وادی میں کورونا نے پہلے مریض کی جان لی

نٹی پورہ کے متاثرہ شخص کے 2کمسن پوتے وائرس کی زد میں ،جموں وکشمیر میں تعداد 14تک پہنچ گئی

27 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

پرویز احمد

  حیدر پورہ کا 67سالہ شخص چل بسا، سکمز ، سی ڈی اور رعناواری اسپتالوں میں 39کی رپورٹ آنا باقی

 
سرینگر // جموں کشمیر میں کرونا وائرس سے پہلی موت واقع ہوئی ہے۔ادھر نٹی پورہ سرینگر کے کرونا مریض کے2 معصوم پوتے اور حیدر پورہ کے فوت ہوئے شخص کے ساتھ رابطے میں آئے راجوری کا ایک شخص بھی وائرس میں مبتلا ہوگیا ہے۔ معصوم بچوں کی عمر 7برس اور 8ماہ ہے، یہ دونوں بچے رعنا واری اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کیساتھ ہی جموں کشمیر میں متاثرین کی تعداد14 تک پہنچ گئی ہے ۔فوت ہوئے67سالہ شخص کا تعلق بنیادی طور پر سوپور سے تھا، لیکن وہ کئی برسوں سے حیدر پورہ میں رہائش پذیر تھا، وہ امراض چھاتی ( سی ڈی ) اسپتال درگجن میں زیر علاج تھا۔ اسکا ٹیسٹ25مارچ کو مثبت آیا تھا، اور 25و 26مارچ کی درمیانی شب اسکی موت واقع ہوئی۔ مذکورہ شخص کے ساتھ حاجن کے مزید 3افراد میں بھی کرونا کی تصدیق ہوئی تھی جن کیساتھ مرحوم کا رابطہ رہا تھا۔جمعرات علی الصبح جموں و کشمیر سرکار کے ترجمان روہت کنسل نے حیدرپورہ کے معمر شخص کی موت کی خبر ٹیوٹر پر دی۔ روہت کنسل نے ٹیوٹر پر اپنی تحریر میں لکھا’’ بری خبر ہے، حیدر پورہ سرینگر کا 65سالہ شخص کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوگیا ہے‘‘۔روہت کنسل نے مزید لکھا ’’اس کے ساتھ رابطے میں رہنے والے 4افراد کی تشخیصی رپورٹ مثبت آئی ہے‘‘۔ سی ڈی اسپتال سرینگر میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ معمر شخص کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن تمام کوششیں ناکام رہیں۔
میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر سلیم ٹاک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ انہیںکافی عرصے سے شوگر، بلڈ پریشر اورموٹاپے کی شکایات رہیں تھیں لیکن جمعرات علی الصبح حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے وہ فوت ہوگیا ۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 7کورونا وائرس مریضوں میں 5سکمز میں جبکہ ایک جی ایم سی بارہمولہ اور ایک سی ڈی اسپتال سرینگر میں زیر علاج ہے۔ سی ڈی اسپتال سرینگر کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے بتایا ’’ جواہر لال نہرومیموریل اسپتال رعنا واری میں زیر علاج دو کمسن بچوں کے تشخیصی رپورٹ بھی مثبت آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمعرات کو 16مشتبہ مریض داخل ہوئے۔انکا کہنا تھا کہ اسپتال کے ائیسولیشن وارڈ میں داخل مریضوں کی تعداد 30ہوگئی ہے جنکی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ قرنطینہ میں 22مشتبہ افراد زیر نگرانی ہیں۔ادھر ریاستی سرکار کے ترجمان روہت کنسل نے ٹیوٹر پر اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کمسن بچوں کے دادا کی رپورٹ 24مارچ 2020کو مثبت آئی تھی جس کے بعد محکمہ صحت نے نٹی پورہ سے تعلق رکھنے والے 57سالہ شخص کے ساتھ رابطے میں آنے والے تمام افراد کی تفصیل حاصل کی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ دونوں بچوں کو 25تاریخ کو اسپتال میں داخل کیا گیا اور خون کی تشخیص کیلئے نمونے حاصل کئے گئے جو 26بعد دو پہر مثبت آئے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 16تاریخ کو سعودی عرب سے عمرہ کرکے لوٹنے والے دو افراد میں کورنا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں نٹی پورہ کے ایک57سالہ معمر شخص کے علاوہ  خانیار کی رہنے والی ایک خاتون شامل ہے۔ رعنا واری اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر ذاکر نے بتایا ’’دوکمسن بچوں سمیت آئیسولیشن وارڈ میں ابھی 3افراد موجود ہیں جبکہ 29افراد کو نگرانی وارڈ میں رکھا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کمسن بچے نٹی پورہ مریض کے ساتھ رابطے میں آئے تھے۔ ادھر بدھ کو بانڈی پورہ میں 4افراد کی رپورٹ مثبت آنے کے ساتھ ہی محکمہ صحت نے علاقے میں بڑے پیمانے پر سکریننگ عمل شروع کیا ہے۔چیف میڈیکل آفیسر حاجن ڈاکٹر نثار نے بتایا ’’ 4مثبت مریضوں کے کنبوں کے 45افراد کو نگرانی کے دائرے میں لاکر ایک ہی جگہ پر رکھا گیا ہے جبکہ دیگر 17کو دوسری جگہ پر زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔انکا کہنا تھا کہ 3افراد میں ابتدائی علامات پائی گئیں جنہیں سکمز میں داخل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ کل ملا کر انکے اہل خانہ اور رابطے میں آئے 65افراد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت کی خصوصی ٹیموں نے 100گھروں کو نگرانی کے دائرے میں لایا اور وہاں سکریننگ کی ،جن میں ایسے 100افراد کی نشاندہی کی گئی جو 4کورونا وائرس مریضوں کے رابطے میں آئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حیدر پورہ میں فوت ہوئے شخص کے رابطے میں اوڑی کے بھی 3افراد آئے تھے، جنہیںگورنمنٹ میڈیکل کالج بارہمولہ میں داخل کیا گیا ۔ایس ڈی ایم اوڑی ریاض احمد ملک نے بتایا کہ حالیہ دنوں میںاوڑی کے متعدد لوگ بیرون ریاست سے واپس آئے ہیں جنہوں نے سفری تفصیلات چھپائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دار گْْٹلیاں، زمور پٹن، چھولاں، کلساں اور دھنی سیدن میں قریب 28 افراد کو پکڑ کر سرکاری قرنطینہ جے این وی شاہکوٹ میں رکھا گیا ہے۔
اوڑی میں قریب 56 افرادکو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جبکہ مزید85افراد گھریلومیں زیر نگرانی ہیں۔ادھرانتظامیہ نے ویری ناگ سے تعلق رکھنے والے دومشتبہ افراد کو ضلع اسپتال اننت ناگ منتقل کیا ،جو سرینگر کے اس مبلغ کے رابطے میں آئے تھے جو جمعرات کی صبح انتقال کرگیا۔انتظامیہ نے وان گنڈ قاضی گنڈ کے5افراد کو بھی طبی زیر نگرانی رکھا،جو مذکورہ کیساتھ رابطے میں آئے تھے۔انکے نمونے جانچ کے لئے روانہ کئے گئے ہیں ۔ادھر سکمز صورہ میں جمعرات کو مزید 9مشتبہ مریضوں کو داخل کیا گیا جبکہ اسپتال میں بدھ کو داخل کئے گئے 13مریضوں کی رپورٹ منفی آئی ہے۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’جمعرات کومزید 9مشتبہ مریضوں کو سکمزکے آئیسولیشن وارڈ میں داخل کیا گیا جبکہ بدھ کو داخل کئے گئے 13مریضوں کی تشخیصی رپورٹ منفی آئی ہے‘‘۔ڈاکٹر جان نے بتایا ’’سکمز میں داخل کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی کل تعداد 43ہوگئی ہے جن میں 5کی رپورٹ مثبت آئی ہے جبکہ9کی تشخیصی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ جمعرات کو داخل کئے گئے 9مریضوں میں 3حاجن کے کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کے رابطے میں آئے ہیں اور ان میں بھی ابتدائی علامات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال کے نگرانی وارڈ میں ابھی بھی 29مشتبہ مریض زیرنگرانی ہے جنکی پہلی رپورٹ منفی آئی ہے۔ ادھرحکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلٹین میں بتایا گیا ہے کہ جموںوکشمیر میں اب تک 5482 ایسے اَفراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جو یاتو بیرون ممالک سے واپس آئے ہیں یا مشتبہ افراد کے رابطے میں آئے ہیں۔ان میں سے13 اَفراد کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ 3053 اَفراد کو ہوم کورنٹین جبکہ 117اَفراد کو ہسپتال کورنٹین میں رکھا گیا ہے۔جن اَفراد کو اپنے گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے اُن کی تعداد 1761ہیں جبکہ 551اَفراد نے 28دِن کی نگرانی کی مدت پوری کی ہے۔بلیٹن میں مزید بتایا گیا ہے کہ اب تک 379 نمونے جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں جن میں سے 341 نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ، 13 نمونے مثبت پائے گئے ہیں جن میں ایک مریض کی موت واقع ہوئی ہے۔بلیٹن کے مطابق 26؍مارچ 2020ء کی شام تک 25نمونوں کی رِپورٹ آنا ابھی باقی تھا۔
 

