تازہ ترین

عوام جائز منا فع خوروں کے رحم و کرم پر | اشیاء ضروریہ اور سبزیوں کی قیمتوں میں ہوشرُبا اضافہ

شہریوں کابازاروں میں چیکنگ سکارڈوں کو متحرک کرنے کا مطالبہ

21 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(   فائل فوٹو    )

اشفاق سعید
سرینگر // روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ناجائز منافع خوروں نے اشیاء ضروریہ خاص کر پھلوں اور سبزیوں کے دام بڑھا کر پھر سے شہری آبادی کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے اور انتظامیہ اس جانب دھیان دینے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ کرونا وائرس کے خوف میں مبتلا شہری آبادی کو اب ناجائز منافع خوروں نے لوٹنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاریکی جانب سے مشتہر کئے گے نرخ نامے ردی کی ٹوکری کی نظر کئے گئے ہیں ۔کئی ایک صافین نے بتایا کہ سبزیوںسمیت پھلوں کی قیمتوں میںکئی گناہ اضافہ کیا گیا ہے اور ایسا حالات کا فائدہ اٹھا کر کیا جا رہا ہے ۔ صارفین نے بتایا کہ جب بھی کبھی وادی کی عوام کسی مصیبت میں مبتلا ہوتی ہے تو ان کی مشکلات میں ناجائز فائدہ اٹھا کر کچھ خودغرض عناصر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کی پریشانی میں اضافہ کرتے ہیں ۔شہر کے اکثر علاقوں سے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 2 دنوں میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میںحد درجہ اضافہ کر دیاگیا ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ آلو ، پیار ، ٹماٹر ، پالک ، شلغم ، بنڈی ، گاجر سمیت دیگر سبزیوں دام بڑھا دئے گئے ہیںجبکہ سیب ، انگور ، کیلا اور سنترے بھی مہنگے داموں فروخت کئے جارہے ہیں اور یہ سب کچھ انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے ۔لوگوں نے بتایا کہ اس سے قبل بھی ناجائزمنافع خور انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر عوام کو دو دو ہاتھوں لوٹنے میں سرگرم عمل رہتے ہیں اور آج ان ناجائزہ منافع خوروں نے پھر سے حالات کا فائدہ اٹھا کر لوگوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔معراج الدین نامی ایک شہری نے بتایا کہ کرونا وائرس کے خوف میں پہلے ہی وادی کے لوگ مبتلا ہیں وہیں اس کے پھلائو کو روکنے کیلئے انتظامیہ نے بھی بندشیں عائد کر دی ہیں اور اب کہیںکسی علاقے میں اگر سبزیوں اور پھلوں کی دکانیں کھلی ہیں تو وہاں پر غریب صارف کی لوٹ مار کی جاتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اس پر آواز اٹھاتے ہیں تو وہاں سے جواب ملتا ہے کہ’ لینا ہے تو لو ورنہ رفو چکر ہو جائو ‘ ۔انہوں نے کہا کہ ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس جانب دھیان دے اور ایسے ناجائزمنافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے جو لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔سہیل احمد نامی ایک شہری نے بتایا کہ کشمیر میں یہ ایک روایت رہی ہے کہ جب بھی یہاں کے لوگ کسی بڑی پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں تو انہیں مزید پریشانی ذخیرہ اندازوں کی طرف سے اٹھانی پڑتی ہے جو اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میںراتوں رات اضافہ کرتے ہیںاور اس جانب دھیان دینے کے بجائے انتظامیہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام لیتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بازاروں میں ہر ایک چیزخاص کر اشیاء ضروریہ کے دام آسمان کو چھو رہے ہیں اور اس کی روکتھام کیلئے کہیں بھی انتظامیہ کی ٹیمیں دستیاب نہیں ہیں ۔ صافین نے محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری اور ضلع انتظامیہ سرینگر سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں کیلئے چیکنگ سکارڈ ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے علاوہ ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کریں تاکہ عام لوگوں کومزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