تازہ ترین

پنشنروں کے مسائل

   حال ہی میں وسطی ضلع بڈگام میں سٹیٹ پنشنروں کا ایک اہم اجلاس ہو ا جس میں اس طبقے کے مسائل پر سیر حاصل گفت وشنید ہوئی۔ اجلاس معروف ٹریڈ یونین لیڈر سمپت پرکاش نے وظیفہ یاب سرکاری ملازمین کے مسائل اُجاگر کئے اور ارباب ِبسط وکشاد سے مودبانہ اپیل کی کہ وہ ان روز مرہ مسائل کا حل نظر انداز کر نے سے گریز کریں۔ اجلاس میں وزیرخزانہ حسیب درابو بھی بہ نفس نفیس موجود تھے۔انہوں نے بطور سابق ملازمین ِ سرکار پنشنروں کی خدمات کا اعتراف بھی کیاا ور ان کی تعظیم وتکریم کا فرض بھی سب کویاد دلایا۔ ا س موقع پر انہوں نے پنشنروں کے حق میں ا گلے مالی سال سے صحت بیمہ رائج کئے جانے کا خوش کن اعلان بھی کیا ۔ حکومت کی طرف سے یہ ایک مبارک اعلان ہے، بالخصوص یہ فیصلہ کہ بیمہ یوجناکا پریمٔم خود حکومت بھرا کر ے گی، یہ پنشنروں کے سکونِ قلب کے لئے بہت ہی اچھا پیغام ہے۔  حکومت کی طرف سے یہ اقدام پنشنروں کے

ماسٹرجی!

 ایک عرصہ سے وہ محکمہ تعلیم میں بحیثیت ایک مدرس تعینات ہوا تھا ۔ دوردور تک شجاعت اور جرأت گفتار کے علاوہ ایک فرض شناس اور وسیع المطالعہ وہمدرد مدرس کی حیثیت سے جانا ماناجاتا تھا۔ ماسٹر جی کے ہر دل عزیز نام سے پکارا جانے وال یہ فرشتہ خصلت انسان ساتھ ہی ساتھ خیرو بھلائی کے کاموں میں بھی پہل کرتا۔ زندگی کے شب و روز میں اسلامی عقائد و نظریات کو ترویج دینا اور ان کے لئے جینا مرنا اس کی تمنا تھی ۔ اپنی شستہ زبان اور دلنشین بیان سے وہ حریفوں کے دل بھی جیت لیتا تھا ۔ نہ جانے باطل کے پرستار ماسٹر جی کے خلاف آمادہ ٔ شر کیوں ہوگئے ۔ ایک دن گاؤں کے دوسرے شریف لوگوں کی طرح اُسے بھی نزدیکی فوجی کیمپ سے حاضری کا بلاواآیا۔ حکم کی تعمیل میں اس بے باک اور سچے محب وطن شخص نے فوجی چھاونی میںقدم رکھا ۔ بے شک اس کے ذہن میں طرح طرح کے خدشات اورو سوسے تھے۔چھاؤنی کے درو دیوار  دیکھتے ہی انسان پر

مرحوم محمد اسمٰعیل بٹ

مرحوم محمد اسمٰعیل بٹ محتاج تعارف نہیں۔انہوں نے دعوتِ دین اور اصلاحی امور کے محاذ پر جو کارہائے نمایاں انجام دئے ان کا ہر کس ناکس کو اعتراف ہے ۔مرحوم نے بحیثیت ایک ماہر تعلیم ،داعیٔ اسلام اورسماجی اصلاح کار کے طور ایسی گراں قدر خدمات انجام دیں جن کا تاریخ دعوت وعزیمت میں ہمیشہ سنہرے حروف سے ذکر ہوگا۔ان کی شخصیت میں بلند اوصاف کی شرینی ان کی مسکراہٹوں میں دل نوازی ،اُن کی تحریر وتقریر میں خلوص کی گرمی ،ان کی جلوت و خلوت میں خدا خوفی اور انسان دوستی جیسی اوصاف اس طرح گندھی ہوئی تھیں کہ آج بھی ان کے جاننے والے مرحوم کو اشک بار دعائوں سے یاد کرتے ہیں۔بظاہر وہ ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کی دینی فکر اور تحریکی خدمات آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔با لخصوص ان داعیان دین کے واسطے جو سرزمین کشمیر میںخلق خدا کو ہدایت وفلاح کے پُرامن راستے پر گامزن کرنے میں پیش پیش ہیں۔ مرحومحمد اسمٰعیل

