رشتہ داروں کے لئے کھل کر کام کرنے والے قائدین کے نام سب کو معلوم ہیں۔ راہول گ

نظامِ تعلیم کا قبلہ دُر ست کر یں

  آج کل تعلیم کا چرچا عام ہورہا ہے ۔ اگر کوئی شخص تعلیم کے بغیر ہو تو اس کو مہذب انسان تصور ہی نہیں کیا جاتا مگر پچھلے زمانے کی تعلیم آج کی تعلیم سے الگ تھی۔ ان دنوں اخلاقیات، اقتصادیات اور ادبیات پر زور تھا مگر دورِ حاضر کی تعلیم میں ان سب چیزوں کا فقدان ہے۔ آج نوجوان پیڑھی کیوں بگڑ ی ہیں؟ اس میں بڑھوں کا احترام کیوں نہیں؟ وجہ صرف ہمارا ناقص نظام تعلیم ہے۔ ہمارے یہاں پہلی جماعت سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے نصاب میں آپ کو اخلاقیات، اقتصادیات ، حُسن معاشرت اور ادبیات کا فقدان ہی فقدان نظر آئے گا۔ اس لئے ہم آج ہم پڑھے لکھےڈگری والے ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں۔ اگر کسی نے بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کی ہوں مگر وہ اخلاقیات سے تہی دامن ہو تووہ اپنے لئے یا سماج کے لئے کوئی اثاثہ ثابت نہ ہوگا ۔ اس میں اگربزرگوں کا احترام نہ ہو، غریبوں سے ہمدردی نہ ہو، صنفِ نازک کی تکریم نہ ہو ، تو وہ تعلیم

حُبِ رسول ﷺ

 خاتم  النبیین رحمتہ اللعالمین خیر الانام صلی اللہ علیہ و سلم اُمت مسلمہ کی خیر و عافیت کےلیے تنہائیوں میں اللہ کے حضور دعا ئیںمانگتے تھے۔ اُمت کی خاطر ہر دم بے چین اور فکر مند رہتے تھے۔ آپ صلعم اپنے سینہ مبارک میں انسانیت کا غم کا پہاڑ لئے بیٹھےتھے اور اُمت کے ایمان وصالحیت کی خاطر بے حد اشک بار ہوتے تھے۔ آپ صلعم کی بے چین و بے قراری کو قرآن مجید نے سورۃ الکہف میں یوں نقشہ کھینچا، ارشاد فرمایا کہ ’’پس اگر یہ لوگ اس بات (قرآن)پر ایمان نہ لائے تو کیا آپ ان کے پیچھے اس غم میں اپنی جان کو ہلاک کر ڈالیں گے۔(الکہف ۶) قرآن کریم پر ایمان نہ لانے والوں کا آپ صلعم کو اتنا غم کہ قرآن کو نازل فرمانے والا رب زوالجلال ہی اپنے محبوب نبی سرورکونین صلعم کو دلاسہ ، ہمت اور حوصلہ دے رہاہے ۔ طائف کی وہ ستم گزیدہ گلیاں جو جنگ ِاُحد سے بڑھ کر آپ کی تکلیف دیکھتی رہیں ، اس

مہنگائی کی غریبوں سے ابدی سگائی!

دن بھر کی شدید مصروفیت ‘ بہت سارے مختلف مزاج اور نفسیات کے حامل لوگوں سے ملنے جلنے کے بعد شدید تھکاوٹ کے بعد میں اب گھر جارہا تھا، میرا جسم جوانی اور توانائی کی سرحدوں کو عبور کر کے اب بڑھاپے کی طرف دھیرے دھیرے سرک رہا تھا ۔ اس وجہ سے اب جسم اور دماغ میں پہلے والی چستی پھرتی نہیں تھی بلکہ اب جسم آرام طلب ہو تا جارہاتھا ۔میں بھی آرام دہ ٹھنڈی کار میں گھر کی طرف رواں دواں تھا کہ جاتے ہی شاور لے کر کھانا کھا کر خود کو بستر کے حوالے کر دوں گا تاکہ تھکاوٹ کا اثر ختم ہو اور جسم پھر  چاق و چوبند ہو سکے ۔گرمی اور حبس اپنے جوبن پر تھے ، اس لیے کار سے اُترتے ہی میں ڈور بیل پر انگلی رکھ کر بھول گیا میں آگ برساتے سورج کے نیچے زیادہ دیر کھڑا نہیں ہونا چاہتا تھا ،جلدی دروازہ کھلے اور میں اندر ٹھنڈے کمرے میں جاسکوں۔ اسی دوران ایک شکستہ حال شنا سا چہرہ میرے قریب آیا جسے میں نے فوراً پہچ

