تازہ ترین

رہنے دو پادشاہی کے کچھ خواب مرے آگے

4 اگست 2019 (02 : 10 PM)   
(      )

شفیع احمد نیو کالونی ، کھریوکشمیر
سیاست کی چنڈال چوکڑی میںآپ کا سواگت ہے۔خود سیاست دانوں کے لئے ایک مخصوص لائن موجود ہے ۔لوگوں کو بے وقوف بنانا اگر مقصد ہے تو شونہ (صفر) دبائیں ۔تاریخ کو مسخ کرنے کا ارادہ ہے تو سات دبائیں ۔ کہیں اور الیکشن جیت لینا ہدف ہے تو تین دبائیں ۔ کشمیر کے نام پر اگر پورے ملک میں سیاسی روٹیاں سینکنی ہیں تو ملا کر ۳۷۰ ؍دبائیں۔اگر کسی وجہ سے یہ لگے کہ سیاسی روٹیوں میں کچھ نرمی رہی تو ۳۵ ؍الف دبائیں۔چونکہ الیکشن کی آ مد آمد ہے اس لئے سیاسی روٹیاں سینکنے کے لئے اس سے بہتر کوئی آٹا یا میدہ بازار میں نہیں ۔۳۷۰؍ مارکہ آٹا لے کر اچھی طرح گوندھ لیں ۔اس میں ۳۵؍اے چھاپ گھی ملائیں اور ہلکی آ نچ پر رکھ لیں ۔دو تین مہینوں میں ہی مزیدار سیاسی روٹیاں تیار ملیں گی جن کے طفیل پانچ چھ سال تک سرکاری گدی پر عیش کرنے کا موقع نصیب ہوگا   ؎