اچھی تعلیم سے عمدہ کردار بنے

اکثر لوگ جب اپنے بچوں کی تعلیم اور کیر ئرکے بارے میں یہ خواب دیکھتے ہیں کہ ان کے بچے پڑھ لکھ کر کامیاب شخص ثابت ہوں اور یہ کہ وہ اخلاقی لحاظ سے بھی اعلیٰ کردار کے مالک شہری ہوں ۔اس ضمن میں جب ہم عصری درسگاہوں کی جانب ہماری نظریں دوڑاتے ہیں تو ہمارا مشاہدہ کہتا ہے کہ یہاں بارہ سے پندرہ سال کے ایک طویل تعلیمی سلسلے کے بعد بھی اکثربچے اخلاقی وتربیتی لحاظ سے کا فی پسماندہ ہوتے ہیں۔ اس کے مدمقابل مدارس کے طلباء اخلاقی تربیت کے میدان میں کافی سرگرم نظر آتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ سماج کا ایک بڑا طبقہ مدارس کے طلباء کو عصری علوم سے نابلد قرار دیتا ہے جو کہ قطعی حقیقت نہیں ہے بلکہ اس کی منفی سوچ کا غمازہے۔ اس غلط سوچ کا خاتمہ کرنے میں سب سے بڑی ذمہ داری ان حضرات پر بھی آتی ہے جو ان اداروں کو چلاتے ہیں ۔اس منفی سوچ کے پیچھے مذہبی علوم سے بہت دوری ہونابھی ایک اہم وجہ ہے ۔ شایداقبال نے اسی لئے ک

جہلم۔۔۔کھدائی کھٹائی میں

2014ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد حکومت جموں و کشمیر نے دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ کئی چھوٹے بڑے ندی نالوں کی کھدائی عمل میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ چنانچہ ا س کام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے 2015ء میں مرکز نے فنڈس واگذار کئے اورکافی زور وشور کے ساتھ کام بھی شروع کیا گیا مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ تین سال گذرنے کے بعد بھی یہ کام نا مکمل ہے ۔ان تین برسوں میںاگرچہ چند جگہوں پرکھدائی کا کام  پورا کرلیا گیا ہے تاہم بدقسمتی سے بیشتر جگہیں ایسی ہیں جو اس حوالے سے مکمل طور پر عدم دلچسپی کی شکار ہیں،جہاں پر ابھی تک متعلقہ حکام نے ہاتھ تک نہیں لگایا گیا ہے ۔اس سے یہ شبہ تقویت پکڑ رہا ہے کہ کھدائی کا کام کھٹائی میں ڈال دیا گیا ہے ،خاص طور سنگھم پُل سے بجبہاڑہ تک دریائے جہلم کاسارا مشرقی کنارہ مکمل طور پس پشت ڈالا گیا ہے ۔حالانکہ اس کنارے پر بیشتر آبادی رہائش پذیر ہے جو پچھلے تین برسوں سے جہلم اور اس س

سوشل میڈیا ۔۔۔ جائز استعمال کریں

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کی وساطت سے جدیددور میں ایک عام انسان اپنے خیالات و،تصورات اور ضروری معلومات دوسروں سے شیئر کرتاہے۔سماجی برائیوں کا حل ڈھونڈنا ،اپنے اندر چھپے ٹیلنٹ کو اُبھارنا ، کسی محتاج کی ومریض کی مدد کرنا وغیرہ سوشل میڈیا کا خاصا بن رہاہے ۔آج کے مسابقتی زمانے میں سوشل میڈیا کاایک اہم رول ہے ،ہمیں گھر بیٹھے ایسا کچھ سیکھنے کو ملتا ہے جو ہمارے لئے بہت معنی رکھتا ہے، مثلاًدنیا بھر کی خبریں ، کس ملک نے کیا نئی ایجاد کی،کس ملک نے کون سا نیا تجربہ کیا،اپنے ملک کی ہر قسم کی جانکاری ، ا پنے دور دور کے رشتہ دارو اور دوستوں کے ساتھ رابطہ وغیرہ بھی سوشل میڈیا کامرہون ِ منت ہے۔ اس نے پوری دنیا کو ایک گاؤں اور ایک ہی کنبے میںمیں تبدیل کیا ہے لیکن بد قسمتی سے دنیا میں اس میڈیاکا غلط استعمال بھی ہو رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے معاشرے کو خراب کر کے رکھ دیا لیکن سوچنے وا

