تازہ ترین

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب ؟قسط 2

ہمارا موجودہ طرزِ زندگی اس کی نفی ہے

21 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

خالد جامعی
خیر القرن کا خاص وصف مصیبتوں پر صبر اور اللہ سے بہترین مستقبل کی امید تھی۔ تمام صحابہ رسالت مآبﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے تھے کہ
”ما من مسلم تصیہ مصیب فیقول ما امرہ اللّٰہ بہ انا اللّٰہ وانا الیہ راجعون۔ اللّٰھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خبرا منھا الا احلف اللّٰہ لہ خیراََ منھا۔‘‘
”جس صاحبِ ایمان پر کوئی مصیبت آئے(اور کوئی چیز فوت ہو جائے ) اور وہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ سے وہ عرض کرے جو عرض کرنے کا حکم ہے کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہم سب لوٹ کر جا نے والے ہیں، اے اللہ مجھے میری اس مصیبت میں اجر عطا فرما(اور جو چیز مجھ سے لی گئی ہے) اس کے بجائے اس سے بہتر مجھے عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ اس چیز کے بجائے اس سے بہتر ضرور عطا فرمائے گا۔‘‘
ام المومنین حضرت سلمہ کو شوہر کے انتقال کے بعد عدت مکمل ہونے پر حضرت عمر ؓاور ابوبکرؓ نے رسالت مآبﷺ کی جانب سے نکاح کا پیغام دیا تو آپ نے اسے قبول کرنے کے بجائے تین عذرات پیش کیے۔ وقت کے پیغمبر اور حکم راں کی جانب سے نکاح کی پیشکش ہو رہی ہے، اس سے بڑی سعادت کیا ہوسکتی ہے لیکن اس لمحۂ مسرت میں بھی نفس کا کوئی تقاضہ ایمان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ ذات رسالت مآبﷺ کے سامنے بھی اصل بات پیش کر دی جائے کیونکہ اگر کوتاہی ہوئی تو ایمان باقی نہیں رہے گا یہ احساس ذمہ داری اس قرن کا خاص وصف تھا ۔آج اس کی آرزو بھی نہیں ملتی۔ ان عذرات کے بیان کا مقصد رسالت مآبﷺ کے سامنے اصل صورت حال پیش کرنا کہ آپ اگر فیصلہ تبدیل کرنا چاہیں تو کر لیں اور یہ خوف کہ رسالت مآبﷺ کی رفاقت حاصل ہو اور آپ ؐکی خدمت میں کوتاہی ہو، حقوق کی ادائیگی نہ ہوسکے، عذر یہ تھا(١) میں بہت غیرت مند ہوں (٢) میرے کئی بچے ہیں(٣) میری عمر بہت زیادہ ہو گئی ہے(٤) میرا کوئی ولی مدینہ میں نہیں ہے۔ یہ دیانت داری ، صاف گوئی ، سچائی ہر اس مومن کے لیے دین کو مطلوب ہے جو اسلامی انقلاب کی آرزو رکھتا ہے اور دنیا بھر سے اس آرزو کی خاطر جہاد کے لیے تیار ہے لیکن اپنے نفس کے خلاف جہاد پر قطعاً آمادہ نہیں ،اس لیے ہمارا خاندانی اور معاشرتی نظام مسلسل شکست و ریخت اور زوال کا شکار ہے۔
ام المومنین حضرت زینب نے رسالت مآبﷺ کے حکم پر ایک غلام حضرت زید بن حارثہ ؓجو رسالت مآبﷺ کے منہ بولے بیٹے تھے اور علم و دین میں ممتاز ترین انہیں قبول فرما لیا اور جب نباہ نہ ہوسکا تو مکہ کے دو بڑے خاندانوں کی عورت ہونے کے باوجود اپنے شوہر سے طلاق بھی بخوشی قبول فرما لی۔ رسالت مآبﷺ نے ان کی دل جوئی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا اور یہ پیغام حضرت زید ؓہی لے کر گئے تو اللہ کی اس نیک بندی کا جواب یہ تھا:
    ”کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میں اللہ سے استخارہ ضرور کروں گی یہ کہہ کر اپنے مصلے پر کھڑی ہو گئیں۔(صحیح مسلم جلد١،ص٤٦١)
یعنی نماز شروع کر دی ، اللہ سے یہ تعلق تھا کہ سورہ احزاب کی آیت نازل ہوئی اور آسمان پر آپ کا نکاح ہوا، اللہ رب العزت آپ کے ولی بن گئے۔ حضرت زینب اس بات پر فخر کرتی تھیں کہ میرا نکاح میرے اللہ نے کیا، جب کہ دیگر ازواج مطہرات کا نکاح ان کے اولیاء اور اہلِ خاندان نے کیا ہے۔ ” فقول زوجکن اھالیکن و زوجنی اللّٰہ من فوق سبع السموات۔(صحیح بخاری ، جلد٢، ص١١٠٤) حضرت زینب کا نکاح اللہ کے حکم سے آسمانوں پر ہوا تو سب سے شاندار ولیمہ بھی آپ کا کیا گیا۔ بخاری کی روایت ہے کہ اس شاندار ولیمے میں صرف بکری ذبح کی گئی تھی [ج٢، ص٧٧٧، صحیح مسلم،ج ا،ص ٤٦١] کیا روئے ارض پر کوئی ایسا صاحب حیثیت مسلمان عصر حاضر میں موجود ہے جو متمول بھی ہو، حکمراں بھی ہو اور اس کے ولیمے میں صرف ایک بکری پر دعوت ولیمہ منعقد ہوسکے، یہ تصور کرنا بھی عصر حاضر کے دینی ذہن کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اگر اس بیان میں شک ہو تو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ہر دینی مزاج رکھنے والا مسلمان غور کر لے ! حضرت زینب ؓ کے بارے میں ام المومنین ام سلمہؓ اور حضرت عائشہؓ کی گواہی ہے۔ بہت صالحہ، کثرت سے روزہ رکھنے والی اور شب بیدار تھیں [ زرقانی شرح مواھب] میں نے ان سے زیادہ دیندار، متقی و پرہیزگار، سچ بولنے والی، صلہ رحمی کرنے والی، صدقہ کرنے والی اور اپنی جان کو نیکی اور تقرب الی اللہ کے کاموں میں زیادہ کھپانے والی کوئی عورت نہیں دیکھی۔ [ صحیح مسلم باب فضائل عائشہ] کیا عہد حاضر کی کوئی دینی ساس، بہو اور سوکن ایک دوسرے کے بارے میں کبھی اس طرح کے کلمات دیانتداری سے ادا کرسکتے ہیں اس معاشرت کی عدم موجودگی میں اسلامی انقلاب کے کیا معانی ہیں ؟ حضرت زینب ؓکوتاہ قامت اور ان کے ہاتھ بھی اسی لحاظ سے چھوٹے تھے لیکن سخاوت ، انفاق، کارِ خیر میں ان کے ہاتھ لمبے تھے، حضرت عائشہ ؓکا قول ہے کہ رسالت مآبﷺ نے فرمایا:
    ”رسول اللہ نے ان کے بارے میں یہ خوشخبری دی ازواج مطہرات میں میری وفات کے بعد سب سے پہلے میرے پاس آنے والی میری وہ بیوی ہو گی ،جو سب سے زیادہ لمبے ہاتھوں والی ہو گی( یعنی کار خیر میں بہت خرچ کرنے والی) اور وہ جنت میں بھی رسول اللہ کی بیوی ہیں۔‘‘ (سیر الاعلام النبلاء ، ج٢، ص٢١٥)
رسالت مآبﷺ کے وصال کے بعد ازواج النبیﷺ اپنے ہاتھ ناپا کرتی تھیں اور آپ کے فرمان اطوالکن باعاَ کا ظاہری مطلب ہی لیتی تھیں لیکن جب رسالت مآبﷺکی وفات کے بعد سب سے پہلے حضرت زینبؓ کا انتقال ہوا تو ازواج مطہرات کو اطوالکن باعاَ کا مطلب سمجھ میں آیا سب سے زیادہ سخی اور فیاض۔ اور تمام ازواج مطہرات کی گواہی ہے کہ واقعی ام المومنین زینب ؓہم سب میں سب سے زیادہ سخی اور فیاض تھیں۔ حضرت زینبؓ کی فیاضی کس درجے کی ہو گی اس کے لیے حضرت عائشہؓ اور حضرت ام المومنین سودہ ؓبنت زمعہ کی فیاضی کے صرف دو واقعات پیش کیے جاتے ہیں۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے درہموں سے بھری ہوئی ایک تھیلی ان کی خدمت میں بھیجی، تھیلی حضرت سودہؓ نے لی اور سب درہم ضرورت مندوں پر تقسیم فرما دئیے۔