 وعدہ وفا کوئی نہیں دفعات تو سلامت ہیں 

رہنے دو ابھی کرسی کی تمنا میرے آگے

سیاست کی اس پر بیچ دنیا میں ہل ، قلمدان ، کنول، ہاتھ ،سیب اور نہ جانے کیا کیا آپ کو اپنی طرف کھینچنے میں مشغول ہے اور آپ ہیں کہ کھینچے چلے آ رہے ہیں ۔ظاہر ہے کہ سیاسی مقناطیس ذرا تیز ہوتا ہے جبھی تو آپ ایک دن سیاسی بازیگروں کو دشنام طرازی سے ہیلو ہائے کہتے ہیں پھر دوسرے دن ان کی چرب زبانی سے ایسے گھل جاتے ہیں مانو جولائی اگست کی دھوپ میں مکھن رکھا جائے ۔خیر سواگت ہے اس دنیا میں جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے میں ماہر ہے۔ اس میں ایک لائن عام جنتا کے لئے بھی مخصوص ہے ۔اپنی پسند کی زبان میں بات کرنے کے لئے ایک دبائیں ، نہ سمجھ آنے والی زبان میں بک بک کرنے کے لئے دو دبائیں۔کسی سر پھرے سیاسی کارکن سے رابط کرنے کے لئے تین دبائیں تاکہ سیاسی مچھندروں کو ایک دو تین ہونے سے کوئی نہ روک پائے اور سیاسی گالیاں سننے کے لئے چار دبائیں تاکہ چارو نا چار آپ پھر فون بند ہی کردیں۔یہاں سڑاند ،اس قدر ہے کہ اپنی ناک پر رومال ڈھک لیں ۔منہ پر ماسک کس لیں۔  
اپنے ملک کشمیر میں جب کچھ ہوتا ہے تو جم کے ہوتا ہے ۔ دھوپ کی تپش جم کے ، بارشوں کا قہر جم کے ، اولوں کی چادر جم کے، سرحدوں کے آر پار گولوں کی بارش جم کے اور سب جانتے ہیں کہ افواہوں کی رم جھم وہ بھی جم کے۔پہلے پہل تو افواہ شہروں سے نکل کر گائوں دیہات تک پہنچنے میں کم از کم ایک دو دن لگتے تھے کہ لمبی مسافر بس میں سفر طے کرتی، اب تو افواہ بازی کے سادھن ترقی کرگئے۔ اسی لئے تو اب اپنے گورنر صاحب چونکہ کبھی کبھی ستیہ پال رہے ہیں ، ستیہ وانی پر اُتر آئے اور یہاں تک کہہ ڈالا کہ ملک کشمیر میں افواہ بازی کا دور دورہ ہے۔ارے صاحب! یہ آج کی بات نہیں بلکہ برس ہا برس سے یہی کچھ ہوتا آیا ہے اور تو اور اپنے یہاں تو افواہیں ہی سچ نکلتی ہے اور سچی باتیں خاص کر وہ بھی سرکار کی بہت کم سچ نکلیں۔البتہ ہم یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں کہ ریلوے پولیس کے اعلیٰ افسران کی میٹنگ کا خفیہ  مسودہ جو فاش ہوا، وہ ہم سرکای مانیں یعنی افواہ۔اگر سرکاری مانیں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ محکمہ افواہ بازی اب نیشنلائز ہوگئی ہے او ر اب سرکار براہ راست اسی محکمے سے بوقت ضرورت افواہیں خرید سکتی ہیں اور جملہ حقوق اپنے نام محفوظ کرکے بازار میں اُتار سکتی ہے۔ ایک تبدیلی ضرور آئی ہے کہ یہاںیہ افواہیں اب ہوا کے دوش پر ڈیجیٹل انڈیا میں ڈیجیٹل طیارے پر سوار اس قدر تیز رو چلتی ہے کہ برقی ہوئی تو برق رفتار پکڑتی ہیں۔ اس برق رفتار ی کے سبب لال چوک کی چھینک راج بھون تک بم کا دھماکہ بن کر پہنچ جاتی ہیں ۔ اس لئے خطرہ یہ ہے کہ سرحدوں پر تو بڑے گولے داغے جاتے ہیں، کہیں یہاں چھینکو بم کا زور نہ بڑھ جائے یعنی کیا پتہ ہم زُکام سردی کا علاج کروانے جائیں اور ڈاکٹر نمک کے غراروں کے ساتھ اِن ہیلر کا مشورہ دیں لیکن اصل میں چھینک کے جرثومے کہیں اور سے سمگل ہو کر آئے ہوں۔ اس لئے اس سلسلے میں قومی تحقیقاتی ایجنسیوں کا دخل در معقولات انتہائی اہم ہے، کیونکہ معاملہ گھمبیر ہے اوراس کا قلع قمع ضروی ہے۔ہم تو سوچتے رہے کہ ایسے مسئلے کا حل کیا ہوگا ؟کیوں نہ چھینکنے پر ہی پابندی عائد کی جائے کہ نہ رہے چھینک نہ بنے بم ،یعنی نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ۔اور تو اور کسے نہیں معلوم اپنے گورنر صاحب پابندی لگوانے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔کبھی سیکورٹی فورسز جو اوروں کی سیکورٹی کے لئے مامور ہیں ،ان ہی کی سیکورٹی کے لئے شاہراہ پر قدغن اور کہیں یاتریوں کی یاترا بھنگ ہونے کا شوشہ کھڑا کر کے عام آبادی سے جنگ کرکے ہائے وے پر  ایسی پابندی کہ پرندہ نہ پر مار سکے ۔ پھر بھی اپنے صوبائی افسران مسلسل انکاری کہ وہاں ٹریفک جاری و ساری ہے۔مانو اپنے ملک صاحب نے ستیہ بول کر ہی چھینک پر پابندی لگا دی ۔اگر کسی نے چھی کرکے چھینک ماری تو دو پویس والے دھیرے سے کان پکڑ کر سرکاری مہمان بنا دیں ۔ اگر کوئی چھو چھو آواز کے ساتھ چھینکے، اس پر با ضابط کیس بنے گا اور کیس بنانے پر جو پیسہ خرچ ہوگا ،اس کا اُسے ہی بھگتان کرنا پڑے گااور اگر کوئی آ۔۔۔