آدھار کارڈ پر زندگی کا دارو مدار ہے؟

دسمبر ۲۰۱۲ء میں دلی میں گینگ ریپ ہوا تھاجس نے زنا بالجبر کے معاملے میں پورے ملک کو ہلا دیا تھا ۔حکومت بھی ہلی تھی اور اس نے حسب معمول سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج محترم جے ایس ورما کی سربراہی میں اس قسم کے جرائم کے تدارک کے لئے ایک کمیٹی بنا دی تھی آزادی کے بعد سے ہماری حکومتوں کا یہ وتیرہ ہے کہ وہ بندر کی بلا طویلے کے سر ڈالنے کے لئے ایک کمیٹی بنا دیتی ہے ۔اس سے ہوتا یہ ہے کہ بہت سے بے کار لوگ باکار ہو جاتے ہیں ،عوام بھی خوش ہو جاتے ہیں کہ ہمارے ہلنے کا بلکہ ہلانے کا کچھ تو نتیجہ نکلا۔اتنا بھی نہ نکلتا تو ہم کیا کرلیتے۔۔خیر۔مگر آنریبل جسٹس ورما کی اس کمیٹی نے جو خود بھی ہلی ہوئی تھی، بڑی سنجیدگی کے ساتھ زانیوں کے خلاف سخت قوانین ملک کو دئے تھے۔مثلاً یہ کہ اگر کوئی مرد کسی عورت کے پیچھے چل رہا ہے تو عورت اس مرد پر یہ الزام لگا سکتی ہے کہ مرد بری نیت سے اس کا  پیچھاکر رہا ہے

کرسی ملی زبان بدلی

 کہتے ہیں کہ سیاسی لوگ مستقل مزاج نہیں ہوتے بلکہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں ۔یہ لوگ جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو ایک بولی بولتے ہیں اور جب اقتدار میں آتے ہیں تو کوئی اور ہی بھاشا بولتے ہیں ۔ ریاست جموں و کشمیر کے سیاسی لیڈراس ڈبل زبان کے فن میں ماہر ہیں ۔ وزیر اعلیٰ محترمہ محبوبہ مفتی صاحبہ کابہ حیثیت اپو زیشن لیڈر رویہ، اُن کے بیانات اور اُن کی تقاریر سن کر لوگ یہ توقع کرتے تھے کہ محترمہ اقتدار میں آکر کایا پلٹ کریں گی۔ اس وقت اُن کی زبان پر صرف اور صرف نیشنل کانفرنس کی مخالفت رہتی تھی مثلاًیہ کہ ریاست کے تمام بڑے پاور پروجیکٹوں کو نیشنل کانفرنس نے ہی مرکز کے پاس گروی رکھا ،یہ کہ مذکورہ پارٹی نے ہی دفعہ 370کو کمزور کیا ، یہ کہ نیشنل کانفرنس نے ہی یہاں ہندو مسلم و سکھ بھائی چارے کو زک پہنچائی وغیرہ وغیرہ۔ محبوبہ مفتی صاحبہ سے عرض ہے کہ جتنے الزامات آپ نے بہ حیثیت اپوزیشن لیڈر نیشن

واہ رے سیاست!

