تازہ ترین

علم گُل بہار ، جہل خارزار

آگہی

2 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر عبداللطیف الکندی
علم  ایک عظیم اورانمول دولت ہے جس سے ہر خیر کا خزانہ کھلتا ہے، ہر کامیابی کی راہ ملتی ہے، مردہ دلوں کو زندگی کا راستہ نصیب ہوتا ہے اور علم ہی ہر خیر کی بنیاد ہے اور علم کی روشنی حاصل کرکے ہی ہر فرد اپنی منزل مراد کو پاسکتا ہے ۔جو علم کے نور سے محروم رہا ،وہ اپنے لئے ہر خیر کے دروازے کو نہ صرف بند پاتا ہے بلکہ اپنے لئے شر کے دروازے کھول دیتا ہے۔ گمراہی اور تباہی کی ہر راہ اس شخص کے لئے آسان ہوجاتی ہے جو علم کی نعمت سے محروم رہے ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جہاں علم ہر خیر اور بھلائی کی نبیاد ہے،وہاں جہالت ہر شر اور فتنے کی جڑ ہے۔ دنیا میں علم سے توحید کا کھیت لہلہا تا ہے اور جہالت سے شرک کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں ۔ علم سے سنت کی عظمت کا پتہ چلتا ہے تو جہالت بدعت کی تخم ریزی کرتی ہے۔ علم امن کی صوت جگاتی ہے اور جہالت فتنہ وفساد اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرتی ہے۔ علم سے وحدتِ ملت کی بہار یں آتی ہیں ،جہالت سے فرقت و افتراق اُمت کی راہیں کھلتی ہیں۔ اسی غرض سے قرآن و سنت نے بھی علم کی عظمت کو اُجاگر کیا ہے اور اُمت میں ہر زماں و مکان میں علم کی اہمیت مسلّم رہی ہے ۔ یاد رہے کامیاب انسان کے پیچھے علم کا تحرک رہا ہے اورہر ناکام انسان کے لئے اس کی جہالت و لاعلمی کا رفرمارہی ہے۔ 
الخلیل بن احمد الفرہیدی نے کہا تھا:(المطبب بغیر علم یحجر علیہ لصالح الأبدان، المہندس الجاہل یحجر علیہ لصالح البلدان، فإن المفتی المتقول علی اللہ یحجر علیہ  لصالح الأدیان)’’ انسانی جانوں کو بچانا ہو تو نیم حکیم پر پابندی لگانا ہوگی، شہروں اور ملکوں کو بچانا ہو تو جاہل انجینئروں پر باپندی لگانا ہوگی، اسی طرح اگر ایمان کو بچانا ہو تو ایسے مفتیوں پر پابندی لگانا ہوگی جو اللہ کی طرف بغیر علم بات منسوب کرتے ہیں ۔‘‘
 خلیل الفراہیدی کی اس عظیم بات سے پتہ چلا کہ ابدان، بلدان اور ایمان و ادیان کی حفاظت اور سلامتی تب ہی ممکن ہے جب علم ہو اور ان کی سلامتی داؤ پر تب لگتی ہے جب جہالت کا دور دورہ ہو۔ اسی طرح کی بات علامہ ابن تیمیہ ؒ نے اپنی شہرہ ٔآفاق تصنیف ’’الرد علی البکری‘‘۲؍۷۳۱ میں فرمایا تھا:(وقدقیل:إنما یفسد الناس نصف متکلم ونصف فقیہ ونصف نحوی ونصف طبیب ، ہذا یفسد الأدیان وہذا یفسد البلدان وہذا یفسد اللسان وہذا یفسد الأبدان ، لا سیما إذا خاض فی مسألۃ لم یسبق إلیہا عالم ولا معہ فیہا نقلٌ عن أحد ، ولا ہی من مسائل النزاع بین العلماء فیختار أحد القولیْن بل ھجم فیھا علی مایخالف دین الإسلام)’’کہا جا تا ہے ، لوگوں کو نیم عالم، نیم فقیہ ، نیم نحوی اور نیم حکیم تباہ کرتا ہے۔ پہلا دین کو، دوسرا شہروں کو، تیسرا زبان کو اور چوتھا بدن کو تباہ وبربادکرتا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب یہ نیم حکیم کسی ایسے مسئلے میں ایسی بات کریں جو نہ اس سے پہلے کسی عالم نے کہی ہو ، نہ اس پر کسی کا حوالہ ہواور نہ ہی وہ مسئلہ اہل علم کے درمیان اختلافی مسائل میں سے ہی ہو، بلکہ یہ شخص اس طرح کے لایعنی گفتار سے دین ِ اسلام کے برعکس بات کرتا ہے۔ ابوحیان توحیدی نے’’البصائر والذخائر۱؍۴۵۵ میں لکھا ہے:((وکان القاضی ابوحامد یقول:من کان نصف طبیب فإنہ یقتل العلیل ومن کان نصف فقیہ فإنہ یحلل المحرم، ومن کان نصف نحوي فإنہ یلحن ابدا، ومن کان نصف لغوی فإنہ یصحّف ابداً))قاضی ابو حامد کہا کرتے تھے:’’جو نیم حکیم ہوگا وہ مریض کو قتل کردے گا اور جو آدھا فقیہ ہوگا وہ حرام کو حلال کردے گا۔ جو آدھا نحوی ہووہ ہمیشہ کلام میں غلطی کرتا رہے گا اور جو زبان دانی میں کمزور ہو وہ تصحیف کرتا رہے گا۔‘‘ 
