تازہ ترین

سرحدی علاقے بالاکوٹ کے طلاب ترک ِتعلیم پر مجبور

مینڈھر//سرحدی تحصیل بالاکوٹ کی عوام نے علاقے میں ڈگری کالج کے قیام کا مطالبہ کیاہے ۔مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ تحصیل بالاکوٹ ایک سرحدی علاقہ ہے جو کئی کلو میٹر دور تک پھیلاہواہے اور یہاں کے طلباء کو یاتو مینڈھر یا پھر راجوری جاکر اعلیٰ تعلیم حاصل کرناپڑتی ہے جس کیلئے ان کیلئے رات کو وہیں قیام کرنا ضروری ہے ۔ان کاکہناہے کہ سرحد پر بسنے والے طلاب غریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کیلئے گاڑیوں اور کمرے کے کرایہ کا بندوبست کرکے تعلیم جاری رکھ پانا مشکل ہے اور یہی وجہ ہے کہ بیشتر طلباء خاص طور پر طالبات ترک تعلیم پر مجبور ہوتی ہیں کیونکہ انہیں آگے جانے کا کوئی راستہ نہیں۔انہوں نے کہاکہ نئے منظور ہوئے پچاس کالجوں میں ایک کالج بالاکوٹ میں قائم کیاجائے ۔مقامی شہریوں ماسٹر عنا یت اللہ خان ،شادم خان ،حاجی گلصید خان اوریوتھ لیڈر ظہیر خان نے کہا کہ اس سے قبل بھی انہوں نے کئی بارحکومت سے ڈگری کالج ک

نیشنل کانفرنس تعمیروترقی اور خصوصی پوزیشن کے دفاع کی ضامن:بخاری

سرنکوٹ //نیشنل کانفرنس کی طرف سے سرنکوٹ کے گائوں فضل آباد میں ایک اجلاس منعقد کیاگیا جس کی صدارت سینئر رہنما و سابق وزیر سید مشتاق احمد شاہ بخاری نے کی ۔ اس موقعہ پر سابق سرپنچ ریاض احمد ملک اور ان کے ساتھی دوبارہ سے نیشنل کانفرنس میں شامل ہوگئے جو پارٹی چھوڑ گئے تھے ۔ اپنے خطاب میں مشتاق بخاری نے کارکنان کی پارٹی میں شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ پارٹی کسی کو بھی ناراض نہیں دیکھناچاہتی ۔ انہوں نے کہاکہ سرنکوٹ کے سبھی لوگ ان کیلئے اہمیت رکھتے ہیں اور 2014میں ناراض ہوجانے والے ورکرواپس آرہے ہیں جو خوش آئند ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سابق مخلوط حکومت نے فضل آباد کے ساتھ کے گئے وعدوں کوایفا نہیں کیا اور تعمیروترقی کے نام پر استحصال کیاگیا۔ ان کاکہناتھاکہ نیشنل کانفرنس ریاست کی تعمیروترقی اور خصوصی پوزیشن کے دفاع کی ضامن ہے اور پارٹی کسی کو بھی ریاست کے خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی

کمیونٹی ہال اسلام آباد اور دیگر سرکاری عمارتیں خستہ حالی کا شکار

پونچھ// سرحدی ضلع پونچھ کی حد متارکہ کے قریب واقع حلقہ پنچایت اسلام آباد جسے 2009میں ماڈل ولیج قرار دیا گیا تھا ،حکام کی عدم توجہی کا شکار بنی ہوئی ہے ۔اس پنچایت میں کروڑوں روپے صرف کرکے تعمیری کام کروائے گئے مگردس سال بعد بھی ان ڈھانچے کو استعمال نہ کئے جانے کے باعث کچھ عمارتیں کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ سرکاری ڈھانچے کھنڈر ات میں تبدیل ہور ہے ہیں اوعرانتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہے۔ان کاکہناتھاکہ 2009میں بنائی گئی عمارتوں میں غیر معیاری میٹریل استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے چند ہی برسوں میں ان کا پلستر اکھڑگیا۔اس سلسلہ میں بات کرتے ہوئے سرپنچ حلقہ پنچایت اسلام آباد نذیر حسین نے کہا کہ کچھ عمارتوں کی چھتوں میں دراڑیں پڑنے کی وجہ سے وہ کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دس سال پہلے جن کاموں کے لئے یہ عمارتیں کروڑ وںروپے صرف کرکے تعمیر ہوئی تھی

۔2کلو میٹر ڈھسل سڑک 4سال بعد بھی نامکمل

  راجوری //2015-16کے دوران منظور ہونے والی ڈھسل سڑک چار سال بعد بھی نامکمل پڑی ہے ۔ یہ سڑک ڈھسل پنچایت گھر سے ڈھسل کریالاں جاتی ہے جسے معلوم نہیں پایہ تکمیل تک پہنچنے میں مزید کتنا عرصہ لگے گا۔مقامی شہریوں پرشوتم لعل شرما اور اشوک کمار شرما کاکہناہے کہ اس سڑک کاکام چار سال قبل شروع ہواتھا تاہم اب تک دو کلو میٹر کام مکمل نہیں ہوپایاہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ واحد سڑک ہے جو ان کے گائوں کو جوڑتی ہے لیکن اس کی تعمیر میں انتہائی درجہ کی لاپرواہی کا مظاہرہ کیاجارہاہے اور یہی وجہ ہے کہ دو کلو میٹر سڑک تعمیر نہیں ہوپائی ہے ۔مقامی لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اسے جلد سے جلد مکمل کیاجائے ۔دریں اثناء محکمہ تعمیرات عامہ کے ایک افسر نے بتایاکہ چار سال قبل 191.68لاکھ روپے کی لاگت سے سڑک کاکام شروع ہواتھا لیکن ایک تنازعہ کھڑا ہوجانے کے بعد یہ معاملہ عدالت میں چلاگیا ا