کچھ عرصہ سے کشمیر کی سرزمین پر خون آشام نحوستوں کا سایہ متواتر دراز سے دراز سے درازتر ہورہاہے ۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب یہاں کشت وخون کا کوئی دل دہلانے والاواقعہ رونما نہیں ہوتا ۔ مسلح جھڑپیں، عوامی مظاہرے اور پھر مظاہرین پر گولیوں اور چھروں کی بارشیں، عوام کی مارپیٹ ، آزادی پسندوں کی گرفتاریاں اور طرح طرح کے دوسرے مظالم دیکھ کر ہر باشعور انسان کلیجہ کو منہ کو آتا ہے ۔ میری نگاہ میں غالباً یہی مسئلہ کشمیر کا وہ’’ حل‘‘ ہے جس کے لئے ہندوستان کے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے تین ماہ کا وقفہ مانگا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بیچ ہمارے طالع آزما لیڈر اور حکمران کیا کر رہے ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں ۔ پی ڈی پی سے گلہ ہی نہیں کہ وہ زخموں کامرہم اور گولی نہیں بولی کے بالکل اُلٹ جارہی ہے کیونکہ اس کی شہ رگ جن سنگھ کے ہاتھ میں ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبدالل

پولیس اسٹیشن گنڈ کاالمیہ

 کشمیر میں ہو رہے خونِ ناحق اور ظلم و جبر کی تصویر پوری دنیا کے سامنے ہے۔اس تباہ کن سلسلے کو چلتے دہائیاں ہونے کو آئی ہیں ،طاقت ور بدستور اپنی وحشیانہ طاقت کا استعمال کررہا ہے خواہ گولی سے، خواہ بشری حقو ق کی خلاف ورزی سے ، خواہ استحصالی ہتھکنڈوں سے یا پھر نئی سیاسی اصطلاح ’’بولی اور ہرے زخموں کی مرہم پٹی سے ‘‘کے ڈھونگ رچا کر۔ایسی ناقابل برداشت مثالیں تو کہیں نہ کہیں دیکھنے کو ملتی ہی رہیں گی کیونکہ دشمن تو آخر دشمنی ہی کرے گا ،جس میں اسے کوئی مضائقہ نظر نہیں آتا چاہے انسانی دنیا اس کی کتنی بھی سرزنش کرے۔ آپ کشمیر کی موجودہ ناگفتہ بہ صورت حال دیکھئے کہ اس پر …… دوست دوست نہ رہا…… صادق آتا ہے ۔ ہمارے تو’’ دوست‘‘ کہلانے والے ہی بدل گئے ہیں لیکن انہیں جن اغیار کی پیالہ برداری فرصت نہیں ملتی، اُنہی خاکی و

دفعہ 35 اے پر مرکز خاموش کیوں ؟

پچھلے ہفتے بھارت کی عدالت عالیہ کے سامنے دفعہ 35 Aکے ضمن میں پیشی کے دوران بھارت سرکار نے پُر اسرار خاموشی سادھ لی حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ریاستی سرکار کے ساتھ ساتھ بھارت سرکار بھی اس اہم دفعہ سے وابستہ تمام حقائق عدالت عالیہ کے سامنے رکھ لیتی لیکن ہوا یوں کہ موضوع کو حساس قرار دیتے ہوئے بھارت سرکار نے کچھ بھی کہنے سے اجتناب کیا۔بھارت سرکار کے ایڈوکیٹ جنرل کے۔ کے وینو گوپال عدالت عالیہ میں پیش تو ہوئے لیکن اُنہوں نے کہا کہ وہ اِس معاملے میں حلف نامہ پیش نہیں کرنا چاہتے یعنی کوئی کاغذی دستاویز پیش نہیں کرنا چاہتے۔دفعہ 35 Aکو جانچا جائے تو قانون اساسی میں یہ دفعہ ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق کی ضامن ہے اور اِس میں کوئی ایسی کوئی بات نہیں جو قابل نگارش نہ ہو یا حساسیت کا لیبل چڑھا کے اُسے صیغہ راز میں رکھا جائے۔ دفعہ 35 Aپہ حساسیت کی غلاف چڑھانے کا یہی مطلب لیا جا سکتا ہے ک

