کولگام جھڑپ : جاں بحق جنگجوئوں میں معروف کمانڈر زینت الاسلام بھی شامل

سرینگر/جنوبی کشمیر کے کولگام میں سنیچر کی شام فورسز کے ساتھ ایک معرکہ آرائی کے دوران البدر نامی عسکری گروہ کا کمانڈر زینت الاسلام ،ساتھی سمیت جاں بحق ہوگیا۔چلی پورہ ، شوپیان کے رہنے والے زینت الاسلام کا شمار اعلیٰ جنگجو کمانڈروں میں ہوتا تھا ،جو پہلے حزب المجاہدین کے ساتھ وابستہ تھا اور بعد میں البدر میں شامل ہوگیا۔ خبر رساں ایجنسی جی این ایس کے مطابق دوسرے جاں بحق جنگجو کی پہچان شکیل احمد ڈار عرف فیصل کے طور کی گئی ہے۔ شکیل بھی چلی پورہ، شوپیان کا ہی رہنے والا تھا۔ اس سے قبل کولگام ضلع کے کاٹہ پورہ ، یاری پورہ علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین معرکہ آرائی شروع ہوگئی۔ ذرائع نے کہا کہ معرکہ آرائی کے آس پاس مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق معرکہ آرائی کے بیچ ہی نوجوان سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے لگے۔ انہوں نے فورسز پر سنگباری کی جنہوں نے جواب م

الیکشن کمیشن جب چاہے فیصلہ کرلے، اسمبلی چنائو کیلئے تیار

 جموں //ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے کہاہے کہ وہ جموں وکشمیر میں کسی بھی وقت اسمبلی انتخابات منعقد کروانے کیلئے تیار ہیں ۔گورنر نے کہاکہ کشمیر 13سے 23سال کے نوجوانوں کیلئے مسئلہ ہے جن کے پاس شام 6بجے کے بعد کرنے کو کچھ نہیں ہوتا۔گلشن گرائونڈ میں صوبہ جموں کے سرپنچوں کی حلف برداری تقریب کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا’’ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخیں ہمیں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے دی جائیں گی ،الیکشن کمیشن کو تاریخوں کا تعین کرنے دیجئے ،ہم جموں وکشمیر میں کسی بھی وقت انتخابات کروانے کیلئے تیار ہیں ،یہاں تک کہ پارلیمانی چنائو کے ساتھ بھی ‘‘۔ڈاکٹر شاہ فیصل کے استعفیٰ سے متعلق سوال پر گورنر نے کوئی بھی جواب دینے سے انکار کردیا ۔اس سے قبل صوبہ کے 2093نو منتخب سرپنچوں کو حلف دلائے جانے کے بعد گورنر نے اپنے خطاب میں کہاکہ

خواتین کیخلاف جرائم : اغواکاری،گھریلو تشدد،جنسی استحصال اورخودکشی کے رجحان میں اضافہ

  سرینگر//کشمیر صوبے میں صنف نازک کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا اندازہ اس بات لگایا جاسکتا ہے کہ 60گھنٹوں کے دوران ایک خاتون کی عصمت ریزی اور یومیہ2خواتین کی اغوا کاری کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔2018کے دوران کشمیر میں بنت حوا کو نشانہ بنانے کے چونکا دینے والے اعدادو شمارسامنے آئے ہیں۔ وادی میںجہاںگزشتہ برس 8 خواتین گولیوں سے لقمہ اجل ہوئیں،وہیں سماجی سطح پر خواتین کے خلاف جرائم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔خواتین کے خلاف جرائم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر صوبہ میں اوسطاً 60 گھنٹوں کے دوران ایک خاتون کی عصمت ریزی اور یومیہ 2 خواتین کی اغوا کاری ،جبکہ ایک خاتون کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنانے کے معاملات سامنے آتے ہیں۔ کیس درج ہوتے ہیں۔ گذشتہ سال کے اوائل میں ہی رسانہ کھٹوعہ میں ایک معصوم بچی کی عصمت ریزی اور قتل کا واقعہ پیش آیا۔سال کے وسط میں مہجور نگر علاقے میں سکھ فر

حریت سے مذاکرات میں کوئی قباحت نہیں

کلکتہ//صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹرفاروق عبد اللہ نے آرٹیکل370کو ختم کرنے کی وکالت کرنے والوں کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اور کشمیر کے الحاق کی تاریخ اور اسباب کو نہیں جاننے والے ہی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دفعہ 370اور 35اے کو ہندوستان کے آئین کا حصہ کشمیری مسلمانوں کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومت ہند اور جموں و کشمیر کے مہاراجہ کے درمیان معاہدہ کے وقت ہی شامل کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کلکتہ میں سنٹر فار پیس اینڈ پرگریسیو کی جانب سے منعقد ایک مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ فوجی قوت کے ذریعہ کبھی بھی حل نہیں ہوسکتا بلکہ مسئلہ کا واحدحل بات چیت ہے اور یہ شرائط کے بغیر مسلسل جاری رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے آرمی چیف جنرل راوت نے کہا ہے کہ ہندوستان طالبان کے ساتھ غیر مشروط بات چیت کرنے کو تیار ہے،ہم اس کا استقبال کرتے ہیں،مگر

