شہر میں منافع خوری کا سلسلہ شروع | غذائی اجناس کی مصنوعی قلت کا بہانہ بنا یا جارہا ہے

سرینگر//کورنا وائرس کی تباہ کن صورتحال کے دوران شہر میں یہ افواہیں پھیلا ئی جارہی ہیں کہ آنے والے چوبیس گھنٹوں کے دوران سپلائی بھی بند ہور ہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں فکر وتشویش کی لہر دوڑ گئی اورصارفین کو دودوہاتھوں لوٹنے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔شہر خاص کے ایک شہری نثار احمد نے بتایا کہ جس طرح سے دکاندار لوگوں کو دو د و ہاتھوں لوٹ رہے ہیں اُس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ مذکورہ شہری نے بتایا کہ شہر خاص میں دکاندار آٹا فی کلو چالیس روپئے میں فروخت کر رہے ہیں حالانکہ دو روز قبل اس کی قیمت صرف 20روپئے تھا ۔انہوں نے کہا کہ یہی حال سبزیوں اور دیگر ضروری اشیاے کا بھی ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ چاول کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیاگیا ہے جبکہ سبزی فروشوں نے بھی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے ۔  

۔1000کروڑ روپے زائدالمعیاد ہونے کاخدشہ واجبات میں منتقل کرنے کاٹھیکیداروں کامشورہ

 سرینگر//تعمیراتی ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ پلان کے تحت جو رقومات ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے مختص رکھے گئے تھے، ان کا تصرف عمل میں نہیں لایا گیا،جس کے نتیجے میں مالی سال کے اختتام کے ساتھ ہی یہ رقومات لیپس ہوںگی۔ سینٹرل کنٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی نے سرکار کو مشورہ دیا ہے کہ سال2014سے حکومت کو قریب1000کروڑ روپے کے واجبات ہیںاور سرکار یہ رقومات ان واجبات کی ادائیگی کے مد میں ہی خرچ کریں تاکہ سرکاری خزانے پر بھی بوجھ کم ہواور ٹھیکیداروں کی رقومات جو گزشتہ5برسوں سے واجب الادا ہیں ، واگزار ہو۔سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار کا کہنا ہے کہ کرئونا وائرس کے نتیجے میں ٹھیکیدار بھی گھروں میں اسیر ہوکر رہ گئے ہیں اور انکی مالی حالت بہت خراب ہیںجبکہ تعمیراتی ٹھیکیداروں سے جڑی زنجیر کا بھی یہی حال ہیں کیونکہ انہیں امید تھی کہ مالی سال کے اختتام کے ساتھ ہی انکی رقوم

تازہ ترین