آہ۔۔۔۔۔انجینئر فدا حسین جُو

۔16؍ جون 2017 کومجھے ایک دوست کی جانب سے نہایت ہی پراگندہ لہجے میں انجینئر فدا حسین جْو  کے انتقال پُر ملال کے بارے میں خبرملی۔ اس سے قبل کسی نے یہ خبر واٹس اپ پر نشر کر دی تھی کہ فدا حسین اب اس دنیا میں نہ رہے۔ جب اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ تنظیم المکاتب کے سابق نامی گرامی رکن اور ایجوکیشنل ٹرسٹ کشمیر کے نائب صدر چل بسے ہیں تو پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ نہ جانے کیوں فدا حسین جو کے ساتھ مرحوم لکھ کر مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میں اپنے ہی مرقد کا کتبہ لکھ رہا ہوں۔ مرحوم کے ساتھ میرے بہت زیادہ گہرے اور قریبی تعلقات نہیں تھے بلکہ ایک دو بار چند منٹ طویل ہی رو برو ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔یہ امر لازمی نہیں ہے کہ جس کسی شخصیت سے آپ متاثر ہوںاس کے  ساتھ ہمیشہ چپکے رہیںاور ہر شادی و غمی میں اس کا دست ِشفقت آپ کے شانے پر رہے۔ البتہ کسی کا بظاہر معمولی سا احسان بھی اگر آپ کی زندگی ک

چلو صیام میں سگریٹ نوشی چھوڑیں!

مختلف ممالک اور اقوام میں زمانہ قدیم سے جو بے ہودہ اور مضر صحت نشے عقل انسانی کے دشمن اور شیطان مردود کے چلتے پھرتے  کارخانے مانے جاتے ہیں، ان میں بھنگ ، افیون، شراب وغیرہ جیسی نشیلی اشیاء سے دنیا واقف ہے۔ خداوندتعالیٰ ہی نہیں بلکہ انسانیت کے بہی خواہ اور صحت وعافیت کے علمبردار اور فلاسفر بھی ان ہی بے ہودہ نشیلی اشیاء کے استعمال سے بندگان ِ خدا کو متنبہ کر تے رہے ہیں مگر نتیجہ ندارد۔ تقریباً چار سو سال قبل نشیلی اشیاء میں ایک اور خبیث نشے کا اضافہ ہو گیا جس کو ’’تمباکو‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ تمباکو بھی زمین سے ہی اُگتا ہے اور مختلف زبانوں میں اس کے نام مختلف ہیں۔ اگرچہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ تمباکو ہر شکل و صورت میں انسانی صحت کے لئے زہر ہلاہل ہے ، تاہم اس کے استعمال سے علمائے کرام اور معالجین ہمیشہ لوگوں کوروکنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں ۔ مستند و م

آہ! حاجی غلام محمد وانی بارہمولہ

آخر اللہ کی مرضی پوری ہو ئی۔ دو سال شدید علالت کے بعد میرے والد صاحب حاجی غلام محمد وانی ، ساکنہ خواجہ باغ بارہمولہ تقریباً ایک سو سال کی عمر پاکر انتقال کر گئے۔ انتقال سے دو ہفتے پہلے تک بالکل ہوش و حواس میں تھے۔ یاداشت غضب کی پائی تھی، دینی علوم اور معاملات میں پوری دست گاہ رکھتے تھے۔ مولانا رومی، حافظ ، سعدی ، شیرازی ، ملا طاہر غنی کاشمیری، علامہ اقبال کے اشعار موقع و محل کی مناسبت سے وردِ زبان رہتے تھے۔اُردو، عربی اور فارسی زبانوں پر خاصی دسترس رکھتے تھے۔ قصبہ بارہمولہ میں جب حضرت مولانا ولی شاہ صاحب نے توحید کی تحریک شروع کی تو والد صاحب نے اِس تحریک میں اُن کا بھر پور ساتھ دیا اور اس میں عملی طور شریک ہو کر کافی مشکلات کا خندہ پیشانی سے سامنا کیا۔ اس طرح جب بارہمولہ میں تحریک اسلامی کا آغاز ہوا تو مولانا حبیب اللہ شاہ مرحوم ( سابقہ خطیب و امام مسجد بیت المکرم بارہمولہ) کے ہمراہ