حضرت عروہ کی روایت ہے کہ میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ حضرت عائشہ ؓنے ستر ہزار درہم صدقہ کیے اور ان کے اپنے کرتے میں پیوند لگ رہا تھا یقیناً یہ ازواج فیاضی میں حضرت زینبؓ سے کم ہوں گی تو اندازہ کیجیے کہ حضرت زینبؓ کی فیاضی کس درجے کی ہو گی کیا عہد حاضر کے دینی گھرانوں میں ایسی فیاض عورتیں موجود ہیں۔ عہد حاضر کی دینی مزاج عورتیں اتنی دنیا دار اور اس قدر حریص دنیا ہیں کہ اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا تمام وقت صرف کپڑے بنانے ، کھانے پینے اور گھومنے پھرنے کے لیے وقف ہے۔ ایسی ماؤ ں کی گود سے قرن اول کی نسل کیسے پیدا ہوسکتی ہے جب وہ مائیں ہی مفقود ہیں تو قرن اول کا معاشرہ روئے زمین پر کیسے ظہور کرسکتا ہے ! رسالت مآبﷺم نے حضرت زینب ؓکے بارے میں حضرت عمرؓ سے کہا تھا کہ زینب ؓکو کچھ نہ کہو، اس لیے کہ وہ ادھہ ہیں۔ کسی صحابی نے ادھہ کا مطلب دریافت کیا تو فرمایا کہ ادھہ کے معنی ہیں خشوع و خضوع کرنے والی اور آپ نے آیت کریمہ پڑھی :
    ( ان ابراھیم حلیم او منیب) ’’برد بار اور خشوع و خضوع کرنے والے اور اللہ کی طرف توجہ کرنے والے۔‘‘
حضرت زینب ؓکی وفات پر حضرت عائشہ ؓنے کہا تھا:
  ”ایک ستودہ صفات نیک بخت اور یتیموں و بیواؤں کی سہارا عورت دنیا سے رخصت ہو گئی‘‘۔
ایسی نیک بخت عورتوں کی کثرت کے بغیر نہ اسلامی خاندان بن سکتا ہے نہ اسلامی معاشرت جنم لے سکتی ہے افسوس کہ کسی اسلامی تحریک کے نصاب ، نظام تعلیم و تربیت میں ایسی عورتوں کی تعمیر و تشکیل و تربیت کا کوئی تصور تک موجود نہیں ہے۔ قرن اول میں گفتگو کا اندازہ کیا تھا۔ حفظ مراتب کیسے ملحوظ رکھے جاتے تھے۔ اس کا تصور بھی آج محال ہے۔ رسالت مآبﷺ کے چچا حضرت عباس عمر میں آپﷺ سے دو سال بڑے تھے لیکن جب بھی کوئی آپ سے سوال کرتا کہ آپ بڑے ہیں یا رسول اللہﷺ تو وہ جواب میں کہتے کہ ”ھو اکبر وانا ولدت قبلہ”(سیر اعلام النبلاء،ج٢،ص٨٠)یعنی ”بڑے تو رسول اللہﷺ ہی ہیں ،ہاں پیدا پہلے میں ہوا تھا۔‘‘ حضرت عمرؓ کے زمانے میں قحط پڑ گیا تھا تو حضرت عمر ؓ نے حضرت عباس سے بارش کی دعا کرنے کی درخواست کی ، انہوں نے درخواست قبول کی اور اللہ نے بارانِ رحمت نازل فرمایا۔ [ صحیح بخاری باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطورا]
 حضرت عبداللہ بن عباس حبر الامت انہی حضرت عباسؓ کے صاحب زادے تھے۔ وصال نبویﷺ کے وقت آپ کی عمر صرف تیرہ برس تھی۔ رسالت مآبﷺ نے حضرت عباس کی اولاد اور ان کے لیے دعا فرمائی تھی
(جامع ترمذی باب مناقب عباس)
    ” اے اللہ! عباس اور ان کی اولاد کے تمام ظاہری و باطنی گناہ معاف فرما دیجیے او ر اے اللہ! ان لوگوں کی ایسی مغفرت فرما دیجیے کہ کوئی گناہ باقی نہ رہنے دے اے اللہ عباس کی حفاظت فرما ان کی اولاد کے بارے میں۔‘‘۔(جامع ترمذی باب مناقب عباس)
