بیرونی ممالک سے لوٹنے والے بیشترکشمیری تعاون دینے سے عاری

اسپتالوں کے قرنطینہ یا زیر نگرانی مقامات سے فرار ہونے کی کوششیں

23 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

پرویز احمد
 سرینگر // صنعت نگر علاقے میں طبی نگرانی میں رکھا گیا ایک جوڑا فرار ہوگیا ہے اور انکے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ادھر محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک سے لوٹنے والے بیشتر کشمیری پورے سماج کیلئے خطرہ بن رہے ہیں کیونکہ وہ بار بار قرنطینہ سہولیات سے فرار ہونے کی کوشش میں ہیں یا جان بوجھ کر اپنا تعاون نہیں دے رہے ہیں۔ چیف میڈیکل آفیسر سرینگر ڈاکٹر طلعت جبین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’بیرون ممالک سے آنے والے کئی لوگ محکمہ صحت کو تعاون نہیں دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر جبین نے کہا ’’ صنعت نگر سے دوسری جگہ منتقلی کے دوران میاں بیوی فرار ہوگئے اور نکے خلاف قانونی کارروائی کرکے ایف آئی آر درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘‘۔ڈاکٹر جبین نے بتایا ’’ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک چین ، اٹلی ، کوریا، بنگلہ دیش ، ایران اور سعودی عرب سے لوٹنے والے لوگ اپنا تعاون نہیں دے رہے ہیں جسکی وجہ سے انتظامیہ کو سخت مشکلات درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ متاثرہ ممالک سے آنے والوںمیں صرف 5فیصد لوگ محکمہ صحت کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور والدین از خود اپنے بچوں کو طبی نگرانی میں رکھنے کی درخواست کرتے ہیں‘‘۔انکا کہنا تھا کہ  95فیصد افراد اور لواحقین ہنگامہ کررہے ہیں اور فرارہونے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’لوگ ہمیں بیرون ممالک سے لوٹنے والوں کو انکے علاقوں میں کسی ہوٹل یا کسی بھی عمارت میں رکھنے نہیں دے رہے ہیں، جسکی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔ ڈاکٹر طلعت نے بتایا ’’ طبی نگرانی اور سرولنس کے دائرے میں نہ رہنے والے لوگ پورے کشمیری سماج کو نقصان پہنچا سکتے ہیں،اسلئے انتظامیہ نے ایسے افراد کیخلاف قانونی آفات سماوی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائیگی‘‘۔ادھر سی ڈی اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹڈاکٹر سلیم ٹاک نے کہا ’’کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے آنے والے لوگوں کو قرنطینہ میں رکھناسب سے مشکل کام ثابت ہورہا ہے کیونکہ یہ لوگ بار بار فرار ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ سلیم ٹاک نے کہا ’’ سنیچر کی رات  ایک لڑکی نے پھر سے فرار ہونے کی کوشش کی مگر اسے ایک گھنٹے کے اندر  واپس اسپتال لایا گیا ‘‘۔  انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بائوجود بھی یہ لوگ قرنطینہ سے بھانگنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں جسکی وجہ سے پورے سماج کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا ’’ ایسے بھی لوگ ہیں جو خود اپنے بچوں کو اسپتال لاتے ہیں اور سنیچر کو بھی والدین اپنے دو بچوں کو خود اسپتال لے آئے۔ انہوں نے کہا ’’ کشمیریوں کیلئے ابھی تک راحت کی بات یہ ہے کہ ابھی کرونا وائرس  سماجی سطح پر نہیں پھیل رہا ہے کیونکہ ہم نے بہت جلد احتیاطی تدابیر اٹھائے  لیکن اس کو برقرار رکھنے کیلئے لوگوں کا تعاون ضروری ہے۔ْ 
 

تازہ ترین