تازہ ترین

مزید خبرں

3 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین کا پونچھ میں احتجاج 

حسین محتشم
 
پونچھ//پونچھ میں محکمہ بجلی میں کام کرنے والے عارضی ملازمین نے اجرتیں واگذار نہ کئے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔محکمہ میںعارضی بنیادوں پر تعینات ان ملازمین کا کہنا تھا کہ دن رات کام کر نے کے باوجود ان کی اجرتیں وقت پر واگذار نہیں کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے اہل خانہ فاقہ کشی کاشکار ہو گئے ہیں۔عارضی ملازمین کا کہنا تھا کہ سرکار کی طرف سے بند پڑی اجرتوں کو واگذار کر نے کے اعلان کے باوجود محکمہ کے آفیسران ان کے ساتھ سوتیلا سلوک جاری رکھے ہوئے ہیں اور نا معلوم وجوہات کی بناء پر ان کی اجرتیں ادا نہیں کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک سرکار کی طرف سے ان کے لئے مستقلی کے اقدامت کی پالیسی بھی فریم نہیں کی گئی ہے جو کہ قابل افسوس ہے۔ان عارضی ملازمین کا مزید کہنا تھا کہ کہ ضلع میں تعینات سینکڑوں ملازمین دن رات اپنے فرائض کو مختصر ماہانہ اجرت پر انجام دیتے ہیں اور وہ بھی وقت پر انہیں نہیں واگذار کی جاتی ہے۔آنہوں نے کہا کہ محکمہ اور سرکار نے انہیں فاقہ کشی پرمجبور کر دیا ہے جبکہ وہ بچوں کے سکولی و دیگر اخراجات پورے کرنے میں قاصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں کئی عارضی ملازمین بجلی کرنٹ لگنے  سے ڈیوٹی کے دوران لقمہ اجل بن گئے سرکار نے انکے لئے بھی واضح پالیسی مرتب نہیں کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے کام میں ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے اور اپنی جانوں کو ہتھیلی پہ رکھ کر مجبوری کی صورت میں وہ اپنے فرائض کو انجام دیتے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی ملازمین دس سال سے زائد عرصے سے محکمہ میں اپنی خدمات انجام دیتے ارہے ہیں لیکن ان کی مستقلی کے بارے میں ابھی تک کوئی بھی اقدام نہ اٹھایا گیا ہے۔انہوں کا کہا کہ محکمہ بجلی میں سب سے زیادہ ان ہی عارضی ملازمین سے کام لیا جاتا ہے لیکن ان کی اجرتوں کے ساتھ ساتھ ان کے مستقبل کے بارے میں سرکار اور محکمہ کی طرف سے کوئی بھی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان کی اجرتیں فوری طور پر واگذار نہ کی گئی تو وہ کام چھوڑ ہڑتال پر چلے جائیں گے۔
 
 

 سروس سلیکشن بورڈ پر فنون شعبہ کے بے روز گار نوجوانوں کیساتھ نا انصافی کا الزام 

حسین محتشم
 
پونچھ//جموں و کشمیر سروس سلیکشن بورڈ کی جانب سے محکمہ دیہی ترقیات میں اکاؤنٹ اسسٹنٹ کی نشستیں پر کرنے کیلئے نوٹس نکالا گیا جس میں آرٹس شعبہ کے بے روز گار نوجوانوں کویکسر نظر انداز کیا گیا۔ آرٹس امیدواروں کو نااہل قرار دینے پر جموں کشمیر انصاف مؤومنٹ نے سروس سلیکشن بورڈ کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ سے اس فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔ مؤومنٹ کی جانب سے گورنر ستیہ پال ملک اور چیئر مین سروس سلیکشن بورڈ کو ایک یاداشت بھی ارسال کی جس میں اس فیصلہ پر نظر ثانی کی گزارش کی گئی۔ یاداشت ارسال کرنے کے بعد مؤمنٹ کے چیئر مین جاوید ریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایک آرٹس کا گریجویٹ آئی اے ایس، آئی پی ایس، کے اے ایس، کے پی ایس، آئی آر ایس، ایس ایس سی کیلئے اہل ہے، جہاں سے وہ ضلع کمشنر، ایس ایس پی، اکاؤنٹس افسر وغیرہ بن سکتے ہیں تو اکاؤنٹ اسسٹنٹ کیلئے اس کو نااہل قرار دیا گیا ہے؟ انہوں نے اس فیصلہ کو پسماندہ اور دور دراز علاقے سے وابسطہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکار جان بوجھ کر غریب نوجوانوں کو نظر انداز کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقوں کے ہائر سیکنڈری سکولوں میں محض آرٹس مضامین ہیں جہاں سے نواجوان صرف آرٹس ہی پڑھ سکتے ہیں انکو کس بنیاد پر نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے اس فیصلہ پر جلد از جلد نظر ثانی کرنے کی مانگ کرتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگر سرکار نے اس فیصلہ کو واپس لے کر آرٹس امیدوادوں کو بھی اس پوسٹ کیلئے اہل نہیں قرار دیا تو ریاست کے اسی فیصدی گریجویٹ نوجوانوں سرکار کے خلاف احتجاج کریں گے جس کی گورنر انتظامیہ اور سروس سلیکشن بورڈ کی ہوگی۔ اس موقع پر چوہدری محمد شریف کوہلی، اختیار احمد، تسلیم خان، محمد الیاس اور دیگران موجود تھے۔
 

