تازہ ترین

عہدہ و منصب امانت ہے

منصب دار کیلئے تقویٰ ضروری

25 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

خالد احمد
انسان جب کبھی کوئی پیشہ اختیار کرتاہے تو اس کی بدیہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ترقی حاصل کرے،جس کے لئے سخت محنت ، لگن ،ایمانداری اور تقویٰ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ترقی حاصل کرنے کے لئے اکثر لوگ ان جائز اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر غلط راستوں کا استعمال کرتے ہیں ، جن کی وجہ سے وہ بڑی تیزی کے ساتھ جہنم کی طرف دھکیلے جارہے ہیں اور وہ لوگ اس بری خبر سے ناواقف ہیں۔ان کی صفات میں سے یہ صفت منافقت کی دلیل ہے ۔غلط راہوں سے ترقیاںحاصل کرنے والے لوگ ایک تو دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیںاور دوسرا ناجائز طور عہدے پر فائز ہوجاتے ہیںاور اس طرح نہ صرف اپنی ذات بلکہ اپنے دین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ظاہر ہے جس کسی نے بھی ناجائز طریقے پر عہد پایا ہو وہ کبھی جائز کام کرہی نہیں سکتا بلکہ ایسے لوگ منافقت کو اختیار کرتے ہیں جو اپنے پیشہ میں مخلص نہیں ہوتے اور نہ ہی اﷲسے ڈرتے ہیں۔ایسے لوگوں کی صرف ایک کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی حیلہ بازی سے افسر ،مالک یا منتظم کی خوشنودی حاصل کرلے۔خاص طورپر یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو ناحق عہد ہ ومنصب حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ منافقت انسان کو ایسا اندھا کردیتی ہے کہ اس کا حامل لوگوں کی ناحق تعریف کرنے می مصروف ومشغول ہوجاتاہے جبکہ فی الحقیقت وہ صفات و اچھائی اس انسان میں موجود ہی نہیں ہوتیں۔آپﷺ نے فرمایا منہ پر تعریف کرنے والے کی حوصلہ شکنی کرو۔جھوٹی تعریف کرنے والے منتظمین اداروں کو ہمیشہ حقیقت حال سے بے خبر رکھتے ہیں ۔ایک شاعر نے معزالدین اﷲ فاطمی کے سامنے اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جو تم نے چاہا وہ سب کچھ مقدر بن جاتاہے ،تم فیصلہ کرو تم ہیں تنہاقہار ہو۔اسی طرح منصور اندلسی کے پاس ایک شاعر گیا اور یہی شعر جو معزالدین اﷲفاطمی کی تعریف میں بیان کیا گیا تھا کو ایک شعر کے اضافہ کے ساتھ پیش کیا کہ ــتم نے جو چاہا وہ مقدر بن گیا ،پس تم فیصلہ کرو تم ہی اکیلے قہار ہو، ایسے جیسے کہ آپ محمد نبی ہواور آپ کے ساتھی انصار جیسے ہیں۔منصور اندلسی نے فوراً اس شاعر کو گرفتار کرایا اور اس کو 5سو کوڑے لگوائے اور کہا کہ جو تم نے کہا یہی تو کفر ہے۔
مومن کی تو یہ صفت ہے کہ وہ منافقت نہیں کرتا کہ جو اس کے دل میں ہواسی کو زبان حال سے بیان کرتاہے ،اس کی زندگی دوسروں کی زندگی سے مختلف نہیں ہوتی۔اﷲتعالیٰ نے ایسے لوگوںکے بارے میں قرآن کریم میں بیان کیا ہے کہ وہ دوزخ کے آخری حصہ میں ڈالے جائیں گے۔گویا منافق ایسا ہوتاہے جیسے مکھیاں گندگی کے ڈھیرپرمنڈلاتی رہتی ہیں۔گندگی پر جمع ہوتی رہتی ہے اور اس کے بغیر ان کی زندگی نہیں بسر ہوتی۔اس بات میں کوئی تردد نہیں کہ منافقت کا مرض انسان میں بہت سی خرابیوں کو چھوڑجاتاہے ۔بہت سے نااہل یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر ترقی حاصل کرنی ہے یا عہدہ و منصب حاصل کرنا ہے تواس کے لیے پیشہ سے مخلص ہونا ضروری نہیں ،غلط طریقوں سے عہدہ یا منصب حاصل کرنے کا مرض انسان کی امانت و دیانت کو تار تار کردیتاہے۔وہ ہمیشہ یہی کوشش کرتا رہتاہے کہ وہ منتظم کو خوش کرنے کی جستجو کرتارہے جبکہ اپنی ڈیوٹی اور کام کا لحاظ و پاس رکھنا ضروری نہیں سمجھتا۔ 
آپﷺ نے تو حکم دیا ہے کہ امانت کی پاسداری و حفاظت کا انتظام کیا جائے اور قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ امانت (عہدہ و منصب)اس کے حقدار کو دیں اور لوگوں میں عدل کے ساتھ فیصلہ کریں۔مسلمان کی یہ صفت ہے کہ وہ اپنے کام میں مخلص اور امانت دار ہوتاہے ،لوگوں کی خدمت کرتاہے،انسانوں کو تعلیم دیتاہے اور اس کی ترقی میں کردار اداکرتاہے۔مسلمان ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوتاہے۔عہدہ و منصب ایک فرض منصبی ہے مسلمان اس فرض کو عبادت سمجھ کراداکرتاہے۔اور لوگوں کی خدمت کے لیے اخلاص کے ساتھ مصروف عمل ہے۔آپﷺ سے ایک صحابی نے عہدہ و نصب طلب کیا تو رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ عہدہ و منصب امانت ہے ،اس میں نقصان اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔فقہاء کااتفاق ہے کہ عہدہ ومنصب کے خواہش مند کو عہدہ نہیں دیا جاسکتاہے۔منتظم ادارے کی نااہلی کی وجہ سے ملازمین سازشوں میں مصروف عمل ہوتے ہیں اور وہ اپنے کام میں بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ بات تشویشناک ہے ۔کیونکہ عہدہ و منصب کو نبھانے کے لئے پرہیزگاری ضروری ہے نہ کہ کسی کی محبت اور منافقت کی وجہ سے انسان کو ڈھیل دی جاتی رہے۔
٭٭٭