تازہ ترین

سڑکوں کی غرقآبی پر ریاستی حقوق کمیشن میں عرضی دائر

ایس ایم سی کمشنر کے نام نوٹس جاری، اپنا ردعمل پیش کرنے کی ہدایت

2 اگست 2019 (00 : 12 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// بشری حقوق کے ریاستی کمیشن نے شہر میں بارشوں کا پانی جمع نہ ہونے سے متعلق پالیسی پر سرینگر میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کے نام نوٹس جاری کی۔کمیشن کے ممبر جنگ بہادر جموال نے یہ نوٹس انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو کی طرف سے کمیشن کی طرف سے شہر میں پانی جمع ہونے سے متعلق عرضی دائر کرنے کے ردعمل میں کمشنر ایس ایم سی کو جاری کی،جس میں انہیں فوری طور پر کمیشن کے سامنے اپنا ردعمل پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اونتو نے اپنی عرضداشت میں کہا ہے کہ25 جولائی کو صبح سویرے بارشیں ہوئیں،جس کے بعد شہر کے تمام ڈرینج بند ہوئیں۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ خصوصی طور پر ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، مین لالچوک،ریگل چوک، پلیڈم گلی،پولو ویو،مولانا آزاد روڑ، کرسو، راجباغ، جواہرنگر،لالدید اسپتال،رعناواری،اولڈ برزلہ اور دیگر علاقے بارشوں کے پانی میں غرقآب ہوئے۔ عرض گزار نے کہا کہ جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے،وہ اہم علاقے ہیں،جہاں پر سیول سیکریٹریٹ، ہائی کورٹ،صوبائی کمشنر کا دفتر اور کئی اسکول قائم ہیں۔ عرضی میں کہا گیا’’ پانی جمع ہونے کی وجہ سے سرینگر شہر میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوا اور ایسا نظر آرہا تھا کہ شہر میں طغیانی آئی ہے۔‘‘ عرضی میں الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکام پانی کی نکاسی میں ناکام ہوئے جبکہ محکمہ موسمیات نے پہلے ہی بارشوں کی پیشن گوئی کی تھی۔‘‘ کمیشن کے سامنے پیش کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پانی جمع ہونے کے نتیجے میں راہگیروں، طلاب اور دیگر لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عرض گزار کا کہنا ہے کہ حکام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کو تمام بلدیاتی سہولیات فرہم کریں،جن میں معقول نکاسی آب نظام بھی شامل ہے۔ عرض گزار نے پانی کی نکاسی کیلئے پالیسی بیان کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بشری حقوق کے ریاستی کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ سرینگر مونسپل کارپوریشن سے اس بات کی وضاحت طلب کریں کہ پانی سے بند ہوئی سڑکوں سے نکاسی کیلئے عبوری طور پر کون سے اقدامات کئے گئے ہیں؟