تازہ ترین

کلہن کاکشمیر!

 کشمیر  کے مایہ ناز مورخ اور وقائع نگار کلہن پنڈت نے صدیوں قبل یہ اَٹل اور ناقابل تردید تاریخی سچ اپنی ’’راج ترنگنی ‘ ‘میںدرج کیا تھا کہ کشمیری قوم شمشیر وسنسان سے مغلوب ہوسکتی ہے نہ زورِ بازو سے زیر کی جاسکتی ہے ،اسے صرف روحانی قوت ہی مائل بہ کرم کرسکتی ہے ۔ کلہن کا یہ دعویٰ کہ کشمیری قوم ناقابل تسخیر ہے کوئی شاعرانہ تعلی نہیں، نہ کوئی جذباتیت کی ترنگ بلکہ یہ ایک امر واقع ہے جسے سفر تاریخ کے ہر پڑاؤ اور ہر منزل پر ہم ایک حقیقت کے رُوپ میں دیکھتے رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ سنسکرت زبان میں لکھی گئی کلہن کی قدیم تاریخ ِکشمیر کوہمارے وطن کی پہلی تحریری تواریخ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔یہ چونکہ صنف ِنظم میں لکھی ہوئی تاریخ ہے، جس میں محققین تاریخی واقعات کو بڑی حد تک دیو مالائی اثرات سے خلط ملط پاتے ہیں۔ ان چیزوں کو چھوڑ کر’’ راج تر نگنی‘‘ کے

آپ بیتی :

ولادت:دریاباد، ضلع بارہ بنکی،یوپی۔ شعبان۱۴/ ۱۳۰۹  ھ ،مطابق  ۱۶ / مارچ ۱۸۹۲ ء وفات:لکھنؤ ،/۱۶ محرم الحرام  ۱۳۹۷  ھ،مطابق ۶ / جنوری ۱۹۷۷  ء،مدفن:دریاباد، یوپی  مفسر قرآن،ادیب شہیر،مولانا عبدالماجد دریابادیؒ کا تعلق دریاباد ضلع بارہ بنکی (یوپی)کے قدوائی خاندان سے تھا۔کیننگ کالج لکھنؤ سے بی۔اے کیا،طالب علمی ہی سے مطالعے کی عادت نہیں ،لت پڑگئی تھی۔ہر قسم کا مطالعہ کرتے۔اسی زمانہ میں تشکک وارتیابیت سے لے کر الحاد ودہریت کے مرحلوں سے گزرے،پھر اللہ نے صحیح اسلام کی طرف باز گشت کی توفیق عطا فرمائی۔کالج کی زندگی ہی میں خاصی عربی سیکھ لی تھی۔مذہب کی طرف رجوع کے بعد مذہبیات میں ترقی کرتے چلے گئے۔مولانا مدنیؒ سے بیعت وادارت کا تعلق قائم کیااورحضرت تھانویؒ کی صحبت و تربیت سے فائدہ اٹھایا۔خلافت تحریک کے اسٹیج سے ملکی سیاست سے بھی گہرا تعلق رکھا ، آپ صوبہ اودھ

انتظامیہ کے کل پُرزوںسے

اللہ تعالیٰ نے جنت نظیر کہلانے والی اس وادی کو ا واقعی اتنا بہت خوبصورت بنایا ہے کہ اس کی تعریف میں بے ساختہ یہ شعر زبان پر آتا ہیــ:  اگر فردوس بروئے زمیں است ہمیں است وہمیں است و ہمیں است اونچے اونچے پہاڑ،سر سبز جنگلات،چھم چھم بہتے جھرنے، جھیلیں، ندیاں ، دریا،کوئل کی کُوکُو اور پرندوں کی چہک،باغات اوربرفانی چوٹیاں انسان کا دل موہ لیتے ہیں کیونکہ یہاں کے ہر ذرے میں خدا کا نور بسا ہوا ہے۔ایسی خوبصورتی کی مثال شاید ہی دنیا کے کسی اور کونے میں ملے۔اسے دیکھنے اور لطف اندوز  ہونے کے لئے ہر سال لاکھوں کی تعداد میںدنیا کے مختلف کونوںسے کشمیر کی سیر و سیاحت پر سیاح آتے ہیں کہ لاکھوں لوگوںکا ذریعہ ٔ روزگار بنتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان رونقوں کے لئے سب سے اہم رول یہاں کی رابطہ سڑکیں ادا کرتی ہیںکیونکہ آمدو روفت کا ذریعہ سڑکیں ہی ہوتی ہیں ۔ افسوس کہ آج کل جہاں بھی جائیے سڑکیں اپ