اُف ! یہ ہمارے کر م فرما

   گزشتہ مہینے میں سری نگر پارلیمانی انتخابات انتخابات کے وقت کشمیر ماتم کد ے میں تبدیل ہو ا کہ ا س روز آٹھ جنازے اُٹھے ، درجنوں نوجوان زخمی کئے گئے اور متعد مقامات پر توڑ پھوڑاور گرفتاریاں ہوئیں۔ آخر پر سابق وزیراعلیٰ داکٹر فاروق عبداللہ کو چار فی صد ووٹ لے کر منتخب قراردیا گیا۔ا نہوں نے ا س موقع پر حسب سابق دفعہ ۳۷۰ کے حوالے سے حسن ِغم خواری کی ۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ہمارے کرم فرما سیاست دانوں کوا کثر دفعہ ۳۷۰ کا دورہ پڑجاتاہے ۔ جب یہ اقتدارمیں ہوتے ہیں تو اس بارے میںچپ کاروزہ ہی نہیں رکھتے بلکہ اس آرٹیکل کو روندھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور جب کرسی کسی اور کسی اور کی تحویل میںہو تو انہیں اس کی یاد بہت ستاتی ہے ۔ یہ روزاول سے این سی کا طریقہ کار رہا کہ جب انہیںلگاکرسی کھسک رہی ہے تو دفعہ ۳۷۰ کی راگ چھیڑی، اٹونومی کا شور مچایا، ۵۳ کی پوزیشن پر مر مٹنے کی قسمیں کھائ

کشمیر ویلی۔۔۔۔ اسٹوری آف اے جرنلسٹ

وادی کے ایک ہدایت کار حسین خان نے’’ کشمیر ویلی ۔۔۔ اسٹوری آف اے جرنلسٹ‘‘ کے عنوان سے ایک فلم بناکر ثابت کردیا کہ پردے پہ عشقیہ کہانیوں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ پیش کیاجا سکتا ہے۔ خان نے تین سال تک محنت و مشقت کے بعد ایک ایسی کہانی پردے پر لائی جو تمباکو،ڈرگ مافیا،سگریٹ نوشی جیسی کئی برائیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ فلم میں کئی نقلی غیر سیاسی ایجنسیوں کا پردہ بھی فاش کیا گیا ہے۔میرے خیال میں فلم میں 80% سماجی برائیوں کی عکس بند ی کی گئی ہے۔ یہ فیوچر فلمز کشمیر کی پہلی پیش کش ہے جو اردو زبان میں دستیاب ہے ۔ آج کل اس کا کشمیری ورژن چلایا جارہا ہے۔سرکار نے 20؍مارچ تا 4؍اپریل اسے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنوؤکیشن سنٹر میں اس کاشو کر نے کا موقع فراہم کیا۔فلمساز کا کہنا ہے کہ یہ میرے بچپن کاخواب تھا۔یونیورسل سرٹیفکیٹ پانے والی یہ فلم شائقین کے لئے مفید ثابت ہونے کی توقع ہے۔اُ

پنڈت رام چند کاک

 تاریخ گواہ ہے کہ اہل کشمیر نے بہت کم ایسے لیڈروں اور حاکموں کو دیکھا ہے جنہوں نے اس قوم کو لوٹنے کی بجائے اس کی بھلائی اور بہتری کے لئے اپنے دل اور دماغ کی توانائیاں صرف کیں۔ المیہ یہ ہے کہ آج تک ہم نے قائد اعظم جیسا بے لوث رہنما ، گاندھی جیسا بے نفس نیتا یہاں پیدا ہی نہ کیا۔ اس معاملے میں ہماری سر زمین بانجھ ہے ۔ البتہ تاریخ کے اوراق کھنگالتے ہوئے کئی ایک تابناک شخصیات سے ہماراسابقہ پڑتاہے جن کے ذاتی اوصاف کی کھلی کتاب قابل صد ستائش ہے ۔ انہی شخصیات میں مہاراجہ ہری سنگھ کے آخری ایام کے وزیراعظم کشمیر پنڈت رام چند کاک بھی شامل ہیں جنہوں نے کسی نتیجے کی پرواہ کئے بغیر علی الاعلان ریاست کے سیاسی مستقبل کے لئے ایک صحت مند، باوزن اور بااصول رائے دی اور یوں اپنے منصب کا ہی حق اد ا نہ کیا بلکہ کشمیرکا سپوت ہونے کا بھی ثبوت پیش کیا ۔افسو س ان ایام میں کاک صاحب کو وقت کے جابروں نے اُن

