لیلتہ البرات کی فضیلت

اللہ تعالیٰ نے جب اس کائنات کو وجود بخشا تو تکمیل کائنات اور اسکی زیبائش کے لیے سروں پر سایہ فگن یہ بیکراں نیلگوں آسمان، حد نظر تک پھیلی ہوئی زمیں،ضو فشانی کرتا ہوا سورج، چاندنی میں نہایا ہوا چاند اور تاریکی میں اپنے وجود کا احساس دلاتے ٹمٹماتے ہوئے ستارے، ہواؤں کے دوش پر سفر کرتے ہوئے بادل، فلک بوس پربت، بیکراں سمندر، روانی سے بہتی ہوئی ندیاں، یہ چمن زار اور بیاباںیہ اور ان جیسی دیگر بیشمار اشیاءکو وجود بخشا لیکن نظام کائنات کے پیش نظر خدائی اصول و ضوابط کے تحت ہر چیز کو اسکی حد میں مقید اور اپنے مقام پر مسخر کر دیا، جہاں وہ ازل سے اپنے کام کو انجام دیتے آئے ہیں اور ابد تک دیتے رہیں گے۔ نہ وہ اپنی جگہ سے تجاوز کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے کام سے تہی دست ہو سکتے ہیں۔ یقینی امر ہے کہ دنیا میں جتنی بھی مخلوقات ہیں، چاہے وہ بری ہوں یا بحری، زمینی ہوں یا آسمانی، فضائی ہوں یا خلائی ساری م

فرقہ پرستی بھول کر کورونا سے مقابلہ کرنے کی اشد ضرورت

جو چاہتے تھے ملے ربطِ باہمی کو فروغ ان ہی پہ آ گیا الزام شرپسندی کا ملک کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں ۔ دانشورطبقہ ہو یاعام آدمی،سبھی پریشان ہیں۔کورونا وائرس نامی بیماری نے اس وقت تمام عالم کو اپنی چپیٹ میں لے رکھا ہے، اس کا حملہ جیسے جیسے شدید ہو رہا ہے، اس کے خوف سے تمام ممالک کی دشواریاں بڑھتی جارہی ہیں اور یہ کہاں جاکر ختم ہوں گی، اس بارے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔مگر اس وقت بھی شیطانی قوتیںاپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہی ہیں،وہ اس وقت بھی لوگوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑ رہی ہیں۔ اس کی تازہ مثال تبلیغی جماعت ہے۔ ملک میں ایک خاص طبقے کو بدنام کرنے اوران کے خلاف اکثریتی طبقہ میں نفرت اورغم وغصے کوفروغ دینے کے لیے اس ایشوکا سہارالیاجارہاہے۔ اس گھناؤنے کام کے لیے ایک ایسی جماعت کا انتخاب کیاگیاجس کا نہ دنیا کی سیاست سے کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی ملکی سیاست سے

کووِڈ19کا ’عقیدہ‘ | اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پر بجلیاں

 موجودہ عالمی وباء، کورونا وائرس کا دیکھتے ہی دیکھتے’’ مذہب ‘‘بھی نکل آیا ۔اس سے قبل کہ پروپگنڈا کی طاقت کے سہارے ایک مخصوص عقیدے سے وابستہ افراد کو ہی’’وائرس‘‘ قرار دیا جائے،چند اہم باتوں کی نشاندہی ضروری ہے۔کورو ناوائرس سے متعلق فی الوقت دو سازشی نظریئے( Conspiracy theories) گشت کررہے ہیں۔اول یہ کہ مذکورہ ہلاکت خیز وائرس کا تعلق چین کے شہر، اُ وہان کی ایک تحقیقی لیبارٹری سے ہے، جہاں یہ اپنی بھر پور قوت یعنی’ ’لیول4‘‘میں نمودار ہوگیا۔افواہ بازی کے عالم میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ وائرس کو چین کی لیبارٹری تک انسانوں کے ذریعے ایک ہتھیار کے بطور پہنچایا گیا۔یہ سازشی نظریہ بھی خاص کر سوشل میڈیا پر پورے زور و شور کے ساتھ زیر بحث رہا کہ اُوہان کی لیبارٹری میں مذکورہ وائرس پر تحقیق جاری تھی اور جانوروں سے ال

