تازہ ترین

’ زخموں کے اُجالے ‘

دیپک بُدکی کا منفرد افسانہ

4 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مصباحی ؔ شبیر احمد
دیپک بُدکی ایک عالمی شہرت کے حامل مصنف و افسانہ نگار ہیں ۔اپنی خدا داد صلاحیتوں و مشاہدات سے وہ اپنے افسانوں میں قارئین کے ادبی ذوق کو تسکین بخشنے کے لئے بہت کچھ رکھ دیتے ہیں ۔ زیر تبصرہ افسانہ بھی اُن کے مشاہدات و بہترین بیانیہ کی عکاسی کرتا ہے ۔ ’’زخموں کے اُجالے ‘‘۔اپنی بنت میں اگر چہ ایک افسانہ ہے مگر افسانے کا بیانیہ ہمارے سماج کی ایک دل خراش حقیقت کی وجہ سے قارئین کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتاہے۔ زیر تبصرہ افسانے میں افسانہ نگار نے فن تحریر پر اپنی قدرت سے سماجی حقائق کو اتنا دلچسپ بنایا ہے کہ قاری جہاں افسانہ پڑھ کر افسانے کا لطف حاصل کرتاہے وہیں دوسری طرف اُس پر یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آج سچ بولنا کتنا مشکل کام ہے۔ یہ افسانہ ایک ایسے کردار کے گرد گھومتا ہے جو اپنی صدق بیانی سے اگرچہ بہت پریشان ہے مگر نفسیاتی طور سے صدق بیانی اس کی زندگی کا ایک جزء لاینفک بن گئی ہے اور وہ چا ہ کر بھی جھوٹ بول نہیں پاتا ہے۔ افسانہ نگار نئے سماجی نظام میں اپنے کردار کے کرب کو بیان کرتے ہوئے لکھے ہیں ’’ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ میں نے باربار سچائی کو ترک کرکے جھوٹ بولنے کی شعوری کوشش کی مگر بولتے بولتے گھبرا گیا اور مخاطب نے میرے کذب کو پکڑ لیا ۔اس لئے پھر وہی صدق ِ مقال ۔جھوٹ تو میں بولنا چاہتا ہوں مگر بول نہیں پاتا ‘‘ اور دوسری جگہ لکھتے ہیں ’’ کئی بار سوچا کہ کسی نزدیکی چورا ہے پر کھڑا ہوجائوں اور چیخ چیخ کر کہوں کہ میں صادق الاعتقاد ہو ں نہ راست گو ۔جو کہتے ہیں کہ میں سچ بولتا ہوں سب جھوٹ ،بہتان ہے ۔میں سب لوگوں کے سامنے مقدس کتاب اُٹھا کر قسم کھانا چاہتا ہوں کہ آج سے میں جھوٹ بولوں گا ۔ ‘‘افسانے کے مذکورہ بیان ہماری بے حسی کا واضح ثبوت ہے کہ ہماری وجہ سے ایک نیکوکار انسان کو اتنا صدمہ پہنچا ہے کہ وہ اعلان کرنا چاہتا ہے کہ میں اب حقیقت بیانی ترک کرکے ہمیشہ جھوٹ بولوں گا ۔
افسانہ کے یہ مرکزی کردار جھوٹ بولنا کیوں چاہتا ہے یہ بھی اپنے آپ میں دلچسپ ہے، کیوں کہ وہ جس سماج میں رہتا ہے وہاں جھوٹ بولنے کی اہمیت کس قدر ہے اس کو بُدکی صاحب کچھ اس طرح بیاں کرتے ہیں ۔ ’’ شرافت ،خلوص اور دیانت داری موجودہ زمانے کی سب سے بڑی رُکاوٹیں ہیں ۔آج کل کی دُنیا میں جھوٹ بولنا عصائے موسیٰ کی مانند ہے جو زندگی میں آرام و سکون میسر کرسکتا ہے۔ آخر کیا ملتا ہے سچ بولنے سے ۔۔۔ ۔۔  ناکامی ،ذلت اور خواری‘‘ ۔افسانہ نگار یہاں سچائی کے تئیں ہماری ہر دم بڑھی بے رُخی کو بڑے کرب کے ساتھ بیاں کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ’’ آخر کیا ملتا ہے سچ بولنے سے ۔۔ ناکامی ،ذلت اور خواری ‘‘ کتنا دردوکرب نہاںہے اس جملے میں۔ واقعی سچ بولنے والوں کو کیا ملتا ہے ؟ انہیں پوری دنیا بے وقوف سمجھتی ہے۔ہر جگہ اُن کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ہے بلکہ ہم سمجھاتے ہیں کہ کہیں کہیں جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ ہر جگہ جب سچ بول کر ناکامی ملے اور دوسری طرف وہ انسان یہ دیکھے کہ کذابوں کو کامیابی مل رہی ہے تو سوچنے پر مجبور ہوگا کہ آخر کیا ملتا ہے سچ بول کر۔ یہا ں ہمارے اس کاذب معاشرے کا دوہرا روپ واضح کر دیا گیا ہے۔ 
