GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

گھاس کا تنکا



’’بہت اونچا کھڑا ہوا ‘‘ میں نے لمبی سانس لی ۔اتنی اونچائی سے نیچے دیکھ کر خوف لگتا تھا۔وہ خوف جو طبیعت میں کمزوری لانے کا باعث بن جاتا ہے ۔میرے دماغ میں یہ خیال آگیا ۔ ’’ کیوں نہ میں یہاں سے کود جاؤں ۔پھر میرے جسم کا حلیہ بگڑ جائے گا ‘‘ لیکن کیوں یہ خیال میرے دماغ میں آی

تصویر



جھیل زخمی شیرنی کی طرح اُس کا پیچھا کررہی تھی۔ ہانپتے ہانتے وہ شہر کے بڑے بازار میں پہنچا۔ لیکن دکانداروں کو پہلے ہی کسی نے زخمی جھیل کے بارے میں خبردار کیا تھا ۔انہوںنے تیزی سے دُکانوں کے شٹر گرا دیئے اور خود محفوظ مقامات کی طرف روانہ ہوئے۔ ابھی جھیل کے برن پر لگے گھائو ہرے تھے

’’اُلٹی گنتی اور صفر‘‘



یوں تو اُلٹی گنتی اور صفر کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ میں گھر سے نکل کر تھوڑٰ ہی دور پہنچا تھا کہ اچانک ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوگئی جو کہ میری ملازمت کا ساتھی رہا تھا اور ہم دونوں ایک ساتھ ملازمت سے سبکدوش ہوئے تھے۔ علیک سلیک اور گھریلو خیر و عافیت پوچ

غزل



اس کی رنگت شراب جیسی ہے اور خوشبو گلاب جیسی ہے اک کہانی سی ہے بدن اس کا جس کی صورت کتاب جیسی ہے میں نے دیکھی ہے اک جھلک اس کی ہو بہو ماہتاب جیسی ہے یوں بظاہر ہوں پر سکون مگر کیفیت اضطراب جیسی ہے اچھی لگنے لگی ہے دنیا بھی دل خانہ خراب جیسی ہے ٹوٹ جاتا ہے راہ میں بلراج زند

نظم



میں کیا ہوں خاک پا ہوں جو کہیں ہم ہیں وہ بے دم ہیں ہم و میں کو مٹاؤ اور اپنے ضمیر کو جگاؤ میںہم‘ نہیں ہم‘ نہیں اس بات کا غم نہیں کوئی سلام کرے نہ کرے اور احترام کرے نہ کرے میں بس اپنا کام کروں گا اور روشن اپنا نام کروں گا میں آپ کو کہتا ہوں میں جھرنا ہوں بہتا ہوں کہ.ہر پھو

چاہ



دیکھ نہ پاؤں تجھ کو کوئی بات نہیں ملنے سے رہ جاؤں کوئی بات نہیں دور ہوں تجھ سے میں تو کوئی بات نہیں چہرہ تیرا میرے ذہن کے پردے پر دھندلائے تو پھر بھی کوئی بات نہیں لیکن تیری یادیں ہوں کمزور، یہ منظور نہیں بھول میں جاؤں تجھ کو یہ منظور نہیں کم ہو جائے چاہ تری منظور نہیں چ

قرعہ فال



طارق کی شادی ہوگئی تو اس کے بڑے بھائی نے اس کو اپنے سے الگ کردیا ۔ ان کے ماں باپ پہلے ہی انتقال کرچکے تھے ۔ یہ بات طے تھی کہ اس کی شادی کے بعد ہی دونوں بھائی گھر کا بٹوارا کریں گے لیکن طارق کو اس کی کوئی پروا نہ تھی ۔ وہ اچھا کاری گر تھا، قالین بافی میں بڑا ماہر تھا ۔ اس کی بیوی

غزلیات



زہر چڑھتا ہے کبھی تو ہی غزل لکھتا ہوں وہ نہیں لکھتے ہیں، تو میں اُن کے بدل لکھتا ہوں میں تو حیران ہوں اس باب کے ہر پہلو پر دیر تک روز یہ میں کس کا ازل لکھتا ہوں؟ آپ آگاہ رہیں، بات سند رہتی ہے !! عالمِ کیف میں لکھتا ہوں، اٹل لکھتا ہوں دل اِسی طور سے پگھلے گا، تو میں نے سوچ

بیعت حُسینؑ کی

(ولادت امام حسین علیہ السلام کی نسبت سے)


پیغام صبح ، صبح ولادت حُسین ؑ کی مانند آفتاب ہے شہرت حُسین کی اﷲ رے یہ شان یہ عظمت حُسین ؑ کی ہاں نسبت رسول ؐ ہے نسبت حُسین ؑ کی ہے مشعل حیات شہادت حُسین ؑ کی واجب ہے سرفروشوں پہ بیعت حُسین کی جُھک جُھک کے چاند تاروں نے پیہم کئے طواف وہ منبع ٔ جمال تھی صورت حُسین ؑ کی اسلام









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2015 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By