تازہ ترین

جلیانوالہ باغ سو سال بعد!

 چلو آئو دکھائیں ہم جوبچاہے مقتل شہرمیں یہ مزار اہلِ صفاء کے ہیں،یہ اہل صدق کی تربتیں فیضؔ  ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے دوران فرنگی راج کے وحشیانہ مظالم اور عوام کی شہادت و قربانی کی خونی داستان میںسانحۂ جلیانوالہ باغ ایک ناقابل فرامو ش باب ہے۔آج سے ایک سوسال پہلے کازمانہ جب سلطنت انگلسیہ میں سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھااور ہندوستان تاج برطانیہ کاسب سے چمک دار ہیرا تھا، مگر ہمارے ملک میںسامراجی حکمرانوں کی بربریت اوردرندگی کاسیاہ ترین دور چل رہاتھا۔ دنیا کی ’’مہذب ترین‘‘ قوم ہونے کی دعوے دار انگریزشاہی نے ہمارے ملک میں اپنے براہ ِراست تسلط وغلبہ کے دوران جن گھنائو نے جرائم کاارتکاب کیا، اس کی گواہی ہزاروں گمنام ہندوستانیوں کالہو آج بھی دے رہاہے۔ گوروں نے اُنہیںگولیوں کانشانہ بنایا، تختہ دار پر لٹکایا، سالہا سال تک تنگ وتار کو ٹھریوںمیں

چوکیدار نہیں چوکس رہنما!

 ہندوستان  میں اس وقت پارلیمانی الیکشن کا دور چل رہا ہے۔ ہر پارٹی دوسرے پر سبقت حاصل کرنے میں لگی ہے مگر لگتا ہے کہ زیادہ تر اُمیدوار صرف کرسی کے لیے لڑر ہے ہیں اور کسی کو عوام کی پریشانیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ عوام بھی پریشان ہیں کہ وہ ہندوستان کاوزیراعظم کس پارٹی کا منتخب کریں ۔ ہندوستان کوایسے وزیر اعظم کی ضرورت ہے جو ملک کو ترقی کی راہ پر لے جائے ، جو ملک کی عوام کے مسائل حل کریں ،بے روزگاری کا خاتمہ کریں، میعاری تعلیم کا نظم کریں، ہندوستان میں پھیل رہی مذہبی نفرت اور سماجی نابرابری کو دور کریں مگرآج الیکشن میںکھڑا اُمیدوار اپنے آپ کو چوکیدار کہتا ہے ۔ کیا ہندوستانی عوام کو چوکیدار کی ضرورت ہے یا وزیر اعظم کی ۔  چوکیدار صرف چوکیداری کرسکتا ہے ،ملک کیسے چلائے گا؟ وزیر اعظم جیسے با وقار عہدہ کو چوکیدار کہنا اس عہدے کا وقار مجروح کرنا ہوتاہے ۔کیا ایک چوکیدار ملک کے

خصوصی حیثیت کا کاغذی پیرہن اور ہماری خوش فہمیاں

 بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی منشور میں اس بار بھی دفعہ 370اور35-Aکا خاتمہ سرفہرست ہے ۔اس جماعت نے پچھلے انتخاب میں ووٹروں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرکے رہے گی لیکن پوری ٹر م مکمل ہوجانے تک وہ ایسا نہیں کرسکی ۔ اب جب کہ وہ دوسری بار یہی وعدہ لیکر ووٹروں کے پاس جارہی ہے تو اسے اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ اس کے وہ ووٹر جنہوں نے اس وعدے پر اسے اپنے ووٹ دئیے تھے اس سے یہ نہ پوچھیں کہ پانچ سال میںاگر وہ اپنا یہ وعدہ پورا نہیں کرسکی تو اب کیسے کرے گی۔یہ سوال بھی کوئی نہیں کرے گا کہ ان سے وعدہ کرنے کے بعد ہی اس نے ریاست کی مقامی سیاسی جماعت پی ڈی پی کے ساتھ ’’ ایجنڈا آف الائنس‘‘ کے نام سے ایک سمجھوتہ کیا جس میں اس بات کے ساتھ اتفاق کیا کہ موجودہ آئینی پوزیشن کو جوں کا توں رکھا جائے گا۔حالانکہ اس ایجنڈا کا تحریری مسودہ

وکاس پُرش کی فوجی بیساکھی!

