GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

بولتی تصویر

افسانہ


ایک میلی کچیلی بھیانک سی تصویر روز میرے خیالوں میں اُبھر کر آتی اور کڑوی کڑوی باتیں کہنے لگتی۔میں ایک ساعت کے لئے حیران ہو جاتااور من ہی من میں سوچ لیتا "کہیں یہ میرا وہم تو نہیں۔بھلا ایک بے جان سی تصویر کیسے بول سکتی ہے؟۔ مجھے بظاہر اس کی باتیں سننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی کی

غزل



تم کو سب معلوم ہے کیا بیماری ہے ایک کِرم کی کاٹ میں ہوں، لاچاری ہے دل میں حسرت آج بھی اُن کو پانے کی عمر گذاری جو، لگتی اک خواری ہے سچ کی دہائی دیتے ملیں گے لوگ سبھی ریت مگر نگری کی جھوٹی ساری ہے دن وہ گئے جب رہتی تھی رونق دل میں اب ہے کِھٹ پِٹ مایوسی بیزاری ہے سچ کی کھوج م

غزل



اس نے دیکھا تو ایسا لگادل کو تیر جیسا ہی کوئی چُبھا دل کو روح تڑپی اور درد دِل میںہوا روگ کوئی نہ کوئی لگا دل کو مثلِ شاہین پرواز اونچی رہی کچھ نہ تیرے سوا پھر جچا دل کو اک نگائہ کرم کے تھے منتظر جس کا ارمان ہی اب رہا دل کو چیز کیا ہے وہ ہائے جس کے بنا کچھ لبھاتا نہیں باخد

مشتاق احمد وانی

افسانوں کی دُنیا کا تہذیبی سفیر


عصرِ حاضر میں ادبی دُنیا بھی بڑی تیزی کے ساتھ تغیر پذیر ہے ۔ روزانہ نئے نئے ادبی مو ضوعات سامنے آرہے ہیں ۔ یہ بات حقیقت بھی ہے کہ سائنس کی طرح ادب بھی تغیر کے عمل سے بچ نہیں سکتا ۔ یہاں بھی نئی تبدیلی کے تصور اور نئی کھوج کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ جب ہم یہ ٹھان لیتے ہیں کہ ہمیں جامد

افسانہ

مہمیز


وہ آفس نہیں ایک بڑا ڈیکوریٹیڈ شوروم لگ رہا تھا۔ فرش پر مہنگا کشمیری قالین بچھایا گیا تھا۔اُس پر قیمتی فرنیچر۔ دیواروں پر قد آدم پینٹنگس ۔ کھڑکیوں پر ریشم کے پردے۔ ایک طرف ڈینلپ کے صوفے تھے، جن پر رکھنے نرم تکیوں پر کشمیری چین سٹچ کے غلاف چڑھے تھے ۔ مغلیہ طرز کے دوروازے کے دائ

غزل



کسی کو پانے کا نشہ عجیب ہوتا ہے کسی کو کھونے کا دکھڑا عجیب ہوتا ہے ترے خلاف کبھی فیصلہ نہیں ہوگا مجھے پتہ ہے کہ پیسہ عجیب ہوتا ہے ہرایک شخص سے ملتا ہوں میں محبت سے اسی لیے مجھے دھوکہ عجیب ہوتا ہے گناہ گار تو پھرتا ہے شان سے لیکن گناہ گار کا چہرہ عجیب ہوتا ہے رواج مرنے نہ پ

غزلیات



عدوکوسیم وزر، رنگیں محل، جاہِ جہاں دیدے میرے مولا مجھے آہِ سحر، اشکِ رواں دیدے ہو اندیشہ مری غیرت کے مجروح ہونے کا جس سے خدا وندا مجھے ہرگز نہ ایسا آب و ناں دیدے سلیقہ دے مجھے پیارے نبیؐ کی نعت گوئی کا مجھے مومن قلم دیدے، مجھے شیریں زباں دیدے میانِ کاف و نوں گنجِ رواں ہ

بتقریبِ سعید ’’قیاسی‘‘ بہ آمدہ عروسِ ریختہؔ در ہند



عروسِ اُردو ہَے گھر میں آئی ہَے فرض اِس کو سلام کر لیں چلو کہ اس کو دیں منہ دکھائی، اسی بہانے کلام کر لیں مقامِ خیبرؔ کو پار کر کے، زباں جو اپنے یہ ساتھ لائی مقامی سُر ہم مِلا کے اِس میں، نیا کہ پیدا کلام کر لیں گو اِس زباں کے حروفِ تہجی، زباں مقامی سے منفرد ہیں جو ہوگا باہم









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2015 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By