افسانے کی یہ عبارت بھی قابل غورو فکر ہے ۔
’’ بارہا میرے ذہن میں سوال اُٹھتا ہے کہ میں نے خواہ مخواہ اپنے آپ کواصولوں کا قیدی کیوں بنا رکھا ہے ؟ اصولوں کے منفی عواقب بھی تو نکلتے ہیں ۔ میں کوئی یُدھشٹر تھوڑے ہی ہوں ۔اصولوں کو ترک کرکے سب لوگ مزے سے جی رہے ہیں ۔گھر والی خوش ،باہر والی خوش ، باس خوش ، ماتحت خوش ،غرض ساری دُنیا خوش ۔صبح دم خدا کے تملق کی خاطر صحیفے کی گردانی کرو ،پھر اس کو جزدان میں رکھ کردن بھر بھول جائو ۔اس طرح خدا بھی خوش ‘‘
یہاں بُدکی صاحب کے مشاہدات نے افسانے میں جان ڈال دی اور بڑے فنکارانہ طریقے سے وہ اپنے مشاہدات افسانے کی وساطت سے سامنے رکھتے ہیں کہ کیسے نیک اصولوں نے سماج کے چند نیکوکاروں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے تو دوسری طرف چند مکار اپنے فرائض منصبی کو بے ایمانی سے انجام دے کربھی دھن دولت کماتے ہیں ۔یہاں پر اُن مذہبی کاروباریوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے جو صبح صبح چند بھجن گاکر یا آیات کی تلاوت کرکے سماج کی نظروں میں پارسا بنے پھیرتے ہیں۔ ’’اور اس طرح خدا بھی خوش ‘‘ سے اُن کے مکرو فریب پر بڑا گہرا طنز کیا گیا ہے۔
یہ کہانی جہاں ایک طرف ہمارے سماج کی نت نئی برائیوں اور فریب کاریوں کو اجاگر کرتی ہے وہیں دوسری طرف یہ آج کے ہمارے معاشرے کے شریف النفس انسانوں کی مجبوری کو اجاگر کرتی ہے کہ کیسے وہ اس جھوٹے و خود ساختہ سماج جو ایک طرح سے دجال کی خود ساختہ جنت ہے، میں کن مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ۔ افسانے کے یہ جملے ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم سوچیں کہ ہماری وجہ سے ایک بچے کو اپنے باپ کے دئے ہوئے نیک سنسکار فضول لگتے ہیں ۔ ۔’’لوگ کہتے ہیں یہ میرے سنسکار ہیں ۔جی ہاں میرے پتا جی نے بے شک ایک کام غلط کیا کہ بچپن میں مجھے سچ بولنے کا درس دیتے رہے اور اس بارے میںمیری حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے ۔ انھوں نے نا دانستہ طور موجودہ معاشرے میں میرے لئے بے روک ٹوک اور بگ ٹٹ ترقی کے سارے دروازے بند کردئے۔‘‘
افسانے میں نیک تربیت کی فتح بھی دکھائی گئی ہے اور ایک بڑے نفسیاتی اصول کی حقانیت بھی پیش کی گئی ہے کہ بچپن میں دئے گئے نیک سنسکار کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔ وہ انسان پر دوررس اثرات مرتب کرتے ہیں۔ افسانے کے کردار کو باپ نے جھوٹ نہ بولنے کی ہدایت کمسنی میں دی تھی اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے، اس لیے اُن کا بچہ بڑا ہوکر چاہ کر بھی جھوٹ نہیں بول پاتا ہے۔ وہ سماج کے ناخدائوں کی تمام تر مکاریوں سے واقف تو ہے مگر خود ان کے رنگ میں رنگ نہیں پاتا ہے۔
دیپک بُدکی کا یہ افسانہ ایسے فرشتہ صف انسانوں، جو ہمارے سماج میں اب خال خال ہی نظر آتے ہیں،کی بہترین ترجمانی کرتے ہوئے ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ مصنف مشاہدات  اور افسانہ نگاری کی فنی باریکیوں پر اُن کی دسترس اور بہترین بیانیہ اُن کیلئے قابل مبارک باد ہے۔
٭٭٭
٭نوٹ ۔ زیر تبصرہ کہانی ’’ ندائے گل ‘‘ پاکستان (جلد06شمارہ02) میں شائع ہوئی ہے اور وہیں سے لی گئی ہے۔ 
���
دراس کرگل ، لداخ ، جموں و کشمیر ,موبائل نمبر؛ 8082713692