مائیک پومپیوکی وزیر اعظم مودی سے ملاقات

نئی دہلی//امریکہ نے اپنے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اہم گفت و شنید سے پہلے مضبوط دو طرفہ وسیع تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کی دلی خواہش ہے کہ ہندوستان، کاروباری رکاوٹوں کو کم کرے اور غیر جانبدار اور باہمی کاروبار کی طرف بڑھے ۔  پومپیو ہندوستان کے تین روزہ دورے پر کل رات یہاں پہنچے ۔امریکی حکومت نے اس درمیان بیان جاری کر کے کہا‘‘ٹرمپ انتظامیہ یہ یقینی بنانے کی سمت میں کام کر رہا ہے کہ ہندوستان میں کام کر رہی امریکی کمپنیوں کو وہی سہولتیں اور مواقع ملے جو ہندوستانی کمپنیوں کو امریکہ میں مل رہی ہیں۔ اگر ہندوستان تجارتی رکاوٹوں کو کم کرکے منصفانہ اور باہمی کاروباری رخ کی طرف بڑھتا ہے تو ہمارے تجارتی تعلقات میں بہترین اضافہ اور اعلی معیار کے روزگار، جیسا کہ وزیر اعظم نریندر مودی چاہتے ہیں، کی تخلی

بھارت بحرالکاہل شراکت امن وسلامتی اور خوشحالی کے لئے : جے شنکر

نئی دہلی//وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہندوستان کے دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو سے آج ایران سمیت کئی اہم امور پر بات چیت کی۔ڈاکٹر جے شنکر نے اس اہم باہمی ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہند۔ بحرالکاہل شراکت کسی کے خلاف نہیں بلکہ یہ امن’ سلامتی’ استحکام اور خوشحالی کے لئے ہے ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان ایسی جگہ تلاش رہا ہے جہاں عالمی بھلائی کے لئے آزاد شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کیا جاسکے ۔ ہندوستان کے ساتھ تعاون اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے کے معاملے پر ڈاکٹر جے شنکر کے ساتھ اتفاق رائے کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر پومپیونے کہا امریکہ۔ ہندوستان کے درمیان پارٹنرشپ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے ۔ ہمارے درمیان دفاعی سیکٹر میں تعاون میں اضافہ ہورہا ہے اور ہند۔ بحرالکاہل خطہ میں امن اور آزادی برقرار رکھنے میں ہمارے موقف میں ی

نا اہل قرار دیے جانے کے معاملے میں اے اے پی کے غیر مطمئن رکن اسمبلی سپریم کورٹ پہنچے

نئی دہلی//عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رکن اسمبلی کرنل دیویندر سہراوت نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے پر انھیں نااہل ٹھہرائے جانے کا نوٹس ملنے پر بدھ کو سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے کرنل سہراوت کی طرف سے عرضی پر فوراً شنوائی کرنے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو اس معاملے کو دوبارہ ذکرکیا جائے ۔سپریم کورٹ نے کہا،‘ہم اس کی شنوائی کریں گے ۔ آج اس معاملے کو ضروری شنوائی کے لیے جمعرات کو دوبارہ ذکر کریں’۔ کرنل سہراوت کی جانب سے حاضرہونے والے وکیل سولی سہراب جی نے معاملے کی فوراً سماعت کی درخواست کی تھی۔ رکن اسمبلی کے بی جے پی میں شامل ہونے پر دہلی اسمبلی کے اسپیکر نے مسٹر سہراوت کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ مسٹر سہراوت حالیہ 17 ویں لوک سبھا کے الیکشن کے دوران بی جے پی میں شامل ہوئے تھے ۔ غیر مطمئن رکن اسمبلی کو پارٹی بدلنے کے قانون کے تحت نوٹس

میونسپل اہلکار سے مارپیٹ کے الزام میں آکاش وجے ورگیہ گرفتار

اندور// مدھیہ پردیش کے شہر اندور کی مہاتما گاندھی روڈ تھانہ پولس نے آج میونسپل اہلکار کیساتھ مارپیٹ کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی آکاش وجے ورگیہ کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا۔ پولس کے باوثوق ذرائع کے مطابق وجے ورگیہ کو گرفتار کرنے کے بعد مجسٹریٹ گورو گرگ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس دوران وجے ورگیہ کے سیکڑوں حامیوں نے مہاتما گاندھی روڈ تھانے کا گھیراوکرتے ہوئے رکن اسمبلی کو تھانے سے عدالت لے جانے کے دوران جم کر ہنگامہ کیا۔سخت سکیورٹی میں وجہ ورگیہ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔قبل ازیں آج صبح کمپاوئونڈ علاقے میں بوسیدہ مکان کو توڑنے کے لیے جانے والے میونسپل اہلکار کی ایک ٹیم پر وجے ورگیہ نے حملہ کیا۔ میونسپل کے بلڈنگ انسپیکٹر کی شکایت پر وجے ورگیہ کو گرفتار کیا گیا۔وجے ورگیہ اور ان کے دس حامیوں کے خلاف پولس نے سرکاری کام میں رخنہ اندازی اور دیگر دفعات کے تح

اردو اخبارات کے مسائل حل کئے جائیں گے: جاویڈکر

نئی دہلی//سرکردہ اردو صحافیوں نے مرکزی وزیر اطلاعات ونشریات پرکاش جاویڈ کر سے ملاقات کرکے انہیں اردو اخبارات وجرائد کے مسائل سے آگاہ کیا۔گذشتہ شب نئی دہلی کے ہوٹل سوریہ میں این سی پی کے جنرل سیکریٹری ڈی پی ترپاٹھی کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ میں کچھ سینئر اردو صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاکہ وہ مہمان خصوصی پرکاش جاویڈ کر کے ساتھ اردو اخبارات کو در پیش مسائل پر تبادلہ خیال کرسکیں۔مرکزی وزیرنے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دیگر ہندوستانی زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو زبان سے خاص لگاؤ ہے اور وہ فروغ انسانی وسائل کی وزارت میں رہ کر قومی اردو کونسل کے توسط سے اردو کے فروغ کی کوششوں میں شامل رہے ہیں۔اس موقع پر این سی پی کے سینئر لیڈر سید جلال الدین نے مدعو صحافیوں کو وزیر محترم سے متعارف کرایا اور گفتگو کا آغاز کیا۔اردو صحافیوں نے آل انڈیا ریڈیو‘دور درشن‘پی آئی بی