تازہ ترین

مصر:حسن البنا سے محمد مرسی تک

4 اگست 2019 (02 : 10 PM)   
(      )

سمیر بن رحیم ہاین کنگن کشمیر
مصر میں اخوان المسلمین کا قیام1927ء میں ہوا۔اس کی بنیاد امام حسن البناء شہیدؒ کے ہاتھوں عمل میں آئی۔اخوان اصل میں اسلامی کا دیباچہ تھا۔ حسن البناءؒ نے اس کابیج بویا، اسی بیج سے صالحیت اور کردارسازی کے انکھوے پھوٹے،پتے نکلے،شاخیں پھلیں،جڑیں انسانی سیرتوں میں اُتریں اور ایک عوامی انقلاب کی صورت میں ا س کے برگ وبار نکلے، مگر یہ سب قربانیوں اور محنتوں کا رہین ِمنت ہے۔ا لاخوان المسلمون کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اس  نے ہر سرکش طاغوت کے خلاف مردانہ وار مقابلہ کیا ، چاہے باطل انورالسادات کی شکل میں تھا،چاہے جمال عبدالناصر کی صورت میں ہویا حسنی مبارک کی شکل میں۔ ناحق اور سرکشی کے ہر پتلے کے خلاف انہوں نے علم بغاوت بلند کی ۔ا لاخوان المسلمین کی تحریک ایک ہی نصب العین ہے : اسلام ہی تمام مسائل کا حل ہے ۔انہوں نے مصر میں اسی نصب العین کی طرف عوام کو بلایا اور چہار جانب تحریک کو پھیلادیا ۔ یوں اخوان مصری مسلمانوں کی زندگی کے نجی ،خاندانی،معاشرتی،معاشی اور سیاسی شعبوں میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی جدوجہد میں سرگرم عمل ہوئی۔ جب اخوان نے بڑے پیمانے پر طاغوتی حکومت کے خلاف اپنی آواز بلند کی تووقت کے آمریت پسند حکمرانوں کو یہ بات ہضم کیسے ہوتی؟۔ چنانچہ1954؁ٗء میں جمال عبدالناصر کی حکومت پلٹنے کا بے بنیاد الزام لگاکر اخوان پر پابندی عائد کردی گئی، حکومت یہیں نہیں رُکی بلکہ1965ء میں دوبارہ اخوان پر کریک ڈاؤن کیا اور حالت اتنی بُری ہوئی کہ سید قطب شہیدؒ سمیت چھ بڑی شخصیات کو موت کی سزا سنادی گئی اور 1966ء میں سید قطب  ؒ کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔
 قوموں کی تاریخ  میں ٹھوس انقلاب اکثر و بیش تر قوم کے حالات بدل دیتے ہیں، ظالمانہ حکومتیں ختم ہو جاتی ہیں اور ان کی جگہ نئے اور بہتر نظامِ حکومت قائم ہوتے ہیں لیکن یہ انقلاب لانے میں لوگوں کو بہت ساری قربانیاں دینا پڑتی ہیں ،چاہے یہ مالی قربانیاں ہوں یا جانی۔اگر ہم اخوان کی طرف نظر ڈالیں تو اس تحریک نے بھی حسب معمول ہر میدان ِ عمل میں بے انتہا قربانیاں دیں مگر یہ انقلاب صرف اللہ کی زمین پر اللہ کے قانون کو نافذ کر نے پر مر کوز تھا۔ ایسے نظریاتی انقلابات کے مخالفین کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ ان کو روکا جائے یا پھر ان کی راہ میں کانٹے بوئے جائیں۔اخوان کی طرف سے لڑکیوں اور بچوں کے لئے مدرسہ امہات المومنین قائم کئے گئے اور اخوان المسلمات کے شعبے کی تشکیل کی گئی۔مشہور مصری محقق شوق ذکی لکھتے ہیں:’’1939 سے1945تک سیاسی لحاظ سے اخوان کی دعوت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی۔اس کی سرگرمیوں اور پروگراموں میں غیر معمولی وسعت پیدا ہوگئی۔اخوان کے اندر قاہرہ یونیورسٹی اور الازہر یونیورسٹی کے نوجوان جوق در جوق شامل ہونے لگے۔اس دور میں اخوان کو ایسا عروج حاصل ہوا کہ صرف اخوان کے فعال کارکنوں کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی ۔اس سے اخوان نے مضبوطی حاصل کی۔اب ہونا کیا تھا اخوان کی غیر معمولی ترقی دیکھ کر یہود و نصاریٰ اور اسلام مخالف قوموں کو یقین ہوگیا کہ اگر ہم تحریک اخوان المسلمین کو روکنے میں ناکام ہوئے تو وہ عرب دنیا میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو روک نہ سکیں گے۔‘‘یہ حالات دیکھ کر اب اخوان پر باطل شکنجہ کسا جانے لگا۔امام حسن البناء شہیدـؒ آنے و الے کے پہلے ہی پیش بینی کر پیش تھے اور جانتے تھے کہ ہمیں کڑی آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑے گا۔وہ فرماتے ہیں :