پھلیانہ راجوری میں سبزی وفروٹ منڈی کا معاملہ حل

  راجوری //ڈپٹی کمشنر راجوری محمد اعجازاسد نے محکمہ باغبانی اور محکمہ زراعت و محکمہ مال کے افسران کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کرکے پھلیانہ گائوں میں سبزی وفروٹ منڈی کے قیام کا معاملہ حل کیا ۔اس موقعہ پر بتایاگیاکہ یہ منڈی 30کنال اور19مرلے اراضی پر ہوگی جس میں دکانیں ،دو انتظامی بلاک ،بیت الخلاء، سڑک اور پارکنگ و پانی کی نکاسی کا کام کیاگیاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ 65دکانیں تعمیر کی جاچکی ہیں اور ان کی الاٹ منٹ بھی ہونے والی ہے جبکہ یہ پروجیکٹ 3.27کروڑ روپے کی لاگت سے بناہے ۔اس موقعہ پر اعجازاسد نے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کی کہ وہ دکانداروں کو ہدایت جاری کریں کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اندر کانوں پر کام شروع کرکے تجارتی سرگرمیوں کاآغاز کریں نہیں تو ان کی الاٹ منٹ منسوخ کردی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ سبزی و فروٹ منڈی میں بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے گا اور اس کی توسیع

آرمی گڈ ویل سکول پوٹھہ نے یوم تاسیس منایا

سرنکوٹ //آرمی گڈ ویل سکول پوٹھہ میں یوم تاسیس کی تقریب منعقد ہوئی ۔یہ ادارہ 2001میں قائم کیاگیاتھا جس میں سرنکوٹ اور ملحقہ علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ سکول میں جدید کلاس رو، اسمارٹ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ خدمات بھی فراہم ہیں ۔اس کے علاوہ لائبریری اور سائنس لیبارٹری جیسی سہولیات بھی دستیاب رکھی گئی ہیں ۔ یوم تاسیس کی تقریب کے دوران راشٹریہ رائفل کے سیکٹر کمانڈر مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے ۔اس دوران طلباء نے رنگا رنگ پروگرام پیش کئے جن کی کارکردگی کی ستائش کی گئی ۔ تقریب میں موجود مہمان خصوصی نے تعلیمی معیار کو فروغ دینے کیلئے عوام سے تعاون کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہاکہ سکول کی کارکردگی قابل ستائش رہی ہے اور آئندہ بھی طلباء کو بہتر سے بہتر تعلیم فراہم کرنا مقصد رہے گا۔  

پیر حیدر شاہ کا 3روزہ عرس منایاگیا

مینڈھر//مینڈھر کی منکوٹ تحصیل کے چھجلہ علاقہ میں ہر سال کی طرح اس سال بھی پیر سید حیدر علی شاہ کا تین روزہ عرس پاک عقیدت اور احترام کے ساتھ منایاگیا۔عرس میں خطہ پیر پنجال سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ عرس ٹھیکیدار و سرپنچ چھجلہ چوہدری امان اللہ کی قیادت میں منایا گیا۔  عرس کے دوران بڑی تعداد میں علماء حضرات نے بھی شرکت کی اور لوگوں کو اولیاء اللہ کی خدمات کے بارے میں بتایا۔اس دوران ریاست میں ترقی و خوشحالی اور امن و امان کیلئے دعائیں مانگی گئیں ۔ عرس میں عام لوگوں کے علاوہ خطہ پیر پنجال سے تعلق رکھنے والے پولیس و سیول انتظامیہ سے آفیسران نے بھی شرکت کی جن میں ڈی آئی جی راجوری پونچھ ،ایس ایس پی راجوری ،ایس ایس پی پونچھ ،ایس ڈی پی او مینڈھرقابل ذکر ہیں ۔  

مزید خبرں

کلرک دفتر میں موجود نہیں  درجہ ذیل طبقہ جات کیلئے اسناد بنوانا مشکل ہوگیا رمیش کیسر   نوشہرہ //نوشہرہ کے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں اے ایل سی ، ایس ٹی و ایس سی کی سرٹیفکیٹ جاری نہیں کی جارہی ہیں جس کے نتیجہ میں طلباء کو داخلہ لینے اور نوجوانوں کو مختلف جگہوں پر فارم بھرنے میں مشکلات کاسامناہے ۔قابل ذکر ہے کہ متعلقہ کلرک دفتر میں موجود نہیں جس وجہ سے اسناد ہی نہیں بن رہی ہیں اور انتظامیہ کوئی متبادل بھی فراہم نہیں کرپائی ۔پچھلے کئی عرصہ سے لوگ تحصیل دفتر نوشہر ہ کے دفتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں لیکن انہیں اسناد نہیں فراہم ہورہی ہیں۔در ج ذیل طبقہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کاکہناہے کہ وہ دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک گئے ہیں لیکن انہیں کئی عرصہ سے اسناد نہیں مل رہی ۔انہوں نے کہاکہ وہ بارہا حکام سے اپیل کرچکے ہیں کہ یہ اسناد جاری کی جائیں مگر ان کی مدد نہیں ک