آہ! آزادی پسندنذیر احمد وانی

 موقر انگریزی روزنامہ’’ گریٹر کشمیر‘‘(  ۱۸؍مارچ) کے صفحہ اول پر نذیر احمد وانی ولد غلام رسول وانی کی امریکہ میں وفات کی خبر پڑھ کر مجھے بہت دکھ اور افسوس ہوا ۔ اس سانحہ ٔارتحال کے ساتھ ہی اچانک ماضی کی کچھ یادیں مجھے تازہ ہوگئیں۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت کرے ۔مرحوم نذیر احمد دراصل شہر خاص تارہ بل سرینگر کے وانی خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ یہ خانوادہ محاذ رائے شماری سے وابستہ ہونے کے کارن سیاسی سرگرمیوں میں مشغول رہتا تھا ، اس کی پاداش میں بخشی دور حکومت میںمرحوم نذیر احمد کے والد غلام رسول وانی کو سرینگر سے مظفر آباد جلائے وطن کیا گیا تھا ۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب نذیر احمد وانی اپنے ہم جماعتی میر شوکت احمد کے ساتھ آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے اور راقم السطور ایس پی کالج میں زیر تعلیم تھا ۔چنانچہ ایک دن وانی خاندان کے حاجی احمد اللہ صاحب جو کہ

خدا وندانِ محکمہ تعلیم سے

ریاست جموں کشمیر میں ہر دور میں حکومت کی جانب سے ہمیشہ محکمہ تعلیم پر ہی تلوار گرتی رہی ہے اور یہی محکمہ حالات کا سب سے زیادہ متاثر رہا ہے۔ ابھی سال 2016ء کی غم زدہ یادیں تازہ ہی ہیں کہ حکومت کی جانب سے یکم مارچ 2017ء کو اساتذہ کے تبادلوں کے بارے میں حکم نامہ منظر عام پر آگیا۔اگر چہ کسی بھی محکمے کے ملازمین کے تبادلے عوامی مفاد کے پس منظر میں کئے جاتے ہیں لیکن یہاں اس کے برعکس ہوا ، نتیجہ یہ کہ محکمہ تعلیم کے تبادلوں سے عوام کا ایک وسیع حلقہ ناراض ہوگیا۔کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اگرتبادلے عمل میں لانے ہی تھے تو سرما کی تین مہینوں کی چھٹیوں میں تبادلے عمل میں لائے جاسکتے تھے۔بات یہیں پر ختم ہوجاتی تو زیادہ شوروغل نہیں اٹھتا،لیکن محکمہ تعلیم نے جن اساتذہ صاحبان کا تبادلہ عمل میں لایا ،ان میں سے اکثر و بیشتر چھ ماہ پہلے ہی نوکری سے سبکدوش ہوگئے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ لیکچرر صاحبان کو

اساتذہ کا جرم کیا ؟

 انسانی معاشرہ میںسب سے اہم ترین کام تعلیم و تربیت ہے۔ تعلیم و تربیت کا مطلب ہے ایک انسان کو زندگی کا شعور بخشنا، مقصد حیات سمجھانا اور سماج کو درپیش مسائل کے حل میں آرا ء اور تجاویزپیش کرنا۔ جو معمار سیرت یہ کام اپنے کاندھوں پر لے وہی اُستاد کہلاتا ہے ۔ در حقیقت اُستاد ایک شمع کی مانند ہوتاہے جو خود جلتے جلتے چہار سُو نور افشانی کرتا رہتاہے، اسی مناسبت سے وہ اطمینان قلب اور سماج میں عزت و توقیر پاتا ہے۔ والدین کی شفقت بھری آغوش کے بعد بچہ مدرسہ کی آغوش میں اصل پرورش پاتا ہے اور یہ آغوش کہیں زیادہ وسیع ،دلکش اور پیاری ہوتی ہے۔اگرچہ ماں باپ بچے کو اللہ کے اذن سے جنم دیتے ہیں لیکن اُستادکی تربیت سے اُس کے لئے جہالت و لاعلمیت کے سمندر سے نجات دلانے والی کشتی ہوتی ہے جو اسے ساحل ِمراد تک پہنچادیتی  ہے ۔اس کے ہاں سے نہ صرف بچے کو لاڑپیار ملتا ہے بلکہ زندگی کو درکار علوم و فنون