حالت ِ وباء میںآن لائن مقابلہ حُسن | ملت کا شاہین خاکبازی پر آمادہ کیوں؟

دور ِ حاضر میں محبتیں، بھائی چارہ، عنائتیں، نوازشیں ایک خواب بن کر رہ گئی ہیں۔ دکھاوے کی چاہ نے ہر اچھے بھلے انسان کو آدمی بنا کر رکھ دیا ہے۔ آج تک میری سمجھ میں یہ نہیں آسکاکہ سوشل میڈیا خاص کر فیس بُک پر (ڈی پی ) یعنی ڈسپلے پکچرکا الیکشن کس لئے اور کیوں کیاجاتا ہے۔کیا آئین میں اِس انتخاب کے بارے میں کوئی ذکر ہے؟ کیا یہ الیکشن کروانے کی وجہ سے ملک میں تعمیر ترقی ہوسکتی ہے؟ کیا اِس الیکشن سے غریب عوام کے مسائل کا ازالہ ہوتا ہے ؟کیا اِس الیکشن میں نوجوانوں کوروزگار مہیاکیا جاتا ہے ؟ یہ سارے سوالات میرے ذہن میں اس لئے ابھرے ہیں کیونکہ میں کئی روز سے اِس ڈسپلے الیکشن مہم کا شکار ہوا ہوں۔ دن میں تقریباً دس سے زائد اُمیدواروں کے پیغامات آتے ہیں کہ ووٹ دو،لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ آپ کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ہم کیا بنیں گے۔ میں نے کئی اُمیدواروں سے پوچھا کہ اگر میں آپ کو ووٹ دوں تو آپ

! تبلیغی جماعت کیخلاف ہرزہ رسائی ؔ فرقہ پرستی کا کیڑاکورونا وائرس سے زیادہ خطرناک

نئی دہلی میں واقع حضرت نظام الدین تبلیغی مرکز کے بارے میں میڈیا کے منفی پروپیگنڈے اور بدنام کرنے کی کوشش کے درمیان پرت در پرت کھلنے لگی ہے۔ پولیس اور انتظامیہ جان بوجھ کر تبلیغی جماعت والوں کو نکلنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی بسوں کے پاس مہیا کرائے جبکہ مسلسل تبلیغی جماعت کے ذمہ دار پولیس او ر انتظامیہ کے چکر لگاتی رہی ہے کہ ہمارے مرکز میں اتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیں ان کو نکالا جائے اور ہم نے گاڑی اور ڈرائیور کا انتظام کرلیا ہے آپ صرف پاس مہیا کرائیں تاکہ یہ لوگ اپنی منزل تک پہنچ سکیںلیکن پولیس اور انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگیں۔ چوں کہ  انتظامیہ نے اپنا منصوبہ تیار کر رکھا تھا اس لئے اس کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی اور کورونا کے معاملے کو سنگین ہونے دیا اور جب معاملہ سنگین ہوگیا اور معلوم ہوگیا ہے کہ کورونا سے متاثر لوگ موجود ہیں، پولیس نے کارروائی کی اور میڈیا میں اسے ویل

یہ کس کی آہوں کا اثر ہوا ہے؟

ہم انسان بہت جلد یکسانیت کا شکار ہوجاتے ہیں ، ہم میں سے کچھ انسانوں نے اس بات کو سمجھ لیا اور اسے اپنے کاروبار کا حصہ بنا لیاجس کی وجہ سے جدیدیت کے اس دور میں مسلسل بدلائو آتا رہتا ہے۔ دریافت کی جانے والی اشیاء کے نئے نئے ورژن وقفے وقفے کے بعد شائع کئے جاتے ہیں ، یعنی انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کی نفسیات سے کھیل رہا ہے ۔ انسان جب تک کسی مشکل میں گرفتار نہیں ہوتا، اسے انسانیت کا خیال نہیں آتا، جیسے ہی وہ کسی برے وقت میں گرفتار ہوتا ہے ۔وہ دوسروں کو انسانیت کا ناصرف درس دیتا سنائی دیتا ہے بلکہ انسانیت کے نام پر مدد کی اپیل بھی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ وقت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ ٹھہرتا نہیں ہے ،جیسا بھی ہو، گزر جاتا ہے، بس ہمارے آس پاس رہنے والوں میں فرق کو واضح کرتا چلا جاتا ہے، ہماری آنکھوں سے پردے اٹھاتا چلا جاتا ہے۔  آج دنیا پھر ایک ایسی ہیبت ناک یکسانیت کا شکار ہ