ہیرا گولڈ فراڈ سے کوئی سبق سیکھا؟

 سبق  یہ ہے کہ مسلمان غریب نہیں ہیں۔ قرآن و حدیث پر عمل کرلیں تو دنیا میں امیر ترین لوگ بن سکتے ہیں۔  لائف انشورنس والے انوسٹمنٹ ۔ ایک حلاس سے پہلے کہ ہم اس موضوع پر بات کریں ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ ان مشاہدات پر غور فرمائیں:  ۱۔ حادثاتی امواتAccidental deaths   اِس وقت تقریباً ہر شہر میں اوسطاً بارہ افراد کی موت کی خبر ہراخبار میں ہوتی ہے۔ پانچ سڑک حادثات میں، پانچ خودکشی میں اور کم سے کم دو قتل۔ ان اموات میں کم سے کم ایک دو مرنے والے تو مسلمان ہوتے ہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر روز کم سے کم دوعورتیں بیوہ ہوتی ہیں، چار پانچ بچے یتیم ہوتے ہیں چار پانچ بزرگ بے سہارا ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مرنے والوں میں خوشحال گھرانوں کے افراد کی تعداد کم ہوتی ہے۔زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جو جب تک پہلی تاریخ کو تنخواہ نہ لائیں تو گھر گرہستی چلانا ناممکن ہوتا ہے۔ اگ

’’ دعوت‘‘ کی بندش

سہ  روزہ’’ دعوت‘‘ کے بند ہونے کی خبرہر خاص وعام حلقے میں موضوع بحث ہے۔ آخر ہو بھِی کیوں نہ، ملت کے زوال کے اس دور میں عوامی حلقے میں جماعت اسلامی ہند کے واحد ترجمان ردو اخبار اور معیاری اردو صحافت کے واحد علمبردار سہ روزہ دعوت کے بند ہونے کی خبر مسلمانانِ ہند پر بجلی بن کر گری ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ان اسباب و عوامل اور وجوہات کا منصفانہ جائزہ لیا جائے جن کی وجہ سے آج یہ منحوس دن دیکھنے پڑے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند اور دعوت ٹرسٹ کے ذمہ داران نے سہ روزہ کو بند کرنے کی واحد وجہ ’’مسلسل خسارہ و نقصان ‘‘بتایا ہے۔ دعوت ٹرسٹ کے سیکریٹری عبد الجبار صدیقی نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا :’’ہم اپنے ارکان سے پیسے لے کر ادارہ بناتے ہیں اور اس کے بعد ہماری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں

ہیرا گولڈ فراڈ سے کوئی سبق سیکھا؟

 قصور ہیرا گولڈ کا نہیں، قصور ہمارے حافظے کا ہے۔ ورنہ یہ دھوکہ دہی کوئی نئی نہیں ہے۔ ہر دس پندرہ سال میں کوئی نہ کوئی مذہبی یا سماجی تنظیموں کا سہارا لے کر کروڑوں کا چونا لگا جاتا ہے اور ہم بھول جاتے ہیں۔ ہاں ہیرا گولڈ کے دھوکے میں صرف عوام ہی نہیں بلکہ اِس بار بڑے بڑے علماے ٔسلف بھی آگئے۔ خیر سانپ تو نکل گیا اب لکیرکو پیٹنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں مستقبل میں اگر کوئی سبق سیکھنا ہوتو ہمارے پاس چند اہم تجاویز ہیں۔  سب سے پہلے تو اِس غلط فہمی سے باہر آیئے کہ صرف مسلمان ہی دھوکہ کرتے ہیں۔ ہیراگولڈ،IMA ، المیزان، الامانہ، الحرم، الفلاح سعیدبھائی وغیرہ اور دوسرے کئی زمینات اور عمرہ و حج ایجنٹوں سے دھوکے کھانے کے بعد اکثرلوگ اتنے بددل ہوگئے کہ حمیت ِقومی کا لحاظ کئے بغیر یہ کہنے لگے کہ مسلمانوں کے سارے کاروبار ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ جب کہ غیرمسلموں نے اِن سے بھی کئی گنا زیادہ فرا

مولانا محمد علی جوہرؔ

 دنیا میںبعض شخصیتیں عہد ساز ہوتی ہیں ، ان کا وجود عوام کی طاقت اور توانائی کا مرکز و محور ہوتا ہے ، ان کی حرکات اور چشم ابرو کے اشارات افراد و اقوام کیلئے مہمیز کا کام انجام دیتی ہیں ۔ اقبال کا یہ شعر ا س بارے میں چشم کشا ہے   ؎ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر  فرد ہے  ملت کے  مقدر کا  ستارہ بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے منظرنامے پر رئیس الاحرارمولانا محمد علی جوہرؔ کی شخصیت قائدین ملک و ملت کی صف میں کئی لحاظ سے منفرد تھی ۔ قائدانہ صلاحیت ، عزتِ نفس اور دولت استغنیٰ ان کی زندگی کا لازمی حصہ تھیں، فقیری میں شاہانہ خیالات اور پریشانی میں خودداری پر قائم رہنا ان کی دائمی خصلت تھی۔ وہ مخلص ،بہادر، اسلام کے شیدائی اور اظہار حق میں دوست دشمن کی پرواہ کئے بغیر اپنی بات سامنے رکھنے والے تھے۔دست قدرت نے مولانا محمد علی کو قیادت و سیا

