تازہ ترین

مشیر نے ایس سی / ایس ٹی کارپوریشنوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا

جموں وکشمیر میں بی پی سی ایل بینکنگ خدمات کا آغاز

18 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
جموں//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے سول سیکرٹریٹ میں ایک میٹنگ کے دوران جموں اینڈ کشمیر شیڈول کاسٹس ، شیڈول ٹرائبس اور بیک وارڈ کلاسز ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔منیجنگ ڈائریکٹر جے کے ایس سی ایس ٹی بی سی ڈی سی ڈائریکٹر بھارت بھوشن ودیگر افسران نے میٹنگ میں شرکت کی ۔کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر نے میٹنگ میں بتایا کہ کارپوریشن نے موجودہ مالی سال کے دوران 20کروڑ روپے کی رقم بطور قرضہ متعلقہ افراد میں تقسیم کی ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ اسی مدت کے دوران کارپوریشن نے 96فیصد ( 1079.94لاکھ روپے ) کی قرضے کی رقم وصول کی ہے۔مشیر موصوف نے ایپکس کارپوریشنوں کے مختلف پہلوئوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔انہوں نے سری نگر میں منعقدہ19؍ اکتوبر 2019ء کو سالانہ جنرل میٹنگ میں لئے گئے فیصلہ جات کی عمل آوری کی سراہنا کی۔بعد میں مشیر موصوف نے سوشل ویلفیئر بورڈ کا جائزہ لینے کے سلسلے میں افسروں کی ایک میٹنگ کی صدارت کی۔ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایس ڈبلیو بی بریدہ مجید و دیگر افسران میٹنگ میں موجو دتھے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ جموں وکشمیر میں مختلف رضاکار تنظیموں کے ذریعے 616 کریچ مراکز کام کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ بورڈ بے گھر اور مفلس لوگوں کے لئے سویدار گرہہ ہومز چلارہا ہے اور سینٹرل سوشل ویلفیئر بورڈ کے ذریعے 26 کونسلنگ مراکز بھی قائم ہیں۔ادھر فاروق خان اور سیکرٹری خوراک ، سول سپلائز و امور صارفین پی کے پولے نے جموں وکشمیر اور لداخ میں بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمٹیڈ ( بی پی سی ایل ) کی ایف آئی این او بینکنگ خدمات کے پرچون آوٹ لیٹس کا افتتاح کیا۔ایف آئی این او بینکنگ خدمات نئے پرچون آوٹ لیٹوں پر ماہِ اپریل سے شروع ہوں گی جن کی بدولت سیونگ بینک ، اے ٹی ایم ، انشورنس ،پنشن کی ادائیگی ،بِلوں کی ادائیگی کی سہولیات لوگوں کو میسر ہوں گی۔اس عمل میں لوگوں کو مختلف سہولیات حاصل کرنے کے لئے اے ٹی ایمز / دیگر کائونٹروں پر جانا نہیں پڑے گا۔ ایف آئی این او پے منٹ بینکنگ خدمات ، بی پی سی ایل اور ایس بی آئیز کریڈٹ کارڈ جسے عرف عام میں بی پی سی ایل ایس بی آئی کارڈ بھی کہتے ہیںکا افتتاح بھی کیا گیا۔ اِس موقعہ پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاروق خان نے بی پی سی ایل کی ان کاوشوں کو سراہا جن کے تحت اُنہوں نے مرکزی حکومت کے ڈیجیٹل اِنڈیا کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا ہے۔