تازہ ترین

طلاقِ ثلاثہ قانون

ایسی بھی کوئی شب ہے جس کی سحر نہ ہو

3 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز۔۔۔ ایڈیٹر ’’گواہ اردو ویکلی‘
 
تین  طلاق بل منظور ہوگیا۔ نہ تعجب ہے نہ حیرت۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ ہم اس پر نہ تو احتجاج کرنا چاہتے ہیں نہ ہی واویلا بلکہ ارباب اقتدار سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ قانون کی منظوری ہمارے نشأۃ ثانیہ کا آغاز ہے۔ جس ایکٹ کے پاس ہونے پر پرائے لوگ کامیابی کا جشن منار ہے ہیں‘ وہ عارضی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ایوان پارلیمان میں مسلم دوست کہلانے والی‘ کلمہ خوانوں سے ہمدردی جتلانے والی مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے ہمارے جذبات کے ساتھ جس طرح سے کھلواڑ کیا ہے، اُس نے ہمیں کم ا زکم خوابِ غفلت سے بیدار کردیا۔ ہم میں احساس جگادیا کہ جب تک ہم گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے افراد اور جماعتوں پر بھروسہ کرتے رہیںگے، اسی طرح سر بازار ناآسودہ ہوتے رہیںگے۔ سچ یہ ہے کہ سہ طلاق بل کی طرح مسلمانوں کے حقوق ان سے چھینے جاتے رہے ہیں۔ البتہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا تب سے پہلی بار ہم نے اپنی دبی کچلی قوم کو اس طرح کی سیاست کاری کی صدمہ خیز چوٹ پر اچانک بیدار ہوتے ہوئے دیکھا اور پہلی مرتبہ مسلمانان ِ ہند کے یہاں نام نہاد سیکولر جماعتوں کے حالیہ پارلیمانی الیکشن میں شکست پر دیر سے سہی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا۔ جو کامیاب ہوگئے ہیں‘ شاید مستقبل میں ہماری تائید سے محروم ہوجائیںگے۔ ہم نے بعض دانشوروں کو اور کچھ نوجوانوں کو یہ بھی کہتے ہوئے بھی سنا کہ جب سیکولرازم کا نقاب پہنے اور سیکولرازم کی دھجیاں اُڑانے والوں کے مسلمانوں کے حقوق اور مفادات سے متعلق عمل اور اقدام ایک ہی ہیں‘ تو چھپے ہوئے دشمن کے مقابلے میں کھلا دشمن زیادہ بہتر ہے، جس سے کم از کم ہم چوکس رہ کر مقابلہ تو کرسکتے ہیں۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ایوان پارلیمان میں سینہ ٹھونک کر ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی ترجمانی یہ کہہ کر کی ہے کہ صبحِ قیامت تک مسلمان اپنے دین پر قائم رہیںگے۔ چند مٹھی بھر ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے سیاسی اغراض کی تان پر مسلمانوں کی عزت، وقار، مذہبی اقدار ضرور متاثر ہوئے ہیں، ان کا پہلے سے بھی کوئی شمار نہیں تھا اور اب تو اس قانون کے بعد یہ نہ تو یہ گھرکے ہیں نہ گھاٹ کے۔ یہ سچ ہے کہ ہماری اپنی کچھ کوتاہیاں اور غلطیاں بھی ر ہی ہیں‘ ہوسکتا ہے کہ ہم نے بھی بعضوں نے اپنی بہو بیٹیوں کے ساتھ ناانصافی اور ان کی حق تلفی کی ہوگی جس کا خمیازہ اب پوری قوم کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ اس متنازعہ قانون کی منظوری کے بعد یقینا ہم اپنا محاسبہ کریںگے۔ یہ احساس تو ہوچکا ہے    ؎
اک دورِ غلامی وہ بھی تھا
اِک دورِ آزادی یہ بھی ہے
اُس دور میں سہنا مشکل تھا 
اِس دور میں جینا مشکل ہے
ہماری تاریخ کے طول و طویل اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ لفظ مایوسی ہماری ڈکشنری میں نہیں ہے۔ ہم نے ہر دور میں حالات کا مرادنہ وار مقابلہ کیا۔ ہر دور میں ہم پر جبر و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ ہمارے مذہبی تشخص کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ ہماری عبادت گاہیں بند کردی گئی ہیں اور کہیں ڈھابھی دی گئیں۔ مذہبی لٹریچر کو تلف کردیا گیا۔ اس کے باوجود ہمارا وجود باقی ہے اوران شاء اللہ قیامت تک باقی رہے گا۔