چراغ دل کا جلاؤٔ بہت اندھیرا ہے

آیات قرآنی اور احادیث نبویﷺ انسان کو ایک بہتر اور کامیاب زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہیں ۔سچ اور جھوٹ،اچھا اور بُرا،حق وباطل،کفر وشرک،نیک وبد ،ظالم ومظلوم،حرام وحلال،جائز وناجائزاور خیر وشر، یہ تمام مثبت ومنفی اور متضاد باتیں یا حسنات وخرافات کے مضر ومفیداثرات کو قرآن وحدیث میں بڑے واضح ،مدلّل اور بہت حد تک سائنٹیفک انداز میں بیان فرمایا گیاہے۔معلوم یہ ہوا کہ آدمیت سے انسانیت تک کے سفر میں ہر شخص پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ اُن تمام شرور اور خبائث سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے کہ جن سے بچنے کی تاکید وتلقین قرآن وحدیث میں آئی ہے ۔ زندگی ایک غیر یقینی سفر ہے اور ہم سب وقت کے دریا میں بہہ رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں وقت کی قسم کھائی ہے کہ بے شک انسان گھاٹے اور خسارے میں ہے ۔سوائے اُن لوگوں کے جو اللہ پر ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے ک

وادی کشمیر کے طالب علم | ہوم ورک میں مشغول رہنا بہتر

جب یہ کائنات وجود میں آئی تو انسان کی بھی تخلیق ہوئی۔خالق کائینات نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔جب ہمارے جدامجد حضرت آدم علیہ سلام کو خالق ارض وسماء  نے بنایا تو پھر آدم علیہ سلام کو چیزوں کے نام سکھائیے۔ان چیزوں کے نام سکھانے کو ہم علم کہتے ہیں,جو ?ربالعزت نے حضرت آدم علیہ سلام کو عطا فرمایا۔اس طرح یہ دنیا کا کارواں تب سے جب تک رواں دواں ہے۔اللہ تعالیٰ کی  منشاسےاس دنیا میں بہت سے انبیاء کرام بھی تشریف لائے۔آخر پر ?رب العزت نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی۔جب وحی کا نزول ہوا تو سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی ،وہ سورہ العلق کی ابتدائی آیات ہیں۔پہلی ہی وحی میں نبی اکرم صلی?علیہ وسلم سے فرمایا گیا’’اقراء‘‘یعنی پڑھو۔اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ سلام سے لے کر آخری نبی حضرت محمد عربی صلی?علیہ وسلم تک ت

چراغ دل کا جلاؤٔ بہت اندھیرا ہے

 خالق کائنات نے اس کائنات کو ایک منظم صورت میں پیدا فرمایا ہے ۔ موسموں کا تغیر وتبدل،گردش روز وشب،پیدائش وموت ،مظاہر فطرت میں ایک خاص طرح کا توازن غرضیکہ پورے نظام عالم پہ نظر دوڑایئے تو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی شے بے کار وبے فائدہ پیدا نہیں فرمائی ہے ۔ہر انسان پر بالغ ہونے کے بعدیہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات سے متعلق ان تین بنیادی اوراہم سوالوں کے جوابات کی تلاش و تجسّس میں لگ جائے ۔ پہلا سوال یہ کہ میں اس دُنیا میں کہاں سے آیاہوں؟ یا یہ کہ میرا اصلی خالق ومالک کون ہے ؟دوسرا سوال یہ کہ مجھے اس دُنیا میں رہ کر کیا کرنا ہے ؟ تیسر ا سوال یہ کہ مجھے مرنے کے بعد کہاں جانا ہے؟ان تینوں سوالات کے جوابات کی تفہیم کے لیے اللہ رب العالمین نے ابتدائے آفرینش سے یعنی حضرت آدم ؑ سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار  پیغمبروں کو مبعوث  فرمایا ۔