آ۔۔۔چھو جیسی لمبی اور زور دار چھینکے تو آس پاس بانس بردار اور اے کے گن لئے پولیس، نیم فوجی یا فوجی اہل کار اس کی ایسی ٹاس پٹاس کردیں کہ اس کی ٹانگیں سوجھ جائیں ، بازوں نہ ہلیں اور ناک اس قدر بہتی رہی کہ آگے سے سونگھنے کی قوت ختم ہو چھینکنے کی تو بات نہیں۔اس کے سبب ایک تو راج بھون تک بم کا نرمان نہ ہو گا اور دوسرے سوچھ ابھیمان کی بھی آبیاری ہوگی کہ گندگی نہ پھیلے ۔ویسے بھی سرکاری اہل کار سوچھ ابھییان کی بینڈ تیز و طرار بجاتے ہیں جبھی تو سڑک کے کنارے پیشاب پھیرنے پر ایک عام آدمی کے خلاف پولیس کیس وجود پا گیا ۔ البتہ اسی ابھییان کے تحت بیت الخلاء بنوانے کی ذمہ داری اہل کاروں پر نہیں کیونکہ وہ جو چاہیں سو کرسکتے ہیں، البتہ حکم حاکم مرگِ مفاجات کی آبیاری ان کا پیدائشی حق ہے جس کی حفاظت ان کے سرکاری سروس بک میں درج ہے۔
خیر سے تو سمجھ آ ہی گیا کہ افواہ بازی کے سبب اور پوشیدہ حکم ناموں سے بم بارود کے نقشہ بنتے ہیں ،اس سے اپنے سیاسی دریندر بھی بڑے پریشان ہیں۔ جبھی تو نیشنل کے ٹویٹر ٹائیگر مسلسل ٹویٹر چڑیا اُڑا رہے ہیں اور اس قدر شو شو کر رہے ہیں کہ بے چاری چڑیا کے پر بھی کافی تھکے تھکے دِکھتے ہیں ۔اب کی بار ہل والے ینگ قائد اس میں سی بی آئی انکوائری مانگ رہے ہیں کہ بھائی لوگو تہہ تک جائو اور یہ پتہ لگائو کہ افواہ عوام نے اُڑائی تھی یا سرکاری دفتر سے نکلی تھی۔کیا پتہ خود سرکار نے افواہ بازی کے لئے مخصوص پوسٹ قائم کی ہو؟مانگ تو دُرست ہے کیونکہ اسی کے سبب تو سی بی آئی کا دھیان کرکٹ سے ہٹ جائے گا ۔وہ افواہ بازی میں گھس جائیں گے اور کرکٹ کشمیر کا کروڑوں کا گھپلا داخل دفتر ہوگا اور یوں ہل والے قائد ثانی کچھ راحت کی سانس لے پائیں گے۔نہیں تو کسے نہیں معلوم سی بی آئی نے شوپیان دوہرے قتل میں جوان سال خواتین کو اڑھائی فٹ پانی میں گر کر مارے جانے کا بوگس ڈرامہ اسکرپٹ لکھ دکھایا۔وہ ڈرامہ کہاں تحریر ہوا، کہاں کھیلا گیا کسے نہیں معلوم ۔البتہ ہمیں تو بس ایک جھلک ہی دکھائی گئی کہ ہم جب تحقیقات کا جوا کھیلتے ہیں تو سارے یکے اپنی جیب میں رکھتے ہیں۔  چلو ٹویٹر ٹائیگر نے باپ بچائو ترکیب تو نکالی مگر مودی شاہ اینڈ کمپنی بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں کہ کنول کہاں سونگھانا ہے اور ترشول کہاں گھسیٹ دینا ہے ، خوب جانتے ہیں ۔جبھی تو کرکٹ کا اسکور پتہ کرنے ای ڈی کے لوگ پہنچ گئے۔کرکٹ بورڈ میں کتنے رَن بنائے ، کتنے چوکے لگائے اور کتنے چھکے مار ے، اس کاحساب لے گئے۔بھلا کوئی چوکوں چھکوں کو ایسے ہی بے حساب مار سکتا ہے کیا ؟چھکوں پر ماب لنچنگ سخت منع ہے اور اس پر مکمل کاروائی ہو گی ،یہ بات نوٹ کی جائے۔دروغ بر گردن راوی جس نے یہ کہا کہ کرکٹ سکینڈل کا اسکور اس لئے بھی پتہ کرنا تھا کہ اسمبلی نتائج کا پلڑا کیسے بیٹھے گا، اس کی زمین ہموار کی جائے یعنی داشتے کہ بکار آید۔
ادھر ملک کشمیر میں سونہ مرگ سے سورسیار تک ، کھنہ بل سے کھادن یار تک اور بانہال ٹنل سے راجدھانی پاس تک سب حرکت میں آگئے ہیں اور اپنی اپنی فوج لے کر ۳۷۰ خالی کی ہانڈی اور خیالی ۳۵؍اے کا دفاع کرنے میدان میں آگئے ہیں۔ جنہوں نے اتنے برس ان دو بے زبانوں کی بوٹی بوٹی نوچ تل کر ڈکار لیں وہ بھی اس کا دفاع کرنے میں پیش پیش ہیں۔وہ بھی جو خواب خرگوش، خواب سرکار اور خواب مرد مومن میں مبتلا رہ کر بھی جمائیاں لیتے تھے، اب اس کے نام لیوا بن گئے ہیں ۔اور جو جمعہ جمعہ آٹھ دن سے سیاسی سُر تال میں مست ومگن ہیں ،وہ بھی اپنے کمر بند باندھ کر دفاع خصوصی پوزیشن پر اَڑ گئے ہیں۔اتنا ہی نہیں عاشق و معشوق کی مانند روٹھے ہو تو منائوں کیسے کے ہاتھ بھی یہی دفعہ ہاتھ لگے ہیں کہ بات ہی نہیں مشورہ کرنے بھی تیار ہیںاور ساتھ میں یہ بھی اعلان کرتے ہیں کہ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی ۔ہم تو ہوشیار ہیں ، خبر دار ہیں ، دیوانہ وار ہیں، بلکہ بر سر پیکار ہیں ۔ادھر دلی دربار سے کنول بردار طعنہ دیتے ہیں کہ یہ لوگ اصل میں بے کار ہیں اور بقول اہل کشمیر بے کار کے تین کار ہوتے ہیں ۔خیز اب کی بار الیکشن سماچار یہ ہے کہ ان کے تین کار ۳۷۰؍، ۳۵؍اے اور الیکشن خم دار ہیں  ؎  

