GK Communications Pvt. Ltd
Edition :
 ادب نامہ

سوائین فلو۔ ۔ ۔!



سوائین فلو کا جب بھی کہیں ذکر ہوتا۔تو میرے ذہن میں حاتم طائی کا غار والا جن نمودار ہو جاتا۔ ۔ ۔! یا اخی۔ ۔ ۔ اور ایک اور لڑکی غڑاپ سے غار کے اندرغائب۔ غار کے باہر کھڑے خوف سے تھرتھر کانپتے قبیلے والوں کے چہروں میں مجھے ماسی کرامتے۔نورا چاچا۔اور مولوی غلام حسن کے چہرےخصوصیت سے

افسانہ

ناگ پھنی


وہ حُسن کی دیوی تھی اُسکی خوبصورت غزالی آنکھوں سے روشنائی ٹپک رہی تھی! دھیرے دھیرے وہ اِشتہار بن گئی……! ابَ گلی کوچوں میں بجلی کے کھمبوں پر یہاں تک کہ سرکاری یورینل کی میلی دیواروں پر وہ بھی اشتہار میں چسپان تھی ! محد الدین کو اللہ سلامت رکھے۔ آج بہت دِنوں کے بعد اُس کے مُنہ

افسانہ

لالۂ صاحب


’’ لالہ ٔ صاحب ہم کہاں ہیں؟‘‘ ’’ لالہ ٔ صاحب ہمارا گھر کہاں ہے؟’’ ’’ لالۂ صاحب میرا بچہ کہاں ہے؟‘‘ اتنا کہتے ہی نازوؔ پھر بے ہوش ہوگئی۔ اب بے چارہ لالۂ صاحب اپنی بیوی نازوؔ کو کیا جواب دیتا… پچھلے کئی دنوں سے وہ اُن جیسے کئی کنبے جہلم کنارے بنے پشتے جو عرف عام میں بنڈ ک

غزل



وحشتوں کا اک نیا دفتر کُھلا جب میرے حصے میں آیا گھر کُھلا حق کی خاطر جو بھی آیا سامنے انگ ٹوٹا تو کسی کا سر کُھلا چار سو رونق بھی تھی ماتم بھی تھا خواب تھا تعبیر تھی منظر کُھلا پھر جنونِ عشق نے آواز دی یاد ِماضی کا نیا دفتر کُھلا تھا عدو پر پیار سے ہم گلا آستیں میں دیکھا

غزل



اپنے آپ سے ڈر جانا اور چپ چاپ گزر جانا تھوڑی دور تو ساتھ چلو اگلے گھاٹ اتر جانا سایا کتنا اچھا ہے اک دن دھوپ نگر جانا بعد میں کون سناتا ہے اپنی باتیں کر جانا خالی خالی کمرے ہیں میں نے ان کو گھر جانا شایٔد کوئی آ جائے تھوڑی دیر ٹھہر جانا کتنا اچھا لگتا ہے ڈوبنا اور ابھر جا

’’اعلان جاری ہے‘‘: ایک تاثر



اسے قسمت کی ستم ظریفی کہئے یا سیاست کی بازی گری کہ علم و آگہی اور امن وآشتی کے قدیم ترین گہوارے کشمیر کو آج بہ انداز دگر دیکھنے کی روش عام ہو چلی ہے۔ کشمیر اور کشمیری جیسے الفاظ سامنے آتے ہی تنگ نظروں کے ذہنوں میں دہشت گردی، علحدگی پسندی اور فرقہ پرستی جیسے الفاظ متحرک ہو جا

غزل



کس قدرصاحبِ کردارسمجھتے ہیں مجھے مجھ کو تھا زعم، میرے یار... سمجھتے ہیں مجھے اب تو کچھ اور بھی گہری ہیں میری بنیادیں اب تو گھر والے بھی دیوارسمجھتے ہیں مجھے میں تو بازار میں اْترا تھا کہ رونق ہے یہاں اور یہ لوگ خریدار سمجھتے ہیں مجھے اے میرے عشق, تیرے واسطے خوش خبری ہے اب

غزلیات



کون کہتاپھِررہاہے تو یہاں نہیں چار سوُ اک تم ہی ہو یہ جہاں نہیں روشنی پہ چھٹپٹے سائے جو تن گئے فہم سے عاری یہ سمجھے تُو عیاں نہیں بوئےِگُل گر گُم ہوئی ہے باغ ِبُستاںسے سوز ِدل کی گرمیوں سے گلستاں نہیں وحشتیں ہیں، نفرتیں آوارگی بھی ہے بس یہی ہے اور کوئی سائباں نہیں محف

نظم



ہمیں کلمہِ پڑھا ہے اندھیروں کو مٹایا ہے ہمیں رَب سےملایا ہے جہنّم سے بچایا ہے بڑا اِحسَان ہے اُس کا محمدؐ نام ہے جس کا ............... صداقت کانگینہَ ہے ہدایت کا سفینہَ ہے قناعت کا قرینہ ہے عناعت کا خزینہَ ہے زمیں تاعرش ہے اُس کا محمدؐ نام ہے جس کا ............... وہی شانِ نبوت ہے وہی









سابقہ شمارے
  DD     MM     YY    


 


© 2003-2015 KashmirUzma.net
طابع وناشر:رشید مخدومی  |  برائے جی کے کمیونی کیشنزپرائیوٹ لمیٹڈ  |  ایڈیٹر :فیاض احمد کلو
ایگزیکٹو ایڈیٹر:جاوید آذر  | مقام اشاعت : 6 پرتاپ پارک ریذیڈنسی روڑسرینگرکشمیر
RSS Feed

GK Communications Pvt. Ltd
Designed Developed and Maintaned By