تازہ ترین

معاشرتی بگاڑ

نجات ملے تو کیسے؟

31 جولائی 2019 (00 : 12 AM)   
(      )

ایس ایم جمیل
ہماری   اپنی دنیا جس قدر تہذیب و شائستگی سے عاری ہوتی جارہی ہے ہم قدرتی طور پر اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔محبت و اخوت ،عزت و تکریم ، شفقت و مروت اور ایثار و قربانی جیسے عالمگیر اقدار کو ہم لوگ بڑی بے دردی سے پامال کئے جارہے ہیں۔اس روئے کی بڑی وجہ وہ نفسیات ہے جو ہماری ازحد مادہ پرستی ،تسکین خواہشات اور دوسروں کو نیچا دکھانے کی غیر انسانی سوچ کی پیداوار ہے۔ ظاہر ہے وہ دینی و دنیوی تعلیم جس کا مقصد آدمی کو پستی سے نکال کر ارفع و اعلیٰ مقام تک لیجانا تھا، وہ ہمارے نزدیک ایک بھونڈا مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ہم لوگ اپنی نفسانی خواہشات کے زیر اثر اپنے اس سماجی ڈھانچے کو تہس نہس کرنے پر تلے ہوئے ہیں جو صدیوں سے ہماری بقا و شناخت کا ضامن ہوتا چلا آیاہے۔
ہماری حالت یہ ہے کہ عملی زندگی میں ہم عمومی طور پرعضو معطل ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہمارے علماء و اکابر،ہمارے رہبران و اساتذہ ، ہمارے قلمکار و دانشور اور ہمارے امراء وعوام خود کو زمانے کی غیر فطری لیکن خود اختیار کردہ رو کے ساتھ بہتے چلے جارہے ہیں۔کوئی نہیں جو معاشرے کو پھر سے اپنی ڈگر پر لے آئے۔ ہمارے نوجوانوں کا حال بد سے بدتر ہوتا جارہاہ۔ بیروزگاری کی مار پہلے سے جھیل چکے اس طبقے کو اب منشیات کی لت پڑ چکی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ قوم کا مستقبل خطرناک حد تک اس وبا کا شکار ہوچکا ہے۔کیا شہر و قصبات اور کیا گائوں دیہات ،ہر جگہ وہ منشیات کے پنجہ عفریت کی زد میں آگئے ہیں۔آپ اس گھمبیر مسلے کو ہلکا نہ لیں۔ تازہ پولیس رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ منشیات کے عادی جوانوں کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ ہے۔ یہ سمجھنے کی بات ہے کہ اگر گھر کا ایک فرد اس لت میں پڑگیا تو پورے گھر اور اس کے رشتے کے لوگوں کی بربادی و ذلت و خواری کا باعث بن جاتا ہے ،اس طرح ایسے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں بنتی ہے جن کی عزت پر بٹہ لگتاہے۔ابھی ہم اور آپ اپنی دیرینہ سماجی برائیوں اور رسومات بد کا ہی رونا رورہے تھے کہ یہ نئی افتاد سر پر آ پڑی ہے۔اگر اس افسوس ناک صورت حال پر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو ہماری بقا و شناخت کو مستقبل قریب میں خاک میں ملنے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں۔
قوموں کی تہذیب پہلے گھر سے شروع ہوتی ہے پھر تعلیم گاہوں سے۔ ہم سب کو برملا اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ بحیثیت والدین ہم اپنے بچوں کی اخلاقی تربیت سے بالکل غافل ہوتے جارہے ہیں۔والدین کی عملی زندگی بچوں کیلئے ایک نمونہ ہوتی ہے۔اسی طرح ہمارے اسکولوں اور کالجوں کا ماحول بگڑا ہوا ہے۔استاد و شاگرد کا رشتہ اخلاقی نہیں بلکہ کاروباری بن کر رہ گیاہے۔ ایسے میں ہمارے نوجوانوں کی کیا خاک تربیت ہوگی۔ پھر جب وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے اپنے وسیع تر معاشرے کے لچھن سے واقف ہوجاتے ہیں تو ان کے کردار کا خدا حافظ۔ یہ ہمارا آپ کا پیدا کردہ وہ معاشرہ ہے جس میں قدم قدم پر جھوٹ و فریب، بدعہدی و بد معاملگی، بد ذوقی و بدانتظامی ، رشوت و بدعنوانی ،کالابازاری، لوٹ کھسوٹ و استحصال ،عیش کوشی و خرمستی کا سکہ چلتاہے۔ غرض ہمارا وہ معاشرہ ہے جس میں دین و اخلاق اورآئین و قانون کی کھلے عام دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ایسے میں اگر کسی صاحب کا ایمان سلامت رہے اس کا درجہ و مقام فرشتے سے بڑھ جاتا ہے۔
 ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں۔اپنی بربادی کا تماشہ نہ دیکھیں۔اگر زمانے میں ہمیں بحیثیت ایک زندہ قوم کے عزت و آبرو سے رہنا ہے تو چاہئے کہ ہم انفرادی و اجتماعی سطح پر اپنا جائزہ لیں۔ہم لوگ خود کو درست کرنے میں لگ جائیں اور اپنی نئی نسلوں کی صحیح ڈھنگ سے دینی و دنیاوی تربیت کرنے میں جھٹ جائیں۔اپنے بگڑے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لے آئیں۔تمام معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کریں۔ یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ اپنے گھمبیر مسائل و مشکلات کے حل کیلئے حکومت وقت سے کسی کرشماتی کارکردگی کی توقع رکھنا کار عبث ہے جیسا کہ "جیسی پرجا،ویسا راجہ "۔ ظاہر ہے کہ یہ راستہ آسان نہیں ہے۔ہم نے اپنی غفلت شعاری و ناعاقبت اندیشی سے خود اپنی راہوں میں جو زہریلے کانٹے بوئے ہیں، ان کو ہٹانا کارے دارد والا معاملہ ہے مگر ایک بار ہم میں خود اصلاح وخود درستگی کا احساس پیدا ہوجائے تو ہمت و استقلال سے اور آپسی تعاون سے یہ نہایت مشکل کام انجام خیر کو پہنچ سکتا ہے۔