قواعد و ضوابط کے مطابق سوپور میں سپرد لحد

غلام محمد
 
سوپور//وادی کشمیر میں مہلک کورو ناوائرس میں مبتلاء سوپور کے 65سالہ شہری، جس کی موت جمعرات کو واقع ہوئی، کو آبائی قبرستان میں سپرد لحد کیا گیا۔مذکورہ شہری کی تجہیز و و تکفین اُن قواعد و ضوابط کے مطابق عمل میں لائی گئی جو وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔اس سے قبل مذکورہ شہری درگجن سرینگر میں قائم سی ڈی اسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔قابل ذکر ہے کہ وزارت خارجہ نے کورو نا وائرس کی وجہ سے جاں بحق افراد کی تجہیز و تکفین کیلئے جو ضوابط طے کئے ہیں اُن میں میت کا غسل نہ دینا اور میت کیلئے کم سے کم آٹھ فٹ گہری قبر کھودنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ جاں بحق افراد کی تجہیز و تکفین میں محدود افراد کو ہی شامل ہونے کی اجازت ہے۔سوپورکے مذکورہ شہری، جو سرینگر کے حیدر پورہ علاقہ میں مقیم تھا، کی آخری رسومات میں چند افراد کو ہی شامل ہونے کی اجازت دی گئی اور اُنہوں نے ہراحتیاطی تدبیر اختیار کی تھی۔  

تازہ ترین