’’ اس کام میں وہ وقت آئے گا جب ہم ابتلاء و آزمائش کے دور میں داخل ہوں گے۔دعوت حق کے علم برداروں کی راہ میں اس منزل کا آنا ناگزیر ہے۔‘‘12؍فروری1949کی شام کو شباب المسلمین کے مرکز کے سامنے قاہرہ کی سب سے بڑی شاہراہ پر گولی مار کرحسن البناء ؒ کو شہید کردیاگیا۔مصر ی عوام پر یہ جان کاہ خبر بجلی بن کر گری۔ اُدھرسید قطبؒ کی شہادت کے بعد اخوان نے ملکی سیاست کا حصہ بنتے ہوئے کبھی حسنی مبارک ، کبھی وفد پارٹی کے ساتھ لیبر اور لبرل جماعتوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا ۔چلتے چلتے اخوان مصر کی اہم اپوزیشن بن گئی اور ملک کے طول وعرض میں اپنی جڑیں مضبوط کر گئی۔یہ دیکھ کر فوجی ڈکٹیٹر حسنی مبارک نے اخوان کی بڑھتی مقبولیت اور طاقت توڑنے کے لئے قانون میں تبدیلی کر کے یہ شرائط رکھیں کہ کسی بھی سیاسی کارروائی یا سیاسی جماعت کی بنیاد مذہبی جماعت پر نہیں ہونی چاہئے ، علاوہ بریں آزاد امیدواروں پر صدارتی الیکشن لڑنا ممنوع قرار پایا۔حسنی مبارک کی بد ترین آمریت سے مصر ی عوام تنگ آکر صدائے احتجاج بلند کر نے سڑکوں پر نکل آئی ۔ لوگو ں نے لاکھوں کی تعداد میں سیاسی تبدیلی کی تحریک کے لئے قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں جمع ہو کر ایک نئی انقلابی تاریخ رقم کی ۔ اخوان کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کے بارے میں پہلے پہل کوئی بیان نہیں آیا مگرحکومت ِوقت کو اس بات پر صد فی صدیقین تھا کہ عوام کی سیاسی بیداری کے پیچھے اخوان ہے کیونکہ اس تحریک نے ہمیشہ عوامی کاز کی حمایت کی اور حکومتی آمریت کو مصر میں گھمبیر صورت حال پیدا کر نے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔بالآخر کار اخوان کی طرف سے ایک بیان جاری ہواکہ’’ہم بھی عوام کا ایک حصہ ہیں،عوام آج بھی اپنے بنیادی حقوق کی خاطر نکل چکی ہے اور انہیں ایسا کرنے کا بالکل حق ہے۔عوام جعلی پارلیمنٹ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور انہیں اپنی آزادی مطلوب ہے۔ہم ایک اسلامی اسٹیٹ چاہتے ہیں،ایک ایسا نظام جہاں میڈیا کو آزادی ہو اور عدلیہ آزاد و عدل پرور ہو۔‘‘تحریر اسکوائر کے پس منظر میں ایک قلیل مدت میں اخوان کوعوام کی غیر معمولی پذ یرائی ہوئی ۔اس کے بعد حسنی مبارک چلتا بنا اور ملک میں ہو نے والے قومی انتخابات کا انعقاد ہو اجن میں اخوان المسلمین نے جیت پالی ۔ اخوان سے وابستہ ڈاکٹر محمد مرسیؒ جمہوری طور پر منتخب ہونے والے پہلے ملکی صدر بنے۔ان کی صدارت صرف ایک سال تک رہی کیونکہ2013میں فوجی جنرل السیسی نے اُن کا تختہ اُلٹ دیا، مصر کو جیل میں نظربند کردیا گیا، اُن پر جھوٹے مقدمات چلائے گئے ۔ مصر کے نئے فوجی آمر کا الزام تھا کہ انہوں نے اپنے حامیوں کو ایک صحافی اور حزب مخالف کے دو رہنماؤں کو قتل کرنے پر اُکسایا اور کئی دیگر افراد کو غیر قانونی طور قید کیا، ملکی راز دشمنوں کے ساتھ شئیر کئے۔ستم ظریفی کہ مقدمات میں ملک کی تاریخ کے پہلے منتخبہ صدر ڈاکٹر محمد مرسیؒ کی کچھ نہ سنی گئی اور بیک جنبش قلم ان کو 20؍سال کی قید سنائی گئی۔آخر کارصدر محمد مرسیؒ 18؍جون2019ء کو عدالتی پیشی کے دوران آہنی پنجرے بے ہو ش ہوتے ہی شہید ہوگئے ۔ان کی شہادت کی وجہ کیا تھی، اس سے پوری دنیا واقف ہے۔