GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

سچے واقعہ پر مبنی ایک کہانی

احسان


عمران ۔۔۔۔۔۔۔کْبڈی کمر موڑو گے کیسے آسیہ۔۔۔۔۔۔۔لنگڑی ٹانگ دوڑو گے کیسے عمران۔۔۔۔۔پاس جو آؤ ہاتھ میں توڑوں آسیہ۔۔۔۔۔۔ توڑو تو پھر جوڑو گے کیسے دس برس کی آسیہ اور اُس سے صرف دو سال بڑا اُسکا بھائی عمران لائن آف کنٹرول پر واقع چکاں دا باغ میں Immigration cum Customs Complex کے

ہائیکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک تعارف



با با غلام شاہ با دشاہ یو نیورسٹی راجو ری جدیداُردو شعری اصنا ف میں ’’ ہا ئیکو ‘‘ سب سے زیا دہ ترقی یا فتہ ، دلچسپ اور مو ثر صنف ہے۔ادب کا ہر ذہین اور با شعور قاری جا نتا ہے کہ وقت و حالا ت کے پیش ِ نظر بہت سی نئی صنفیں وجود میں آ ئیں جن میں سے کچھ تو پیدا ہو تے ہی دم توڑ گئیں اور

قطعات



ہم تیرے گھر میں ہیں یا جنت میں ہیں؟! عیش میں، آرام میں،راحت میں ہیں! اِس پہ تیری خاص نعمت ہے کہ ہم تیرے ہی محبوبؐ کی اُمت میں ہیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آنسورنگ لاکر ہی رہیں گے بہار اپنی دکھا کر ہی رہینگے غَمِ اُمّت میں بہنے والے آنسو جہنم کو بُجھا کر ہی رہیں گے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خنجر چلا دیا کہ مرہم لگا دیا

افسانہ


یہاں آنے سے قبل وہ ایک دوسرے سے ناواقف تے ۔ غیر اور اجنبی تھے حالانکہ دونوں سرکاری ملازم تھے اور اچھے عہدوںپر فائز تھے۔ اُن کا سروسِ کیڈر بھی ایک جیسا تھا لیکن پوسٹنگ الگ الگ جگہوں پر تھی۔ اُنکی پوسٹنگ اب بھی الگ الگ جگہوں پر ہی تھی لیکن رہائشی کوارٹر ساتھ ساتھ ملنے کے بعد اُن

سیلابی دلہن

افسانہ


ببلیؔ یہ سوچ کر دل کو تسلی دیتی رہتی کہ صبر کا پھل خدا دیتا ہے۔دیر سویر دلہن تو بنوں گی۔اب تو استانی بھی تعینات ہوئی ہوں ۔اس مادہ پرستی کے دور میں جب دولت لوگوں کی پہچان بن چکی ہے، ہاتھوں ہاتھ سیج چڑھ جائوں گی‘‘۔۔وہ اپنی ماں شکنتلاؔ کو بھی دلاسہ دیتی رہتی،جو اس کے لئے رشتہ تلا

غزل



تُو کم سخن اگر ہے تو بزم سُخن میں آ دُنیا مری نہیں ہے تکلّم کے بَن میں آ تپتے یہ ریگزار ہیں ہونٹوں کے دائرے بادل کو اوڑھ اوڑھ کے نیلے گگن میں آ پل پل تلاشِ جان میں مرتی ہے زندگی کیسے کہوں کہ موسمِ دار ورسن میں آ کہہ دو یہ بلبلوں سے کہ بادِ نسیم نے گلچیں سے کہہ دیا ہے کہ سیر

غزلیات



دریائوں کو اپنا بنا کر پیاسا ہے ہم نے جان لیا کہ سمندر پیاسا ہے وہ آئے تو پیار کی برکھابر سے گی بنِ اس کے یہ سارا منظر پیاسا ہے جانے کتنے قتل کر ے کا اور ابھی آج تلک قاتل کا خنجر پیاسا ہے بادل بھی سیراب زمیں کو پیار کریں صحرا کے ہونٹوں کا مقدر پیاسا ہے کر لوشوق سے اپنے خون کا

پتھر کے صنم



اے میرے پتھر کے صنم تجھے بھی خدا نے بنایا مجھے بھی خدا نے بنایا تو پتھر کی چٹان ہے میں تیرےقدموں میں بہتا پانی ہوں توبھپرتاطوفان ہے میں خاموش سمندر ہوں اے میرے پتھر کے صنم تجھے بھی خدا نے بنایا مجھے بھی خدا نے بنایا تو اپنے ارادے پر اٹل ہے میں تیرے عزم مصمم کے ڈگمگان

طفل اشک



آ ج بھی میر ی چا روں جا نب دہشت کا جال بکھرا ہے میں فرا ق کے سفر میں اپنے دہکدہ سے نکل کر سوا ل دل سےکرکے کہ کدھر جا ئو ں کیا کرو ں ؟ جس را ہ پر قدم ٹھہرا تا ہو ں ، جس سے بھی کچھ پو چھتا ہو ں ، نفی میں کہہ بو لتے ہیں کدھر آ یا کدھر گیا ۔۔۔؟ کدھر بھو ل پڑے ۔۔۔؟ آ ئینہ سیم









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2015 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By