ہوگا نہ پردہ فاش ۔۔۔۔ قسط2

گزشتہ  کالم میں ایک لمبی تمہید ڈالنے سے میرا مقصد یہ تھا کہ آپ کے ساتھ اس طرح کی دو باتیں شیئر (Share) کریں کہ ہم نے دیکھا تو نہیں ہے البتہ اس بارے میں پڑھا ضرور ہے کہ بھارت ورش کی شاندار روایات رہی ہیں اور ایک فخریہ ماضی رہا ہے ۔اس ملک میں بڑی بڑی قد آور شخصیات مصلح،رہنما اور ریفارمر ، سیاست دان ،علماء و فضلا ء ،ادباء و شعراء ،مذہبی شخصیات ،دیوتائوں کے سروپ بادشاہ ،فاتح اور شکتی وان،حتیٰ کہ روحانی کمالات و کرامات سے متصف سادھو سنت اور مہاتما پیدا ہوئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ملک میں شیر اور بکری نے ایک ہی گھاٹ پر پانی پیا ہے اور انسانوں نے وحوش کو وَش میں کرکے شیروں کے مونچھوں پر بھی بوسے دئے ہیں ۔ہمیں ملک کے ان تمام خصوصیات اور گن گان سے اختلاف کرنے کی منشاء ہے اور نہ ضرورت ۔یہ سب باتیں تو ہم من و عن مان لیتے ہیں مگر موجودہ حالات کی نیرنگیاں اور مشاہدے میں آرہے عجیب و

شادی کا ادارہ ڈگمگارہا ہے

مبلغ  حضرات جب اصراف و تبذیر پر وعظ فرماتے تو منہ میں جھاگ جما جما کر وازوان، ون وُن اور فروعی مصارف پر جہنم کے فری پاس بانٹتے ہیں۔ سرسری جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ ہر سال کشمیر میں پچیس ہزار سے زائد شادیاں ہوتی ہیں۔ مطلب پچاس ہزار نفوس زندگی کی نئی دہلیز پر قدم رکھ کر ایک نیا سفر شروع کرتے ہیں۔ لیکن اس تعداد میں نصف ایسے ہیں جو زندگی کی اگلی کم از کم دس بہاریں عدالتوں، مفتیان اور مقامی پنچایتوں میں گزارتے ہیں کہ ان کی ازدواجی زندگی آپسی کدورت، خاندانی مخاصمت اورغلط فہمیوں کی نذر ہوجاتی ہے۔ سینکڑوں بچے ایسے ہوتے ہیں جنہیں ماں یا باپ کی تحویل میں دے دیا جاتا ہے اور عمر کے انتہائی حساس مرحلہ پر اُن کی پرورش میں ماں یا باپ کی شفقت کا خلا رہ جاتا ہے۔  پوری دنیا میں شادی کو بحیثیت ادارہ بچانے کے لئے کیتھولک عیسائیوں نے وسیع مہمات چلائیں، اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئیں۔ چونک

مولانا مہرالدین قمرؔ راجوروی

مولانا  مرحوم مہرالدین قمر راجوروی پر یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے۔ اس مردحُر کا جنم جس قوم اور خطہ میں ہوا، افسوس وہاں کسی نے اُن کی قد، قدر و قیمت اور شخصیت کو نہیں پہچانا۔ پورے خطۂ پیر پنچال کے لوگوں کی یہ بڑی بد قسمتی ہے کہ اُنہوں نے کبھی بھی اپنے خطہ کی تاریخ، یہاں کی اہم شخصیات اور اُن کے سنہرے کارناموں کو محفوظ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کسی قوم اور خطہ کی پہچان اُس کی اہم شخصیات، اُن کی ملی خدمات اور تاریخی کارناموں سے ہوتی ہے جو اس قوم کا ورثہ ہوتا ہے اور جن سے آنے والی نسلوں کو زندگی کے رہنما خطوط فراہم ہوتے ہیں۔جو قوم اپنے بزرگوں کی خدمات، عملی و تحریکی ورثے کا تحفظ نہ کر سکے وہ کچھ وقفے کے بعد کار زارِ حیات کے منظر نامے سے حرف غلط کی طرح ہمیشہ کے لئے مٹ جاتی ہے۔  ڈوگرہ عہدکے راجوری کی تاریخ ادھوری رہے گی اگر اس میں راجوری کے اس عظیم حریت پسند، شعلہ بیاں مقرر، آت