تازہ ترین

آدھی ادھوری سڑکوں کی تکمیل کب ہوگی؟

29 جولائی 2019 (00 : 01 AM)   
(      )

سرکار کی طر ف سے اس با ت کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں کہ گائوں گائوں کو سڑک روابط سے جوڑاگیاہے لیکن ان دعوئوں کی قلعی بارشوں کے موسم میں کھل کر سامنے آجاتی ہے جب آدھی ادھوری سڑکیں مقامی آبادی کیلئے باعث عذ اب بن جاتی ہیں اور پھسلن پیدا ہونے اور نکاسی کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے زمینوں اور گھروں کو بھی نقصان پہنچتاہے ۔ ایسی صورتحال میں ان سڑکوں پر گاڑیاں بھی نہیں چل پاتیں اور مسافرمیلوں کاسفر پیدل طے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ٍاس حوالے سے رابطہ سڑکوں کی تو بات ہی نہیں ریاست کی سب سے اہمیت کی حامل جموں ۔سرینگر شاہراہ کا حال بھی یہ ہے کہ بانہال سے لیکر اودھمپور تک جگہ جگہ پسیاں اور پتھر گرآنے کا سلسلہ جاری رہتاہے، جس سے نہ صرف مسافروں کی جان کوخطرہ لاحق رہتاہے بلکہ گاڑیاں نقصان سے دوچار ہوجاتی ہیں اور ٹریفک بھی معطل ہوکر رہ جاتاہے ۔گزشتہ روز بھی شدید بارش کے دوران شاہراہ کے اس حصے پر زبردست پتھر اور پسیاں گرآنے کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجہ میں دو گاڑیوں کے شیشے چکناچور ہوگئے مسافر معجزاتی طور پر بچ نکلے۔ اگرچہ حالیہ برسوں کے دوران گائوں دیہات کو سڑک روابط سے جوڑنے کیلئے پی ایم جی ایس وائی ، نبارڈ اور دیگر سکیموں کی مدد سے اچھا خاصا کام ہواہے تاہم سڑکوں کی تعمیر مکمل نہ ہونے کے نتیجہ میں یہی سہولت لوگوں کیلئے تکلیف اور پریشانی کا باعث بن رہی ہے ۔ہر سال برسات کے موسم میں ایسی شکایات سامنے آتی ہیں کہ سڑکوں کاکام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے پسیاں گرآنے سے زمینوں اور مکانات کو نقصان پہنچااور یہی سلسلہ اس سال بھی چل پڑاہے ۔خاص طور پر پہاڑی اور دوردراز علاقوں میں صورتحال زیادہ پریشان کن ہے ۔اگر ان سڑکوں کی تعمیر کاعمل مکمل ہوچکاہوتاتو یہ پریشانی درپیش نہیں ہوتی اور پسیاں گرآنے کا خطرہ بھی کم ہوتا۔تاہم گائوں دیہات کوقصبوں سے جوڑنے والی بیشتر سڑکوں کا عالم یہ ہے کہ کہیں مشینیں لگاکر ان کی کھدائی کرکے کام چھوڑ دیاگیاہے، جس سے لوگوں کی زمینیں تباہ ہوئی ہیں اور کہیں پہلے اور دوسرے مرحلے کے کام کے بعد تارکول بچھانے کا عمل تعطل کاشکار ہے ۔ان سڑکوں کے ساتھ نالیوں کی تعمیر بھی نہیں ہوئی اور نہ ہی نکاسی کا کوئی انتظام ہے جس کے باعث بارشیں ہوتے ہی سارا پانی سڑکوں پر بہنے لگتاہے جس سے پھسلن پیدا ہوکر گاڑیوں کی آمدورفت تو بند ہوہی جاتی ہے لیکن ساتھ ہی کئی مقامات پر پسیاں گرآتی ہیں جواراضی اور مکانات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں ۔ریاست کے پہاڑی خطوں پیر پنچال اور چناب کے لوگوں کو ناقص سڑک سہولیات  کی وجہ سے زیادہ پریشانیوں کاسامناہے جہاں زیاد ہ تر سڑکوں کی حالت شرمناک ہے اور کئی سڑکوں نے بارشوں میں پگڈنڈی کی شکل اختیار کرلی ہے ۔ان خطوں میں رابطہ سڑکوں کا ہی نہیں بلکہ ایک قصبے کو دوسرے قصبے کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں کا بھی یہ حال ہے کہ وہ کئی کئی سال سے زیر تعمیر ہیں اور ان کی تکمیل کیلئے مقررکئے گئے اہداف بھی پورے نہیں ہوئے ۔ریاست میں بہتر سڑک روابط کی فراہمی کیلئے یہ امر لازمی ہے کہ جہاں پہلے سے شروع کئے گئے تمام سڑک پروجیکٹوں کو جلد سے جلد مکمل کیاجائے وہیں نئے سڑک روابط بھی شروع کئے جائیں تاہم بدقسمتی کی بات ہے کہ پہلے تو کوئی کام شروع ہی نہیں ہوتا اور اگر شروع ہوبھی جائے تو اس کی تکمیل میں دہائیاں لگ جاتی ہیں ۔یہ بات بیان کرنیکی شاید ہی ضرورت ہوکہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے عوام کو سڑک روابط نہ ہونے کی وجہ سے حاملہ خواتین اور مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے سمیت دیگر معاملات میں کس قدر مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے ۔امید کی جانی چاہئے کہ گورنر انتظامیہ پہاڑی علاقوں کے سڑک روابط پر خصوصی توجہ مرکوز کرے گی اور آدھے ادھورے پروجیکٹوں کو جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچایاجائے گا۔