تازہ ترین

ایثار

کہانی

8 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

رحیم رہبر
آٹھ سالہ عامر اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اپنی ماں خدیجہ کا دُلارا اور اپنے باپ سلطان کی آنکھوں کا تارا!
عامر نہ صرف شکل و شمائل میں بے نظر تھا بلکہ اُس کی حرکات و سکنات بھی متاثر کُن تھیں۔ جب چلتا تھا تو راستہ اُس کے پیر چومتا تھا اور جب وہ بولتاتھا تو ہونٹوں پہ گلاب کھلتے تھے۔ معصوم ہونے کے باوجود بھی وہ اکابروں جیسی باتیںکرتے تھا۔ معصومیت میں اُس کی عادات بھی کچھ نرالی تھیں۔ اپنے محلے میں گھر گھر جاکر مکینوں سے اُن کی خیر وعافیت دریافت کرنا، محلے میں کوئی بیمار ہو تو اُس کی خبر پُرسی کرنا، کوئی حاجت مند ہو تو اپنے جیب خرچہ میں سے کما حقہ ہُو اُس کی مدد کرنا وغیرہ۔ بچہ ہونے کے باوجود بھی وہ اقدار کا قائل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عامر سارے محلے کا سب سے پیارا بچہ تھا۔ محلے کی تمام مائیں اُس کو دعائیں دیتی تھیں اور تمام والدین اُس کی راہیں تکتے تھے! 
ایک دن کسی نے عامر سے پوچھا۔
’’عامر! یہ سب تم نے کہاں سے سیکھ لیا ہے؟‘‘
عامر تجب سے بولا۔
’’کیا۔۔۔؟‘‘
’’یہی جو کچھ تم کررہے ہو، مثلاً لوگوں کا خیال رکھنا، ہمدرد بننا، محبت اور ایثار کی ترغیب دینا اور آپس میں پیار بانٹنا وغیرہ وغیرہ۔‘‘
چھوٹے عامر نے اطمینان سے جواب دیا۔
’’جی انکل! میں کشمیری ہوں!‘‘
وہ شخص ہکا بکا سا رہ گیا۔
عامر کی وجہ سے لوگ اس کے والدین کو بھی عزت و اکرام سے نوازتے تھے۔ اُن کے لئے دعوتوں کا اہتمام کرتےتھے، حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ عامر کے والدین دولتمند نہیں تھے۔ ہاں! محنت و مشقت کرکے دو وقت کی روٹی وقار کے ساتھ کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے۔
اُس دن محلے کے سب ابن و بنات، مرد و زن سکتے میں پڑگئے اور کسی گھر میں چولھا نہیں جلا جب عامر نے اپنے ایک غیر مسلم دوست کو دریا میں ڈوبنے سے بچاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
���
رابطہ: آ?زاد کالونی پیٹھ کا انہامہ، موبائل نمبر؛9906534724