تازہ ترین

وٹس ایپ گروپوں کے مسائل

گویم مشکل وگر نہ گویم مشکل

1 اگست 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر شمس کمال انجم
واٹس اپ نے ٹکنالوجی کی دنیا میں بڑا انقلاب بپا کردیا ہے۔اس کا جلوہ ایسا عام ہواہے کہ اب یہ زندگی کی ضروریات میں شامل ہوگیا ہے۔ اس نے زندگی کے مسائل کو آسان بھی کردیا ہے اور پیچیدہ بھی بنادیا ہے۔ اس کے ذریعے فری میں آڈیوکال بھی کرسکتے ہیں اور ویڈیو کال بھی۔ کوئی تصویر، ڈکومنٹ، کتاب،تحریر، قصیدہ، شعر ،کوئی ٹکسٹ میسج یا صوتی پیغام سکنڈوں میں مرسل الیہ تک پہنچاسکتے ہیں۔  بیک وقت بے شمار لوگوں تک ایک کلک میں کوئی میسج، تصویر ، ڈکومنٹ اور ویڈو وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔گروپ بناکرمختلف موضوعات و مسائل پر بحث ومباحثہ بھی کرسکتے ہیں۔
میرا موبائل نمبر یونیورسٹی ویب سائٹ پر بھی ہے اور فیس بک پر بھی۔ اخبار میں کوئی کالم شائع ہوتا ہے تو اس میں بھی ہوتا ہے۔ طلبہ کے پاس بھی ہے اور کچھ اپنوں اور غیروں کے پاس بھی۔لہٰذاعلمی، ادبی، سیاسی ، سماجی، ثقافتی اوردفتری ضروریات کے پیش نظر لوگ گروپ تشکیل دیتے ہیں تو مجھے بھی ایڈ کردیتے ہیں۔ میرے پاس بیک وقت بیس پچیس گروپ ہیں۔ان میں سے کچھ بے شمار علمی وادبی فوائد کے حامل ہیں تو کچھ بے کار اور فضول کے۔ اپنی مصروفیت کا عالم یہ ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی درشن کرنے کا وقت بہت کم کم ملتا ہے اورمروت ایسی کہ ان گروپوں سے exitکرنابھی عرفاً درست نہیں لگتا۔ 
لطف کی بات تو یہ ہے کہ میں خود بھی ایک دو گروپ کا ایڈمن ہوں۔ ایک گروپ نے تو مجھے باقاعدہ سرپرست بنارکھا ہے۔حالانکہ اختیار مجھے ایڈمن والے بھی نہیں دیے گئے ہیں۔ایک گروپ ایسا ہے کہ اس میں ہر فرد ایڈمن ہے شاید وہ اس لیے کہ اگر کوئی خلاف واقعہ بات ہوتو سبھی لوگ پکڑے جائیں۔ ایک گروپ ایسا ہے کہ اس کے ایڈمن صاحب ہر وقت ہیڈ ماسٹر کی طرح اپنی چھڑی فضا میں لہراتے رہتے ہیں اور خلاف مزاج ہر بات پر’’ ملک بدر‘‘ کر دینے کی دھمکی دیتے رہتے ہیں۔ حالانکہ اس گروپ کے اپنے اصول وضوابط ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں۔ جب کہ بیشتر گروپ ایسے ہیں جن کے اصول وضوابط ہوتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کی صورت میں وہ ضوابط وہاں پوسٹ کردیے جاتے ہیں جس سے بے مروتی بھی نہیں ہوتی اورخلاف ورزی کرنے والا سنبھل بھی جاتا ہے۔ کچھ گروپ ایسے ہیں کہ اس کے ایڈمن حضرات کا اپناالگ گروپ ہوتاہے جس میں گروپ کے بارے میں  وہ آپس میںمشورہ کرکے فیصلے لیتے ہیں۔ ایک عالمی شعری گروپ ایسا بھی ہے جس میں آن لائی صوتی مشاعرہ بھی ہوتا ہے۔ اور وہ اسی مقصد کے لیے بنایابھی گیا ہے۔اب تو اس نے اپنے آپ کو فیس بک پر شفٹ کرلیا ہے۔ کچھ گروپ ایسے ہیں کہ وہاں inactiveممبران کو گروپ سے نکال دینے کی باقاعدہ دھمکی دی جاتی ہے جس سے کچھ سرگرم ہوجاتے ہیں اور کچھ کے کان پر  پھر بھی جوں تک نہیں رینگتی۔ ایک گروپ میں  یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس کاایڈمن بننے کے لیے کم وبیش ایک ہفتے تک لڑائی چلتی رہی۔ بالآخر صلح ومصالحت کے ذریعے گروپ کو ڈوائڈ ہونے سے بچالیاگیا۔
