تازہ ترین

لالچوک۔۔۔۔ بار بار سیلابی صورتحال کیوں؟

2 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ریاست میں شہر وں اور قصبوں کے اندر پانی کے نکاس کا نظام دن بہ دن تنزلی کا شکار ہو رہا ہے اور انتظامیہ کے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود اس میں بہتر ی لانے کےلئے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو جمعرات  کی صبح ہوئی برساتی بوچھاڑوں سے ریاستی دارالحکومت سرینگر کے قلب لالچوک کی سڑکوں پر سیلابی صورتحال پیدا نہ ہوتی۔ اس صورتحال کی وجہ سے نہ صرف راہگیروں کے عبور و مرور میں زبردست مشکلات پیش آگئیں بلکہ پانی دوکانوں کے اندر چلا گیا جس کی وجہ سے متعدد تاجروں کو لاکھوں روپے نقصان کا شکار ہونا پڑا۔یہ ساری صورتحال دراصل ہمارے کم و بیش سبھی شہروں اور قصبہ جات میں نکاسی آب کے ناقص نظام کا غماز ہے، جو اُسی وقت اپنا چہرہ کھل کر دکھاتا ہے، جب موسمی حالات میں تبدیلی آتی ہے۔ڈرینوں اور نالیوں کی ساری خامیاں ایسے ہی صورتحال میں کُھل کر سامنے آتی ہیں۔ آج شہر میں متعدد علاقوں میں بڑی ڈرینوں کے ساتھ ملنے والی چھوٹی نالیوں کا پانی گلی کوچوں کو ندی نالوں میں تبدیل کرتا ہےکیونکہ بڑی ڈرینوں کی تعمیر کے وقت دونوں کی متناسب سطح پر توجہ مرکوز نہیں کی جاتی۔ لہٰذا اس عنوان سے دیکھا جائے بارشوں کا موسم ہماری سڑکوں، گلی کوچوں اور نالیوں و دڑینوں کی تعمیر کے حوالے سے ایک قدرتی آڑٹ رپورٹ سے کم نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ محکمے اس ساری صورتحال کا جائزہ لیکر اُن خامیوں کی نشاندہی کریں جو اس کی وجہ بنتی ہیںاور اس نظام کی بنیادی خامیوں کو دور کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ اس طرح ایک تو عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہوگا اور دوسری جانب اخراجات کے درست استعمال کامزاج بھی پیدا ہوگا۔ فی الوقت انتظامیہ اتنا کچھ کرسکتی ہےکہ جن مقامات اور علاقوں میں زیادہ پانی جمع ہوتا ہے اور جہاں لوگوں کو زیادہ مشکلات درپیش ہوتی ہیں وہاں پمپوں کے ذریعہ پانی کی نکاسی کے عمل کا ایک سسٹم بنایا جائے تاکہ عبور و مرور کی مشکلات میں تخفیف ہو۔کل کے واقعہ میں اگر چہ میونسپل حکام محترک ہوئے اور نکاسی کےلئے پمپ بھی لگائے گئے مگر ہڑبڑاہٹ کی اس کاروائی کے بجائے ایک مربوط نظام کی ضرورت ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اس کےلئے سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی ،سرینگر میونسپل کارپوریشن ، مختلف میونسپل کمیٹیوں اور خاص کر میکنیکل انجینئرنگ ڈویژن کا کلیدی رول بنتا ہے۔ چونکہ یہاں کے موسمی حالات میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ تبدیلیاں واقع ہو تی رہتی ہیں اور روایتی موسمی مزاج میں تیزی کے ساتھ تغیر آرہا ہے، لہٰذا ایسی اور اس جیسی صورتحال کسی بھی وقت پیش آسکتی ہے، حتیٰ کہ  بارشیں کبھی بھیانک رخ بھی اختیار کرسکتی ہیں۔ لہٰذا ن سارے امکانات کو زیر نظر رکھ کر نکاسی آب کے لئے ایک ہمہ وقت اور ہمہ جہت پالیسی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے پاس ایسی کوئی پالیسی اور اس کے نفاذ کےلئے بنیادی ڈھانچہ میسر ہوتا تو شاید سال2014کے سیلاب کے بعد سرینگر کی متعدد بستیوں میں کئی کئی ہفتوں تک پانی جمع نہ رہتا ۔ جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں رہائشی مکانات کو شدید نقصان ہوا اور جنکی تعمیر و مرمت میں لوگوں کا ذر کثیر صرف ہوا۔ مرکزی نکتہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے بہ سبب تیزی کے ساتھ موسمی تغیر و تبدیل وقوع پذیر ہو رہا ہے اور ہماری سرزمین اس سے مبرا نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کےلئے ایک کثیر الجہت نظام ترتیب دیا جائے تاکہ کسی بھی غیر موزون صورتحال سے نمٹنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اس کے لئے ہمارے ذمہ دار محکموں اور صیغوں کو ایسے حالات سے نمٹنے کےلئے دنیا میں موجود جدید نظام کا مطالعہ و مشاہدہ کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی غیر موزون صورتحال میں عوام الناس کی مشکلات کا ازالہ کرنا آسان ہو جائے۔ دراصل نکاسیٔ آب کے نظام کو وقفے وقفے سےجانچا جانا چاہئے اور جہاں ضرورت محسوس ہو وہاں جدید طریقہ ٔ  کار اپنا کر کسی ایمر جنسی صورتحال سے محفوظ رہنے کے جتن کئے جائیں، جبھی عوام کو پیش آنے والی مشکلات کا ازالہ ہوسکتا ہے۔