تازہ ترین

شرم وحیاء

زندگی کاراز پنہاں ہے اسی کے ساز میں

2 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

رئیس یاسین ۔۔۔۔ پدگام پورہ، اونتی پورہ۔ کشمیر
 بلاشبہ   ہماری اسلامی تہذیب میں حیا ءوہ گوہر نامدار ہےجس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔اسلامی تاریخ اس درخشندہ گوہر کی عظیم روایت کی نہ صرف بانی ہے بلکہ اس کو آج تک سینے سے لگائے اس کی حفاظت پر مامور ہے۔ آپ جانتے ہیں حیاکیا ہے؟حیا عین حیات ہے، حیا نہیں تو حیات نہیں۔
علامہ ابن فارس لکھتے ہیں کہ ہیں :حی سے حیات بھی نکلتی ہے اور حیابھی۔دونوں کا مادہ ایک ہے۔دونوں زندگی کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔جیسے زندہ رہنے کے لیے سانسوں کی ضرروت ہوتی ہے، ویسے ہی ایک باکردار زندگی کے لیے حیاء کی بھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بغیر حیاء کے معاشرے اور تہذیبیں دفن ہو جایا کرتی ہیں۔ ایک حدیث مبارک بروایت حضرت ابو ہریرہ ؓ آئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ایمان کے ستر سے زیادہ درجے ہیں اور حیا بھی ایمان کے درجات میں سے ایک ہے۔ ایک اورروایت میں آتا ہے کہ : جب آپ کے اندر حیاء نہ ہو تو جو چاہے کرو‘‘مزید ارشاد فر مایا :بے شک ہر دین کی ایک خصلت ہوتی ہے اور دین اسلام کی خصلت حیاء ہے۔‘‘نبی محترم ﷺ اولین و آخرین میں سب سے زیادہ باحیا اور باشرم تھے۔ روایت میں ہے کہ’’ نبی ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکیوں سے بھی زیادہ حیادار تھے۔‘‘حیا مندی مسلمانوں کی شان تھی ، حیا مسلمان عورت کی پہچان حیا تھی ، یہ دور سے پہچانی جاتی تھی کہ یہ مسلمان گھرانے کہ خاتون ہےلیکن آج کی اخلاقی تخریب نے عورت کے سر سے دوپٹہ ہی غائب کردیا ۔ آج کے تعلیمی ادارے جو عورت کو اسلامی لباس پہن کر پسند نہیں کرتے ہیں ۔ اس بے حیائی کے ذمہد ار ہم خود ہیں ۔ یہ جو کچھ ہم بے حیائی دیکھ رہے ہیں، اس کا ذمہ دار ایک باپ ہے، ایک بھائی ہے، ایک شوہر ہے ، جو گھر کی عورت؍ عورتوں کو پردہ کا پابند نہیں بناتا ۔باحیا ماحول قائم کرنا ہر ایک فرد کی ذمہ داری ہے ۔
عورت اور میڈیا ہمارے معاشرے کے دو مضبوط ستون ہیں جو روایات کو بگاڑنے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کر تے ہیں۔اگر ان کا قبلہ دُرست ہو جائے تو یہ معاشرے کی صحت مندی کے لیے ایک بہت اچھا اقدام ہو سکتا ہے مگر ستم یہ ہے کہ آج کے دجالی میڈیا کا سب سے پہلا ہدف ہی عورت ہے۔مارننگ شوز اورٹی وی ڈراموں کے ذریعے بڑی خوبصورتی سے ان کا مائنڈ سیٹ منفی انداز میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ان کے سامنے دنیا کی عارضی چیزوںکو اتنا سجا بنا کر پیش کیا جاتا ہے کہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ زندگی تو بس دنیا کی ہی ہے اور اس دنیا کو سنوارنے اور خوبصورت بنانے کے چکروں میں نئی نسل کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔اسی غلط تعلیم کے ذریعے یہ اُمید رکھنا کہ لوگ نیک اور صالح بنیں گے ، ایسے ہی ہے جیسے گندم بو کر چنے کی فصل کی امید رکھی جائے۔
ضرورت اس امر کی ہے معاشرے میں الحاد اور لا دینیت کی جو سیلا بی لہر پھیل رہی ہے ،اس کے آگے حیامندی کا بند باندھا جائے۔اساتذہ، ماں ،باپ  اور علماء اس میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔بچوں کے ذہنوں میں چھوٹی عمر سے بٹھایا جائے کہ ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اللہ نے انہیں کیوں پیدا کیا ان کا انجام کیا ہوگا؟ یہ وہ سوال ہیں اگر ان کے جواب بچوں کے دماغوں میں  اچھی طرح سےبٹھا دیا جائے تو اس کے اثرات پوری زندگی میں بہت عمدہ ہوں گے۔ایک اور نکتہ جس کو بچوں کے دماغوں میں بٹھانا ضروری ہے وہ یہ کہ تعلیم کا مقصد واضح ہونا چاہیے کہ اس کا مقصد کردار سازی اور سیر کا بناؤ ہے نہ کہ ڈگری کا حصول اور نوکری کی وصولی۔عمارت کی بنیاد اگر مضبوط نہ ہو تو بظاہر یہ کتنی بھی خوبصورت اور دلفریب ہو، بالآخرزمین بوس ہو جایا کرتی ہے۔ہماری نسلیں زمین بوس ہو رہی ہیںکیونکہ بے حیائی اور فحاشی کا سیلاب انہیں بہائے لے جا رہا ہے۔ قرآن مجید کی سورہ نور کی آیت سے شاید یہ بات زیادہ سمجھ آ جائے  :’’ایمان والوں میں جو چاہتے ہیں کہ فحاشی پھیلے ان کے لیے درد ناک عذاب ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی،اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔‘‘اس لیے اس موقع پر بڑی حکمت اور دانش مندی سے کام کرنے کی ضرورت ہے  اور حیا کو بہ حیثیت اسلوبِ زندگی اپنانے کی ابدی ضرورت ہے ۔