راجوری میں 11میڈیکل سٹوروں کی جانچ 

راجوری //راجوری انتظامیہ نے تھنہ منڈی میں 11میڈیکل سٹوروں کا معائینہ کیا ۔ڈرگ کنٹرول اینڈ فوڈ کنٹرو ل آرگنائزیشن کی ایک ٹیم نے ضلع انتظامیہ کی ہدایت پر میڈیکل سٹوروں کا معائینہ کیا ۔اسسٹنٹ ڈرگ کنٹرولر سریندر موہن کی قیادت میں محکمہ کی ٹیم نے دکانوں پر فروخت کی جارہی ادویات کے معیار کا معائینہ کیا ۔اس سلسلہ میں بولتے ہوئے انسپکٹر وپن کچرو نے کہاکہ ضلع انتظامیہ کی ہدایت کی گئی چیکنگ کے مذکورہ معاملے کر آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
 

پٹھا نہ تیرکے پہاڑی گائوں کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم 

جاوید اقبال
 
مینڈھر//سب ڈویزن مینڈھر کی پنچائت پٹھانہ تیر کی حالت نہائت ہی خستہ ہے جبکہ انتظامیہ لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہو چکی ہے۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مذکورہ گائوں ایک پہاڑی پر واقعہ ہے جس میں لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں ہیں لیکن محکمہ پی ایچ ای اور محکمہ پی ڈی ڈی کی جانب سے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا جارہاہے جبکہ اسی طرح سے سڑکوں پر لوگوں کا پیدل چلنا بھی مشکل ہو گیا ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق  دو ماہ قبل محکمہ بجلی نے سب ڈویزن مینڈھر میں بے شمار بجلی کے کھمبے دئیے لیکن پٹھانہ تیرگائوں کو یکسر نظر انداز کر دیا ۔مذکورہ گائوں میں مقامی لوگوں نے کھڈے نکال کر رکھے ہوئے ہیںلیکن کئی ماہ گزر جانے کے باوجود بھی لوگوں کو بجلی کے کھمبے فراہم نہیں کئے گئے ہیں ۔اس گائوں میں بجلی کی ترسیلی لائنیں سبز درختوں کیساتھ باندھی ہو ئی ہیں ۔مقامی لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکمہ کے ملازمین کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اور اگر ملازمین کی غفلت شعاری کے سلسلہ میں تحقیقات نہیں کی جاتی تو مقامی لوگوں احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہو جائینگے ۔
 

محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے 

نکالی گئی فہرست قاعدہ کے مطابق :یونین 

جاوید اقبال 
 
مینڈھر //مینڈھر میں سپروائزر یونین نے حالیہ دنوں میں محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے آنگن واڑی ورکرز کی جاری فہرست کو قاعدہ کے مطابق قرار دیتے ہو ئے کہاکہ فہرست میں منتخب امید واروں کو اہلیت کے تحت منتخب کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ فہرست صاف و شفاف طریقہ سے جاری کی گئی ہے جبکہ اس میں کسی بھی قسم کی کوئی دھندلی نہیں کی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ متعلقہ محکمہ کے آفیسران نے ضلع سطح کی کمیٹی کی قیادت میں انتخابی عمل کو مکمل کیا گیا ۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ آسامیوں کی نوٹیفکیشن 2015میں جاری کی گئی تھی جس کے بعد پورے عمل کو قانون کے مطابق ہی مکمل کیا گیا ہے ۔انہوں نے الزام عائد کر تے ہوئے کہاکہ کچھ عناصر اپنے کم نمبرات والے امیدواروں کو فہرست میں شامل کروانا چاہتے تھے تاہم ناکامی کے بعد وہ دھاندلی جیسے الزامات عائد کر رہے ہیں ۔انہوں نے محکمہ کے آفیسران کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ تمام کام خوس اسلوبی کیساتھ چل رہا ہے۔
 

