تازہ ترین

مسلمانوں کی سائنسی خدمات

کھنڈر بتارہے ہیں عمارت عظیم تھی

3 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

مر سلہ : محمد اسحٰق بٹ۔۔۔۔ پلوامہ کشمیر
 یورپی متعصبین نے اہل اسلام کے عہدزریں پر پردہ ڈالنے کےلئے اپنی نسل نو کو مسلمانوں کے کارناموں سے بے خبر رکھا۔ اگر کچھ بتایا بھی تو محض اس طرح کہ تمام مسلمان سائنس دانوں کے نام پوری طرح تبدیل کر دئے گئے کہ وہ نام بھی یورپی نام نظر آنے لگے۔ ساتویں صدی کےاخیر اور آٹھویں صدی کی ابتدا یورپ میں جہالت و بربریت کا دور تھا۔یورپین مورخین اس دور کو قرون مظلمہ (The Dark Ages) سے تعبیر کرتے ہیں،لیکن اس کے برعکس مسلمانوں میں علمی بیداری تھی موجودہ سائنسی تحقیق کی ابتداءخاندان بنواامیّہ سے ہوئی خالد بن پذیر نےکیمیا اور طب پرکتب کے تراجم کرائے اور س طرح مسلمانوں میں علمی ذوق پیدا ہوا عباسی دور خلاف میں مامون الرشید اور ہارون الرشید نے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ بیت الحکمت اس دور کی جدید یونیورسٹی ہے جب اہل یورپ کو زندگی گزارنے کا سلیقہ نہ تھا تو مسلمانوں نے ان کورہنا اور جینا سیکھایا۔مسلم حکومتوں نے علم و حکمت کی سرپرستی اورسائنس کے بڑے بڑے موجد پیدا کئے۔ جابر بن حیان، کیمیا کا موجد ابن الہیشم، طبیعات کا موجد ابو الفیض، بصریات کا موجد عمر الخیام، الجبرا کا موجد اور دیگر بے شمار سائنسدان جن کا اعتراف آج بھی مغرب کےمحقق کرتے ہیں۔
زمین گول ہونے کا مسئلہ خلافت عباسیہ کا کارنامہ ہے مسلمانوں نے نہ صرف مدارس قائم کئے بلکہ تحقیق پر بھی بہت کام کیا اسلام نے وہ کچھ حاصل کیا کہ دوسری قوم نے اس کے حصول کی کوشش تک نہ کی۔ یہ کام روم اور یونان نہ کرسکا اسلامی اندلس میں سائنس کے ہر شعبے میں تحقیقات کی تمام تر سہولتیں میسر تھیں طب کو بطور خاص فروغ حاصل ہوا۔ جامعہ قرطبہ میں کیمیا، جغرافیہ، اور تاریخ کے شعبے شامل ہیں۔یہ وہ زمانہ تھا کہ مسلمان عربی بولنے والے تہذیب و ثقافت کےعظیم مستقبل بردار ثابت ہوئے۔ بنوامیہ نے 661 میں دمشق میں سائنسدانوں کو جمع کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی، اس وقت سب سے زیادہ پر مغز کتابیں سائنس اور حکمت کی تھیں اور وہ عربی زبان میں تھیں۔ علم و حکمت کے اس دور میں مسلمان حکمرانوں نے مشرق وسطیٰ اندلس اور پرتگال میں شاندار درس گاہیں قائم کیں۔
مسلمانوں نے علم کی ہر شاخ اور ہر فن میں نئی تحقیقات کا آغاز کیا ان کے کارنامے رہتی دنیا تک قائم رہیں گے اور ان کے مقابلے میں مغرب کے معاصر سائنسدان کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جدید سائنس کی بنیاد ہی مسلمان سائنس دانوں نے رکھی آج پھر سے ہمیں اسی دور کی طرح تحقیق اور جستجو کی ضرورت ہے تاکہ علم اور سائنس کے میدان میں ہم اپنا کھویا ہوا مقام پھر حاصل کر سکیں۔
فرانسس گائلز نے معروف سائنسی رسالے (Nature) مطبوعہ 24 مارچ 1938ء میں تحریر کیا۔ اپنی بلندی پر کوئی ایک ہزار سال پہلے مسلم دنیا نے سائنس میں قابل قدر اضافے کئے خاص طور پر ریاضی اور طب میں۔ بغداد اور جنوبی سپین نے اپنے عروج کے دنوں میں یونیورسٹیاں بنائیں۔ جہاں ہزاروں لوگ اکٹھے ہوئے تھے اور حکمرانوں کے گرد سائنسدانوں اور فنکاروں کا ہجوم رہتا تھا۔ آزادی کی ایک لہر نے یہودیوں اور عسائیوں کو یہ اجازت دے رکھی تھی کہ وہ مسلمانوں کے شانہ بشانہ کام کریں۔ آج یہ سب کچھ خواب نظر آتا ہے۔سائنس بنی نوع انسان کی میراث ہے۔ یہ وہ علم ہے جو مذاہب و قومیت کے نظریے سے مبراء ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو مسلمان یہودی عیسائی طبرانی کسی کی جانبداری نہیں کرتی بلکہ فلاح بنی نوع انسان کے اصول کو لے کر چلتی ہے اور تمام انسانیت کی فلاح و بہبود کےلئے کوشاں ہے۔ مگر بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انسانیت کی یہ مشترکہ وراثت یعنی سائنس متعصب اقوام کے ہاتھ لگ گئی۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایجادات کی تاریخ میں ارشمیدس کی چرخی (287ق م) کے بعد گٹن برگ (1450 ق م) کا چھاپہ خانہ نظر آتا ہے۔ درمیانی ڈیڑھ ہزار بس کا دور غائب ہے اور یہی وہ دور ہے جس کو اسلامی دور کا نام دیا جاتا ہے مگر متعصب یورپی مورخین کو یہ گوارا نہ تھا لہٰذا انہوں نے اس کو حذف کردیا۔ تمام علوم و فنون بالخصوص سائنس کے ابتدائی تصورات مسلمانوں نے متعارف کروائے۔یہ وہ دور تھا جب پورا یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہو تھا۔ اس دور میں اگر کوئی ہفتے میں ایک بار نہا لیتا توپادری اس کوکوڑے لگواتے کہ وہ مسلمان ہوتا جارہا ہے۔ یہ سب خدا واسطے کا بیر تھا۔
یہی وہ دور تھا جب مسلم دنیا کا نامور سائنسدان ابن الہیشم، جابر بن حیان، الخوارزمی، ابن نفیس، ابوالقاسم زہراوی اور دیگر متعبر سائنسدانوں نے انسانیت کو ایک نئے اور اچھوتے باب سے متعارف کروایا مگر یورپی متعصبین نے اسلامی دور پر پردہ ڈالنے کےلئے اپنی نسل نو کو مسلمانوں کے کارناموں سے بے خبر رکھا اگر کچھ بتایا بھی تو محض اس طرح کہ تمام مسلمان سائنسدانوں کے نام پوری طرح تبدیل کر دئیے گئے کہ وہ نام بھی یورپی نام نظر آنے لگے۔
ذیل میں چند مسلمان سائنس دانوں کے نام اور کارناموں کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے اور یہ بھی کہ کس طرح یورپی مورخین نے اسلامی ناموں کو تبدیل کر دیا۔
1۔ ابو علی محمد ابن الحسن ابن الہیشم (354ھ تا 430 ھ) کو یورپ میں الہیزان : (Alhazen) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس مسلمان سائنسدان نے روشنی کے قوانین بیان کئے۔ پن ہول کیمرا ایجاد کیا، آنکھ کی ساخت بیان کی ’’کتاب المناظر‘‘ ان کی شاہکار کتاب ہے۔2۔ جابر بن حیان (721ھ تا 806ھ) : کوفے کے ایک عطار کے بیٹے تھے۔ علاوہ ازیں آپ امام جعفر صادق کے شاگرد بھی تھے۔ یورپ میں ان کو گیبر (Geber) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ کیمیاء میں آپ کی خدمات گراں قدر ہیں۔ لہٰذا آپ کو بابائے کیمیا کہا گیا۔ آپ کی اہم ایجادات سلفیورک ایسڈ یعنی گندھک کا تیزاب اور نائٹرک ایسڈ ہیں۔ آپ علم طب میں بھی ماہر تھے۔ جابر بن حیان نے پہلی دفعہ مریض کو بےہوش کرنے کے لئے افیون کا استعمال کیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے درختوں کی چھال سے کپڑا رنگنے کا طریقہ دریافت کیا۔3۔ محمد بن موسی الخوارزمی (780ھ تا 850ھ) : الجبرا کے بانی ہیں۔ انہیں یورپ میں الگورزم (Algorizm) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’حساب ، الجبراء و المقابلہ‘‘ ہے۔ کو یر نیکس اور کیپلر نے الخوارزمی کی معلومات پر اپنی تحقیق و تجربات کو آگے بڑھایا۔4۔ ابو موسی علی ابن الطبری (822ھ تا 899ھ) : یورپ میں الٹیبر (Altaber) کے نام سے مشہور ہیں۔ ’’فردوس الحکمتہ‘‘ ان کی مشہور تصنیف ہے۔ آپ علم طب کے عظیم طبیب ’’الرازی‘‘ کے استاد تھے۔5۔ ابو عباس احمد الفرغانی (832ھ تا 903ھ) :یورپ کے ہیئیت دان اور مہنسدس حلقے میں الفرگانوس (Alfreganus) کے نام سےجانے جاتے ہیں۔ آپ کا اہم کارنامہ دریائے نیل میں پانی کی گہرائی ناپنے والے آلے کی ایجاد ہے۔ اس آلے کو دریائے نیل کی نسبت سے (Nilometer) کہا جاتا ہے۔ آپ نے زمین کا قطر بھی معلوم کیا جو کہ آپ کے حساب سے صرف 0.6 فیصد غلطی کا مرتکب ہوا ہے۔6۔ ابوبکر محمد بن الزکریا (864ھ تا 925ھ) : دنیا کے عظیم طبی انسائیکلو پیڈیا ’’الحاوی‘‘ کے مصنف اور نویں صدی کے عظیم طبیب ہیں۔ یورپ میں ان کو رہیزز (Rhazes) کے نام سے پکارا جاتاہے۔7۔ ابوالقاسم بن ابن العباس الزہراوی (936ھ تا 1004ھ) : دنیا کے سب سے پہلے نامور سرجن ہیں جنہوں نے انسانی عضاء کی تحقیق کے لئے ’’پوسٹ مارٹم‘‘ پر زور دیا۔ سرجری کے موضوع پر ان کی تصنیف ’’الستعریف‘‘ آج بھی یورپ کے میڈکل کالجز میں پڑھائی جاتی ہیں۔ ان کو یورپ میں ابل کیسس (Abul Casis) کہا جاتا ہے۔8۔ ابن سینا (980ھ تا 1037ھ) : مشہور کتاب ’’القانون فی الطب‘‘ کے مصنف اور تھرمامیٹر کے بانی ہیں۔ یورپ میں ان کو ایوی سینا (Avicenna) کہا جاتا ہے۔ آپ کی تصانیف آج بھی یورپ میں پڑھائی جاتی ہیں۔9۔ ابوبکر محمد ابن یحییٰ ابن باجہ (1080ھ تا 1138ھ) کو یورپ میں ایون پیس (Avenpace) کہا جاتا ہے۔ آپ افلاطون کے بعد اسلامی دنیا کے نامور مفکر ہیں۔10۔ ابوبکر محمد عبدالملک ابن طفیل القیسی (1113ھ تا 1185ھ) اندلس کے سب سے بڑے فلسفی اور طبیب تھے۔ یورپ میں ان کو ابو باسر (Abu Basir)کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ابن طفیل القیسی ہی تھے جنہوں نے ’’حئی ابن یقظان‘‘ کے نام سے فلسفیانہ روایات کی طرح ڈالی اور اس کے لئے وہ عظیم راستہ متعارف کروایا جس پر چل کر ’’دانتے‘‘ نے Divin Comdy متعارف کروائی۔ نقادوں کے نزدیک دانتے کی ڈیوائن کامیڈی، ابن طفیل کے ’’حئی ابن یقظان‘‘ ہی کا چربہ ہے۔
11۔ ابوالولید محمد ابن احمد ابن رشد (1126ھ تا 1198ھ) مشہور ہیئیت دان، طبیب اور ارسطو کے نظریات کے قابل ترین شارح تھے۔ چیچک کے مرض پر ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’الکلیات فی الطب‘‘ ہے۔ یورپ میں انو ایروز (Averroes) کہا جاتا ہے۔12۔ علی ابن العباسی المجوسی کو یورپ میں میجوز (Majues) کہا جاتا ہے۔ طب پر ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’الملکی‘‘ ہے۔13۔ حنین ابن اسحاق : یورپ میں یوہینیٹس (Johanates) کہا جاتا ہے۔ یونانی اور طبرانی زبانوں پر عبور حاصل ہونے کےعلاوہ وہ بہت بڑے طبیب تھے۔ شروع میں عیسائی تھے مگر آخری عمر میں مسلمان ہوگئے۔
درج بالا تفصیلات پڑھنے کے باوجود اگر اب بھی کوئی یہ کہے مورخین اصول و قوانین کے پابند اور راست گوہیں تو یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہوگا۔ یورپی مورخین نے مسلمانوں کے کارناموں کو اجاگر کرنے کی بجائے متعصب رویہ اختیار کیا اور یوں تمام مسلمان سائنسدانوں کے نام بڑی خوبصورتی کے ساتھ اس طرح حذف کر دئیے کہ وہ بھی یورپی نام ہی دکھائی دینے لگے۔قصور صرف یورپی اقوام کا ہی نہیں ہمارا بھی ہے، اگر مسلمان تحقیق و تجربات جاری رکھتے تو آج ہمارا یہ بُرا حال نہ ہوتا کہ ہمیںنہ کہیں سکون ہے نہ کہیں امان ہے۔