جب  سے 2019 کے پارلیمانی انتخاب کا بگل بجا ہے، ذہن میں رہ رہ کر راحت اندوری کا یہ شعر گونج رہا ہے   ؎ سرحدوں پر بہت تنائو ہے کیا؟ کچھ پتا تو کر و چُنائوہے کیا؟ پلوامہ خود کش حملہ، بالا کوٹ فضائی حملہ، ابھینندن کی پاکستان کے ہاتھوں گرفتاری، بعد ازاں اس کی رہائی، پاکستانی خدشات کہ بھارت پھر سے حملہ کرے گا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری صورتحال راحت اندوری کے شعر کی سچائی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں۔ 2014 میں نریندر مودی نے وکاس یعنی ترقی کا نعرہ دے کر ایک زبردست جیت درج کروالی تھی۔ لیکن اب کی بار صرف جنگ، سرجیکل اسٹرائیک، آتنک واد، دفعہ 370،  35 A جیسے مُدے ہی اُٹھائے جا رہے ہیں۔ فوجیوں اور حفاظتی دستوں کا واسطہ دے کر، پلوامہ میں مارے گئے جوانوں کا واسطہ دے کر لوگوں سے ووٹ مانگے جارہے ہیں۔ ایسا اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ جس وکاس کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ وکاس فقط امبانی

اکیسویں صدی کے 21 ؍ سبق

 چند   دہائیوں سے دنیا بھر کو یہ سبق پڑھایا جا رہا ہے کہ انسانیت عالمی مساوات کی جانب بڑھ رہی ہے، جدید ٹیکنالوجی اور عالمگیریت کی مدد سے یہ عمل جلد مکمل ہوجائے گا، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اکیسویں صدی دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ عدم مساوات پر مبنی معاشرے تشکیل دے رہی ہے۔ اگرچہ عالمگیریت اور انٹرنیٹ نے ملکوں کے درمیان فاصلے گھٹادئے ہیں مگریہ ساتھ ساتھ معاشرتی طبقات کے درمیان دُوریاں بھی بڑھارہے ہیں۔ اب جب کہ لگ رہا ہے کہ انسانیت عالم گیر اتحاد بننے جارہی ہے، شاید انسانوں کے مختلف طبقات خود ہی حیاتیاتی درجہ بندی میں تقسیم ہوجائیں۔معاشرتی عدم برابری نئی بات نہیں، پتھر کے دور سے چلی آرہی ہے۔ تیس ہزار سال قبل شکاری انسانوں کے چند گروہوں نے اپنے ساتھیوں کی باقیات شاندار مقبروں میں محفوظ کی تھیں۔ ان میں جواہرات اور شاہ کار فنی نمونے وغیر بھی ملتے ہیں، جب کہ دیگر بہت سے انسانو

جلیانوالہ باغ پر مشاہیر کااظہارِغم

۔13 اپریل سن ۱۹۱۹کوامرتسر کے جلیانوالہ باغ کا واقعہ انسانی تاریخ میں نہتے افراد کے قتل عام کی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ سرکاری تخمینے کے مطابق جو اس واقعہ کے چار ماہ بعد لگایا گیا۔ جنرل ڈائر کے فوجی دستے کی فائرنگ کے نتیجے میں 337 ؍آدمی ہلاک ہوئے جن میں 41 ؍ بچے بھی شامل تھے۔ ان میں ایک ایسا معصوم بچہ بھی تھا جس کی عمر ڈیڑھ یا دو ماہ تھی۔ اسے کوئی گود میں اٹھائے جلسہ سننے آیا تھا۔ ڈیڑھ ہزار کے قریب آدمی زخمی ہوئے لیکن غیر سرکاری اندازے کے مطابق 500 ؍سے ایک ہزار تک لوگ جان بحق ہوئے۔ یہ سب جلیانوالہ باغ میں پُرامن انداز سے آئے تھے۔ وہ بالکل نہتے تھے اور منتشر ہونے کا حکم دیے بغیر ان پر فائر کھول دیا گیا۔ اس قتل عام کی خبر ساری دنیا میں پھیل گئی۔ لینن نے ایک خط میں جو اس نے ہندوستانی اخبار ’’امرتا بازار پتریکا‘‘ کو لکھا تھا ،اس واقعے کی شدید مذمت کی تھی۔ مشہ