 جوڑا قلم کنول سے ایک کرسی کے لئے

اب جگر تھام کے بیٹھو میری باری آئی

ہوش کے ناخن لے لو دلی کا رخ بدلا

 کیسے روکیں ان کو شامت ساری آئی

ادھر جو کل تک کنول کی مہک سونگھنے دلی دربار میں پہنچتے تھے بلکہ قلم کنول برادری کو قطبین کا ملاپ کہتے تھے اور اسی تھاپ پر ایسا آلاپ جگاتے تھے کہ سیاسی سنگیت کی لے چینی وُڈر(بیج بہاڑہ) کے سیب اور ناگپور کے سنترے بھی سن پاتے تھے اور ایسا رنگ پکڑتے تھے کہ باقی لوگوں کو چھٹی کا دودھ اور بچپن کی ٹافی یاد دلاتے، وہ بھی اب ہل والے قائد ثانی کے ای ڈی( بمہر بانی پی ڈی پی نہ سمجھیں ) کے ذریعے چندی گڈھ میںپوچھ تاچھ کو سیاسی انتقام گیری کہتے ہیںاور ہم دلاور فگارؔ کے مانند محسوس کرتے ہیں    ؎
پھر ایک لمحہ کو دونوں جسیم رہنما 
نگاہِ یاس سے اک دوسرے کو تکتے رہے
جو کل تک کہا تھا ایک دوسرے کے خلاف
مارے شرم کے یاد کرکے تھکتے رہے 
رابط (wanishafi999@gmail.com/9419009169)