گروپ کی ترسیلات کے بھی عجیب وغریب قواعد وضوابط ہوتے ہیں۔ کچھ گروپ میں ویڈیو پوسٹ کرنا منع ہوتا ہے۔ کچھ میں ویڈیو کے ساتھ تصویریں بھی۔ کچھ میں الم غلم سب کچھ چلتا رہتا ہے۔ کچھ گروپ تو اتنا بولتے ہیں کہ دن بھر میں ہزاروں میسج یکجا ہوجاتے ہیں۔ کچھ تو بالکل گونگے ہوتے ہیں۔کچھ ایسے ہوتے ہیں جس میں صرف ایڈمن ہی صاحب زبان ہوتا ہے۔ باقی کو زبان کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔کچھ ایسے ہوتے ہیں جس میں صرف دو چار ہی بات کرتے ہیں باقی اللہ والے ایسے چپ سادھے رہتے ہیں جیسے اللہ نے انھیں زبان ہی نہ دی ہو۔ عجیب سے گھاگھ قسم کے ممبر ہوتے ہیں۔گروپ میں کچھ بھی ہوجائے انھیں فرق ہی نہیں پڑتا۔
گروپ کے ممبران بھی عجیب وغریب طبیعت کے ہوتے ہیں۔ کچھ تو ایسے ہوتے ہیں جوہمہ وقت گروپ میں کچھ نہ کچھ پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ صبح وشام ان کا یہی کام ہوتا ہے۔ جیسے ان کے پاس کوئی اور کام ہی نہ ہو۔کچھ ایسے ہوتے ہیں جواس کی ترسیلات پر ہمہ وقت بحث ومباحثے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ آپ نے یہ کیوں پوسٹ کیاوہ کیوں پوسٹ کیا؟اور اس وقت تک جواب طلب کرتے رہتے ہیں جب تک کہ ایک دو ممبر گروپ سے خود بخود ’’مرحومیت‘‘ کا تمغہ نہ حاصل کر جائیں۔گروپ میں کسی کی شمولیت وعدم شمولیت پراس طرح بحث و مباحثے کے لیے تیار رہتے ہیں جیسے کہ اس کی ممبرشپ کسی ملک کی سٹیزن شپ ہو۔غلطی سے اگر کوئی غلط نام ایڈ ہوگیا تو ایڈمن بیچارے کی خیر نہیں۔ کچھ لوگ تو اس ایسی علمی وادبی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اگر وہ کتابی یا مضمون کی شکل میںاس صلاحیت کا مظاہرہ کریں تو یہ بہتوں کے لیے بہت کار آمد اورمفید ہوجائے۔کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ انھیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ گروپ میں کیا ہورہا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کسی مسئلے پر بحث اپنے شباب پر ہوتی ہے اور اچانک کہیں سے کوئی غیر متعلق پوسٹ آکر معاملے کو کرکراکرجاتی ہے۔ کچھ لوگ اس غیر متعلق پوسٹ پر نظر کرلیتے ہیں تو کچھ اس کی وجہ سے ڈسٹرب ہوجاتے ہیں اور بحث وہیں دم توڑ جاتی ہے۔
اس کائنات کی کوئی شے فائدے سے خالی نہیں۔ سو واٹس اپ بھی نہیں۔اگر حسب ضرورت سوچ سمجھ کر اس کااستعمال کیا جائے تو یہ بے انتہا مفید شے ہے۔یہ اور اس طرح کے وسائل کا ہر مفید بات کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ لیکن ان کے استعمال میں غلو سے احتراز کرنا چاہیے۔ ہمہ وقت اس پر بحث ومباحثے سے بچنا چاہیے۔ گروپ میں بے شمار لوگ ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ سب کے سب ویسا ہی اور وہی سوچیں جس طرح کہ آپ سوچتے ہوں۔ لہٰذا اپنے مزاج کے مخالف بہت ساری باتوں سے دامن کو تہی بھی کیاجانا چاہیے۔آخر کو سب اپنے مزاج اور اپنے ذوق وشوق کے حساب سے گروپ میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ حصہ آپ کے ذوق وشوق اور مزاج سے ہم آہنگ بھی ہو۔
در اصل عالمی تہذیب وتمدن بڑی سرعت سے کروٹ لے رہی ہے۔ ہمارے آباء واجداد جس تہذیب وتمدن کے مشاہد تھے اس سے کہیں مختلف ہے آج کی تہذیب۔ ٹکنالوجی نے انسانی زندگی کو بالکل متغیر کرکے رکھ دیا ہے۔ ایسی مشینی تہذیب سے ہمارا سامناہے جس کو ہم ہضم بھی نہیں کرپارہے ہیں لیکن اس کے بغیر جینا اور سانس لینا بھی دشوار ہوتا جارہا ہے۔لہٰذا ہمیں اس کے استعمال میں حزم واحتیاط کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
رابطہ :صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں وکشمیر
9086180380