GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

تماشے روز روز کے

افسانہ


اپنے عالیشان ایئر کنڈیشنڈ دفتر کی ایک آرام دہ’’ ریوالونگ‘‘ کرسی کی آغوش میں بیٹھے اور اعلیٰ برانڈ کی ایک لمبی سگریٹ منہ میں دبائے وہ کش پہ کش لگائے جا رہا تھا۔ دُھویں کے چھلے بناتے ہوئے اور چھلوں کو ہوا میں اُڑاتے ہوئے وہ بیچ بیچ میں اپنی کرسی کو گول گول بھی گھما رہا تھا۔ چ

چائے

انشائیہ


گورمیت سنگھ ڈیوٹی پر حا ضر  ہوتے ہی چائے منگوا لیتے ہیں اُس روز بھی معمو ل کی  طرح وہ چائے پی رہا تھا کہ اُس کا دوست دوڑتا ہواآیا اُس کے چہرے پر گھبرا ہٹ تھی۔  وہ  بوکھلاتے  ہوئے  بولا۔ گورمیت آپ کی ’لاجو‘ غائب ہوگئی ہے‘‘۔ گور میت سنگھ کے ہاتھوں سے چائے کی پی

غزل



بزم کی بزم ہو گئی اُس کی
جب کبھی بات ہےچلی اُس کی
سینکڑوں راحتیں بھی ہوں حاصل
دور ہوگی نہیں کمی اُس کی
میری باتوں پہ مُسکرا دینا
یاد آتی ہے سادگی اُس کی
کاش اس کو بھی ہو کبھی احساس
بارِ خاطر ہے خامشی اس کی
دور تر تھا فریب و مکر سے وہ مزیدپڑھیں۔۔۔

یہ میں نے کیا کیا!

افسانہ


اس روز ثقافتی پروگرام میں نوشین کی شاندار تقریر سن کر حاضرین جھوم اُٹھے اور سبھی کو روشن مستقبل کے بارے میں یقین ہو چلا تھا۔اول  پوزیشن حاصل کرکے یہ معصوم بچی جب گھر کی طرف چلی تو اسکے قدم جیسے ہوا میں پڑ رہے تھے۔ اس کے پاپا ظفر نے جب اُس کے ہاتھوں میں سونے کا میڈل دیکھا تو

نعت پاک



رقم کیسے کروں میں سیّد ابرار کی باتیں
الہی مجھ کو سکھلا حضرت سرکار کی باتیں
اگر ایماں نہیں ہے حضرت شاہِ مدینہ پر
تو پھر یہ نعت گوئی بھی تو ہے بے کار کی باتیں
میں ہر لمحہ ، انھیؐ کی ، دل میں تصویریں بناتا ہوں
اور اکثر سوچتا ہوں لمحۂ دیدار کی باتیں

ابیاتِ شکستہ بحضورِ فخرِعالم ﷺ



میرا سلام سُن لیں خدا کے رسولؐ اب
اِس وقت کی دُعائیں خدایا قبول اب
جس کا سُراغ روزِ ازل نے دیا ہمیں!
وہ رُوحِ کائنات ہمیں ہووُصول اب
بے انتہا جبھی پہ سلام و دُرود ہو
ہم پر بھی اے خدا کے حبیبؐ ہو نزول اب
صلّ ِ علیٰ کہ ذکرِ شفیع الامم کریں!

نعت نبی ﷺ



ہو کیوں نہ عقیدت ہمیں محبوبِ خُدا سے
راضی ہے خُدا جب کہ محمد ؐ کی رضا سے
آراستہ ہیں سرورِ کونینؐ سراسر
اخلاق کے عماّ مے ، تحمل کی قباسے
جب حُبِ نبی ؐ سے ہوا سرشار مِرا دِل
چاہت نہ رہی اور کسی شئے کی خُدا سے
تاریکیوں میں نُور کی برسات ہوئی جب

بہ آمدہ ماہِ صیام مبارک



فضائوں میں شب بھر یہ سر گوشیاں تھیں کہ رحمت کے سائے میں ماہ آرہا ہے
چمن میں چلے کل سے ہم ہولے ہولے مہینہ فضلیت بھرا آرہا ہے
کبوتر کی باغوں میں ہلچل تو دیکھو کہ تحمیدمولیٰ کئے جا رہا ہے
نشیمن میں غفلت سے بیٹھے نہ رہنا، فرشتہ وہ دیکھو چلا آرہا ہے

قطعاعات



 دعوت کا کام عطر کا عنبر کا کام ہے
خاموش مُشکبار گُلِ تر کا کام ہے
ہے اس میں خُوف نام و نمائش کا ہر گھڑی
یہ کام ہے خُلوص کا۔ یہ ڈر کا کام ہے
تبلیغ اپنے دل کو بدلنے کا نام ہے
’ ’  نفس و اَنا‘‘ کے سر کو کُچلنے کا نام ہے
حُکم خُدائے پاک پہ ڈر ڈر

روٹی مکا ّکی



لذت میں مشہور ہے روٹی مکاّ کی
قوت سے بھر پور ہے روٹی مکاّ کی

کیجئے گا منظور ہے، روٹی مکا کی
خوشبوئے کافور ہے روٹی مکا کی 

پیش درِ حضور ہے روٹی  مکاّ کی
گھی میں بالکل چور ہے روٹی  مکاّ کی

آج کا دسترخواں تو اس سے ہ









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2015 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By