راجوری میں فوج نے شجر کاری مہم شروع کی 

نیوز ڈیسک
 
راجوری //فوج کی جانب سے سرحدی ضلع راجوری کے متعدد علا قوں میں مونسون شجر کاری مہم کا آغاز کیا گیا جس کے دوران قدرتی ماحولیاتی توازن کو بر قرار رکھنے کیلئے پودے لگائے گئے۔ضلع کے کیری اور پیٹری گالہ علا قہ میں کی گئی شجر کاری کے دوران200سے زائد چھوٹے پودے لگائے گئے جبکہ اس موقعہ پر منعقدہ پروگراموں کے دوران فوجی ماہرین نے عام لوگوں کو قورتی ماحولیاتی توازن کو بر قرار رکھنے کیلئے جانکاری فراہم کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنی علا قوں میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں جبکہ جنگلات کی کٹائی و دیگر ایسے کاموں سے پرہیز کریں جن کی وجہ سے ماحولیاتی توازن میں خلل پڑتا ہے ۔
 

 پونچھ میں پیشہ وارانہ کالجز کا قیام وقت کی اہم ضرورت، عوام کی خدمت اوّلین مقصد: شہناز گنائی

پونچھ//سرحدی ضلع پونچھ میں پیشہ ورانہ کالجز کے جلد قیام کو وقت کی اہم ضرورت بتاتے ہوئے سابقہ ایم ایل سی ڈاکٹر شہناز گنائی گورنر انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پونچھ جیسے پسماندہ علاقہ کو اِن کالجز کی اشد ضرورت ہے۔ موصوفہ نے کہا کہ نئی نسل کے افراد کا زیادہ رُجحان ملازمت پر مبنی کورسز کی جانب بڑھا ہے اور حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس جانب مثبت اقدام کرکے نئی نسل کی مدد کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومتی اداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایسے کورسز والے اداروں کو قیام کر کے بڑھ رہی بے روزگاری میں کمی لائے۔سابقہ ایم ایل سی ڈاکٹر شہناز گنائی ڈاک بنگلو پونچھ میں ایک عوامی ریلی کے دئوران کر رہی تھیں۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ نیشنل کانفرنس سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کرنے کے بعد آج پہلی بار پونچھ آمد پر عوام کی طرف سے اُن کا تاریخ ساز استقبال کیا گیا ۔ اس دوران خواتین و حضرات کی ایک کثیر تعداد شہر سے تیرہ کلو میٹر دُور کلائی کے مقام پر اپنی پسندیدہ لیڈرکے پُرتپاک خیر مقدم کے لئے پہنچی جہاں سے اُنہیں سینکڑوں کاروں اور موٹر سائیکلوںکے کارواں کے ساتھ ڈاک بنگلو پونچھ تک لایا گیا ۔ اس موقع پر ڈاکٹر گنائی نے اپنے مداحوں کی جانب سے اُن کے اعزاز میں منعقد کی گئی ریلی اور اُنہیں دی گئی عزت، خلوص و پیار اور حوصلہ افزائی پر اُن کا تہہ دِل سے شُکریہ ادا کیا۔ موصوفہ نے گزشتہ ماہ نیشنل کانفرنس سے خُود کو الگ کرنے کے فیصلے کو سخت مُشکل ترین فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ عوامی مفادات کی خاطر ذاتی مفادات کو قربان کرتے ہوئے اُنہیں یہ فیصلہ لینا پڑا۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ چاہتی تھیں کہ جس سیاسی جماعت کی اس علاقے میں اُن کے مرحوم والد اور اُن کے مُخلص ساتھیوںنے سخت ترین حالات میںآبیاری کی تھی اُسی جماعت کے مینڈیٹ سے وہ اس علاقہ کے عوام کی خدمت کریںلیکن بد قسمتی سے پارٹی ہائی کمان نے میرے والد کی بے لوث خدمت کی بھی کوئی قدر نہ کی۔سابقہ ممبر قانون ساز کونسل نے کہا کہ اُنہیں اس بات پر خوشی ہوتی کہ وہ اسی جماعت کے مینڈیٹ سے الیکشن میں حصہ لیتی تاہم پارٹی کو کُچھ اور ہی منظور تھا۔ شہناز گنائی نے کہا کہ جب اُنہوں نے پارٹی ہائی کمان کے آگے عوامی اُمنگوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بار حویلی حلقہ انتخابات سے عوام کی خدمت کے لئے اسمبلی کی نمائندگی کا مینڈیٹ اُنہیںدیا جائے تو پارٹی نے صاف انکار کردیا۔ موصوفہ نے کہا کہ پارٹی میں کسی دوسرے مقام پر رہتے ہوئے وہ اپنے علاقہ کے مفادات کے لئے وہ خاطر خواہ خِدمات انجام نہیں دے سکتی تھیںکہ جس کی عوام کو اشد ضرورت تھی نیز پارٹی اس علاقہ سے کسی دوسرے شخص کو نمائندگی دینا چاہتی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام نے اپنا اعتماد ظاہر کرتے ہوئے مجھے اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ میں اُن کی فلاح و بہبودی کی خاطر اسمبلی انتخاب میں آگے آئوں جو نیشنل کانفرنس میں رہتے ہوئے میرے لئے ممکن نہ تھا اور عوامی خدمت کے لئے میرے پاس اس سے بہتروقت اور فیصلہ کوئی نہ تھا۔ سابقہ ایم۔ایل۔سی نے مزید بتایا کہ جب نیشنل کانفرنس نے یہ واضح کردیا کہ وہ کسی دوسرے شخص کو مینڈیٹ دینا چاہتے ہیں اس لئے آپ سامنے سے ہٹ جائیں تو میں نے عوامی اعتماد ، اُن کی اُمیدوں اور جمہوری تقاضوں کے پیشِ نظر پارٹی کو خیر باد کہہ دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ نہ ہی وہ عوام کے اعتماد کو اور نہ ہی نیشنل کانفرنس کو دھوکہ دینا چاہتی تھیں کیوں کہ عوام کا اصرار تھا کہ آپ اسمبلی الیکشن میں سامنے آکر اپنے والدِ مرحوم کی طرح اس علاقہ کی خدمت کریں لہذا یہ فیصلہ لینا ضروری تھا۔دریں اثناء ڈاکٹر گنائی نے اپنے کارکنان اور حمایتیوں سے کہا کہ خُدا کا شُکر ہے جو فیصلہ ہمیںبعد میں آخری وقت پر لینا پڑتا وہ وقت رہتے لے لیا گیا ہے لہذا اب عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لئے میدانِ عمل میں جُٹ جائیں۔ عوامی خدمت کے جذبے اور ارادے کو مضبوط کرکے اُسے مزید تقویت دیں اور خود کو عوامی ترقی کی حکمتِ عملی  پر گامزن رکھتے ہوئے ایک ٹیم کی طرح کام کریں۔ اپنے مخلصین اور کارکنان کو خصوصی طور مخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹر موصوفہ نے کہا کہ وہ خُود کو خِدمت کے جذبے سے آنے والے اسمبلی انتخاب کے لئے تیار کریں۔ اُ نہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ریاستی انتخابات کے لئے ہری جھنڈی مِلتے ہی ہم بھر پُور تیاری کے ساتھ انتخابی میدان میں اُتریں گے۔مخالفین کی طرف سے پھیلائی جارہی تمام افواہوں اور قیاس آرائیوں کو مکمل طور در گور کرتے ہوئے ڈاکٹر گنائی نے کہا کہ ہمارے مُستقبل کی راہ کا فیصلہ بھی ہمارے عوام ہی طے کریں گے۔ علاقائی ترقی ، فلاح و بہبود اور عوام کے حق میں جو بہتر ہو وہ فیصلہ لیا جائے گا۔  عوام جو راستہ اختیار کرنے کو کہیں گے اِن شاء اللہ ہم اُسی پر چلیں گے ،اوراس ضمن میں عوام کو مکمل اختیار حاصل ہے۔  ڈاکٹر شہناز گنائی نے کہا کہ جس طرح میرے والدِ مرحوم نے علاقہ اور عوام کی خدمت کی ہے میری بھی بھر پُور کوشش رہے گی کہ میں اُن کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آپ کی خِدمت کر سکوں۔ موصوفہ نے کہا کہ ہمارا علاقہ ایک پچھڑا ہوا علاقہ ہے اور اس کی ترقی کے لئے ہم سبھی کو مِل کر کام کرنا ہوگا۔ اس موقع پر مقررین نے پارٹی چھوڑنے کے اُن کے فیصلہ کی تائید اور سراہناکرتے ہوئے کہا کہ جو جماعت اپنے کارکنان کی بے لوث خدمات کو بھی پارٹی کے حق میں اہم فیصلے لیتے وقت نظر انداز کردے ایسی جماعت کے ساتھ سے علیحدگی بہتر ہے۔اُنہوں نے کہا کہ مُجھے خُدائے ذوالجلال پر مُکمل بھروسہ ہے  اور عوام کی دُعائیںاور اعتماد میرے ساتھ ہے اس لئے ہم پُوری تیاری کے ساتھ انتخابی میدان میں اُتریں گے۔