تازہ ترین

غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف

قانون کی نئی قدغن

31 جولائی 2019 (00 : 12 AM)   
(      )

مدثر حسن مرچال ہردوشیواہ۔۔۔ زینہ گیر کشمیر
دنیا  کے کم وبیش ہر ملک اور قوم میں ملک دشمن سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جاتا ۔ ملک دشمن کاروائیوں کے خلاف سخت قوانین بھی بنائے جاتے ہیں اور ان قوانین کی عمل آوری کے لئے بھی ملک کے کئی ادارے کام کرتے ہیں ۔ امریکہ، چین، پاکستان اور دنیا بھر کے سبھی دیشوں میں ملک کے سا  لمیت کو زک پہنچانے والے عناصر کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اور قوانین کو سخت تر بنایا جاتا ہے۔ملکی سالمیت کو بچانا در اصل ملک کے شہریوں کو ہر حال میں تحفظ فراہم کرناے کے برابر ہوتاہے۔ یہاں یہ کہناغلط نہیں ہوگا کہ ملک کے قانون کے ساتھ ساتھ خارجی و داخلی پالیسی کو مرتب کرتے وقت بھی جن چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے ان میں سرِ فہرست فرداور قوم کا مالی، جانی، سیاسی اور معاشی تحفظ ہوتاہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی ؎زیر نظرر کھا جانا چاہئے کہ اختیارات کی مر کوزیت (centralization) واقع نہ ہو تاکہ اختیارات کا غلط اور ناروا استعمال ممکن  نہ ہو سکے۔ بہر کیف دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بنائے گئے قانون کو سخت سے سخت تر بنایا جا رہا ہے۔ اب غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بنائے گئے قوانین کی تازہ ترامیم کے دوران ان کے مضر او رمنفی استعمال کے امکانات کتنے کم یا کتنے زیادہ ہیں، یہ تو وقت ہی بتا پائے گا۔ ہندوستان میں اینٹی ٹیرر قانون کی بنیاد تب پڑی جب1963 ء میں نیشنل انٹی گریشن اینڈ ریجی نلزم کمیٹی (National Integrity and Regionalism Committee)کی سفارشات پر آئین ہند کی سولہویں ترمیم کو منظوری ملی ۔اس کی رُو سے مرکزی حکومت کو یہ حق حاصل ہواکہ وہ کسی بھی وقت ملک کی سا  لمیت کو لاحق خطرے کے پیش نظر مناسب پابندیاں عاید کرنے کی مجاز ہوگی۔یہ بِل ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا میں منظور ہونے کے بعد صدر ہند کی طرف سے30 دسمبر 1967ء کو منظور ہوا اور اس قانون کو باضابطہ اطلاق ہوا۔اس کے محض دو سال بعد 1969ء میںUnlawful Activities Prevention Ammendment Act کے ذریعے اس قانون میں پہلی ترمیم کی گئی۔ اس قانو ن کے اطلاق کے بعد آزادیٔ اظہار، بدون ہتھیار اجتماع کی آزادی اور آزادی ٔ تنظیم جیسے بنیادی حقوق کا دائرہ کسی حد تک تنگ کیا گیا ۔ آسان لفظوں میں کہیں تو  Unlawful Activities Prevention Act کی داغ بیل اندرا گاندھی کی سربراہی والی حکومت نے ڈالی تھی۔بعد ازاں اس قانون کی ترمیم 2004، 2008، اور 2013 میں کی گئی تھی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ کر نا لازمی ہے کہ اسی قانون کے تواتر میں 2002ء میں  POTA نامی قانون بھی نافذ ہوا تھا لیکن اسے جلد ہی ہٹایا گیا کیونکہ یہ اقلیتی مسلم طبقہ کے خلاف استعمال کیا گیا۔
غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف قوانین کی تجدید و ترمیم کے اسی تسلسل کے تحت رواں ماہِ جولائی میں داخلہ وزیر امیت شاہ کی طرف سے بھارتی ایوانِ زیریںمیں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ترمیمی بل(Unlawful Activities Prevention Ammendment Bill) منظور ہوا جس کے تحت غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بنائے گئے قانون کو اور زیادہ سخت کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ غیر قانونی سرگرمی (روک تھام ) بل کو لوک سبھا میں امیت شاہ کی طرف سے ۸ ؍جولائی کو پیش کیا گیا جس میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف  سخت کاروائی کئے جانے کے لئے راہ ہموار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ۔ اس بل پر ووٹ کرتے ہوئے 287  لوک سبھا ممبران نے اس کے حق میں ووٹ دیا جب کہ ۲ ؍ ممبران نے بل کے مخالف اپنا ووٹ کاسٹ کیا ۔ کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ نے یہ کہہ کر ایوان سے واک آوٹ کیا کہ مذکورہ ترمیمی بل کو نظر ثانی کے لئے سٹینڈنگ کمیٹی کو واپس بھیجنے کی ضرورت ہے ۔
Unlawful activities Prevention Ammendment Bill 2019پر لوک سبھا میں سوالات بھی اُٹھائے گئے۔ بل کی نقطہ چینی کرنے والوںمیں کانگریسی رہنما کارتی چدمبرم، AIMIM  کے رہنما بیرسٹر اسد الدین اویسی اور NCP راہنما سُپریا سولے کے علاوہ کئی دیگر ممبران پارلیمان شامل ر ہے ۔ ممبر پارلیمنٹ اور کانگریس رہنما کارتی چدمبرم نے بل پر بات کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بل کی نقطہ چینی کرتے ہوئے کچھ اہم نکات اُجاگر کئے :مثلاَ کیا اس قانون سے پٹھانکوٹ جیسے واقعات کو روکا جا سکتا ؟ کیا ایسے قوانین سے دہشت گردی کے واقعات کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (NCP) کے لیڈر اور ممبر پارلیمان سُپریا سولے نے بھی بل کی مخالفت کی۔ انہوںنے کہا کہ یہ سماجی کارکنان کی سرگرمیوں کو ہدف بنانے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے ۔ اس کے جواب میں امیت شاہ نے کہا کہ سوشل ورکرس کے خلاف اس قانون کو کسی بھی طرح استعمال نہیں کیا جا سکتابلکہ انہوں نے نکسلی آئیڈیالوجی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنا کر کہا کہ ایسی جماعتیں ملک دشمن ہیں اور ان سے اسی طرح پیش آنے کی ضرورت ہے۔حکومت کا ببانگِ دہل یہ دعوی ہے کہ UAPA میں موجودہ ترمیم ملک کی سالمیت کو بچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
غیر قانونی سرگرمیاں  (روک تھام) بِل   Unlawful Activities Prevention Ammendment Bill   کا بغور جائیزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس بِل کے تحت مرکزی  سرکار کو یہ حق ہوگا کہ وہ کسی بھی ادارے کو یا شخص کو  دہشت گردی کے ضمرے میں لا کر اس کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔ نیز  موجودہ قانون کی رو سے قومی تفتیشی ایجنسی کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ دہشت گردی میں ملوث ٹھہرائے گئے شخص یا ادارے سے منسلق جائیداد کو  ڈائیریکٹر جنرل این آئی اے کی اجازت سے ضبط کر سکتی ہے جبکہ اس بِل  کے اطلاق سے قبل  UAPAکی دفعہ 25 کے تحت این آئی اے،  ڈائیریکٹر جنرل پولیس کی اجازت کے بغیر ایسی کوئی کاروائی نہیں کر سکتی تھی۔ مذکورہ بل کی رُوسے دہشت گردی سے متعلق معاملات کی تحقیقات اب این آئی کے انسپکٹر سطح کے افسر کیا کریں گے جب کہ اس سے قبل یہ معاملات ڈی ایس پی سطح کے افسروں کے حد اختیار میں آتا تھا۔ اس بل کو ایوان میں پیش کر نے سے قریباََ دو ہفتے قبل قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) بل کو ایوانِ زیریں اور ایوان بالا میں منظوری ملی تھی جس کے تحت اس ادارے کی Jurisdiction  کو وسعت دی گئی۔اب چشم فلک یہ دیکھنے کی منتظر رہے گی کہ آیا ان قوانین کے اطلاق سے ملک کا بھلا ہوتاہے یا محض خانہ پُری ہے ۔ 