موجودہ حالات سے ہم اس لئے مایوس نہیں ہیں کہ اس کا پہلے سے ہی اندازہ تھا چوں کہ ہم خواب غفلت میں رہے‘ اور ہمارے اکابرین اور زعماء نے بھی ہمیں جگانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ خود اپنی اپنی دکانداری اور مذہبی ٹھیکے داری میں اتنے مشغول رہے کہ انہوں نے بار بار اپنے مفاد کی خاطر ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ اب اس قانون کی منظوری کے بعد جب ان کی اپنی قدر و قیمت گھٹنے لگی‘ اور اس سے پہلے کہ قوم اور ملت پوری طرح سے انہیں نظر انداز کردے، انہیں پہلے اپنی اور پھر قوم کی اصلاح کی کوشش کرنا ہوگی۔ ہمارے اکابرین کا جو مقام آہستہ آہستہ متاثر ہوتاجارہا ہے اس کی ایک وجہ ہمارے مخالفین کی منصوبہ بند سازش بھی ہے۔ جس طرح اسپین میں مسلمانوں کو پوری طرح سے پسپا اور محکوم کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کے لئے پہلے ان کی مذہبی قیادت کو کمزور کیا گیا، ان میں مسلک ومشرب کے نام پر تفرقہ وانتشار پیدا کیا گیا اور ایک بار جب مسلمانوں کی طاقت منتشر ہوگئی‘ قیادت اعتماد سے محروم ہوئی تو مسلمانوں کو اسپین سے ملک بدر کرنے میں زیادہ محنت نہیں لگی۔ آج کے حالات ماضی کے انہی واقعات کا ایکشن ری۔پلے ہے۔ ہم میں سے اکثر اپنی تاریخ سے واقف نہیں ہیں، اس لئے آسانی سے دشمن کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ گزشتہ 70؍برس کے دوران جو کچھ بھی ہوا اور 18؍برس کے دوران جو حالات اور واقعات پیش آئے، اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور تاریخ کے پس منظر پر ایک نظر ڈالی جائے تو بقول یاسر ندیم واجدیؔ یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ اسپین میں عیسائیوں کا مسلمانوں کے ساتھ‘ فلسطین میں اسرائیلیوں کا فلسطینیوں کے ساتھ، جنوبی افریقہ میں سفید فام عوام کا سیاہ فام عوام کے ساتھ جو سلوک کیا گیا‘ جس طرح سے ہجومی تشدد کے ذریعہ ان کی حوصلہ شکنی کی گئی، انہیں مرعوب کیا گیا‘ خوف زدہ رکھا گیا‘ آج ہمارے ساتھ اُسی تاریخ کو دہرانے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہاں مخالفین کو وقتی طور پر تو کامیابی ملے گی‘ مگر اب ہمارا شعور بیدار ہونے لگا ہے، ہم میں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کے ا حساس کے بعد پوری شدت اور قوت کے ساتھ آپسی اتحاد پیدا ہورہا ہے اور ہم میں اس سرزمین پر عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا جذبہ پوری قوت کے ساتھ بیدار ہورہا ہے‘آج جو لوگ سہ طلاق قانون کو قابل تعزیر بنانے کا جشن منارہے ہیں‘ آنے والے کل صرف اس جشن کی یاد میں آہیں بھرتے نظر آئیںگے۔ قوموں کی قتدیریں ادلتی بدلتی رہتی ہیں ۔
بیرسٹر اسدالدین اویسی بلاشبہ ہندوستانی مسلمانوں کے مسلّمہ قائد ہیں اور انہوں نے ایک مرد مجاہد کی طرح دوٹوک لہجہ میں یہ کہہ دیا ہے کہ قانون بن جانے سے مذہبی قدریں نہیں بدل جاتیں۔ اب ہمیں شرعی قانون کی اہمیت کا اندازہ ہوگا اور شرعی عدالتوں میں اب زیادہ سے زیادہ فیصلے کئے جائیںگے۔ چند مٹھی بھر مفاد پرستوں کے سوا‘ قوم کی اکثریت چاہے وہ تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ ہو‘ اپنے دین اور مذہبی اقدار کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران ایک دو واقعات سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ہم یہ جانتے ہیں کہ موجودہ حالات کے لئے ہم بڑی حد تک ذمہ دار ہیں۔ ہم ہر لحاظ سے اس سرزمین پر مساویانہ حقوق کے حامل ہیں مگر اکثریت اور اقلیت کے نام پر حقوق کو چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہمیں جو دستوری حق دیا گیا ہے، ہم اس کا استعمال نہیں کرتے۔ اس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے، مسلم دشمن طاقتیں ہزاروں خانوں میں تقسیم ہونے کے باوجود محض ہماری دشمنی میں متحد ہوکر اس آس میں ایسی حکومتوں کو منتخب کررہی ہیں جن سے انہیں اُمید ہے کہ وہ ہمارے وجود کو مٹانے میں کامیاب ہوجائیںگے۔ یہ محض ان کی احمقانہ سوچ ہے کیوں کہ ہم ہر دور میں ایسے آزمائشی حالات کی بھٹیوں میں تپتے رہے‘ کندن بن کر نکلتے رہے۔ بقول علامہ اقبال   ؎
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا
مارے خلاف قوانین منظور ہوتے جائیںگے اور ہم اللہ نے چاہا تو شرعی قانون کی روشنی میں اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے رہیںگے۔ہمارے تشخص کو مٹانے کی کوشش کرتی رہے گی، اب ہم اپنی شناخت قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کی جدوجہد کریںگے۔ ہماری عیدین کے موقع پر مختلف بہانوں سے ہمیں پریشان کیا جاتا رہا ہے۔اب ہم متحدہ اور مشترکہ فیصلہ کریںگے اور ہمیں پریشان کرنے والے اپنے گھٹنوں کے بل آجائیںگے ، کیوں کہ ہمارا اتحاد محض مسجد میں نماز کی صفوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ہر شعبۂ حیات میں اس کا مظاہرہ ضروری ہے۔ سڑکوں، پارکس کے نام جو ہمارے اسلاف کے نام سے موسوم تھے‘ انہیں تبدیل کیا گیا۔ اب ٹیپو سلطان شہید کی یوم پیدائش سرکاری طور پر نہ منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سے کیا فرق پڑے گا۔ یہ بات تو ثابت ہوہی گئی کہ انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے تلوار اٹھانے والے‘ ہندوستان کی آزادی کے لئے انگریزوں سے لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کرنے والے اس سرزمین کے اولین شہید کے ساتھ ذہنی تعصب کا اظہار نہیں ہوا بلکہ اپنے انگریز آقائوں کی خوشنودی کے لئے یہ کام کیا گیا۔ ٹیپو سلطان شہید کے چاہنے والے صرف مسلمان نہیں بلکہ کرناٹک کے بیشتر عوام ہیں۔ حکومت نہ منائے‘ سرکاری طور پر ان کی یوم پیدائش کی تقاریب۔ اس پراحتجاج ضروری ہے مگر اس سے زیادہ ضروری ہے کہ کم از کم ٹیپو شہید سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرنے والے اپنے اپنے طور پر ان کی یوم پیدائش کے موقع پر ایسی تقاریب کا اہتمام کریں جس سے برطانوی سامراج کے نسل درنسل غلاموں کو اس بات کا احساس ہوجائے کہ یہ قوم اتنی ہی اُبھرے گی جتنی دبائوگے‘‘ انشاء اللہ
ہماری تہذیب، زبان، مذہبی تشخص، عبادت گاہوں کا تحفظ، ہماری اپنی ذمہ داری بھی ہے۔ اس کے لئے اپنی صفوں سے چن چن کر منافقوں‘ دشمنوں‘ مخبروں کو نکالنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو ہر طرح سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ جسمانی، ذہنی، معاشی اور سیاسی طور پر اور اس کے لئے اگر ہم آج اپنے مفادات کو قربان کریںگے تو یہ قربانی آنے والے کل کا تحفظ کرے گی۔ مایوس ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘ جب جب اندھیرے بڑھتے ہیں‘ ایک نئی روشنی کی اتنی ہی اُمید جاگتی ہے اور بقول شاعر  ع
ایسی بھی کوئی شب ہے جس کی سحر نہ ہو
 حیدرآباد۔ فون:9395381226