اَندھیر ے کو کوسنے سے کچھ نہیں ہوگا

اس وقت ملک سنگین حالات سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں بھی مودی جی نے من کی بات کر ہی لی۔ 21 دن کے لوک ڈاؤن سے ہو رہی پریشانی کے لئے معافی مانگی مگر اسے ضروری بتایا۔ تیاری اور سوچے سمجھے بغیر اٹھائے گئے لاک ڈاؤن کے قدم نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی یاد تازہ کر دی۔ نوٹ بندی کو بھی انہوں نے ضروری بتایا تھا۔  ملک تب بھی لائنوں میں کھڑے ہو کر تکلیف کو جھیل گیا۔ لائن میں لگنے سے 125 سے زیادہ لوگوں نے جان گنوائی اور جی ایس ٹی نے کاروبار کو برباد کر دیا۔ لوگ اب بھی گھروں میں بند ہو کر دقت برداشت کر رہے ہیں۔ اس بار وجہ جائز بھی ہے کیونکہ سوال زندگی کا ہے۔ مگر مسئلہ اس بے گھر غریب آدمی کا ہے جو سرکار کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے گاؤں اور شہر کے بیچ پھنس کر رہ گیا ہے۔ وہ پیدل ہی اپنے گھر کی طرف نکل پڑا ہے۔ سماجی فاصلہ بنا کر رکھنے کے قاعدہ کے باوجود وہ بس اڈوں کا حصہ بن رہا ہے۔ اسے ڈر ہے کہ کہیں وہ

ٹِــک ٹـــاک | اسلامی تعلیمات کے تناظر میں

ٹک ٹاک یہ ایک وڈیو ایپ ہے، جس کے ذریعہ چھوٹے چھوٹے وڈیو بنائے جاتے ہیں اور انٹر نیٹ پر اپلوڈ کرکے اسے پھیلایاجاتا ہے۔ جو لوگ ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیںان تک اس طرح کی وڈیوز کی عام رسائی ہوتی ہے۔اس ایپ کو۲۰۱۶ء میں چین نے لانچ کیا تھا محض دو سال کی مدت میں اس نے شہرت کی بلندیوں کو حاصل کرلیا اور یوٹوب اور فیس بک ،واٹس ایپ جیسے مشہورایپ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ صرف دوسال میں اسے ۵۰۰ ملین لوگوں نے لوڈکیا ہے اور دنیا کے ۱۵۰ ملکوں میں اس کا استعمال ہورہا ہے۔۲۰۱۹ء میں اسے جدید طور پر لانچ کیا گیا جس کے بعد ہندوستان بشمول بیشتر ملکوں میں اس کو خوب پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ ٹک ٹاک ، سوشل میڈیا کا ایک بڑھتا ہوا فتنہ ہے، جس کا بنیادی مقصد بے حیائی کو فروغ دینا ہے ،اس کے مختلف مفاسد اس وقت سامنے آچکے ہیں۔یہی وجہ ہے بہت سے ممالک نے اس کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اور نوجوان نسل پر اس کے بر

اَفسردگی چھوڑ دو , ہر حال میں شاکررہو

 بلا شبہ منفی سوچ ناکامی کا سبب بنتی ہے جبکہ مثبت سوچ کامیابی کے لئے اولین شرط ہے۔اس کی وجہ سے انسان میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور پُر خطر حالات میں بھی اپنا کام جاری رکھ سکتا ہے ۔حالات کتنے ہی پیچیدہ اور کشیدہ ہوں ،مثبت طرز عمل راہیں نکال ہی لیتا ہے ۔انسان کو اپنے کام پر شرح صدر ہو اور اپنے طریقۂ کار اطمینان ہو اور یکسوئی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو اپنی منزل سے دور نہیں رکھ سکتی ۔حالات کے نشیب و فراز اس کے کام میں خلل انداز نہیں ہوسکتے،راستے میں حائل رکاوٹیں اس کو اپنی منزل سے دور نہیں رکھ سکتیں۔اگر افراد میں مثبت سوچ کے بدلے منفی سوچ پروان چڑھنے لگے تو انسان کے دیکھنے کا زاویہ ہی بدل جاتا ہے ۔کامیابی کی جگہ ناکامی نظر آتی ہے ۔حوصلے کی جگہ پستی و نامرادی آجاتی ہے ۔دل میں طرح طرح کے شکوک پیدا ہوجاتے ہیں ،انسان اپنی منزل کے بجائے خطرات اور مشکلات ک