استعفیٰ دلی کیخلاف’ چھوٹے سے غصہ‘ کا اظہار

 سرینگر //سابق بیورو کریٹ ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کریں گے ۔البتہ حتمی فیصلہ لینے سے قبل پہلے زمینی سطح پر تمام متعلقین خاص طور پر نوجوانوں کے ساتھ گفت وشنید کریں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر شاہ فیصل نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ اُن کا استعفیٰ نئی دہلی اور مرکزی سرکار کے خلاف اْن کا ''چھوٹا سا غصے کا اظہار تھا'' تاکہ مرکزی حکومت کو کشمیر یوں کے بارے میں اْس کے فرائض یاد دلائے جاسکیں ۔حریت کے متعلق بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہا کہ اُن کا تعلق سسٹم سے ہے اور میں سسٹم کے اندر رہ کر ہی نظام کو بدلنا چاہتا ہوں ۔انہوں نے کہا ’’ حریت مجھے وہ موقع فراہم نہیں کرتی کیونکہ وہ انتخابی سیاست میں یقین نہیں رکھتی ہے ‘‘ ۔ انہوں نے حریت )ع( چیئرمین میر و

محبوسین کیخلاف انتقام گیرانہ پالیسی

  سرینگر//مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے تہاڑ جیل اورریاست اور بیرون ریاست بند محبوسین کی حالت زار پر گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نظربندیوں کو انتقام گیرانہ پالیسی کے تحت طول دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے حکمران بدلے کی آگ میں اس قدر جھلس گئے ہیں کہ انہیں انتقام اور نفرت کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں ہے اور وہ یہاں کے آزادی پسند لوگوں کو فرضی کیسوں میں پھنسا کرسال ہا سال بغیر کسی عدالتی کارروائی کے جرم بے گناہی کی قید کاٹنے پر مجبور کیاجارہا ہے۔  ڈیڑھ سال قبل قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) اورEDکے ایماء پر فرضی اور بے بنیاد کیسوں میں ملوث کئے گئے محبوسین شبیر احمد شاہ،پیر سیف اللہ،الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر ،راجہ معراج ا لد ین کلوال، شاہد الا سلام ،شاہد یوسف، نعیم احمد خان ،فاروق احمد ڈار، ظہور احمد

لالچوک میں گرینیڈ دھماکہ

سرینگر/تجارتی مرکز لالچوک میں جمعہ کی شام سی آر پی ایف بنکر پر دستی بم سے حملہ کیا گیا۔ پلیڈیم سینما میں تعینات سی آر پی ایف کی132بٹالین کے اہلکاروں پر گرینیڈ داغا گیا۔ گرینیڈ کا نشانہ چوک گیا اور وہ زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا،تاہم اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی لالچوک میں کھلبلی مچ گئی،جبکہ کچھ دیر تک ٹریفک کی نقل و حمل بھی رک گئی۔ مقامی خبر رساں ادارے کے مطابق اس دھماکے کی ذمہ داراری عسکری تنظیم جیش محمد نے قبول کی ہے۔   

کلنائی اور پکل ڈول

  لاہور// بھارت نے پاکستان کو متنازعہ آبی منصوبوں کے معائنہ کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد پاکستانی انڈس واٹر کمشنر رواں ماہ ہی اپنی ٹیم کے ہمراہ بھارت جائیں گے۔پاکستانی انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ کے مطابق بھارت نے پا کستان کو دریائے چناب پر زیر تعمیر آبی منصوبوں کے معائنے کے لئے گرین سگنل دے دیا ہے، امید ہے کہ معاملات طے ہوتے ہی پاکستانی انڈس واٹر کمشنر کی سربراہی میں پا کستانی وفد جنوری کے آخر میں بھارت روانہ ہو جائے گا۔ پاکستانی وفد 27 جنوری سے یکم فروری تک بھارت کا دورہ کرے گا۔ پاکستانی ماہرین کا وفد دریائے چناب پر بننے والے منصوبے لوئر کلنائی اور پکل ڈل کا معائنہ کرے گا۔ بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر بنائے جانے والے دیگر منصوبوں کی معائنہ کے حوالے سے بھی مثبت اشارے ملے ہیں۔واضح رہے کہ بھارتی انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا کی سربراہی میں گزشتہ برس اگست میں بھارتی وفد

تازہ ترین