تازہ ترین

مقبول مرحوم اور افضل مرحوم

۶؍ اگست  ۱۹۹۰ء کو مجھے اپنے کئی ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ اس سے کچھ ماہ قبل ہی میں ایک جان لیوا حادثے میں بال بال بچ نکلا تھا لیکن ابھی پرانے زخم مندمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ نئی آفات کا سامنا کرنا پڑا۔ گرفتاری کے بعد مجھے اور میرے ساتھیوں کو کیسے کیسے اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑا ‘ اس داستان کا شاہدگو گو لینڈ سری نگر کا وہ بدنام زمانہ تعذیبی مرکز ہے جس کے در و دیوار میں زیر عتاب کشمیر ی نوجوان کی فلک شگاف چیخوں اور ہمالیہ کو ہلانے والی سسکیوں کی  صدائے بازگشت آج بھی سنا رہے ہیں ۔ ۸؍اگست۱۹۹۰ء کو عذاب و عتاب سے نڈھال میرے خاکی وجود کو گوگو لینڈ انٹروگیشن سیل سے نکال کر جہاز میں ڈال دیا گیا ، آنکھوں پر سیاہ پٹیاں بند ھی تھیں، جسم کا رُواں رُواں درد سے چُور ہورہا تھا ، نیم بے ہوشی کی حالت میں دل غم و اضطراب میں غوطہ زن تھا۔ کچھ دیرمیں دست بستہ وپابستہ جہاز

محمد افضل گورو

اس   بار ہم نے کشمیر کے طول وعرض میں نامساعدحالات کے بڑھتے ہوئے مہیب سلسلے کے بیچ۹؍فروری کو کشمیر کے ایک مظلوم بیٹے محمد افضل گوروکو یاد کیا۔ چھ سال قبل یہ دن قوم کے لئے انتہائی سوگواری اور غم زدگی کی سوغات لئے طلوع ہوا تھا  اور آج بھی پوری وادی خون خرابے اور بشری حقوق کی پامالیوں کے درمیان سسک رہی ہے، چیخ رہی ہے ، تھر تھرکانپ رہی ہے۔ یہاں ہر طرف مشکلات ہی مشکلات کھائی دے رہے ہیں ،کہیں کسی کی جان چلی جاتی ہے، کہیں کوئی زخمی ہو رہاہے ،کہیں کوئی اذیتیں اور صعوبتیں برداشت کر رہا ہے۔ یہ سب اس لئے ہورہاہے کہ اس مظلوم قوم سے ایک نعمت ِعظمیٰ چھین لی گئی ہے،اس کی عزتِ نفس ، داؤ پر لگا ئی گئی ہے ، اس کی سیاسی تقدیر پر آلام و مصائب کے پہرے بٹھائے گئے ہیں ۔ قابل دید بات یہ ہے کہ ہر طرح کی مصیبتوں کے باوجود بھی اس نعمت عظمیٰ کا مطالبہ کرنے والے اپنی منزل سے مایوس نہیں ہیں بلکہ وہ

تضادات کے طوفانوں میں ڈولتی مسئلہ کشمیر کی کشتی

وزیراعظم نریندر مودی تین فروری کو ریاست جموں و کشمیر کے طوفانی دورے پر پہنچے ۔انہو ں نے پہلے ہی کے اعلان شدہ کئی اہم اور بڑے پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا اور ریاست کی ترقی اورخوشحالی کیلئے ہر طرح کی معاونت کا وعد ہ بھی کیا ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کو جہاں یہ توقع تھی کہ وہ کشمیر کے نوجوانوں کی ناراضگی اور اشتعال کو کم کرنے کے لئے کو ئی پہل ضرور کریں گے وہاں وہ یہ بھی اندازہ کررہے تھے کہ وزیر اعظم اس بار اپنے ہمسایہ ملک کیخلاف انتہائی تند اور ترش لہجہ اختیار کریں گے کیونکہ انتخابات سر پر ہیںاور ان کی جیب میں دوہی کارڈ ہیں ایک رام مندر اور دوسرا کشمیر لیکن انہوں نے بہت محتاط الفاظ کے ساتھ کہاکہ سرحدوں پر اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے سرجیکل سٹرائیک کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہم نے اپنی پالیسی کو پہلے ہی واضح کردیا ہے ۔ انہوں نے یہ احتیاط کیوں برتی، وہی جانتے ہیں تاہم

کشمیر میں انسانوں کے علاوہ مودی کوسب سے پیار

۔3فروری 2019 ء کو وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ، جموں اور کشمیر کا ایک طوفانی دورہ کیا۔ طوفانی اس لئے کہ انہوں نے اتنے ترقیاتی پروجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھا، کہ وہ سب اگر واقعی اُن کے دور اقتدار میں، جس کی معیاد اب کچھ ہی مہینے ہے، مکمل ہوتے ہیں تو میں ایمانداری سے اگلے پارلیمانی انتخاب میں اُنہیں کو ووٹ کروں گا۔ لیکن میں بھی جانتا ہوں اور وہ بھی مجھ سے بہت بہتر جانتے ہیں کہ ایسا ہونے والا نہیں۔  اقتدار کی مدت کے اختتام پر حکمران جن پروجیکٹوں کا افتتاح کرتے ہیں، اُن کی مثال اُس ہو ا ئی پمپ جیسی ہوتی ہے جو دمے کے مریض اکثر استعمال کرتے ہیں۔ یہ ہوائی پمپ کچھ دیر کیلئے سہولت کا سبب تو بنتے ہیں، لیکن کُلی طور مرض سے نجات نہیں دلاتے۔ہاں اس پمپ سے ایک امید بندھ جاتی ہے کہ کل شاید بہتر ہو۔ اور ایسا لگتا ہے کہ وہی امید جگانے کیلئے مودی جی انتخابات سے قبل جموں و کشمیر تشریف لائے۔ اس میں ش

مغربی تہذیب کے رنگ رُوپ

اس   عالم رنگ وبود میں انسانی فکر یا مادی ترقی کو تہذیب((Civilization)کہا جاتا ہے، اس لحاظ سے تہذیب کادائرہ ادبی،نظریاتی، عقلی،فلسفیانہ، اور سائنسی تحقیقات سے لے کر ان تمام وسائل وایجادات،برق وبخارات اور صنعتی ترقیوں تک پھیلا ہوا ہے جن کی مدد سے انسانی معاشرہ نے زندگی میں ترقی،مادی تنظیم اور اجتماعی خوشحالی کے نئے نئے آفاق و گوشے تلاش کر لئے ہیں۔ تہذیب کے اس وسیع مفہوم میں وہ نظریات وافکار اور نظام ہائے زندگی بھی شامل ہیں جن سے سماج کے ڈھانچے کو مضبوط کیا جاتا ہے، اس کے مقاصد کو بروئے کار لایا جاتاہے۔تہذیب کا مقصد انسانی زندگی کے فکری، عقلی،مادی،عملی،معاشی، ذہنی،اخلاقی،انفرادی اور اجتماعی پہلؤوں کو ایک تناسب کے ساتھ صحیح سمت پر لگائے اور سب کوبہتری اور خوبی عطاکرے۔ تہذیب اور ترقی کا پیمانہ مادی مصنوعات، مختلف علوم،سا ئنسی انکشافات واختراعات،برقی تجلیات وایجادات اور صنعت