تازہ ترین

لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں دوسرے روز کی کارروائیاں بھی ہنگامہ کی نذر

جموں وکشمیر میں ’وائس کالنگ اور SMSپر کوئی پابندی نہیں: ریڈی

4 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

نئی دہلی // نیوز ڈیسک//پار لیمنٹ  کے دونوں ایوانوں میں منگل کو دوسرے روز بھی دہلی فرقہ دارانہ فسادات کو لیکر ہنگامہ آرائی ہوتی رہی جس کے نتیجے میں دونوں ایوانوں میں دوسرے بھی کوئی کارروائی نہ ہوسکی۔البتہ شور و غل کے ماحول میں امور داخلہ کے مرکزی وزیر مملکت، جی کشن ریڈی  نے بتایا کہ جموں وکشمیر میں پوسٹ پیڈ اور پری پیڈ موبائیل فون سروسزکی وائس کالنگ اور ایس ایم ایس سہولیت پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ موبائیل اور فیکسڈ لائن کے ذریعے انٹر نیٹ خدمات کو بھی بعض بندشوں کیساتھ بحال کر دیا گیا۔  لوک سبھا میں ممبران کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ریڈی نے بتایا کہ جموںوکشمیرکے متعلق لئے گئے فیصلوں کے بعد احتیاطی طورپر کچھ سہولیات پر پابندی عائد کی گئی تاہم رفتہ رفتہ سبھی سہولیات کو بحال کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کم رفتار ٹو جی سروس بھی جموںوکشمیر میں پچھلے تین ماہ سے بحال ہے ۔ بھاجپا کی قیادت والی مرکزی سرکار جموںوکشمیر میں تعمیر وترقی کاجال بچھانے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے کی پابند ہے۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر تنظیم نوایکٹ کی بحالی کے بعد وادی کشمیر میں پوری طرح سے امن واپس لوٹ آیا ہے اور لوگ بھی حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر مملکت نے بتایا کہ چونکہ جموںوکشمیر میں حالات پوری طرح سے معمول پر آچکے ہیں لہٰذا مرکزی حکومت بھی دھیرے دھیرے اہم خدمات کو بحال کر رہی ہیں ۔ اس سے قبل منگل کو جونہی لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور دہلی فسادات پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ سپیکر اوم برلا نے کانگریس ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ اس معاملے پر ہولی کے بعد ہی بحث ہوگی جس پر اپوزیشن ممبران آپے سے باہر ہوئے اورایوان کے وسط میں آکر احتجاج کرنے لگے۔ سپیکر نے بار بار اپوزیشن ارکان کو اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی اپیل کی تاہم کانگریس اور دوسرے ممبران پارلیمنٹ اپنی ضد پر اڑے رہے جس کے بعد سپیکر نے بارہ بجے تک ایوان کی کارروائی ملتوی کی۔ بارہ بجے کے بعد جونہی دوبارہ لوک سبھا کی کارروائی شرو ع ہوئی تو کانگریس کے ممبران نے پھر احتجاج کیا جس کے بعد سپیکر نے دن بھر کیلئے کارروائی کو ملتوی کیا۔ ادھر راجیہ سبھا میں بھی دہلی فسادات پر زور دار احتجاج ہوا اور ممبران نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ اس معاملے پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین نے کہاکہ ہم اس معاملے پر بحث کیلئے تیار ہیں تاہم پہلے عوامی مسائل پر بات ہوگی۔ اس دوران غلام نبی آزاد اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور ڈپٹی سپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ معاملہ انتہائی حساس ہے لہٰذا اس پر بحث کرنا ضروری بن گیا ہے ۔ اس دوران ڈپٹی سپیکر نے دو بجے تک راجیہ سبھا کی کارروائی  ملتوی کی۔ جونہی دو بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو غلام نبی آزاد پھر اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور ڈپٹی سپیکر کو بتایا کہ دہلی فسادات پر پہلے بحث ہونی چاہئے۔ سپیکر نے پورے دن کیلئے کارروائی کو ملتوی کیا۔ 
 
 

بھاجپا قیادت جھوٹ بولنے میں ماہر: آزاد

کشمیر میں سب کچھ بند، لیڈر بھی نظر بند

نیوز ڈیسک

نئی دہلی//لوک سبھاء میں جے کشن ریڈی کے بیان پر غلام نبی آزاد نے شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی لیڈران  جھوٹ بولنے کے ماہر ہیں اور یہ آسانی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ جموں کشمیر میں انٹرنیٹ پر آج بھی پابندی ہے اور یہاں پر موبائل انٹرنیٹ برائے نام چالو رکھا گیا ہے جبکہ براڈ بینڈ اور 4جی نیٹ ہنوز بند ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں کشمیری میں اب اگرچہ حالات معمول پر آنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے تو آج بھی تین سابق وزرائے اعلیٰ قید میں کیوں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دیگر درجنوں اہم چوٹی کے لیڈران بھی جیلوں اور گھروں میں نظر بند ہیں ۔ آزاد نے کہا کہ جے کشن ریڈی جی نے جو بیان دیا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار کوچاہئے کہ خالی بیان بازیوں کے بجائے زمینی سطح پر ایسے اقدامات اُٹھائیں جس سے جموں کشمیر خاص کر وادی کشمیر کے لوگ اپنے آپ کو محفوظ سمجھ سکیں ۔ جموں کے مختلف جگہوں کے نام تبدیل کئے جانے کے سوال کے جواب میں آزاد نے کہا کہ علاقوں ، جگہوں ، یا تواریخی عمارات کا نام تبدیل کرنا لوگوں کے جذبات مجروح کرنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اُٹھانے سے گریز کیا جانا چاہئے کیوں کہ یہاں کے لوگ پہلے ہی کافی مسائل اور پیچدگیوں سے گزررہے ہیں لہٰذا ایسے اقدامات نہیں کئے جانے چاہئے جن سے حالات خراب ہونے کا اندیشہ ہو ۔