کو رونا کی وبا باہمی تلخیوں کو مٹانے کا ذریعہ | کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا گناہ ہے

کورونا وائرس ایک قدرتی آفات ہے اور اس سے اس وقت پوری دنیا جوجھ رہی ہے اور ہر ملک اپنے شہری کی حفاظت کیلئے اپنے طور پر ہر قسم کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس وبا نے انسانی معاشرے کو خوف و ہراس میں جینے پر مجبور کر دیا ہے ۔اب تک لاکھوں افراد اس وبا کے شکار ہو گئے ہیں اور چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔دنیا بھر میں اس وبا سے مقابلہ کرنے کے لئے طبی معائنہ اور خود شاختۂ بندی کر ناہی ضروری اقدامات کے طور پر اپنا رہے ہیں کہ امریکہ اور اٹلی جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس کی کوئی دوا تلاش نہیں کر سکے ہیں ۔چین جہاں سے یہ وبا پھیلی ہے اس نے بھی ایک علاقے اوہان میں لاک ڈاؤن شروع کر کے ہی قابو پایا ہے ۔اس لئے اپنے ملک میں بھی یہی ترکیب اپنائی گئی ۔اگر چہ کچھ دیر سے یہ قدم اٹھایا گیا لیکن ملک کے عوام نے اس وبا سے لڑنے کیلئے جو حوصلہ دکھایا ہے وہ قابل ذکر ہی نہیں بلکہ قابل تحسین ہے ۔مگر افسوس ہے

مایوس نہ ہو اللہ بہت بڑا ہے | تدابیر کے ساتھ توکل اعلیٰ صفت ہے

’’اللہ‘‘ اس ذات کا نام ہے جو سب سے بڑا ، سب سے بلند ،سب سے جدا ،سب سے الگ ہے۔وہ سب کا خالق ہے ، اس کے مقابلہ میں ہر ایک چیز اس کی مخلوق اور اسی کی تخلیق کا شاہکار ہے۔وہ اپنی قدرت ،طاقت،بادشاہت اور علم وحکمت ،بزرگی اور بڑائی میں یکتا ہے۔وہ اکیلا ،بے عیب ،بے نیاز اور بے مثال ہے۔اس نے محض اپنی قدرت وطاقت اور قوت وارادہ سے کائنات اور اشیائے کائنات کو وجود عطا کیاہے ،وہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے ویسا ہی کرتا ہے،کوئی اسے روک ٹوک کرنے والا نہیں۔اس کا کوئی مشیر ہے نہ وزیر،آسمان وزمین کا قیام اور چاند وسورج کا قرار اسی کے دم سے ہے۔بجلی کی کڑک ،سورج کی چمک اور چاند کی دمک اسی کے حکم سے ہے۔ سمندر کی گہرائی ،زمین کی چوڑائی ،آسمان کی اونچائی اور پہاڑوں کی طاقت کو وہ خوب جانتا ہے۔جنگل،دریا،پہاڑ،درخت اور باغات کے دلفریب نظارے اسی کے ’’کن‘&lsq

