تازہ ترین

بی ایس پی کو راجستھان حکومت سے اپنی حمایت واپس لینی چاہئے : مودی

 کشی نگر/دیوریا//بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی پر راجستھان کے الور میں پیش آئے اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں ہدف تنقید بناتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ گھڑیالی آنسو بہانے کے بجائے بی ایس پی کو ریاستی حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لینی چاہئے ۔مسٹر مودی نے سوال کیا کہ بہن جی نے الور واقعہ کو مذمت کی ہے لیکن وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں کیا کہ بی ایس پی راجستھان میں کانگریس حکومت کو حمایت دے رہی ہے ۔ اگر وہ حقیقی معنوں میں دلتوں کے لئے فکر مند ہیں تو پھر وہ ریاستی حکومت سے اپنی حمایت واپس کیوں نہیں لے لیتیں۔پہلے کشی نگر اور پھر دیوریا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے پورے اپوزیشن پر اصل مسائل کو نظر انداز کرنے اور ‘ہوا تو ہوا’ جیسا تبصرہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مودی نے کہا کہ ان کے پاس صرف ایک جواب ہے اور وہ ہے ‘ہوا تو ہوا’ جو ع

نریندر مودی کی قیادت میں ملک کا وقار بڑھا: نتیش

 اورنگ آباد// جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو ) کے صدر اور بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے آج کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کا وقار بڑھا ہے ۔ مسٹر کمارنے اورنگ آباد ضلع کے گوہ واقع گاندھی میدان میں قومی جمہوری اتحاد ( این ڈی اے ) حمایت یافتہ جے ڈی یو امیدوار مہا بلی سنگھ کے حق میں منعقد ایک انتخابی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم نے ملک کی ترقی کو نئی سمت دی ہے ۔ گذشتہ پانچ سال میں کئی ایسے کام ہوئے ہیں جس سے ملک کاوقار پوری دنیا میں بڑھا ہے ۔ کسانوں کی بہتر ی کیلئے کئی مضبوط قدم اٹھائے گئے ہیں۔ سال 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگناکرنے کا ہدف مقرر کر کے کام کیاجارہاہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ بہار کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے مرکزی حکومت نے کافی کچھ کام کیا ہے ۔ انہوں نے مرکز اور بہار حکومت کے ترقیاتی کاموںکا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ریاست کی کئی سڑکوں کو نیشنل ہائی وے کا

ملک توڑنے والی طاقتوں کی حمایت کررہے ہیں راہل:امت شاہ

 چنبا// بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر امت شاہ نے مسٹر راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی پر زبردست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے ملک کو غیر محفوظ کرنے کا کام کیا ہے ۔ راہل گاندھی جموں وکشمیر کے ان لیڈروں کی حمایت کرتے ہیں جو ملک توڑنے کی بات کرتے ہیں۔ مسٹر امت شاہ ے اتوار کو چنبا میں سنکلپ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مسٹر راہل گاندھی ان لوگوں کی حمایت کی بات کرتے ہیں جو جموں وکشمیر میں الگ وزیر اعظم بنانے کی بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ہندوستان کا ناقابل تقسیم حصہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں برباد نہیں ہونے دیں گے ۔ اقتدار میں آتے ہی جموں وکشمیر سے دفعہ 370 کو ہٹائیں گے ۔ آج ملک میں قوم مخالف طاقتیں سر اٹھارہی ہیں، اسے کچلنے کے لئے مرکز میں مودی حکومت کا ہونا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے اب بات چیت سے کام نہیں چلے گا اینٹ کا جواب پتھر سے

مودی اور بی جے پی کی نفرت کی سیاست پر کانگریس جیت حاصل کرے گی: راہل

 نئی دہلی// کانگریس صدر راہل گاندھی نے سترہویں لوک سبھا کے لئے ہو رہے عام انتخابات میں پارٹی کی جیت کا دعوی کرتے ہوئے اتوار کے روز کہا کہ محبت کی سیاست کانگریس پارٹی کی برسوں پرانی علامت رہی ہے اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نفرت کی سیاست پر جیت حاصل کرے گی۔ مسٹر گاندھی نے یہاں اورنگزیب لین واقع پولنگ مرکز پر اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے کہا کہ ‘‘کانگریس یہ انتخابات روزگار، کسانوں کے مسائل، نوٹ بندي اور جی ایس ٹی کا معیشت پر اثر اور مودی حکومت کے دور میں رافیل سمیت بدعنوانی کے مختلف مسائل پر لڑ رہی ہے ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کانگریس کو دہلی میں کتنی نشستیں ملیں گی، انہوں نے کہاکہ ‘‘یہ عوام کی صوابدید پر منحصر ہے ۔ عوام فیصلہ کریں گے کہ کون فاتح ہوگا’’۔یو این آئی

مینکا کا اتحادکے امیدوار پر رائے دہندگان کو دھمکانے کا الزام

 سلطانپور//مرکزی وزیر اور بی جے پی امیدوار مینکا گاندھی نے سلطان پور لوک سبھا سیٹ پر اتحاد کے امیدوار پر رائے دہندگان کو دھمکی دے کر ووٹنگ کو متأثر کرنے کا الزام لگایا ہے حالانکہ انتخابی افسر نے ان الزامات کا بے بنیاد بتایا ہے ۔محترمہ گاندھی نے کہا کہ اتحاد کے امیدوار چندر بھدر سنگھ گڑکے گاؤں میانگ میں رائے دہندگان کو اپنے حق میں ووٹ کرنے کے لئے دھمکا رہے ہیں جس سے ووٹگ کے متأثر ہونے کا شبہ ہے ۔ ادھر پرگتی شیل سماج وادی پارٹی(لوہیا) امیدوار کملا یادو نے بھی اتحاد کے امیدوار پر گڑبڑی کا الزام لگایا ہے ۔کمشنر منوج مشرا نے ان معاملوں میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں پوری طرح سے پرامن ووٹنگ ہو رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی شکایتیں ضلع الیکشن افسر سے ہوتی ہے ۔ ان کے ذریعہ مجھے کوئی اطلاعی نہیں دی گئی ہے ۔ فی الحال اس انتخاب میں کہیں کسی کو لا اینڈ آرڈر کو ہاتھ میں