اس دعا کا اثر یہ تھا کہ حضرت ابن عباس علم و حکمت تفقہ فی الدین اور علم تفسیرالقرآن میں ممتاز تر تھے۔ رسالت مآبﷺ نے ایک بار آپ کے لیے دعا فرمائی:
    ’’اللّٰھم فقہ فی الدین وعلمہ التاویل‘‘۔’’اے اللہ ان کو تفقہ فی الدین عطا فرما اور علم تاویل۔ [مسلم ج٢،٢٨٩،باب فضائل عبد اللہ بن عباس، اصابہ ج٤،ص١٤٣]جامع ترمذی میں روایت ہے ۔ابن عباس کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے اپنے سینۂ مبارک سے چمٹا لیا اور دعا فرمائی ” اللّٰھم علمھ الحکم ُ ( جامع ترمذی،ج٢،ص٢٢٣و صحیح بخاری باب ذکر ابن عباس) ان کی کم عمری کے باوجود حضرت عباسؓ کے تفقہ فی الدین کو تمام صحابہ کرام اہمیت دیتے۔ حفظ مراتب میں عمر نہیں علم اور عمل مراتب کا تعین کرتے ہیں۔
حضرت عمر فرماتے تھے” ذلک فتی الکھول نہ لسان سنول وقلب عقول‘‘( سیر اعلام النبلاء ، ج٣، ص٣٤٥)َ)۔ ”یہ ایسے نوجوان ہیں جنھیں پختہ عمر لوگوں کا فہم و بصیرت حاصل ہے۔ ان کی زبان علم کی جو یا اور قلب عقل کی محافظ ہے‘‘۔ حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ حاضر دماغ ، عقل مند ، صاحب علم ، حلیم و بردبار شخص نہیں دیکھا۔ حضرت عمر ؓمشکل مسائل کو حل کرنے کے لیے حضرت عباسؓ کو بلاتے اور کہتے ایک مشکل مسئلہ پیش آ چکا ہے پھر ان کے قول کے مطابق ہی عمل کرتے۔ حالانکہ ان کی مجلس میں بدری صحابہ بھی موجود ہوتے تھے۔( سیر اعلام النبلاء ،ج٣،ص٣٤٧)  لہٰذا حضرت عباس کو کم عمری کے باوجود حضرت عمر اکابر صحابہ ، بدری صحابہ کے ساتھ بٹھاتے تھے۔یہ مقام ابن عباس کو دین کے لیے محنت سے ملا اور محنت کا طریقہ کیا تھا۔ حضرت عباس کی زبان مبارک سے ان کے الفاظ میں سنیئے کہ:
    “میں نے خود اکابر صحابہ کرام کے پاس جا جا کر رسول اللہؐ کی احادیث اور دین کا علم حاصل کرنا شروع کر دیا کبھی ایسا بھی ہوا کہ مجھے معلوم ہوا کہ رسول اللہؐ کی ایک حدیث فلاں صحابی کے پاس ہے ،ان کے گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں۔ یہ سن کر میں نے چادر بچھائی اور ان کے دروازے کی چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹ گیا ، ہواؤں نے میرے سر اور جسم پر گرد و غبار لا کر ڈال دیا ، اتنے میں وہ صحابی نکل آئے اور مجھے اس حال میں دیکھ کر کہا۔ آپ رسول اللہﷺ کے بھائی ہیں، آپ مجھے بلا لیتے، میں حاضر ہو جاتا۔ آپ نے کیوں زحمت فرمائی۔ میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کے پاس رسول اللہﷺ کی ایک حدیث ہے، میں وہ حدیث آپ سے حاصل کرنے آیا ہوں اور اس کام کے لیے میرا آنا ہی زیادہ مناسب ہے‘‘۔
 اس جدوجہد ، دلچسپی، کوشش، خشوع و خضوع اور احترام علم و اکرام حدیث کا نتیجہ یہ نکلا کہ اکابر صحابہ کی رحلت کے بعد لوگ طلب علم کے لیے حضرت عباس کے پاس آنے لگے۔ ( مجمع الزوائد ، ج٩،ص٢٧٧، وتذکرہ الحفاظ ج١،ص٤٣) فرماتے تھے کہ میں ایک حدیث یا ایک مسئلے کو تیس تیس صحابہ کرام سے معلوم کرتا تھا۔ (سیر اعلام النبلاء ،ج٣،ص٣٤٤)
(جاری)