جنگ کو امن میں بدل ڈالنا بہتر

ایمان کی بنیاد صبر و تحمل پر رکھی گئی ۔ اسلام کی اعلانیہ دعوت کے بعدمکہ والوں کاآپ ﷺ کے اصحاب ؓ کے ساتھ برتائو کسی سے ڈھکا چھپانہیں ۔ ہم آج جس اسلام کے نام لیوا ہیں یہ ان اصحاب ؓ کے صبر و تحمل اور شدید ترین برداشت کی بدولت ہم تک پہنچا اور یہ سبق ہے کہ مسلمان آزمائش کی گھڑی میں اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہوئے بھرپور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس آزمائش کی گھڑی سے سرخ رو ہوکر نکلتا ہے۔ اسلام کا سورج بھی ہمارے پیارے نبی ﷺ اور انکے اصحاب ؓ کے صبر و تحمل و برداشت کی بدولت رہتی دنیا تک کیلئے چمکتا دمکتا رہنے والا ہے ۔ نماز صبر و تحمل کا ایک عملی مظاہرہ ہے، جب آپ اپنے اہم ترین کاموں کو چھوڑ کر اپنے رب کے حکم کے آگے سربسجود ہونے کیلئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔طلوعِ اسلام نے بہت کڑا وقت دیکھا، دنیا کی طاقتوں سے ٹکرایا اور اپنے سے کئی گنا زیادہ طاقتور کو زیر کیا ،ان سب حالات کا مقابلہ مسلمانوں نے

صدقہ ، خیرات و زکوٰۃ | بیماریوں اور بلاؤں کو ٹالتا ہے

آج ساری دنیا کی حکومتیں اور عوام کورونا وائرس سے تذبذب کا شکار ہیں ۔ دنیا کے کئی مقامات پر مساجد میں نمازیں ادا نہیں کی جارہی ہیں ۔ موت سارے عالم میں کورونا کی شکل میں رقص کر رہی ہے ۔ ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ یہ اللہ کا عذاب ہے ۔ آج سارے عالم میں گناہ انتہا پر ہیں ۔خوف کے عالم میںجہاں عام آدمی چکن کا استعمال چھوڑ چکا ہے ۔وہاں آسودہ حال لوگوں نے بھی مرغن غذائوں کا استعمال کم کردیا ہے  لیکن آخرت کے خوف سے گناہ چھوڑنے تیار نہیںہورہے ہیں،یہ جانتے ہوئے بھی کہ جس نےیہ بیماری نازل کردی ہے وہی اس بیماری سے نجات بھی دے گا،بشرطیکہ کثرت سے عبادت اور نمازوں کی پابندی کرکے اپنے گناہوں سے تو بہ کیا جائے بلکہ صدقہ و خیرات کی طاقت کی طرف بھی خاص توجہ دی جائے ۔ اللہ نے زمین پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی، پھر اللہ نے پہاڑ پیدا کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ زمین تھامے رکھے ، چنانچہ وہ ٹھہرگئی ۔

کوویڈ۔19: کشمیر میں نفسیاتی مریضوں کی حالت غیر

 کرونا کے باعث موجودہ نازک اور غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظرجہاںدنیا بھر میںہر خاص و عام خوف و خطرہ میںمبتلا ہوچکا ہے وہیں علاج و معالجےکی صورت حال بھی متاثر ہورہی ہے۔ایک طرف جہاں ہر سطح پر کو وڈ سے متاثرہ لوگوں پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے تو دوسری طرف دیگر امراض میں مبتلالوگوں کی طرف توجہ کافی حد کم ہوگئی ہے۔طبی شعبوں سے منسلک تمام لوگ ،ماہرین اور عملےیہاں تک کہ درجہ چہارم کے ملازمین بھی اس غیر یقینی صورت حال میںاپنے اپنے کام میںمصروف تونظرآرہے ہیںلیکن ہسپتالوں،شفا خانوںاور دیگر صحت مراکز پر دیگر امراض میں مبتلا عام لوگوں کو وہ طبی سہولیات میسر نہیں ہوپارہی ہیں جن کے وہ مستحق ہیں۔کشمیر میں تمام چھوٹےبڑے صحت مراکز کی صورت حال عام مریضوں کے تئیں بالکل نفی کے برابر ہوگئی ہے۔جس کے نتیجہ میں لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کشمیری عوام بھی اسی صورت حال کا شکار ہیںجس میں اس وقت پورا ع