 ان اقوال ِ زریںسے علم کی اہمیت و ضرورت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ قوم و ملت ، انسانیت و حیوانات، نباتات و جمادات کے تحفظ اور سلامتی کے لئے اس کائنات میں چلنے پھر نے والے انسانوں کے لئے بہر صورت علم کا حصول لازمی اور ضروری ہے ،تب ہی اس جہان کو رہنے کے قابل بنانا جاسکے گا۔ انسان اپنے مقصد تخلیق یعنی بندگی  ٔ رب کے تقاضوں کو صحیح ڈھنگ سے انجام دینے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرسکتے ہیں ورنہ کتنے ہی ایسے بھی ہیں جنہیں اپنی خبر بھی نہیں ہے، اپنے بنانے والے ربِ کریم کی پہچان نہیں ہے، مقصد زندگی کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے، بھٹک ر ہے ہیں، ٹھوکریں کھارہے ہیں، خود بھی تکلیف اٹھاتے ہیں، دوسروں کی ضرررسانی کا باعث بھی بنتے جار ہے ہیں اور انہیں سدھرنے کی فکر بھی دامن گیر نہیں ہے بلکہ اصلاح احوال کا علم بھی نہیں ہے اور نہ یہ پلے پڑتا ہے کہ کسی نے کتنا صحیح کہا ہے ۔ ا س اعتبار سے لوگ چار طرح کے ہیں : 
الناس اربعۃ
۱۔    رجل یدری و یدری انہ یدری فذالک عالم فاتبعوہ
۲۔ ورجل یدری ولا یدری انہ یدری فذلک نائم فأیقظوہ
۳۔ ورجل لا یدری و یدری انہ لا یدری فذلک مسترشد فأرشدوہ
۴۔ورجل لایدری ولا یدری انہ لایدری فذلک جاہل فارفضوہ
انسان کئی طرح کے ہیں :
 ایک انسان وہ ہے جو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے وہ عالم ہے، اس کی پیروی کرو۔ 
دوسراانسان وہ ہے جو جانتا ہے لیکن نہیں جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے ،یہ سویا ہوا ہے اسے جگا دو۔
تیسرا انسان وہ ہے جو نہیں جانتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ نہیں جانتا ہے، ایسا شخص راہ طلب کرنے والا ہے، اس کی رہنمائی کرو۔
چوتھا انسان وہ ہے جو نہیں جانتا اور اسے یہ بھی خبر نہیں کہ وہ نہیں جانتا ہے، ایسا شخص جاہل ہے ، اسے چھوڑ دو۔ 
 اسی لئے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:کن عالماأو متعلما او مستمعا لہ ولا تکن الرابع فتھلک ’’تم عالم بنو، طالب بنو یا علم کے سننے والے بنو چوتھا نہ بننا ہلاک ہوجاؤ گے اور چوتھا توجاہل ہی ہوتا ہے۔‘‘
 امام ابن المبارکؒ سے بھی اسی طرح کا قول منقول ہے۔
 آج کل ہمارے سماج میں ان ساری اقسام کے لوگ موجود ہیں، کتنے ہی بے علم اہل ِعلم کی موجودگی میں خاموش رہنے کا نام بھی نہیں لیتے اور یہی معاشرے میں فساد کی جڑ ہے۔ اس لئے اختلافات و افتراق جنم لیتے ہیں،سلجھاؤ کی راہیں نہیں دِکھتی۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا تھا:’’اگر بے علم خاموش رہتا تو اختلاف ساقط ہوجاتا ‘‘ اور اگراختلاف ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے تو سمجھ لو بے علمی کا طوطی بولتا ہے اور وہ اس چیز سے بے خبر ہے کہ اہل علم کو خاموش رہنے پر تمہاری چالاکی، زبان دانی ، چرب زبانی نے مجبور نہیں کیابلکہ اہل علم کی خاموشی کا راز ان کا خوف الٰہی ہے۔ انہیں قدم قدم پر اپنے حرف حرف پر مو اخذے اور رب کے دربار میں جو ابدہی کا خوف ہے اور جہلاء یہ سمجھتے ہیں کہ علم والے بو ل نہیں ر ہے ہیں۔ اہل علم کے پیش نظر (ما یلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید) کوئی لفظ جو اس کی زبان سے نکلتا ہے، اسے لکھنے کے لئے فرشتہ موجود ہوتے ہیں،ہمہ وقت ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے لوگ کلام کو عمل میں سے نہیں گردانتے جس پر رب کے دربار میں محاسبہ ہو، اسی لئے کثرت ِکلام کے عادی بن جاتے ہیں۔ 
عمر بن عبدالعزیز ؒ نے فرمایا تھا:من عدکلامہ من عملہ قل خطئہ’’جس نے اپنے کلام کو اپنے عمل میں شمار کیا اس کی غلطیاں کم ہو جائیں گی۔ ‘‘
قارئین کرام ! اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو علم ، اہلِ علم کی طرف رجوع کرنا چاہے، اسی میں ہمارا ایمان محفوظ ہے، عمل دُرست ہے ،اجتماعیت مستحکم ہے، افتراق و انتشار سے حفاظت کی ضمانت ہے ، امن و سکون کا بول بالا ہے، عبادتیں درست طریقے اور درست سمت میں اداہوتی ہیں۔ بصورت دیگر جہالت ولاعلمیت میں نہ ایمان محفوظ ہے اور نہ ہی عمل درست اور پکا ہے۔ سماج کا شیرازہ جہالت سے ہی بکھرتا ہے اور انتشار و افتراق جہالت کی دین ہے ۔نیز فتنہ و فساد، قتل و غارت اوربے چینی جہالت کی وجہ سے پھلتی پھولتی اور پنپتی ہے۔ اللہ ہم سب کو علم نافع، رزق واسع عطا کرے اور عمل صالح کی توفیق ِارزانی فرمائیے۔آمین