وَبا کے دنوں میں زندگی

وبا کے موسم میں سب کچھ کس سرعت کے ساتھ بدل جاتا ہے، جان کر حیرت ہوتی ہے۔ انسان جو مسافت صدیوں میں طے کرتا ہے، وبا کے دنوں میں یہ لمحوں میں سمٹ آ?تی ہے۔ اہلِ قلم نے اس کی کہانیاں لکھی ہیں۔ جناب آ?صف فرخی نے ایک عمدہ مضمون میں اس ادب کا احاطہ کیا ہے ۔ ہم بھی ایک وبا کی گرفت میں ہیں۔ قدرت اس عمل کو ایک مدت بعد دھرا رہی ہے جو ہمارے لیے تاریخ تھی، اب واقعہ ہے۔ یہ کہانی وہ نہیں جو ''ایک دفعہ کا ذکر ہے...‘‘ کے اسلوب میں شروع ہوتی ہے۔ یہ صرف میری ہی نہیں اُس پانچ سالہ بچے کی بھی آ?پ بیتی ہے جو محسوس کر رہا ہے کہ اس کے گردوپیش میں کوئی انہونی ہو گئی ہے۔ باپ ،جو کبھی ہفتے میں ایک بار یا کئی دنوں بعد دکھائی دیتا تھا، اب ہر وقت گھر میں رہتا ہے۔ جو چھٹی کے لیے مچلتا تھا، اب بغیر مطالبے کے چھٹیوں کے مزے لے رہا ہے۔ اس کا ننھا سا ذہن سوچتا تو ہو گا یہ سب کیسے ہو گیا؟ ہم

انسان پر کڑا وقت آن پڑا ہے

دنیا انتہائی مشکل وقت سے گزررہی ہے انسانی آبادی پر یہ وقت کڑا ہے، ہرلمحہ نازک،ہرساعت خوفزدہ کردینے والا ہے ۔اژدھام اور ہجوم کے بیچ نہایت سرعت کے ساتھ زندگی بسرکرنے اور اپنی ہی دھن میں سرگرداں اس عالم کو ایک ناگہانی وبا نے کچھ اس طرح سے اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے کہ انسان کا جینا محال ہے،ملنا مشکل اورزندگی دوبھر ہے۔ کوروناوائرس دوہزار انیس(کووڈ19) کے ہلاکت خیز،زود اثر متعدی اثرات سے کرۂ ارض پہ محشر بپا ہے، قیامت خیز منظر انسان اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے، ہرشخص اپنے سامنے موجود فرد کو مشکوک نظر آرہا ہے، تپاک سے گلے لگانا اور طمطراق سے مصافحہ کرتے ہوئے ہاتھوں کو دبادینے کے عادی افراد ایک فاصلے کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ پھر بھی دل کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ وائرس اپنی چپیٹ میں نہ لے لے۔ دنیا میں ہو کا عالم رات کو بھی دن کی طرح برتنے والا،وقت کو اپنی قابو میں کرنے والا اور ایک لمحہ می

کووڈ 19اور4جی انٹرنیٹ

جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال اگست کے مہینے سے انٹر نیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی لوگ قدیم زمانے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔تاجر طبقہ اور خاص کر طلاب کے لئے انٹرنیٹ کی عدم دستیابی شدید مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے۔حق تو یہی ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ گذشتہ سال کے ماہ اگست سے ہی لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں اور اب  کرونا وائرس کی قہر کے باعث لاک ڈائون کی پریشایاںسہنے پر مجبور ہیں۔ اب جب کہ سالِ رواں کے دوران سرکار نےجموں و کشمیر کے عوام کے تئیں چند معاملات میںکسی حد تک اپنے رویہ میںتبدیلی لائی ہے، جسکے نتیجہ میں لاک ڈائون سے قبل ہی انٹر نیٹ کی محدودبحالی بھی ہوئی ہے۔ جس سے موبائل صارفین کو وہ سہولیات میسر نہیں ہوپارہی ہیں جن کی اس وقت انتہائی اہمیت اور ضرورت ہے۔ سرکار نےاپنی غیر منصفانہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے صرف2جی انٹرنیٹ خدمات بحال کی ہیں جو ک

تازہ ترین